پاکستان اور ناروے میں تعلقات

ناروے اور پاکستان کی دوستی خواہ سمندر سے گہری, ہمالیہ سے اونچی یا شہد سے میٹھی نہ ہو لیکن یہ مستحکم ضرور ہے. اس کی بنیاد دو طرفہ احترام اور اعتماد پر ہے. ناروے نے پاکستان کو 1947 میں ہی آزاد ملک تسلیم کر لیا تھا. پہلے ناروے کا باقاعدہ سفارت خانہ نہیں تھا. ایک اعزازی قونصلیٹ کراچی میں تھا. 1976 میں ایک سفارت خانہ اسلام آباد میں کھولا گیا. کراچی اور لاہور میں اعزازی قونصلیٹ بھی ہیں.

دونوں ملک ہر لحاظ سے مختلف ہیں. ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں. ایک مسلم اکثریتی ملک ہے, دوسرے کی اکثریتی آبادی کرسچین ہے. ایک کا معاشرہ قدامت پسند ہے دوسرے کا آزاد ہے. ایک کی آبادی حد سے گزر رہی ہے اور ترقی کی رفتار سست دوسرے کی چھوٹی سی آبادی اور ترقی کی رفتار تیز. ایک غربت کے دہانے ہے اور دوسرا دنیا کا امیر ترین. دو اتنے مختلف ملکوں میں دوستی اور نزدیکی آخر ہوئی کیسے؟ اس کی وجہ بنے وہ پاکستانی محنت کش جو ناروے آئے, جانفشانی سے محنت کی اور نارویجین لوگوں کے دل جیت لیے. دونوں ملکوں کے تعلقات صرف نعرے بازی تک نہیں بلکہ حقیقت ہے.

ناروے میں پاکستانی محنت کش ساٹھ کی دہائی کے آخر میں آنے شروع ہوئے اور بیشتر یہیں بس گئے. آج چالیس, پچاس ہزار پاکستانن نژاد افراد یہاں آباد ہیں جو یا تو پاکستان میں پیدا ہوئے یا ان کے والدین. ان کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے وہ اور معاشرے کے باعزت شہری ہیں. اب ان پاکستانیوں کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے.

محنت کشوں کی بڑی تعداد کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر کھاریاں سے ہے. کہتے ہیں کی کھاریاں کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں کا کوئی فرد ناروے میں نہ ہو. اسی لیے کھاریاں کے لوگ ناروے کو پیار سے "کھاروے” بھی کہتے ہیں. کھاریاں میں پاکستانی ناروجینیز کے بڑے بڑے بنگلے ہیں اور پورچ میں قیمتی گاڑیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی ناروے میں ایک اچھی اور معاشی طور پر مستحکم زندگی گزار رہے ہیں. یہ الگ بات کہ ان بنگلے اپنے مکینوں کی راہ تکتے رہتے ہیں جو کبھی کبھار ہی آتے ہیں.

2019 میں پاکستانی نارویجینز نے ناروے میں اپنی آمد کی بچاسویں سالگرہ دھوم دھام سے منائی. ناروے نے بھی ان کی محنت کو سراہا اور معاشرے میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا.

تیل کی دریافت سے ناروے امیر اور بھر امیر ترین ملک بن گیا. ناروے نے اپنی دولت میں ضرورت مندوں کو بھی شریک کیا اور مستحق ملکوں کی امداد جاری کی. ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ہی ناروے نے پاکستان کے لیے امدادی پیکیج بنائے. اس وقت مشرقی پاکستان کا وجود تھا. 1971 میں مغربی اور مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی ہوئی اور انڈیا کی مداخلت سے مشرقی بازو الگ ہو کر بنگلا دیش کی صورت میں آزاد مملکت بن گیا. پاکستان پر مشرقی حصے پر ملٹری ایکشن کرنے اور انسانی حقوق پامال کرنے کے سنگین الزامات لگے اور ناروے نے امداد منقطع کر دی. 1973 میں دوبارہ امداد کا سلسلہ شروع ہوا.

یوں تو پاکستان پر ملٹری کے قبضے پہلے بھی ہوئے لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کا فوجی دور تاریک ترین دور رہا. ملک کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا اور ایک غیر قانونی غیر آئینی ٹولا ملک پر حکومت کرتا رہا. اس دور میں انسانی حقوق کی پامالی کی بدتریں مثالیں سامنے آئیں. ناروے میں پاکستانی اسٹبلشمنٹ پر سخت تنقید ہوئی اور بحث ہونے لگی کہ پاکستان کی امداد منقطع کی جائے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نے امداد جاری رکھی.

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ میں پاکستان نے امریکہ اور اس کے حواریوں کا ساتھ دیا اور مغربی ممالک میں پاکستان کی حیثیت اہم ہو گئی. پھر جب سوویت یونین نے افغانستان میں دراندازی کی تو پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت, مذہبی سوچ اور مغرب کی طرف جھکاؤ سے اور بھی پسندیدہ ملک بن گیا. پاکستان کو کمیونزم کے خلاف ایک اچھا ہتھیار سمجھا گیا. افغان مہاجرین کے قافلوں کے ساتھ امداد بھی آنے لگی. ناروے نے بھی دل کھول کر مدد کی. اس پرائی جنگ میں کیا کھویا کیا پایا اور کیا بھگتا یہ ایک الگ دکھ بھری داستان ہے.

قدرتی آفات میں بھی ناروے نے کئی دوسرے ملکوں سے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی. 2005 میں پاکستان میں خوفناک زلزلہ آیا. 80 ہزار کے جانی نقصان کے علاوہ کئی لوگ اور پورے خاندان بے گھر اور بے آسرا ہوئے. ناروے نے ابتدائی امداد روانہ کی اور امداد مہیا کرنے والے ملکوں میں ٹاپ پر رہا. 2010 میں پاکستان میں سیلاب نے تباہی کی اور دو ملین افراد اس سے متاثر ہوئی اس موقع پر بھی ناروے پیچھے نہ رہا اور ہنگامی امداد بھیجی.

ہنگامی امداد کے علاوہ بھی ناروے نے کئی فلاحی کاموں میں پاکستان کو مدد فراہم کی. اس میں خاص طور پر تعلیم, گڈ گورنس, صنفی مساوات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شامل ہیں. صوبہ خیبر پختون خواہ میں نوجوانوں کے لیے ایک پروگرام بھی شروع کیا تاکہ وہ بے روزگاری کی وجہ سے شدت پسند گروہوں میں شامل نہ ہوں.

ناروے اور پاکستان میں پولیس کے تعاون پر کام بھی ہوتا رہا. یہ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ کچھ جرائم ایسے ہوئے جن میں دونوں ملکوں کا تعلق رہا. ناروے کے سفارت خانے میں ایک پولیس افسر ایسے جرائم کی چھان بین کرتا ہے جہاں جرم کرنے والا ایک ملک میں جرم کر کے دوسرے ملک فرار ہو جاتا ہے. ان جرائم میں قتل, منشیات کی اسمگلنگ اور ہیومن ٹریفکنگ شامل ہیں. ان سب کے علاوہ جبری شادی بھی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جس کی روک تھام کے لیے سخت قانون بنے اور عملی قدم اٹھائے گئے.
ناروے اور پاکستان کے بیچ تجارت اچھی ہے اور اس کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہے. ناروے پاکستان سے جو اشیا درآمد کرتا ہے اس میں ٹیکسٹائل مصنوعات, چمڑے کی بنی اشیا اور چینی. جبکہ ناروے پاکستان کو فرٹیلایزر, مشینیں اور الومینیم, لوہے اور اسٹیل کی بنی چیزیں فروخت کرتا ہے. ان سب کے علاوہ ناروے نے ٹیلی کمیونیکیشن میں بھی پاکستان کو خاصی امداد فراہم کی ہے. پاکستان کی سب سے بڑی ٹیلیفون کمپنی ٹیلی نور ناروے کی ہی ہے

ناروے پاکستان کے لیے چوتھا بڑا زرمبادلہ لانے والا ملک ہے اس لیے ناروے کی پاکستان میں بھی بہت اہمیت ہے. ناروے میں پاکستانی مصنوعات کی اچھی مارکیٹ بن سکتی ہے اگر حکومت سنجیدگی سے دلچسپی لے اور مصنوعات کے معیاری ہونے کی ذمہ داری لے. پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور اونچے پہاڑ ناروے کے لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہیں. اگر ٹورزم پر توجہ دی جائے اور سہولیات کی فراہمی ہو تو پاکستان ایک اچھا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے.

اگر ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں کہ ناروے اور پاکستان کے تعلقات برسوں پہلے قائم ہو چکے تھے.

Georg Valentin von Munthe af Morgenstierne (1892-1978)

جارج ویلنتین مورگن اسٹایرنے اوسلو یونیورسٹی میں زبان کے استاد تھے. ایک لینگویسٹ ہونے کی حیثیت سے ان کی دلچسپی انڈو ایرانی زبانوں میں رہی. 1924 میں انہوں نے پشاور اور کابل کا سفر کیا. چھے مہینے یہاں قیام کیا اور پشتو کی لغت ترتیب دی. 1929 میں وہ دوبارہ پشاور, بلوچستان اور چترال آئے. ساتھ ہی انہوں نے کیلاش وادی کے لوگوں کی ثقافت اور مذہب کے بارے میں بھی تحقیق کی. اس پر ان کی تفصیلی رپورٹ, تصاویر اور متروک ہوتی زبانوں کی ریکارڈنگز ہیں جو ناروے کی نیشنل لایبریری میں محفوظ ہیں.

فیردریک بارتھ نارویجین پروفیسر اور سوشل انترپولوجسٹ تھے. انہیں بھی پشتو کلچر سے دلچسپی رہی. 1954 میں وہ سوات وادی آئے اور اس کے بعد 1980 تک کئی بار وہاں کا دورہ کیا. ان کی پی ایچ ڈی تھیسیس کا عنوان بھی اسی وادی سے متعلق تھا. ایک کتاب "دا لاسٹ والی آف سوات” میاں گل جہاں زیب جو سوات کے والی تھے کے ساتھ مل کر لکھی.

کوہ پیما

1950 میں ناروے کے مشہور فلاسفر اور کوہ پیما Arne Næss نے پاکستان کی ایک مشکل پہاڑی چوٹی ٹریچ میر کی مشرقی جانب سے پیمایش کی اور اس کے مطابق یہ چوٹی 7708 میتر بلند ہے. 1964 میں ایک اور کوہ پیما نے اس چوٹی کو مغربی جانب سے ناپا اور بلندی 7, 692 بتائی.

پاکستان کی پہاڑی چوٹی کے ٹو کوہ پیماؤں کے لیے ہمیشہ سے بہت کشش رکھتی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چوٹی مشکل ترین چوٹیوں میں سے ہے. 2008 میں ایک نارویجین تیم اسے سر کرنے پہنچی. اس ٹیم کا ایک ساتھی رولف بائے اسے سر کرنے میں جان سے گیا. اس کی عمر 33 برس تھی. اس ٹیم میں رولف کے ساتھ اور اس کی بیوی اور دوسرے ساتھی بھی تھے وہ بچ گئے.

Rolf Bae, (1975 – 2008)

ناروے ہر سال بچوں کا فٹ بال کا ٹورنامنٹ منعقد کرتا ہے اسے ناروے کپ کہتے ہیں. دنیا کے لیے ملکوں سے چھے سے انیس سال تک کی عمر کے بچے اس میں حصہ لیتے ہیں. یہ تورنامنٹ 1972 سے ہر سال منعقد ہوا. 1976 میں مینجیمنٹ کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے کینسل کیا گیا اور اب کرونا کی وجہ سے نہیں ہو پا رہا.

اس کیمپ میں دنیا بھر سے یوتھ کھلاڑی آتے ہیں. پاکستان سے بھی. اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستانی بچے بہت اچھا کھلیتے ہیں. یہ وہ بچے ہیں جنہیں اسٹریٹ چلڈرن کہا جاتا ہے. ان کی اکثریت غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے. ان پاس نہ وسائل ہیں اور نہ حکومتی سپورٹ. ناروے کپ میں ان بچوں کی شاندار کارکردگی رہی اور وہ ایک ایونٹ میں تیسری پوزیشن لے کر کانسی کا تمغہ جیتے. ناروے کے فٹ بال ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بچے بے پناہ ٹیلنٹ رکھتے ہیں اور بہت محنتی ہیں. فٹ بال دنیا کا پسندیدہ ترین اسپورٹ ہے. یہ سستا بھی ہے. ایک فٹ بال سے کئی بچے کھیل سکتے ہیں. پاکستان میں آزاد فاونڈیشن کراچی ان بچوں کو فٹ بال کے شیدائی بنانے میں کوشش کر رہا ہے. شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی بھی اپنے کرکٹ کے رومانس سے باہر نکلیں اور فٹ بال کی طرف توجہ دیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words