مبشر علی زیدی کے معصومانہ سوال اور تنقیدی شعور
مبشر علی زیدی نے آج دو مختلف پوسٹس میں ایک ہی معاملے کے دو پہلوؤں پر بحث چھیڑی۔ پہلی پوسٹ میں ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی روشن خیال جرنیل سخت مارشل لاء لگائے، آئی ایس آئی کو لگام ڈالے، جہادی تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑے، مدرسے بند کرے، دہشت گردوں کو لٹکائے، لاپتہ افراد کو رہا کرے، فوج کو کراچی اور بلوچستان سے واپس بلائے، دفاعی بجٹ کم کرے، فوج کے کاروبار بند کرے، اور جرنیلوں کو زمین کی الاٹمنٹ پر پابندی لگائے۔ مبشر کہتے ہیں کہ فوج کو ٹھیک کیا جائے تو خارجہ پالیسی ٹھیک ہو گی، معیشت اور ملک ترقی کرے گا۔ اپنی اس پوسٹ کے تین گھنٹے بعد انہوں نے دوسری پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ سویلین بالادستی کیا محض خواہش سے حاصل کی جا سکتی ہے یا اسے فوج سے چھینا جا سکتا ہے یا فوج خود اسے ممکن بنا سکتی ہے؟
یہ خیالات ایک شاعر، ادیب، افسانہ نگار، آرٹسٹ، ذہن کے کسی کونے میں تتلیوں، رنگوں، آبشاروں، وادیوں اور پریوں کے خواب دیکھنے والے ایسے شخص کے معلوم ہوتے ہیں جسے تاریخ، سیاسی عمل، سیاسی معیشت، پاور پالیٹکس، کسی بھی معاملے کی کچھ خبر نہیں کچھ اتا پتہ ہی نہیں۔ یقیناً یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر ہمیں مبشر کا مذاق اڑانے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ جیسے بچے الہ دین کا چراغ یا امیر حمزہ کے کارناموں پر مبنی کہانیاں پڑھ کر اڑنے والے قالین، زنبیل یا چراغ کے جن سے متعلق سوال پوچھتے ہیں، اپنے خواب بتلاتے ہیں جن میں وہ سکول کی بجائے وادی کوہ قاف جا پہنچے اور میتھس کی ٹیچر سے ڈانٹ کھانے کی بجائے نوٹیلا کھاتے رہے۔ بالکل ایسے ہی مبشر ہوں یا کسی بھی انسان کو، خصوصاً ادیب کو خواب دیکھنے اور کہانیاں بننے کی آزادی ہوتی ہے، ہونی چاہیے مگر مبشر کے دونوں خیالات کی تخلیل نفسی کی جائے تو ایک ایسا المیہ سامنے آتا ہے جو ہمارے ہاں رائج اور گزرے ادبی ذہن کی خوفناک تصویر پیش کرتا ہے۔
ایک ایسا ذہن جو اپنے ہی عہد کے فلسفیوں، سیاسی پنڈتوں اور مورخین کی باتوں سے آگاہ نہیں۔ جو اپنی تیس چالیس پینتالیس سالہ عمر میں گزرے چیدہ واقعات سے سبق سیکھنے کا اہل نہیں۔ جس میں تنقیدی سوچ نہیں، کامن سینس نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو یوں لگے جیسے میں مبشر سے خائف یا حاسد ہوں اور اپنے اندر کے کسی جذبے کی تسکین کے لئے اس کے دو فیس بک سٹیٹس کو بنیاد بنا رہا مگر حقیقت ایسی نہیں۔ میں مبشر کے دونوں سٹیٹس بطور بہانہ استعمال کر کے کچھ بنیادی فکری مغالطوں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔
کوئی بھی جرنیل اس قابل نہیں ہوتا کہ فوج کو اپنی مرضی کے مطابق اس قدر موڑ توڑ دے کہ جس کے نتیجے میں فوج کا ادارہ جاتی تشخص بدل جائے۔ اور کوئی بھی ادارہ خواہ وہ فوج ہو یا فارن آفس یا لوکل گورنمنٹ یا تعلیم، کبھی بھی اپنے اندر سے ایسی تبدیلی کو جنم ہی نہیں دے سکتا جو اس کے بنیادی خد و خال کو تبدیل کر دے۔ مبشر کا مفروضہ اس بات کا غماز ہے کہ اسے اداروں کی تشکیل اور ارتقا سے متعلق بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں۔ جدید ریاست میں اداروں کے بنانے کا ایک بڑا مقصد سٹیٹس کو کی حفاظت اور نسل در نسل منتقلی تھی۔ یہی سٹیٹس کو استحکام کا ضامن ہے۔ یہ ایک نعمت ہے جو صدیوں کے تجربے کے بعد انسانی عقل نے دریافت کی، نافذ کی۔ اس کے بغیر کم سے کم درجے میں جو برائی پیدا ہو گی اسے فساد فی الارض کہتے ہیں۔ جو مبشر کے مشورے کا منطقی نتیجہ ہو گا۔
