EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

طالبان رہنماؤں اور ان کے ہمنواؤں سے چند سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

dr. Khadim hussain

خدا سے دعا ہے کہ بڑی عید کے اس بابرکت دن کی طفیل آپ افغانستان اور پختونوں کے بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو بموں اور راکٹوں سے اڑانے کی بجائے فوری جنگ بندی کا اعلان کریں گے، افغانستان کی منتخب حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں سے باز آئیں گے اور خدا کی سرزمین پر خدا کے بندوں اور افغان و پختون مسلمانوں کا خون نہیں بہائیں گے۔ خدا کرے امن کے لئے قندھار کی اس ماں کی دلی آرزو پوری ہو جائے جس کا آخری جانباز بیٹا بھی عید کے پہلے دن اپنے وطن کی دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔

آپ کے چند رسمی نمائندوں اور پاکستان اور مغرب کے ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں براجمان سینکڑوں غیر رسمی نمائندوں کی زبانی سنتے ہیں کہ آپ نے آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کر کے افغانستان کے اسی سے پچاسی فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگر آپ ان سوالات کا تسلی بخش جواب دیں گے تو پاکستان کے پنجاب میں آپ کے کئی ایک ہمنواؤں اور حمایت کرنے والوں کو ذہنی تشفی مل جائے گی:

1۔ عید کے بابرکت دن پر ارگ میں عید کی باجماعت نماز ہو رہی تھی۔ جماعت میں افغانستان کے منتخب صدر ڈاکٹر اشرف غنی، سابقہ صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، سلامتی کے مشیر حمدللہ محب سمیت سینکڑوں اہلکار مسلمان ایک جانباز کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے ان پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ اس طرح تو شاید ابھی تک اسرائیل نے بھی فلسطینیوں کے ساتھ نہیں کیا ہوگا۔ نماز پر حملہ قرآن کی کس آیت اور پیغمبر کی کس حدیث کے مطابق جائز ہے؟

2۔ اگر آپ نے واقعی اسی فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے تو کیا آپ کے امیر ملا ہیبت اللہ کو اس پورے اسی فیصد علاقے میں اتنی جگہ نہ ملی جہاں وہ عید کی باجماعت نماز کی امامت کرسکیں؟ ہم نے ابھی تک ان کی عید کی نماز کی کوئی خبر نہ سنی اور نہ دیکھی۔

3۔ آپ قطر کے دوحہ شہر میں ایک عرصے سے اپنے دفاتر چلا رہے ہیں۔ یہی دفاتر آپ اپنے اسی فیصد افغانستان میں کیوں منتقل نہیں کر دیتے؟ مزید یہ کہ دوحہ کے ان دفاتر کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے؟

4- افغانستان کے منتخب صدر نے تین چار مہینے پہلے بین الافغانی مذاکرات کے لئے اور امن کے قیام کے لئے ایک مفصل اور جامع فریم ورک پیش کر دیا تھا ( دیکھئے ”خطے اور مملکت کے امن کی شاہراہ“ https://www.foreignaffairs.com/articles/afghanistan/2021-05-04/ashraf-ghani-afghanistan-moment-risk-and-opportunity) ۔ آپ نے نہ ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی اپنا متبادل فریم ورک پیش کر دیا ہے۔ آپ کن شرائط اور کن اصولوں پر امن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں؟ آپ نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی۔

5۔ افغانستان اور خطے کے عوام شدت سے اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ افغانستان میں اپنے اہداف کا تعین کریں کہ آپ در اصل چاہتے کیا ہیں؟ آپ ابھی تک ایک عمومی اصطلاح میں دعوی کرتے ہیں کہ آپ افغانستان میں اسلامی نظام اور شریعت چاہتے ہیں۔ آپ نے ابھی تک افغانستان کے آئین میں کسی غیر اسلامی یا غیر شرعی شق کی نشاندہی نہیں کی۔ آپ نے ابھی تک اپنی امارات اسلامی کے اقتصادی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی اور تجارتی اصولوں کو تخصیصی طور پر نہ زبانی اور نہ تحریری طور پر بیان کیا۔ آپ کو یہ تو بتانا ہوگا نا کہ آپ جنگ کس مقصد کے لئے کر رہے ہیں؟ آپ کے زیر تسلط علاقوں سے ابھی تک آپ کی امارات کا جو نقشہ سامنے آ رہا ہے وہ خواتین کو شٹل کاک پہنانے، لوگوں گھروں سے نکال کر گولی مارنے اور عام لوگوں سے بھتہ وصول کرنے تک محدود ہے۔

