تبصرہ بر تبصرہ بابت حقوق نسواں

کوئی پانچ گھنٹے قبل ”ہم سب“ کے فیس بک گروپ پر ایک قاری جناب سیف اللہ صاحب کا تبصرہ نظر سے گزرا۔ اس تبصرے پر مزید باون کمنٹ اب تک ہو چکے ہیں اور ابھی سلسلہ جاری ہے۔ عاجز جناب سیف اللہ صاحب کی تحریر پر تبصرہ سے پیشتر دیگر احباب و خواتین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہے کہ آپ کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس عزیز کی رائے سے جس حد تک اختلاف ہے اسے دلیل سے درست کریں نہ کہ رجعت پسندی کو ناپنے والی عینک سے دیکھتے ہوئے تحقیر کا نشانہ بنائیں۔

جہاں تک موصوف کی اردو کا تعلق ہے یہ کوہستانی لہجہ کی بدولت ہے اور اس پر کسی قسم کا الزام مناسب نہیں۔ ان کے مدعا کے متعلق عرض ہے کہ:

1۔ لکھتے ہیں۔ ”گھر کے اس فرد پر (مراد فرد کو ہے ) ٹوکتے ہیں جو کہ سب سے زیادہ ہمدرد اور غم خوار ہو“

تبصرہ:۔ یہ پہلے فقرے کا خلاصہ ہے۔ یعنی مرد کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام کی حیثیت عطا کی ہے۔ ہر مرد مسلمان اس سے سو فیصد متفق ہے۔ لیکن اس کے اندر ہی مرد کو قصوروار ٹھہرانے کا بھی مفہوم موجود ہے۔ اور یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ آئے روز لوگ حکومت کو بات بات پر کوستے ہیں۔ گویا کہ جتنا کوئی بڑا رتبے والا ہو گا اتنا ہی وہ ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اس لئے موصوف کو مطمئن ہونا چاہیے کہ مرد کی قومیت کا ہی بالواسطہ اقرار ہو رہا ہے۔

2۔ ”ہم دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں“

تبصرہ:۔ ان کی اس بات کو بھی ہرگز رد نہیں کیا جاسکتا۔ صرف اضافہ اس حد تک کیا جاسکتا ہے امید ہے کہ یہ جھانکنے کا عمل اسلام کی اس تعلیم کے مطابق ہونا چاہیے جو قرآن میں درج ہے نہ کہ اس مولوی صاحب کی طرح جھانکنا چاہیے جو جنت کی بشارت دیتے ہوئے ایک حور کو ستر لباسوں میں ملبوس بتاتے ہوئے بھی اس کے ”اندرونی حسن“ کے نظارہ کے تصور میں چالیس سال تک مصروف تماشا رکھتا ہے۔ اور انسان کو نرگسیت یا خود فریبی میں مبتلاء نہیں ہونا چاہیے

3۔ عورتوں کی بعض خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:۔ ”یہی راستہ طلاق تک پہنچتا ہے“ ۔

تبصرہ:۔ انہوں نے متذکرہ خرابیوں میں صرف عورت کی خرابیوں کا ہی ذکر کیا ہے۔ بے شک یہ خرابیاں اگر عورت میں ”پیدا ہو جائیں“ تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ خرابی اگر عورت کی بیاہ سے پہلے تھی تو مرد کو شادی سے پہلے آگاہ ہونا چاہیے تھا اور اس سے بچ کر رہنا چاہیے تھا۔ عدم آگاہی جرم سے معافی کا باعث نہیں ہو سکتی۔ لیکن بحیثیت ایک قوام کے اگر بعد میں تبدیلی آئی ہو تو اس کا ذمہ دار بھی پہلے اصول کے تحت مرد ہی ٹھہرتا ہے اور وہی سزا کا حقدار ہے۔ یہ اپنی طرف سے ہرگز نہیں قرآن کا فیصلہ ہے۔ کہ

”اور چھوڑ دو ان کو ( یعنی عورتوں کو) ۔ اور علیحدہ کر دو ان کو میں بستروں میں“ (النساء۔ 34 )

پہلی نگاہ میں یہ سزا خراب عورتوں کو ہی سنائی گئی ہے۔ اب ہر عقلمند مرد اس سزا کے عمل پر غور کرے تو پتہ چلتا ہے کہ دراصل یہ سزا تو مرد کو ملتی ہے۔ یعنی وہ ہر طرح کا حسن سلوک اپنی اہلیہ محترمہ سے بدستور رکھے مگر بیوی کے اندر خرابی پیدا ہو جانے پر مرد ہی اس کے قریب نہ پھٹکے۔ مردوں پر لازم ہے کہ یہ سزا عورتوں کو (درحقیقت اپنے آپ کو) دیں۔

موصوف اب بتائیں جب خدا ہی اس طرح سے مردوں کو سزا دینے پر راضی ہے تو ہما شما کس باغ کی مولی ہیں۔ خوشی خوشی یہ سزا پھر قبول کریں۔ لیکن ٹھہریئے اگرچہ یہ سزا بالواسطہ مرد کو ہی ملتی ہے اس کا فائدہ بھی بالآخر حضرت مرد کو ملتا ہے اور یقیناً ملتا ہے کہ مرد کا بستر کے علاوہ ہر طرح کا التفات عورت کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور تھوڑی سی عقل والی یہ سمجھ جاتی ہے کہ اسے بھی مرد کا خیال کرنا چاہیے۔ اور اس کا نتیجہ پھر نیک ہی نکلتا ہے۔