مبشر کے دوسرے سٹیٹس جس میں وہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا فوج سے سویلین بالا دستی چھینی جا سکتی یا یہ ممکن ہے کہ فوج خود سے اسے سویلین کے حوالے کر دے۔ اس سوچ میں موجود کرب، بے بسی، اور اخلاص روز روشن کی طرح عیاں ہے مگر یہ تاریخ کے سطحی ترین مطالعے سے بھی اتنا دور ہے جتنا سورج ہماری زمین سے۔ دنیا بھر میں سول اور غیر سول فورسز کے درمیان توازن کی جنگ جاری ہے اور اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس میں غیر سول فورسز نے رضا کارانہ طور پر بحالت امن اپنے اختیارات سول کو منتقل کیے ہوں۔ یہ کامن سینس کے خلاف ہے اور طاقت کی حرکیات کو سمجھنے والے کسی بھی ذہن کے لئے اس میں چھپے مضمرات اور نامعقولیت کو سمجھنا بالکل مشکل نہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک دن سورج رضا کارانہ طور پر شمال سے نکل کر مشرق میں غروب ہو۔ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
مبشر بنیادی طور پر ایک ادیب ہیں۔ مگر فکشن کی بجائے سیاست پر لکھنے کے شوقین۔ سیاست پر لکھنے والے کی یہ مجبوری ہے کہ اسے فلسفے، اور تاریخ پر کلی عبور ہو ورنہ اس کی باتوں سے یا تو لوگ ہنس سکتے ہیں یا حذ اٹھا سکتے ہیں مگر اس کا عقل سے وہی تعلق ہوتا ہے جو خدا کی ایک خاص مخلوق کا پتھر سے۔
مبشر کی پوسٹ پر بہت سے لوگوں نے یاد دلایا کہ روشن خیال سمیت ہر قسم کے جرنیل پاکستان میں برسر اقتدار آئے مگر نتیجہ صفر چونکہ مسئلہ جرنیل کا نہیں ادارے کے مزاج اور نظام میں موجود سٹرکچرل نقائص کا ہے۔ کسی نے بلی کے گلے میں گھنٹی کی مثال دی کسی نے عطار کے لونڈے کی۔ ایسا کوئی پہلو نہیں کہ جس سے اس موضوع پر سیر حاصل بحث نا ہوئی ہو مگر ایک پہلو ایسا ضرور تھا جس پر بات نہیں ہوئی۔
کچھ ہی دن پہلے ایک مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے خواتین سے متعلق کچھ تبصرے کیے جن کا تعلق عورت مارچ کے نعروں سے تھا۔ مبشر اور خلیل مشرق اور مغرب ہیں مگر ایک چیز ایسی ہے جو دونوں کو ایک ہی خانے میں فٹ کرتی ہے۔ اور وہ ہے تاریخی، سیاسی اور تنقیدی شعور کی غیر موجودگی۔
بطور ایک رائٹر کیا یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ جس موضوع پر لب کشائی کا ارادہ کرتے ہیں اس سے متعلق موٹی موٹی باتیں، نظریات اور واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ اور نہیں تو جو ان مضامین کے ماہر ہیں انہی سے پوچھ لیں۔ مانا کہ ٹالسٹائی یا شیکسپئیر کو پڑھنا شاید انہیں پسند نہیں یا پڑھ کر نا سمجھنے کی قسم کھانے والوں میں یہ بھی شامل ہیں مگر پھر بھی۔ اپنے ہی ملک کی حالیہ تاریخ سے بھی اگر آگہی نہیں اور گزرے تین یا تیرہ یا تئیس سالوں کا بھی تنقیدی شعور نہیں تو کم از کم اتنی مہربانی تو کر ہی سکتے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ نا کریں۔ طنز، مزاح یا رومانس پر لکھیں اور ایسا لکھیں جسے سو پچاس نہیں پانچ سال بعد بھی کوئی دوبارہ دیکھنا یا پڑھنا پسند کرے۔ یہ پہلو کچھ اتنا ضروری اور اہم بھی نہیں چونکہ کمرشل کامیابی کی بارش اتنی تیزی سے شرابور کرتی ہے کہ پانچ سال کس نے دیکھے۔ تو روزی روٹی جو لگی ہے اس کا مزہ لیں بس۔ دانشوری سے توبہ کر لیں۔ لیکن اگر سول ملٹری یا صنفی امتیاز جیسے سنجیدہ اور اہم پہلوؤں پر خیال آرائی کا شوق ہے تو کم از کم اپنے عہد ہی کے کچھ لکھاریوں جیسے عائشہ صدیقہ، ولی نصر، لارنس زیرنگ، سٹیفن کوہن، ٹالبوٹ، عائشہ جلال، کسی ایک آدھ کو ہی پڑھ لیں تاکہ خواب بیچنے کے چکر میں لوگوں کے دلوں میں موجود مثالی جرنیل کی خواہش کو ہوا نا دیں۔ کم از کم اتنی مہربانی تو ہو ہی سکتی ہے۔




