استنبول: ایک بار دیکھا ہے، دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے


استنبول کی سیر کے لیے میں نے اپنی طرف سے ڈھائی دن کافی خیال کیے تھے لیکن اب ہوٹل کے کمرے میں آرام کرتے اور گزشتہ رات کی تکان دور کرتے ہوئے مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ 20 جولائی کے دن کا بہت سا حصہ ضائع ہو چکا تھا۔ کچھ گھنٹے کی استراحت کے بعد ٹانگوں کی سوجن کافی کم ہو گئی تو میں غسل کرکے تازہ دم ہوا، کپڑے تبدیل کیے اور شہر کی سیر کے لیے نکل پڑا۔

میرے پاس شہر کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ نہ میں نے کوئی گائیڈ بک دیکھی تھی۔ مجھے اپنے طور پر ہی کسی گائیڈ کی مدد کے بغیر بھٹکنا تھا۔ بس چند مقامات کے ناموں سے شناسائی تھی۔

ہوٹل سے باہر نکل کر بائیں ہاتھ چل پڑا، گلی کے خاتمے پھر بائیں مڑا تو دو تین گلیاں چھوڑ کر دیکھا کہ سامنے ایاصوفیہ اور دائیں جانب توپ کاپی کا محل ہے۔ محل کو دیکھنے کا پروگرام میں نے آخری دن یعنی 22 جولائی کو رکھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھومتا رہا۔ پھر یہی سوچا کہ پہلے ایا صوفیہ کو دیکھ لیا جائے۔ 20 لیرا کا ٹکٹ خریدا اور اندر داخل ہو گیا۔ یہ ہر اعتبار سے ایک بہت پرشکوہ عمارت ہے۔ اپنی تعمیر کے بعد نو صدیوں سے زیادہ عرصہ تک یہ بازنطینی ریاست کا مقدس ترین مذہبی مرکز رہی، ترکوں کی فتح کے بعد 470 برس تک اسے مسجد کا مقام حاصل رہا، اور 1935 میں اسے میوزیم بنا دیا گیا۔

ایا صوفیہ آرتھوڈوکس مسیحیوں کا مرکزی چرچ تھا۔ رومن کیتھولک چرچ سے ان کی سخت عداوت تھی۔ مسیحیوں کے یہ دونوں فرقے ایک دوسرے کو مذہب سے خارج قرار دیتے تھے۔ جب سلطان محمد فاتح کی فوجوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا تو مایوسی کے عالم میں بازنطینی شہنشاہ نے پوپ سے مدد طلب کی۔ جب پوپ کا بھیجا ہوا وفد ایا صوفیہ میں داخل ہوا تو قسطنطنیہ کے شہری سخت ناراض ہو گئے کہ مقدس مقام کو ناپاک کر دیا ہے۔ رومن کیتھولک چرچ سے ان کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے کہا، ہم پوپ کے تاج پر ترکوں کے عمامے کو ترجیح دیں گے۔

استنبول کو چونکہ بزور شمشیر فتح کیا گیا تھا اس لیے فوجی قانون کے مطابق وہ تین دن کے لیے لشکریوں پر حلال تھا۔ یعنی جو جتنا لوٹ سکتا ہے وہ لوٹ لے۔ فتح کے اگلے روز سلطان گھوڑے پر سوار شہر میں داخل ہوا، جب وہ ایا صوفیہ کے سامنے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک لشکری اس کا سنگ مرمر اکھاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی سلطان نے لوٹ مار روکنے کا فرمان جاری کر دیا۔ جب امن و امان قائم ہو گیا تو سطان نے مسیحی آبادی کے ساتھ بہت فراخ دلانہ معاہدے کیے، ان کو بہت سی رعایات دیں اور ان واپس لا کر شہر میں آباد کیا۔ سلطان کے ان معاہدات پر مذہبی طبقہ انھیں غیر اسلامی سمجھنے کی بنا پر ناراض تھا لیکن چپ رہنے پر مجبور تھا۔ سلطان کی وفات کے بعد جب نیا سلطان بنا تو اس نے مذہبی طبقے کے دباو میں کچھ رعایات واپس لے لیں تھیں۔

