چھریاں چھپا کر رکھتی ہوں (ایک ماں کا جملہ)
ویسے تو ہم معاشرتی طور پر کافی بے حس ہیں، بہت کچھ بھول جاتے ہیں بہت کچھ سہ جاتے ہیں، قصور کی زینب سے لے کر انگنت پہلے اور بعد میں ریپ کی جانے والی معصوم بچیاں، عورتیں، روز کسی نا کسی درندے کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کہوں اور لکھوں، ایسا بے رحم معاشرہ۔ انسان تو انسان جانور بھی بے اماں ہو گئے، ان کو تو بس نبض چلتی ہوئی ملنی چاہیے، پھر وہ کوئی بچی، لڑکی، عورت، یا کوئی عمر رسیدہ ہو، یا پھر بکری ہی کیوں نا ہو۔
لکھتے ہوئے کی بورڈ پر ایک لمحے کو ہاتھ ہی رک جاتا ہے کہ میں کیسے لکھ سکتی ہوں اتنی بربریت کو، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے اس پر زبان بندی نہیں ہو سکتی، وزیر اعظم نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہہ دیا کہ ریپ ہونے والا شخص کا قصور نہیں ریپ کرنے والا سزا کا مستحق ہے، لیکن اس معاشرے میں روبوٹ کی اصطلاح بھی وزیراعظم نے جب استعمال کی جب یہاں مسلسل ریپ کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اس ریپ کو ریپ ہی کہا جائے، تاکہ جب یہ لفظ ادا ہو تو اس کی بے بسی اور تکلیف کا اندازہ ہو، یہ وہ معاشرہ جس میں قبریں کھود کر ریپ ہوئے ہیں، یہ کون سے جنسی ہوس کے مارے ہیں کہ نا بکری چھوڑیں، نا مری عورت کو بخشیں، نا معصوم بچیوں کا لحاظ کریں، یہ پردہ بے پردہ، ہر عورت کو ایک طرح دیکھتے ہیں، مگر میرا سوال ہے کیوں؟ کیا وجوہات ہیں کہ یہ کیسز بڑھ رہے ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد اور پھر ملک کا کوئی ایک شہر اور علاقہ نہیں جہاں عورتیں محفوظ ہوں،
وہ ظاہر جعفر اپنے اقبال جرم میں کہہ رہا ہے کہ (نور مقدم بے وفائی کر رہی تھی، تو برداشت نہیں کر سکتا تھا) شرم اور لحاظ کا اگر رتی برابر بھی مطلب آتا ہے تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے، ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کو بھی، اور ان تمام لوگوں کو جنھوں نے اس منظر کے سامنے خود کو بے بس بنائے رکھا، عورت کو مار دو، کسی بھی نام پر اپنی ہوس پوری کرو، اپنی تسکین پوری ہو چاہیے پھر کسی کی گردن کاٹ کے اس کے دھڑ سے جدا کروں اور کہوں بے وفائی کا بدلا، ایسے مرد ہونے پر تف ایک نہیں ہزار بار، لفظ نفرت بہت قبیح ہے، لیکن جو یہ سب کر ہے ہیں وہ اس لفظ سے زیادہ کے حق دار ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ذہنی مریض تھا اس لیے ایسا کر گیا، جنسی ہوس کا غلبہ تھا، اس لئے ریپ ہو گیا، میں ان سے سوال کرتی ہوں، کیا آپ ان لفظوں سے مجرمان کے حق میں آواز بلند کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
میں ایسے اشخاص کو جانتی ہوں جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں، ان کی مائیں بہنیں ہر وقت ان کی موت کی دعا کرتی ہیں، کیوں انھوں نے اپنے گھر میں لوگوں کی زندگی حرام کر رکھی ہے، شادی کی تو بیوی کے ساتھ وہی جاہلانہ سلوک، ایک ماں نے مجھے کہا کہ میں اپنے بیٹے سے گھر میں چھریاں چھپا کر رکھتی ہوں ڈر ہے کہ کہیں ہمیں مار ہی نا دے، اس ماں کی بے بسی کا تصور کوئی کر سکتا ہے جو اپنے کوکھ سے جنم دینے والے سے ڈرتی ہو، اس ماں کے ان لفظوں نے میرا جسم تھرا دیا تھا، لیکن یہ سچ ہے کہ ایسے ظالم اسی دنیا میں رہتے ہیں، آپ کے گھر میں پل رہے ہوتے ہیں لیکن شاید نظر نہیں آتے۔ نظر جب آتے ہیں جب کوئی حادثہ ہو جائے۔ ایسے مرد ہونے کے دعوے داروں کو آپ کیا کہیں گے؟
ہم سہم گئے ہیں۔ کیسے گزاریں زندگی؟ کس سے کہیں کہ ہماری حفاظت کرو؟ عورت ہونا کیوں جرم ہے؟ کیوں ماں بہن بیٹی، بیوی گالی بنا دیا ایسے خبیث لوگوں نے؟ آج جب دفتر آئی تو معلوم ہوا کہ ایک اور گھر کی معصوم ماہم کو اغوا کیا گیا، اس کا ریپ کیا گیا، ایک سے زیادہ لوگوں نے اور پھر نعش کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی۔ ہر روز ایسے واقعات ذہنی اذیت اور تکلیف سے دوچار کرتے ہیں۔ لاکھ بلز اور قوانین بن جائیں، میرے نزدیک یہاں مرد کا راج اتنا مضبوط ہے کہ اس کے آگے ہر قانون اور اس کی گرفت بہت بہت کمزور ہے، اور ریاست بھی شاید اس سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ لکھتے لکھتے گلا سوکھ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں چیخ رہی ہوں اور کوئی سنتا ہی نہیں لیکن اگلے کسی واقعے کا انتظار اور پھر اسی کرب کی داستان تک کے لئے اجازت۔


