ڈی آئی جی کی محبوبہ (7)

قسط نمبر چھ کا آخری حصہ

ابو امی جب ملتان کے لیے سامان سفر کمرے میں سمیٹ رہے تھے، ٹیپو کی جانب سے بینو کو بتا دیا گیا کہ وہ فون وغیرہ کے معاملے میں احتیاط کرے۔ اب ان کا ملنا اچانک ہو گا۔ اسکول کی ملازمت کا جو موجودہ سیٹ اپ ہے، وہ اس ملاقات میں بہت معاون ہو گا۔ کبھی وہاڑی تو کبھی ملتان۔ فوری طور پر اس میں اب کسی تبدیلی کی کوشش سے معاملات آؤٹ آف کنٹرول ہو جائیں گے۔ سو اس معاملے میں اسے چل (Chill) رہنا ہو گا۔ اس کا جب بھی ملتان آنے کا ارادہ ہو اس کی سفری سہولت کے لیے چار گھنٹے کے نوٹس پر مناسب کار مع ڈرائیور اس کے حوالے ہوگی۔

٭٭٭ ٭٭٭

امی ابو اور ٹیپو چلے گئے۔ سارا دن وہ ایک عجب سے نشے میں سرشار رہی۔ غسل کرتے میں کئی دفعہ خود کو باتھ روم میں شاور کے سامنے قد آدم آئینے میں برہنہ دیکھ کر یہ سوچ کر وہ گاتی شرمائی کہ

بہار آئی تو جیسے یک بار

لوٹ آئیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

نکھر گئے ہیں، وہ گلاب سارے

جو تیرے یادوں سے مشک بو ہیں

جو تیرے عشاق کا لہو ہیں

اسے لگا کہ اب اس بدن پر بھی بہار آنے کو ہے۔ ٹیپو نے ملتان سے امی سے بات کرانے کے لیے فون کیا تو اس کی امی نے فون پر بینو کی خیریت کم پوچھی اور ٹیپو کی تعریف زیادہ کی۔ فون بند کرنے سے قبل ٹیپو سے اس نے انگریزی میں پوچھا ًمس می؟  ”وہاں سے“ آف۔ کورس  ”سن کر وہ تو نہال ہی ہو گئی۔ آہستہ سے کہا“ کم اگین  ”وہ کہاں کے رکنے والے تھے

پوچھ بیٹھے

 ”Same Time Same place“

اب  ”آف کورس“ کہنے کی باری بینو کی تھی۔

امی ابو دونوں ہی رات کو واپس آ گئے مگر ٹیپو ساتھ نہ تھے۔ ان کی واپسی البتہ دواؤں، طمانیت اور شان سے ہوئی۔ امی ابو تو تعریف کر کے تھکتے نہ تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ظہیر بھلے سے داماد سہی مگر پہلی دفعہ ایسا لگا کہ ٹیپو ہمارے بیٹے سہیل جیسا ہے۔ لگتا ہے اب وہ ہی گھر کا مرد اور بڑھاپے کا سہارا بن گیا ہے