پھر بھی بد قسمتی سے اگر نوبت طلاق تک پہنچ ہی جائے تو ہم کون سا ہندو ہیں کہ عورت کو مرد کے ساتھ ہی مرنا بھی لازم ہو۔ خود آنحضرت ﷺ نے مطلقہ عورت حضرت زینبؓ سے شادی کر کے طلاق کے خلاف اس ہندوانہ کراہت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا تھا۔ اور حضرت زینبؓ کے پہلے خاوند حضرت زید رضی اللہ عنہ نامور صحابی رسول اللہ تھے۔ ہم لوگ ان سے زیادہ متقی ہرگز نہیں۔ لہذا تمام تر حسن سلوک کے باوجود اگر بن نہ آئے تو شریفانہ علیحدگی کو کراہت سے نہ دیکھا جائے۔

4۔ موصوف نے لکھا ہے اور یہ ان کا اندازہ ہے کہ:۔

” تحریرے (تحریریں ) بھی زیادہ تر ان لوگوں کے جو اپنا آپ بھول کر انگریزی طرز زندگی اختیار کر چکے ہیں“

تبصرہ:۔ موصوف کو سمجھنا چاہیے کہ دانائی مومن کی ہی گمشدہ چیز ہے اسے جہاں ملے لے لیوے۔ انگریزی طرز زندگی کا انہیں اگر علم نہیں تو جاننا چاہیے کہ انگریزی طرز زندگی میں کم از کم ستر فی صد اسلام ہے جبکہ پاکستانی طرز زندگی میں ایک فیصد بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم کے سات سو احکامات میں سے پانچ صد سے زائد پر وہ عمل کرتے ہیں جبکہ اپنے لوگ نہیں کرتے۔ سچ بولنا۔ پورا تولنا۔ امانت میں خیانت نہ کرنا۔ یتیموں کا مال نہ کھانا۔

ناجائز قبضہ نہ کرنا۔ وغیرہ۔ جہاں تک پینٹ کوٹ پہننا یا شلوار قمیص پہننا خدا کے دربار میں کسی شمار میں نہیں آتا۔ کسی زمانے میں پنجاب کے دیہاتوں میں شلوار پہننی کراہت والی بات تھی اب عام ہے۔ لہذا اسلام کو ان باتوں میں مقید نہیں کر دینا چاہیے۔ انگریز اگر علم دوست ہیں تو یہ صفت اپنانی مسلمانوں کا فرض اولیں تھا اور ہے۔ محض اس لیے کہ انگریز دو سو سال حکومت کرتا رہا ہے لہذا اس کی ہر بات کے برعکس رہنا اسلام قرار نہیں پاتا۔ انگریزوں سے پہلے لفظ ”سیاسی آزادی“ برصغیر کے لوگوں نے سنا ہی نہیں تھا۔ اس وقت تک یہی تھا کہ :

”صلاح (رموز) مملکت خویش خسروان دانند“ ۔ عوام کو بادشاہ لوگ رعایا یعنی ریوڑ ہی سمجھتے رہے تھے۔ اسلام ہمیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ محض بغض کی وجہ سے بے عدلی کریں۔ انگریزوں کی غلط بات کو غلط کہیں لیکن ان سے اندھی نفرت کا مزاج رکھنے کے بجائے اپنے اندر کے شیطان کو مسلمان کریں۔

5۔ موصوف محترم عورتوں پر مردوں کی جانب سے کی جانے والی عنایات کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔

”وہ کون سا حق ہے جو ایک عورت کو اس کے شوہر، بھائی، یا والد نے نہ دیا ہو، برائے مہربانی اپنے گھروں کو لوٹ کر اسے محبت سے آباد کرو نفرتوں سے نہیں ”
تبصرہ:۔ ان کی اس بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے بشرطیکہ اس میں حقیقت میں بھی ہو۔

امر واقعہ یہ ہے کہ عورت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، پاؤں کی جوتی سمجھنے والے مرد کی بد سلوکی کو، برداشت کرتے چلے جانے کی تلقین۔ والدین کی مجبوری یونہی نہیں بن گئی۔ جس معاشرہ میں کمزور کی تحقیر پر شریف کی چیخ نہ نکلے اس میں عورت کو اپنی سروائیول کے لئے نہایت تلخ سمجھوتے کرنے ہی پڑتے ہیں اور یہی اس کی عقلمندی بھی شمار ہوتی ہے۔ موصوف کی اس تلقین کی کہ ”براہ مہربانی اپنے گھروں کو لوٹ کر اسے محبت سے آباد کرو نفرتوں سے نہیں“ دونوں طرف برابر ضرورت ہے۔

6۔ موصوف نے اپنے آخری جملہ ”اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں“ سے اپنے اندرونی اخلاص کا اظہار کیا ہے جو نہایت قابل قدر ہے۔ اور پنجابی کے ایک محاورہ کے تحت ایک گزارش باشعور طبقہ کے گوش گزار کی جاتی ہے کہ ”کملا گل کرے سیانا قیاس کرے“

Comments - User is solely responsible for his/her words