6۔ آپ نے ابھی تک جنگ کا جواز یہ بنایا تھا کہ افغانستان پر بیرونی افواج قابض ہیں جن کو آپ نکالنا چاہتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی امریکہ سے مذاکرات کیے اور معاہدہ کیا جس کے خلاف آپ کے بقول آپ ”جہاد“ کر رہے تھے۔ اس معاہدے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے ایک سال میں آپ نے دس ہزار افغانوں کا قتل کیا جبکہ کسی ایک امریکی کو خراش تک نہیں آئی۔ اب جبکہ امریکی اور دوسرے غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل گئی ہیں تو یہ بتائیں کہ آپ کس کے خلاف ”جہاد“ کر رہے ہیں؟ آگر آپ اس کی وضاحت نہیں کر سکتے تو افغان عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ آپ افغانستان میں فساد پھیلا رہے ہیں جس کے لئے نہ تاریخ آپ کو معاف کرے گی اور نہ افغان عوام۔

7۔ یہاں عام لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر آپ نے اسی فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے تو پاکستان سے آپ کی معیت میں افغانستان کے خلاف لڑنے کے لئے آنے والوں کے جنازے آپ یہاں کیوں بھیج رہے ہیں؟ اپنے اسی فیصد افغانستان میں ان کے لئے قبرستان کیوں نہیں بنا لیتے؟

8۔ پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ دونوں نے کہا ہے کہ آپ کے اہل و عیال پاکستان میں مقیم ہیں۔ اگر آپ نے واقعی اسی فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے تو آپ اپنے اہل و عیال اپنے اسی فیصد افغانستان میں کیوں منتقل نہیں کر دیتے؟ آپ کے اہل و عیال کو خدا سلامت رکھے اگر آپ کے ساتھ ہوں گے تو آپ کا دل بھی مطمئن ہوگا اور پاکستان پر بھی بوجھ کم ہو جائے گا۔ پاکستان کی حکومت ویسے بھی یہ کہتی نظر آتی ہے کہ اقوام متحدہ سے 133 ملین ڈالر سالانہ اور امریکہ سے پانچ ارب ڈالر سالانہ امداد کے باوجود ان پر افغان مہاجرین کا بہت بڑا بوجھ ہے۔

9۔ عام لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان کے علاقوں کچلاک، دیر، ہنگو، کرم، وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں آپ کے مراکز ابھی تک فعال بھی ہیں اور زور و شور سے اپنا کام بھی کر رہے ہیں۔ یہاں پاکستانی نوجوانوں کو افغانستان کے خلاف جنگ کے لئے بھرتی بھی کیا جاتا ہے۔ ان کو جنگی ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے اور ان کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں چندہ مہم پر بھی بھیجا جا رہا ہے۔ اگر آپ نے واقعی اسی فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے تو اپنے مراکز اور ریکروٹمنٹ سنٹرز اپنے اسی فیصد افغانستان میں کیوں منتقل نہیں کر دیتے؟ کیا پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں جیسے دیر، باجوڑ، مومند، صوابی، ہنگو، کرم، خیبر، اورکزئی، قلعہ عبد اللہ، چمن، زوب اور قلعہ سیف اللہ میں چندہ مہم سے زیادہ اس کے لئے بدخشاں، سپین بولداک، لغمان، قندوز، بلخ، غزنی، لوگر، سمنگان اور اورزوگان زیادہ فائدہ مند مقامات ثابت نہیں ہوں گے؟

10- بین الاقوامی میڈیا کے مشہور مطبوعات (دیکھئے https://foreignpolicy.com/2021/07/19/taliban-expanding-drug-trade-meth-heroin/) میں رپورٹیں آئی ہیں کہ آپ کا مسلح ملیشیا ہیروئن اور آئیس جیسے مہلک نشہ آور اشیاء کے کاروبار میں ملوث ہو گیا ہے۔ کیا منشیات سے بنائے ہوئے پیسوں کے ذریعے خدا کے لئے جنگ کرنا جائز ہے؟ یہ پھر جہاد ہوگا یا فساد؟ یہ خطے کی تباہی کا باعث بنے گا یا خطے کے عوام کے لئے نجات؟

ان سوالات کے جوابات پاکستانی میڈیا اور چند عام افغانوں کے دماغی سکون کے لئے ضروری ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اگر آپ بندوق کے زور پر پورے جنوبی اور وسطی ایشیا پر بھی قبضہ کر لیں گے تو پھر بھی مجھ جیسا باچا خان کے عدم تشدد کا ایک ادنی پیروکار آپ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ ہم صرف سیاسی جدوجہد اور جمہوری مبارزت پر یقین رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے