مذہبی پیشوائوں کے ہاتھوں بچوں کا استحصال

حال ہی میں لاہور میں ایک با اثر مذہبی شخصیت جن کی سیاسی وابستگی جمیعت علمائے اسلام سے ہے، کی ایک معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ مدرسہ کے طالب علم صابر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ دینی مدرسہ کے مفتی عزیزالرحمان صاحب نے اس کو ایک سال تک اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس کی تھوڑی دیر بعد ایک شیعہ عالم کی ایسی ہی حرکت وائرل ہوئی۔

پاکستان میں یہ واقعات نئے نہیں ہیں۔ 2017 میں پاک پتن میں ایک نو سالہ بچے کو دینی مدرسے میں جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ 2018 میں لاہور کے رہائشی مذہبی پیشوا کی ایک کم عمر چھوٹے بچے کے ساتھ زیادتی رپورٹ ہوئی۔ 2019 میں ملتان میں ایک مولوی صاحب نے ایک تیرہ سالہ معذور بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔

دینی مدرسوں کی افادیت کیا ہے؟

پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 22000 اوپر رجسٹرڈ مدرسے قائم ہیں۔ اس کے باوجود ہم لوگ مین حیث القوم عوام کی اخلاقیات سنوارنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ نتیجتاً وطن عزیز، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے دنیا میں، بدعنوانی، بے ایمانی اور جنسی بے راہ روی رکھنے والی قوموں میں ایک اعلی مقام پر فائز ہے۔

سخت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے بچے مذہبی پیشوائیت کے قائم کردہ مدرسوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ جو ادارہ قائم تو مذہبی تعلیم دینے کے لئے کیا جائے مگر استعمال بچوں کے جنسی استحصال کے لئے کیا جائے تو رائج الوقت مذہب اور مذہبی پیشوائیت کے بارے میں کئی ایک کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے تمام مذاہب مقدس اور قابل احترام ہیں۔ مگر ان کے پیشواوں کا کردار ان مذہب کی بدنامی کا باعث بنا ہوا ہے۔

اس حوالے سے کی گئی تحقیق بتاتی ہے۔ کہ بچوں کے استحصال کے حوالے سے ملک پاکستان تنہا نہیں ہے۔ تمام مذاہب کے مقدس مقامات جنسی استحصال کے محفوظ مقامات سمجھے جاتے ہیں۔

ہندوستان کی ریاست ہریانہ کا روحانی پیشوا گر میت رام رحیم سنگھ اپنے آشرم، ڈیرہ سچا سودا، میں دو نوجوان لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر دس دس سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔ مگر یہ گرو اتنے اثر و رسوخ کا حامل ہے کہ بد امنی اور ہنگاموں سے بچنے کے لئے اس کا ٹرائل اور سزا جیل میں دینی پڑی یہ واقعہ دو ہزار سترہ کا ہے۔ مگر پھر بھی جس دن گرو کو سزا سنائی گئی اس دن اٹھتیس نوجوان ہنگاموں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت میں موجود مذہبی اور روحانی شخصیات کے سیکس سکینڈل آئے دن میڈیا پر جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں۔

ان کے علاوہ باپو آسارام کو جودھ پور میں اپنے قائم کردہ آشرم میں جہاں وہ ہزاروں لوگوں کو یوگا اور مراقبہ سکھاتے تھے، اپنی شاگرد ایک سولہ سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر 2013 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ گرو کی عمر ستتر سال ہے اور دنیا بھر میں ان کے چار سو آشرم ہیں۔

گزشتہ دنوں تبت کے بدھ مت پیشوا دالائی لامہ کو جب یورپ میں بدھ مت کے مذہبی اساتذہ کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کے واقعات بارے بتایا گیا تو انھوں اعتراف کیا کہ اس بات سے وہ 2019 س واقف ہیں۔ نیدر لینڈ کے چار روزہ دورے کے دوران ان کو بیلجیئم اور نیدر لینڈ کے جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں سے بھی ملوایا گیا۔

یورپ، امریکہ اور افریقہ بھی مذہبی مقامات پر بچوں کے استحصال کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں بی بی سی نے پولینڈ میں ایک عیسائی گرجا گھر کے با اثر پادری کی سٹوری بار بار سنائی جو تین سو چھیاسی بچوں کے ساتھ تین سال تک جنسی زیادتی کا مرتکب ہوا۔ پولینڈ کی حکومت کی پوری مشینری اس پادری سے بچوں کا ریکارڈ لینے میں ناکام ہو گئی تو ویٹی کان کو ایک وفد وارسا بھیج کر مداخلت کر کے معاملے کی تحقیق کرنی پڑی۔ مگر تا حال کسی کو سزا نہیں ہو سکی۔ بادی النظر میں دنیا بھر میں مذہبی پیشائیت، حکومت اور پیری فقیری کا ایک کشتہ یعنی طاقتور اتحاد موجود ہے۔ اقبال نے مندرجہ ذیل شعر میں اسی طرف اشارہ کیا تھا:

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

کیتھولک پادریوں پر جنسی زیادتیوں کے الزامات کی لہر یورپ اور امریکہ تک پھیل چکی ہے۔ پوپ بینی ڈکٹ کے آبائی ملک اٹلی سمیت آسٹریا، جرمنی، آئیرلینڈ، فرانس، ہالینڈ، میکسیکو اور امریکہ شامل ہیں۔

گزشتہ دنوں کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر کام لوپ میں دو سو پندرہ بچوں کی بے نام قبروں کا جو سراغ ملا ہے اس کے تانے بانے بھی مذہبی پیشوائیت سے ملتے ہیں کیونکہ یہ جگہ صدیوں پرانے ایک چرچ سے ملحق و منسلک ہے جہاں مذہبی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور کثیر تعداد کینیڈا کے اصل و مقامی قدیم باشندوں کے بچوں کی تھی۔

بچوں کے ساتھ کیتھولک چرچ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کی صدائیں جاپان جیسے نفیس اور تعلیم یافتہ ملک میں بھی سنائی دیتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں مدرسوں کے اندر بچوں کی ایک بڑی تعداد غریب والدین کی معاشی حالت ہے۔ چونکہ مدرسے میں مفت کھانے رہائش اور تعلیم کا بندو بست ہوتا ہے۔ عوام اپنے بچوں کو مدرسے بھیج کر ان کی معاشی ذمہ داری سے آزاد اور آخرت سنورنے کی خوشی سے سر شار رہتی ہے۔

ہم نہیں جانتے کہ مدرسہ میں داخل ہونے سے بچوں کی کتنی آخرت سنورتی ہے؟ مگر موجودہ زندگی ضرور بگڑتی ہے۔ اور بچے عزت نفس سے محروم ضرور ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ان سے گھروں میں جا کر کھانا لانے کا کام بھی کروایا جاتا ہے۔ بعض بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انتقامی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور فارغ التحصیل ہو کر جب خود معلم بنتے ہیں تو بچوں سے چن چن کر بدلے لیتے ہیں۔ اور کچھ بچے طرح طرح کی نفسیاتی بیماریوں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر ایک تکلیف دہ اور غم فگار زندگی گزارتے ہیں۔

کیا کیا جائے؟
پاکستان کے تمام مدارس کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کر دیا جائے۔
با اثر اور خوشحال افراد اس میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
پنجاب کی طرح باقی صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پولیس کی ہیلپ لائن قائم کی جائے۔
سوشل میڈیا والدین اور بچوں میں جنسی زیادتی کے حوالے سے آگاہی اجاگر کرے۔

مدرسے جب تک سکول بن کر قومی دھارے میں نہیں آ جاتے ان کے سربراہ کی تعیناتی تعلیمی قابلیت اور پولیس کے کیرکٹر سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو۔

ناظرہ سپارے کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کو پنجاب حکومت نظر ثانی کرے کیونکہ اس سے حفاظ اور قاری حضرات کو دوبارہ بچوں تک رسائی ملے گی۔

ناظرہ کی بجائے عربی زبان کے مضمون کو لازمی قرار دینے کی تجویز پر غور کیا جائے۔ عربی سیکھ کر بچے قرآن مجید پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہو سکیں گے۔

وہ سادہ لوح عوام جن کے بچے زمانہ حال میں دینی مدارس میں داخل ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی خبر گیری کریں۔ اور مدرسے کے ماحول پر نظر رکھیں۔ اور کسی بھی غیر اخلاقی سر گرمی کو پولیس کو اطلاع دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words