بینو نے یہ سن کر انشا اللہ کہا اور زیر لب مسکرا دی۔

اپنے والدین کے ہمراہ ٹیپو کے نہ آنے سے بہت بے لطفی اور مایوسی ہوئی۔ گھر کے مرد ایسے ہوتے ہیں کہ  ”مس می؟“ پوچھ کر غائب ہوجائیں۔ ابو نیند کی گولیاں کھا کر سوتے تھے۔ امی کی نیند تو ہمیشہ سے ایسے تھی کہ ان کے بستر میں گھس کر بلے، کسی نوجوان بلی کے پیچھے لڑیں انہیں پتہ نہ چلتا۔ یوں بھی وہ اپنے گھٹنوں میں تکلیف کے باعث سیڑھیاں چڑھنے سے قاصر تھیں۔ ظہیر نے بھی کہا تھا کہ وہ اس ہفتے نہیں آئے گا۔ یہاں بڑا سرکاری کام ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ سوال جواب کی گنجائش نہیں۔ مطلع ہر طرف کھلا خوش گوار اور فضا شب وصال کے لیے ساز گار تھی۔ ٹیپو آ جاتے تو کچھ جسم جاں کے عذاب دھلتے، کچھ وعدوں کی تجدید ہوتی۔ سج دھج کر بیٹھی تھی۔ ضویا ڈاہا کی کزن کی کی منگنی تھی۔ یہ تینوں اسکول کے دنوں کی ساتھی تھیں، بینو نے آری زری کے ایمبرائیڈری والا، ٹیل کلر (ہرے نیلے اور فیروزی کی آمیزش والا رنگ) کی بوٹ نیک کرتی اور شرارہ پہنا تھا۔ یہ شرارہ سوٹ اس نے ٹیپو کے اس ٹی شرٹ کے رنگ کی تائید میں بنایا تھا جو انہوں نے اس دن پہنی تھی جب وہ لاہور گئے تھے۔ قسم سے کیا وہ ٹی شرٹ ان پر کیا جچ رہی تھی۔ بینو نے وہی شرارہ سوٹ منگنی پر پہنا۔ اس کی آرائش و زیبائش منگنی والی رات کی تقریب میں سب کو اچھی لگی تھی۔ اسے پتہ تھا وہ واپس آئے گی تو امی ابو تقریباً نیند کے عالم میں ہوں گے۔ وہ کچھ دیر ان کی نیند کا اطمینان کر کے اوپر مہمان والے کمرے میں چلی جائے گی۔ فجر تک ٹیپو کے ساتھ ہی رہے گی۔ بینو کی کرتی کا ڈھلکتے بوٹ نیک والے گلے کا کٹ چند ایک پینڈو عورتوں کو خاصا بولڈ لگا۔

اس کے عریاں شانے دیکھ کر ان میں چند ایک نے ذرا چہ مگوئیاں بھی کی تھیں۔ ان میں سے بعض میں بحث بھی ہوئی کہ بینو نے ے برا نہیں پہنی۔ ایک نے تو اس پوچھ بھی لیا۔ جس پر بینو نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔ در حقیقت وہ ایک قیمتی پیچھے زپ والی اسٹریپ لیس برا ٹکا کر اس پر کرتی پہن کر آئی تھی۔ یہ سب تبصرے سن کر ضویا نے بینو کو بائیبل کی ایک مشہور لائن سنائی جو ان کے درمیان ایسی صورت حال جسے نظر انداز کرنے میں بہتری ہوتی تھی۔ یہ لائن انہوں نے کسی فلم میں سنی تھی۔ یہ بائیبل کے مطابق سیدنا عیسیؑ نے ان لوگوں کی بخشش کے لیے کہی تھی جو انہیں مصلوب کرنے میں مصروف تھے کہ

لائن کچھ یوں تھی

Forgive them for they know not what they do

مگر ضویا نے کہا

Forgive them for they know not what they do n’t see

ٹیپو کو اس نے جی بھر کے پہلی دفعہ جیپ میں سوار ہوتے وقت دیکھا۔ جیپ کچھ اونچی تھی۔ ظہیر تو لپک جھپک ندیدوں کی طرح اگلی سیٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ٹیپو نے چڑھتے وقت ہات بڑھایا تو وہ اسے تھام کر سوار ہوئی۔ دونوں نے سوار ہوتے تک ایک دوسرے کو جی بھر کر دیکھا۔ ایسا ہی سہارا انہوں نے اس کی امی ابو کو بھی دیا۔ سو اسے Good Manners مانا جائے۔

دوران مسافت اجالا ہوا، دھوپ نکلی تو اس نے دیکھا کہ ٹیپو کی رنگت بے داغ اور اجلی ہے۔ سر کے بال پیچھے کی طرف جیسے سیدنا عیسی کے پرانی تصویروں میں ہوتے ہیں۔ فلم پیشن آف کرائسٹ میں جیسے ہیرو کے تھے۔ اس نے اسی وقت طے کیا کہ اگر بات بڑھی تو وہ پہلی ملاقات پر ان کے بال کھول کر ان میں تا دیر انگلیاں پھرائے گی۔ ظہیر کے نہ بال ایسے تھے، نہ اس کو بالوں میں انگلیاں پھیرنے میں مزہ آتا تھا۔ ٹیپو کے سینے پر ایک سلور لاکٹ میڈالیئن تھا۔

بات ٹیپو کے امی ابو کے ساتھ نہ آنے کی ہو رہی تھی۔ وہ شدت سے ان کی آمد کی منتظر تھی اسی لیے اس نے گھر واپس آن کر نہ میک اپ اتارا، نہ ہی لباس تبدیل کیا۔ ٹیپو کے نہ آنے سے بہت بے لطفی اور مایوسی ہوئی۔ تبدیلی لباس کے دوران گلہ بھی کیا کہ "س کے لیے تھی سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں”۔

ابو کی زبانی پتہ چلا کراچی میں میٹنگ تھی انہیں گاڑی پر بٹھا کر ہدایت دے کر وہ ائرپورٹ نکل گئے۔ ہفتہ بھر تک دونوں کی چھوٹی موٹی گفتگو ہوتی تھی۔ بینو کی جانب سے ناراضگی اور ان کی جانب سے اظہار محبت کی یقین دہانی۔ لگتا تھا وہ زیادہ ہی مصروف ہیں۔ بینو کے دل میں اس شک نے بھی سر اٹھایا کہ ایسے ہینڈسم اور اثر و رسوخ والے مرد کی چاہنے والیاں اور بھی ہوں گی۔ ایک تم ہی نہیں رسوا الفت میں میری تنہا، والا معاملہ ہر تقریباً شہر ہی میں رہتا ہوگا۔

کئی دفعہ اس کے دل میں اس شک نے سر اٹھایا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک لذت، ایک خواب ازدواج کے گلاب گلستاں کی محبت میں اس نے ہجر و رسوائی کے ہزار ہا کانٹوں سے یارانہ گانٹھ لیا ہے۔

اس نے کراچی سے آنے والے فون پر ان سے پوچھا بھی مگر ٹیپو نے ایک محبت بھری ڈانٹ جس میں ڈونٹ بی سلی بینو کو بہت چھا جانے والا مگر شفقت اور پر از یقیں، بہت ہی اچھا لگا انہوں نے جتایا کہ اس جیسی حسین اور دلربا عورت کے ہوتے ہوئے کوئی دوسری نہیں جچتی۔ کہتے تھے تم میری آخری محبت ہو۔ صبر سے کام لے۔ حالات کے موافق ہوتے ہی وہ دونوں اپنے گھر گرہستی کا بندوبست کر لیں گے۔ ان کی بیگم بھی کراچی میں ہیں۔ ناخوش ہیں۔ وہاں دیر اس لیے ہو رہی ہے کہ ساس سسر کا شدید دباؤ ہے۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹیپو یہ دہشت گردی کے خاتمے والا یہ فضول کام چھوڑ کے اپنے سسر کی کراچی میں چپ بورڈ کی فیکٹری سنبھالیں۔ چھوٹا بہنوئی بہت نقصان کر رہا ہے۔ بیگم کی بس دو بہنیں ہیں۔ سسر بوڑھے ہو رہے ہیں صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ بھائی بھی کوئی نہیں۔

بینو کو اپنے دل میں ٹیپو کی جانب سے بے وفائی کا خیال آتے ہی بہت ندامت ہوئی۔ اس نے اپنے اندر کی عورت کو یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ اس تعلق کو جو اس نے یقین کے اجالے میں بویا ہے اسے شک کے اندھیرے زنداں میں نہ دھکیلے۔

اس کے دل میں جب جب ٹیپو کی جانب سے شک کے سائے گہرے ہونے لگتے تو وہ سوچتی۔ اسے الجھن محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ سر دست اخفائے راز کا مکمل اہتمام تو موجود ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس تعلق میں کیا ہوگا یا تو وہ یہ فیصلہ سپل برگ گا کہ تاجر کی بیٹی مزید اس کی بیوی بن کے رہنے کے لائق نہیں اور بینو ہی اس کی نئی نسل کی مادر مہرباں ہے، یا یہ کہ بینو کو پتہ لگ جائے گا کہ حضرت نے عشق پر فریب کا یہ جال Good Sex کے لیے رچایا تھا۔ اس میں بھی کوئی خاص نقصان نہیں۔ اس صورت میں ظہیر کو ان تعلقات کا علم ہوا تو وہ کہہ دے گی کہ وہ بھی تو لاہور میں عورتوں کے ساتھ تھا۔ اس کے پاس تو تصویری ثبوت ہیں۔ ٹیپو سے تعلقات کے انکشاف پر بہت دھماچوکڑی نہیں ہوگی۔ اس کا احتجاج اگر خواب گاہ تک محدود رہا تو وہ کہے گی کہ ٹیپو نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ جب کبھی ایسے تاریک ڈراؤنے بادل اس کے محبت کے روشن آسمان پر منڈلانے لگتے تو وہ تو سوچ کر اس نے اپنی تسکین و تسلی ذات کے لیے حمایت علی شاعر کا وہ شعر پڑھ لیتی کہ

پھر میری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر

حاصل غم کو میرے دل غم حاصل نہ بنا

بینو کی ظہیر سے پہلی ملاقات کو ہفتہ ہونے کا آیا تھا۔ ٹیپو کا ادھر وہاڑی آنا ہی نہ ہو رہا تھا۔ عجب سی بے لطفی تھی۔ نئے ذائقوں کی آشنائی تجدید ملاقات مانگتی تھی۔ رات کو فون پر بات لازم ہوتی تھی۔ پہلے وہی کافی والا میسج۔ یہ اس لیے کہ ان کے فون کا نمبر کبھی ایک نہ ہوتا تھا، پھر فون۔

بینو کی ضد ہوتی کہ ٹیپو اس کا نام لے۔ کئی دفعہ۔ پیار سے، دلار سے۔ ظہیر اس کا نام نہیں لیتا۔ نام کی جگہ  ”سنیے“ یا  ”سر جی“ کہتا تھا۔ یہ انداز بینو کو بہت غیر رومانی لگتا تھا۔ جیسے وہ ٹوانہ صاحب کو مخاطب کر رہا ہو۔ بات بھی اردو میں کرتا تھا۔ اس کے برعکس جب ٹیپو اپنے سینے کی گہرائیوں سے اٹھنے والی سانس کو سرگوشیوں میں بدل کر اس کا نام لیتے تو اسے لگتا کہ لندن شکاگو یا سڈنی میں کوئی کنسرٹ ہے جس میں جگجیت سنگھ نے آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا والی غزل نام لے کر چھیڑ دی ہو۔

ایک دن اچانک ایک واقعہ ہوا۔ گھر کے باہر ایک پولیس موبائل آن کر رکی۔ اس کا تو سانس ہی اس وقت رک گیا جب اس موبائل کے پیچھے ایک ایمبولنس بھی سیدھی گھر کے اندر آ گئی۔ اس ایمبولنس میں سے جب ظہیر بسلامت اور مسکراتا ہوا اترا تو بینو کو قرار آیا۔ ایمبولنس کی پچھلی نشست پر کارٹنز رکھے تھے۔ اسے حیرت ہوئی کہ آخر چکر کیا ہے۔ دس کے قریب کارٹنز تھے۔ مضبوطی سے پیک۔ ان کے اوپر پیک دودھ اور گھی کے ڈبے بھی رکھے تھے۔ جیسے دو تین مہینے کا راشن ہو۔

موبائل ظہیر کو چھوڑ کر چلی گئی۔ اس نے کہا وہ فون پر بتا دے گا کہ کل کس وقت نکلنا ہے۔ ایمبولنس کا ڈرائیور بھی ایمبولنس چھوڑ ان کے ساتھ ہی نکل لیا۔ ان کے جانے کے بعد جب اطمینان ہو گیا کہ چار سو اندھیرا ہو گیا ہے۔ میاں بیوی نے دونوں دالان کی بتیاں گل کر کے یہ کارٹنز اتارے جن پر پنجاب پولیس کے تحفہ برائے سندھ پولیس کے اسٹکرز لگے تھے۔ تین کارٹنز جن پر کونے میں بہت چھوٹا سا، ٹی۔ زیڈ (ٹوانہ ظہیر) لکھا تھا۔ وہ یہ کارٹنز اندر لے آئے باقی کارٹنز میں پتہ چلا پولیس کی پرانی وردیاں ٹوٹے پھوٹے ہیلمیٹ اور آنسو گیس کی ناکارہ بندوقیں اور جوتے ہیں۔ جنہیں ہفتہ بھر پہلے نیلام کر دیا گیا تھا۔

ظہیر تب تک بتا چکا تھا کہ ان تین کارٹنز میں یہ ہی کوئی دس کروڑ پچاس لاکھ روپے کیش کی صورت میں موجود ہیں جنہیں کراچی سے حوالہ ہنڈی کرنا ہے۔ وہ اور حوالے والا ہارون ایک ساتھ ہی وینکور کینیڈا پرواز کر جائیں گے۔ یہ بکسے کل وہ لے کر کراچی نکل جائے گا۔ ایمبولنس اور پولیس موبائل کا انتظام ڈی آئی جی محمود ٹوانہ صاحب نے اسی لیے کیا ہے۔

بینو کو اس ترسیل میں خطرے کی بو آئی مگر اس کو اطمینان دلانے کے لیے جب ظہیر نے پانچ لاکھ کی ایک گڈی گلے لگا گود میں ڈال دی تو وہ کچھ دیر کو چپ ہو گئی۔ اس نے اپنے ابو سے اس معاملے میں رائے مانگی تو وہ بھی اس انتظام سے متفق نہ تھے۔ بتانے لگے کہ سندھ میں ڈاکو بہت ہیں۔ راستے میں لوٹ مار ہوئی تو جان بھی جائے گی، بدنامی بھی ہوگی۔ مخبری بھی ہو سکتی ہے۔

سب اسی سوچ بچار میں تھے کہ یہ رقم کس طرح کراچی پہنچائی جائے تو ایسے میں بینو کو یاد آیا کہ اس کی اسکول کی ایک استانی کے بھائی کی بارات کل شام کو کراچی کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔ انصاریوں کی بارات ہے۔ وہ دوست پیچھے پڑی تھی کہ بینو بھی ساتھ چلے۔ بس پھر کیا تھا یکایک اس کے دماغ میں ایک اسکیم بن گئی اس نے ظہیر کو قائل کیا کہ وہ دونوں بارات بس میں۔ رقم دو سوٹ کیس میں منتقل کر کے بارات کے سامان میں چھپا کر ساتھ لے جائیں گے اور باقی موبائل اور ایمبولنس رفیق راہ ہوگی۔

ٹوانہ صاحب کی جانب سے چوں کہ اس موضوع پر فون پر بات کرنے کی ممانعت تھی لہذا ظہیر اس پروگرام میں تبدیلی پر انہیں اعتماد میں لینے کے لیے ایمبولنس لے کر اسی وقت لاہور چلا گیا اور صبح تک واپس بھی آ گیا۔ اس دوران ظہیر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر بینو نے اسے بغیر بتائے بیس لاکھ روپے مزید چھپا لیے۔ ٹرانسپورٹیشن چارجز کے طور۔

اگلی صبح جب وہ روانہ ہوئے تھے تو دولہا کے سامان میں وہ دو اٹیچی کیس بھی شامل تھے جن میں دس کروڑ پچیس لاکھ روپے نقد نوٹوں کی صورت میں موجود تھے۔ ظہیر اور بینو خود باراتیوں والی بس میں۔ کچھ ایکسٹرا مہمان ایمبولنس اور موبائل میں۔ خاصا ہلا گلا رہا۔ موبائل اور ایمبولنس دیکھ کر راستے میں بھی بہت آسانی رہی۔ بارات پارٹی کی ٹور بن گئی۔ کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ان کو روکتا۔ بارات والوں نے پولیس پارٹی کا خیال بھی بہت رکھا۔

کراچی پہنچ کر ایک بار پھر ظہیر ایمبولنس میں سوار ہارون بھائی منی چینجر کے گھر چلے گئے۔ بینو سے یہ پروگرام طے ہوا کہ وہ رات کو اسے لینے ایمبولنس میں شادی ہال پر آ جائیں گے۔ دلہن کی رخصتی کے عین لمحات میں ظہیر آ گئے اور وہ ان کے ساتھ ائرپورٹ کو روانہ ہو گئی۔

ظہیر کا دماغ چونکہ سر دست صرف اور صرف کینیڈا اور حوالہ رقم پر مرکوز تھا لہذا اسے علم نہ ہوا کہ اس کی ازدواجی زندگی میں ٹیپو جی دہشت گردی کا کون سا سلیپر سیل کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس نے بینو کی تنہا واپسی کے مضمرات پر شاید اسی لیے زیادہ غور بھی نہیں کیا۔ چھ گھنٹے بعد بینو کی بھی فلائیٹ تھی۔ دم رخصت روئی بھی بہت۔ وعدہ لیا کہ کسی گوری سے شادی نہیں کرے گا۔ اسے بھی اپنے پاس جلد بلائے گا۔ ائرپورٹ جاتے ہوئے راستے میں ظہیر نے ایک عجب دھماکہ کیا۔

بینو کو سمجھایا گیا کہ اس کے کینیڈا آنے کے لیے جو بھی ہدایت ہوں وہ ٹوانہ صاحب کے ذریعے موصول ہوں گی۔ ممکن ہے نیشنلٹی کے لیے اسے ایک جھوٹا نکاح نامہ اپنی اور ٹوانہ صاحب کی شادی کا بنوانا پڑے۔ اس موقع پر ثبوت کے لیے اس کی بطور دلہن، ٹوانہ صاحب، گواہ، اس کے ابو وکیل سب انتظام موجود ہوگا اور تصاویر بھی بنانی پڑیں گی۔ گھبرانا نہیں۔ نو ٹینشن نو مین شن۔ اس کے ابو کو یہ بات ظہیر نے سمجھا دی ہے۔ وہ بھی ایک پیج پر ہیں

بینو اس خیال سے بہت جزبز ہوئی۔ ایمبولنس میں ہنگامے کا موقع نہ تھا۔ دبے لفظوں احتجاج پر ظہیر نے سمجھایا کہ میرے ساتھ فیملی ویزے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔ بہت ٹائم بھی لگ سکتا ہے۔ یہ کوئی ملتان سے وہاڑی بارات لے جانے کا معاملہ تھوڑی ہے۔ ٹوانہ صاحب نے اچھے دنوں میں کینیڈا کی شہریت لے لی تھی۔ کاغذات میں وہ اب وہ ان کی Conjugal partner کے طور پر کینیڈا آئے گی۔ اس وجہ سے تاخیر نہیں ہوگی۔ لوگ تو بیویوں کو بہن اور بہنوں کو بیوی بنا کر یورپ لے جاتے ہیں۔ جب بطور شوہر اسے اعتراض نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کاغذ پر کیا لکھا ہے۔ کینیڈا میں ٹوانہ صاحب کو کس کھانچے میں فٹ کرنا ہے یہ وہاں مل جل کر دیکھ لیں گے۔ تمہارے پاس ہر مسئلے کا ہم سب سے بہتر حل ہوتا ہے۔ ظہیر نے ٹوانہ صاحب کا پسندیدہ محاورہ استعمال کیا کہ

We’ll cross the bridge when we come to it

(ہم پل کا استعمال اس وقت کریں گے جب ہم اس تک جا پہنچیں۔) یہ مستقبل قریب کے اندیشوں کو پرے رکھنے کا موثر منتر تھا

ظہیر پر بینو بہت کو غصہ آیا کہ وہ یہ سب کچھ پہلے بتاتا تو اور بھی متبادل راستے سوچے جا سکتے تھے۔ اتنی بڑی رقم زمینی راستے سے دولہا کے سامان میں شامل کر کے بحفاظت کراچی پہنچانے کا گرانڈ آئیڈیا بھی تو اسی کا تھا۔ رقم کی ترسیل کا یہ فول پروف انتظام سن کے ٹوانہ صاحب بھی اچھل پڑے تھے۔ کہنے کو بھلے ڈی آئی جی ہوں مگر Tactical Intelligence میں بینو کو لگا وہ اس کے پاسنگ بھی نہیں۔

اصولاً تو بینو کو بارات کے ساتھ واپس آنا چاہیے تھا مگر چونکہ ظہیر کی فلائیٹ براستہ دوبئی اعلی الصبح تھی لہذا وہ اسے خدا حافظ کہنے ائر پورٹ یہ کہہ کر آئی پروگرام کچھ یوں تھا کہ وہ یہاں کراچی سے ہی سیدھی ہوائی جہاز سے لاہور چلی جائے گی، وہاں لاہور سے ابو کے ساتھ وہاڑی لوٹ جائے گی۔ اس نے حساب لگا لیا تھا کہ لندن میں ظہیر کا ٹرانزٹ بھی طویل دورانیے کا تھا۔ ٹوانہ صاحب کا یہ کہنا تھا کہ ظہیر جب تک رقم وصول نہ کروا لے، کہیں سے فون نہیں کرنا۔ وینکور کینیڈا سے بھی نہ ان سے، نہ ہی اپنے گھر والوں سے، کسی سے کوئی رابطہ نہیں کرنا۔ ان کا ایک ڈاکٹر کزن خود ہی اس سے رابطہ کرے گا۔ اس سے بھی زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کرنی۔ ہارون ایک ہفتے تک ہوٹل اور دیگر معاملات میں جس میں گھر ڈھونڈنا شامل ہے اس کی بھرپور مدد کرے گا۔ وہ اسے چند ایک کاروباری تفصیلات، بینک وغیرہ کے کام سے بھی آگاہ کرے گا۔ رقم براستہ لندن ہوتی ہوئی آئے گی۔ کالے دھن میں اور خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے Layering یعنی تہہ جمانے کی بہت اہمیت ہے۔ ہارون میمن منی چینجر والے تو ایسے ہیں کہ ہمارے اسٹیٹ بینک کو صومالیہ منتقل کردیں تو گورنر اپنا بینک آذربائی جان میں ڈھونڈتا پھرے گا۔ ہم دونوں کا بزنس بڑے ٹرکوں کے ذریعے پورٹ سے مال لانے اور لے جانے کا ہوگا۔ ہم برابر کے پارٹنر ہوں گے۔ وہ کوشش کریں گے کہ دو ماہ کے اندر خود بھی پہنچ جائیں۔ جب ہر چیز سیف ہوگی تب ہی نارمل کمیونیکشن ممکن ہوگی۔ وہ اس دوران ظہیر کی فیملی کا مکمل خیال رکھیں گے۔

بینو نے اپنا پروگرام بارات روانگی کے وقت ہی ٹیپو کو بتا دیا تھا۔ ان دونوں کا منصوبہ تھا کہ وہ ہل اسٹیشن ایک ہفتہ گزاریں گے جس کے لیے پہلے اسلام آباد جانا ہوگا۔ وہ اسے لاہور سے پک کریں گے۔ بینو نے حساب لگایا کہ یہ ایک ہفتہ ٹیپو کے ساتھ گزارنے کے لیے بالکل سیف ہے۔ وہ اپنی امی کو اسلام آباد سے فون کردے گی کہ ظہیر ابھی کراچی میں ہی روپوش ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی ہے۔ جب وہ ٹیپو جی کے ساتھ تعطیلات منا کر لاہور واپس پہنچے گی تو ٹوانہ جی سے گاڑی منگوا کر خود ہی وہاڑی بھی پہنچ جائے گی۔ ٹیپو کو ظہیر کے بارے میں کوئی بات نہیں بتانی۔ ابو کو خاص تاکید کردیں۔ ممکن ہے ٹیپو وہاڑی میں ہوں تو گھر بھی آئیں۔ گیزر ٹھیک کروا لیں۔ کمرہ میں نے خود ہی آنے سے پہلے جھاڑ پونچھ دیا تھا۔

جب تک میں واپس وہاڑی نہ پہنچ جاؤں تب تک صبر اور ہمت سے کام لینا ہے۔ دشمن ہر کوئی سجن کوئی کوئی۔ بینو کو اپنی اس پلاننگ پر بہت چس اور تفاخر محسوس ہوا۔ اس نے سوچا کہ محبت، کو تعبیر وصال مل جائے تو، بے خوفی اور نو میسر آزادی، لطف کی کیسی رنگ برنگ آبشاریں بہانے لگتی ہیں۔

کراچی ائرپورٹ پر ہی اسے ٹیپو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ائرپورٹ پر خود موجود ہوں گے۔ باہر آتے وقت البتہ بہت احتیاط کرنی ہو گی۔ سب سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ائرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں۔ بینو جیسے ٹیپو کو دیکھ لے تو یہ اہتمام کرے کہ بیگ میں سے نکال کر عبایہ پہن لے۔ یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کر لیا ہے۔ باہر آئے گی۔ سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے کھڑا ہوا ہوگا۔ یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ ہے جو اس کے گھرانے کو پہلی دفعہ لاہور لے کر گھومی تھی۔ احتیاط صرف اتنی ہے کہ وہ پہلے جا کر جیپ مین بیٹھ جائے گی۔ وہ کچھ دور چل کر ڈرائیور کو اپنی چھوٹی جیپ دے دیں گے اور خود اس جیپ میں باقی ماندہ سفر ساتھ ساتھ طے کریں گے۔ (جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words