سلطان محمد فاتح کا ایا صوفیہ کو مسجد بنانے کا فیصلہ کس حد تک درست تھا، اس سے قطع نظر فاتحین کا اکثر و بیشتر یہی دستور رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس زمانے میں بڑی عبادت گاہ شہر کے مرکزی مقام پر واقع ہوتی تھی۔ چنانچہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فاتح کا اس جگہ پر دل للچاتا تھا اور وہ اس پر قبضہ کرکے اپنی عبادت گاہ میں تبدیل کر لیتا تھا۔ باقی خریدنے والی باتوں کی حقیقت ایک افسانے سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ عبادت گاہیں قابل فروخت نہیں ہوتیں اور نہ ان کا کوئی مالک ہوتا ہے جس کے ساتھ سودا طے کیا جا سکتا ہو۔

ایا صوفیہ کا ڈیزائن ترکوں کو اتنا پسند آیا کہ یہ ان کا امتیازی نشان بن گیا۔ اس کے بعد ترکی میں مساجد زیادہ تر اسی نقشے کے مطابق تعمیر کی جاتی ہیں۔ گستاو لی بوں ایک فرانسیسی تھا جو تمدن عرب نامی کتاب کا مصنف تھا۔ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ وہ اگرچہ لامذہب تھا لیکن فرانسیسی ہونے کے ناتے کیتھولک اور آرتھوڈوکس چرچ کی مناقشت سے پیچھا نہیں چھڑا سکا تھا۔ چنانچہ اس کی رائے میں سب سے زیادہ بدصورت مساجد ترکوں کی تعمیر کردہ ہیں۔

مسجد کے ستونوں کے ساتھ بلندی پر اللہ، محمد، چاروں خلفا اور امام حسن اور حسین کے ناموں کے طغرے لٹکائے گئے جو خطاط مصطفیٰ عزت افندی کے فن خطاطی کے بہت عمدہ نمونے ہیں۔ ترکوں نے بہرحال اتنی رواداری کا مظآہرہ ضرور کیا کہ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کی تصاویر کو مٹایا نہیں بلکہ انھیں ڈھانپ دیا گیا تھا۔

سوئٹزر لینڈ کے متعلق شفیق الرحمان نے لکھا تھا کہ ملک تو خوبصورت ہے لیکن بیس میل کے بعد خود کو دہرانا شروع کر دیتا ہے۔ ترکی کی مسجدوں کا یہی حال ہے۔ دو تین دیکھ لیں تو باقی بھی سب ویسی ہی ہوں گی۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب ایاصوفیہ کو مسجد بنا دیا گیا تھا تو پھر سو ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر اتنی بڑی مسجد بنانے کی کیا ضرورت تھی جسے نیلی مسجد، بلو ماسک، کہا جاتا ہے۔ لگتا ہے مسلمانوں بادشاہوں کو محلات، قلعے اور مساجد بنانے کے علاوہ دولت کے کسی اور مصرف کا معلوم نہیں تھا۔ دولت ہونا بھی ضروری نہیں، یہ کام ادھار لے کر بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ دولما ہاہچے محل قرض اٹھا کر بنایا گیا تھا۔ مساجد کی تعمیر یقیناً ثواب کمانے کا ذریعہ ہو گی۔ چپے چپے پر مسجد نظر آتی ہے۔ یہ فلاں پاشا کی جامی ہے اور یہ فلاں پاشا کی جو زیادہ تر ویران پڑی ہوتی ہیں۔ خیر سیاحتی فریضہ پورا کرنے کی خاطر بلو ماسک کی بھی زیارت کی۔ اب وہ بھی بنیادی طور پر سیاحتی مقام ہے۔ مسجد کے دالان میں چھوٹا سا ایریا نماز کے لیے مختص ہے۔ دالان میں داخل ہوتے وقت جوتوں پر سیلوفین کے کور چڑھا لیے جاتے ہیں۔ یورپی خواتین سیاح جو مختصر لباس میں ہوتی ہیں، وہ اندر داخل ہونے سے پہلے وہاں دستیاب چادروں سے اپنی ٹانگیں ڈھانپ لیتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مسجد نے مجھے کچھ خاص متاثر نہیں کیا تھا۔ شاید اس کا سبب میری طبیعت میں روحانیت کا نہ ہونا تھا۔

اب غروب آفتاب قریب تر تھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھوم کر میں ہوٹل واپس آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے نکل کر ایک گلی میں مڑا تو تھوڑے فاصلے پر شہر قدیم کی فصیل تھی۔ فصیل کے اندر جو پرانا یورپی شہر ہے اسے ستامبول کہا جاتا ہے۔ فصیل کے اوپر ٹرین چلتی ہے۔ نیچے ایک راستہ نظر آیا۔ وہاں سے باہر نکلا تو مارمرا سمندر سامنے تھا۔ فصیل کے ساتھ جو سڑک بنی ہوئی ہے اس کا نام کینیڈی جادہ سی ہے۔ میں کچھ دیر تک وہاں سمندر کے کنارے بیٹھا رہا۔ وہاں کچھ لوگ ڈوریاں پانی میں ڈالے مچھلی کا شکار کر رہے تھے۔ اب رات ہو چکی تھی۔ میں واپس پلٹا، ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور اپنے ہوٹل میں آ کر سو گیا۔

اگلی صبح 21 جولائی کو حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری دی، جس کا احوال میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ وہاں سے نکل کر پھر ایک بس میں بیٹھ گیا جو گولڈن ہارن کے ساتھ بنی سڑک پر شمال کی جانب جا رہی تھی، دائیں ہاتھ پہاڑی پر ایک بہت وسیع و عریض قبرستان دکھائی دے رہا تھا۔ میں گولڈن ہارن کے دوسرے کنارے پر استنبول کے یورپی حصے میں جانا چاہتا تھا لیکن کچھ معلوم نہیں تھا۔ تنگ آ کر ایک مقام پر بس سے اتر گیا اور دوسری بس پکڑ کر ایمینونو کے علاقے میں واپس آ گیا جہاں غلطہ کا پل ہے۔

وہاں بجائے یورپی حصے میں جانے کے میں فیری پر سوار ہو کر استنبول کا ایشیائی حصہ دیکھنے چل پڑا جسے اسکودار بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرے کنارے پر جہاں فیری رکی وہ علاقہ قاضی کوئے کہلاتا ہے۔ وہاں پاس ہی ایک قدیم مسجد دکھائی دی جو شہزادی کے نام سے موسوم ہے۔ مہر ماہ سلطان سلیمان عالی شان کی بیٹی اور وزیر اعظم رستم پاشا کی بیوی تھی۔ اس کی فرمائش اس وقت کے مشہور معمار سنعان نے تعمیر کی تھی۔ اس مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ عثمانیوں کے حرم میں ملکہ کے ساتھ والدہ سلطان کا بہت بلند مرتبہ ہوتا تھا۔ اکثر اوقات ملکہ اور والدہ میں حریفانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ اس لیے بعض سلاطین کی مائیں محل کے ہنگاموں سے دور ایشیائی حصے میں قیام کو ترجیح دیتی تھی۔ اس لیے ان کے نام سے بھی کئی مساجد موجود ہیں۔ اسکودار تاریخی طور پر بزنطیم سے پہلے آباد ہوا لیکن قدرتی دفاعی لائن نہ ہونے کی بنا پر مسلسل حملہ آوروں کی زد میں رہتا تھا اس لیے یہاں بازنطینی عہد کے آثار موجود نہیں ہیں۔ اگر کوئی ہیں تو مجھے معلوم نہیں تھا۔

کچھ دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد میں ایک بس میں بیٹھ گیا۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں باسفورس کا پل عبور کرکے یورپی حصے میں جاوں لیکن راستہ معلوم نہیں تھا۔ بس بہت دیر تک شہر میں گھومتی رہی۔ ایشیائی علاقہ بھی بہت عمدہ ترقی یافتہ اور کسی اعتبار سے یورپی حصے سے کم تر نہیں تھا۔ وہاں بات سمجھنے والا اور راستہ بتانے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔ تنگ آ کر میں ایک بس میں بیٹھ کر دوبارہ قاضی کوئے میں واپس آ گیا۔

وہاں سے دوبارہ فیری میں سوار ہوا۔ ایک طرف پرانا حیدر پاشا ریلوے سٹیشن نظر آ رہا تھا۔ فیری میں میرے سامنے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی عمر کوئی پینتالیس برس کے لگ بھگ ہو گی۔ اس کے خد و خال عام ترکوں سے کچھ مختلف لگ رہے تھے۔ میں نے اسے کیمرہ دیا کہ وہ میری تصاویر بنا دے۔ اندازہ ہوا کہ وہ تھوڑی بہت انگریزی سمجھ اور بول لیتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا باپ بوسنیا سے تھا جو ساٹھ کی دہائی میں ترکی آ گیا تھا۔ جب فیری سے اترے تو اس نے کہا میرا نام سلاتین ہے۔ میں نے جواب دیا ہم اسے صلاح الدین کہتے ہیں۔ اس نے میرا نام اور پیشہ پوچھا۔ جب میں نے کہا کہ میں یونیورسٹی پروفیسر ہوں تو اس نے کہا کہ ہم یونیورسٹی پروفیسر کو ہوجہ کہتے ہیں۔ یہ فارسی خواجہ کا ترکی تلفظ ہے۔ اس نے اصرار کرکے میرا ٹرین کا ٹکٹ خریدا۔ ہم ٹرین میں سوار ہوئے لیکن دوسرے یا تیسرے سٹیشن پر ٹرین کسی خرابی کی وجہ سے رک گئی۔ چنانچہ ہم اتر کر پیدل چلنے لگے۔ وہاں چڑھائی ہے۔ میں ہانپتا ہوا اس کا ساتھ دے رہا تھا۔ جب سلطان احمت کے علاقے میں پہنچے تو اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک ہوٹل میں کام کرتا ہے۔ اس نے پھر اصرار کرکے مجھے کوک پلائی۔ وہ مجھے کچھ بتانا چاہتا تھا لیکن اس کو مناسب انگریزی لفظ نہیں مل رہا تھا۔ اس نے ہوٹل کے ایک ورکر سے پوچھ کر مجھے بتایا کہ وہ ارلی ریٹائرمنٹ لے کر اس ہوٹل میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ مجھے یہ بالکل دھیان نہ رہا اس کے ساتھ ایک تصویر ہی بنوا لوں۔

اگلی صبح یعنی 22 جولائی کو میرا توپ کاپی میوزیم دیکھنے کا پروگرام تھا۔ توپ کاپی محلات کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ استنبول کی خوبی یہ ہے کہ 1453 کے بعد اس شہر پر کوئی بیرونی حملہ نہیں ہوا، نہ اس شہر میں کبھی تاخت و تاراج ہوئی۔ برصغیر ہند کے شہروں، بالخصوص دہلی اور لاہور، کی طرح نہیں جو تھوڑے تھوڑے عرصے بعد حملہ آوروں کی غارت گری اور لوٹ مار کا نشانہ بنتے رہے۔ اس وجہ سے ترکوں کا پانچ صدیوں پر محیط تمام تاریخی اور ثقافتی ورثہ محفوظ ہے۔

جس گیلری میں سلاطین کے نودرات رکھتے گئے اس کے دروازے پر عربی رسم الخط میں لکھا نظر آتا ہے: شہر یار پر کرم ظلِ جنابِ کبریا۔ عربی رسم الخط پرانی مساجد اور تاریخی عمارتوں میں ہی نظر آتا ہے۔ گیلری میں سیاحوں کا بے تحاشا رش تھا۔ وہاں فوٹوگرافی منع تھی لیکن میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ موبائلوں سے تصویریں بنا رہے تھے۔ بادشاہوں کے ہیرے جواہرات جڑے لباس، کپ اور فلاسک جن کی آج کے زمانے میں قیمت کا اندازہ کرنا بھی شاید مشکل ہو۔ ایک شیشے میں ایک چھوٹا سا تخت نظر آیا جو نادر شاہ نے عثمانی سلطان کو تحفہ میں بھیجا تھا۔ جواب میں عثمانی سلطان نے ایک مرصع خنجر کا تحفہ روانہ کیا۔ وفد ابھی راستے میں ہی تھا کہ نادر شاہ کے قتل کی خبر ملی۔ چنانچہ وفد تحفہ سمیت واپس آ گیا۔

 وہ حصہ جہاں مذہبی نوادرات رکھے ہوئے ہیں، اس کی زیارت کرتے ہوئے سچی بات ہے کہ میرا تشکیک زدہ ذہن اور عقیدت سے خالی قلب ان کی اصلیت قبول کرنے سے انکاری تھے۔ بالخصوص حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا دیکھ کر تو کافی مایوسی ہوئی۔ ایک جگہ چاروں خلفائے راشدین کی تلواریں ایک ساتھ رکھی ہوئی ہیں۔ میں کافی دیر تک ان کو دیکھتا رہا۔ تلواروں کا سائز ان کے مالکوں کی شخصیت کا آئینہ دار تھا۔ حضرت علی کی شہرت چونکہ بہادر جنگ جو کی ہے اس لیے ان کی تلوار کا سائز سب سے بڑا تھا۔ اس سے ذرا چھوٹی تلوار حضرت عمر کی اور اس سے بھی چھوٹی تلوار حضرت ابوبکر سے منسوب ہے۔ حضرت عثمان کی تلوار کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ اسے تلوار قرار دینا بس تکلف ہی محسوس ہوتا ہے۔ توپ کاپی کا ایک حصہ حرم سرا ہے جس کے لیے الگ سے 15 لیرا کا ٹکٹ لینا پڑتا تھا۔ میں اس وقت تک تھک چکا تھا۔ اس لیے حرم سرا دیکھنے کی بجائے باہر نکل آیا۔ (ڈاکٹر صاحب کی تھکاوٹ موقع شناس ہے۔ یہ نہیں لکھتے کہ دراصل شرما گیا تھا۔ مدیر)

نیلی مسجد سے متصل وہ میدان ہے جسے ہپوڈروم کہا جاتا ہے۔ یہاں رتھوں کی دوڑیں ہوا کرتی تھیں۔ فلم بن حر دیکھنے والوں کی رتھوں کی دوڑ کا سین بخوبی یاد ہو گا۔ وہاں تعمیر کردہ تین چوکور مینار ابھی تک موجود ہیں۔ ایک مینار شہنشاہ تھیوڈوسیئس سے منسوب ہے جو 390 عیسوی میں تعمیر کیا گیا۔ اسی میدان کے ایک کونے میں وہ فوارہ نصب ہے جو جرمنی کے بادشاہ قیصر ولہلم دوم نے تحفہ میں دیا تھا۔

 اسی روز میری واپسی تھی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں دو گھنٹے میں سلیمانیہ مسجد دیکھ کر واپس آ سکتا ہوں۔ چناچہ وہاں سے ٹرین میں بیٹھ کر میں ایمینونو چلا گیا۔ وہاں سپائس بازار سے ہوتا ہوا، ایک پہاڑی پر چڑھتا ہوا جب سلیمانیہ پہنچا تو یہ جان کر سخت مایوسی ہوئی کہ وہ مرمت کی وجہ سے بند تھی۔ اس سے ملحق سلیمان کے مقبرہ کی زیارت کی اور واپسی کی راہ لی۔ سپائس بازار سے میں نے اپنی اہلیہ کے لیے ایک سکارف کی خریداری کی۔

دو ہفتوں کے سفر میں ترکی کی ترقی دیکھ کر دل بہت خوش ہوا تھا۔ وہاں کے لوگوں کا رویہ بھی شائستہ تھا۔ ترکی سماجی اعتبار سے ایک کھلا معاشرہ ہے۔ سیاسی اعتبار سے اگرچہ جمہوریت کی جڑیں گہری نہیں ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی اصلاحات کا اثر جابجا نظر آتا ہے۔ اپنے سماجی رویوں میں ترکی یورپی ممالک کی ہم سری کرتا ہے۔ عورتوں نے ہر طرح کا لباس پہنا ہوتا ہے لیکن پبلک مقامات پر اور نہ پبلک ٹرانسپورٹ میں کسی کو انھیں گھورتے دیکھا۔ میرا عمومی تاثر یہ تھا کہ تمام تر ترقی کے باوجود، چند معاملات بالخصوص پبلک مقامات پر ٹوائلٹس کی حالت کو دیکھتے ہوئے، ترکی ابھی شمالی امریکہ سے سو پچاس سال پیچھے ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنے وطن عزیز سے کوئی سو ڈیڑھ سو سال آگے دکھائی دیتا ہے۔

 دو ہفتوں کے سفر میں واپسی کے وقت مجھے تھوڑی سی بدمعاملگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایا صوفیہ کے باہر مجھے پتہ چلا کہ وہاں ویگنیں چلتی ہیں جو آپ کو ہوٹل سے پک کرکے ایرپورٹ لے جاتی ہیں۔ میں نے ایک دن پہلے ڈیرھ بجے والی ویگن کا دس لیرا کا ٹکٹ خرید لیا۔ وین دس منٹ کی تاخیر سے آئی۔ میں وین میں سوار ہوا تو اس میں تقریبا میری ہی عمر کے دو مصری موجود تھے۔ دو گلیاں چھوڑ کر ایک اور سواری نے بیٹھنا تھا۔ اب وین اس کے انتظار میں کھڑی ہے۔ وہ صاحب سڑک پرکھڑے ایک خاتون سے الوداعی بوسہ بازی میں مصروف تھے۔ خیر وہ آیا اور وین میں بیٹھتے ہی اس نے کہا، میں یہاں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گا، میرا تجربہ بہت ناخوشگوار رہا ہے۔ وہ شاید سوڈانی تھا کیونکہ مصریوں کے ساتھ وہ عربی میں بات کر رہا تھا۔ اس کی منزل انگلستان تھی۔ وین چل پڑی اور کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ڈرائیور نے ایک جگہ گاڑی روک لی۔ وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ میرا فلائیٹ کا وقت قریب آ رہا تھا اور مجھے سخت ٹینشن ہو رہی تھی۔ وہ کچھ بتا بھی نہیں رہا تھا۔ کافی دیر کے بعد ایک اور ویگن وہاں آئی، جس سے ایک مسافر اتر کر ہماری وین میں سوار ہوا۔ خدا خدا کرکے کاؤنٹر بند ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے ایرپورٹ پہنچا۔ وہاں بورڈنگ کارڈ ملنے میں کچھ تاخیر ہو رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا، کیا کوئی مسئلہ ہے؟ اس نے جواب دیا، ویٹ۔ کارڈ نکلا تو اس نے مجھے کہا، مبارک ہو۔ میں نے دیکھا تو مسرت ہوئی کہ مجھے بزنس کلاس کا کارڈ ملا تھا۔ شاید تاخیر سے پہنچنا کچھ سودمند ثابت ہوا۔ وہاں ایر پورٹ پر کچھ لیرا جو بچے ہوئے تھے وہ خرچ کیے اور جہاز پر سوار ہو گیا۔

 جہاز میں میری ساتھ والی سیٹ پر ایک نوجوان ترک لڑکی بیٹھی تھی۔ جب ایرہوسٹس نے مشروبات کے متعلق دریافت کیا تو وہ کچھ دیر آپس میں بات کرتی رہیں۔ میری سمجھ میں تو نہیں آ رہا تھا لیکن مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ریڈ وائن کے کسی خاص برانڈ کے متعلق پوچھ رہی تھی اور ایر ہوسٹس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دوسرا برانڈ ہے۔ خیر اس نے ریڈ وائن منگوا لی، لیکن لگتا تھا کہ اسے کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی کیونکہ اس نے آدھا گلاس ہی ختم کیا تھا۔ میں نے اس سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا نو انگلش۔ خیر 23 تاریخ کی صبح جہاز نے کراچی ایر پورٹ پر لینڈ کیا اور میرا دو ہفتوں کا یہ سفر تمام ہوا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments