آئیں دیکھیں بلوچستان پہلی قسط

آپ نے شمالی علاقہ جات اور وادی کشمیر کی خوبصورتی اور سیاحت کے بارے میں تو ضرور سنا ہوگا، مگر آج آپ کو میں رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے وسیع صوبہ بلوچستان کی سیر کروانے لگا ہوں۔ یہ صوبہ اپنی قدرتی معدنیات اور ذخائر کے حوالے سے مشہور تو ہے ہی، مگر یہاں کے سیاحتی مقامات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ بلوچستان قدرتی ماحول پر مبنی خوبصورت مناظر، دلکش اور دلفریب سیاحتی مقامات اور ثقافتی تاریخ سے مامور ایک دلفریب سرزمین ہے۔ خوبصورت مناظر سے بھرپور اس سرزمین بلوچستان کا ہر رنگ حسین اور ہر روپ ہی نرالا ہے۔ ویسے تو بلوچستان کے ہر ضلع میں بے پناہ سیاحتی مقامات موجود ہیں مگر ان میں سے چند اہم اور نایاب مقامات مندرجہ ذیل ہیں۔

زیارت کے صنوبر کے جنگلات اور قائد اعظم ریذیڈینسی:

دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی طرف ”زیارت“ کے نام سے صنوبر کے جنگلات میں گھرا یہ ضلع واقع ہے۔ یہاں کے صنوبر کے جنگلات پوری دنیا میں ایک منفرد نام رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی اسی ضلع میں گزارے تھیں۔ جس کی وجہ سے ایک عالیشان عمارت ”قائداعظم ریذیڈینسی“ کے نام سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ملک بھر کے سیاح لطف اندوز ہونے کے لئے زیارت میں اکثر بابا خرواری کا رخ کرتے ہیں۔

گرمیوں میں یہاں کا موسم دل فریب ہوتا ہے مگر سردیوں میں خوب برف باری پڑتی ہے۔ اس طرح زیارت پورے سال سیاحوں کا منتظر ہوتا ہے۔ خرواری بابا اور دوسرے مقامات جیسے دوزخ تنگی، فاران تنگی، سنڈیمن تنگی، منہ ڈیم، کواس ڈیم، زیزری، ڈومیرہ، پراسپیکٹ پوائنٹ، وغیرہ جیسے بے شمار مقامات دیکھنے کے قابل ہیں۔ ہر سال مقامی سیاحوں کے علاوہ ملک کے دوسرے صوبوں کے سیاحوں کے ساتھ ساتھ زیارت غیرملکی سیاحوں کی تفریح کا بھی ایک مرکز ہے۔

ہنہ جھیل اور اوڑک:

کوئٹہ شہر سے قریبا 18 کلومیٹر کے فاصلے پر یہ خوبصورت اور دلنشین مقامات واقع ہیں۔ یہ دونوں علاقے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی حسن سے مالامال تو تھا ہی، مگر سال 1894 ء میں برطانوی دورحکومت میں یہاں مصنوعی طور پر ایک جھیل بنا دی گئی، جس کے باعث اس جھیل میں کھڑا پانی سارا سال سیاحوں کی تفریح کا مرکز رہتا ہے۔ جبکہ بارشوں کے بعد جب اس میں مزید پانی جمع ہوجاتا ہے، تو اس جھیل میں کشتیاں بھی چلائی جاتی ہے۔

جبل نور القرآن:

عربی زبان میں ”جبل“ پہاڑ کو کہتے ہیں، جبکہ ”نور“ کا مطلب روشنی سے ہیں۔ یعنی ”روشنی والا پہاڑ“ ۔ آپ کو عجیب لگ رہا ہوگا کہ روشنی والا پہاڑ پھر کیسے ہوتا ہے؟ یہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کا مین پوائنٹ ہے۔ جہاں آج کل ٹرانسپورٹ اڈہ بھی بنا ہوا ہے وہیں موجود ایک پہاڑ ہے، ایک ایسا پہاڑ جہاں آج سے تقریباً 25 سال پہلے مخلتف غار کھو دے گئے تھے تاکہ قرآن مجید کے شہید ہونے والے نسخے اور پاک اوراق کو محفوظ بنایا جاسکیں۔ ان غاروں میں قرآن مجید کے لاکھوں نسخے موجود ہیں۔ جبل نور القرآن اب صرف قرآن مجید کے شہید ہونے والے نسخوں کو محفوظ کرنے کی جگہ ہی نہیں رہی بلکہ یہ سیاحت کا بھی ایک بڑا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں روزانہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ اور تاریخی نسخوں پر مبنی اس پہاڑ کا منظر دیکھتے ہیں۔

مولہ چٹوک خضدار:

ضلع خضدار میں واقع یہ سیاحتی مقام قدرتی حسن سے بھرپور ہے۔ حال ہی میں میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والی یہ جگہ خضدار کے علاقہ ”مولہ“ میں واقع ہے۔ جبکہ ”چٹوک“ کا لفظ بلوچی اور براہوی زبان میں اوپر سے قطروں کی شکل میں نیچے گرنے والے پانی کے قطروں کو کہتے ہیں۔ مولہ چٹوک میں دراصل متعدد بڑی اور چھوٹی آبشار موجود ہیں۔ آبشاروں سے گرنے والے پانی کی مناسبت سے یہ علاقہ مولہ چٹوک یعنی مولہ کے آبشار کے نام سے مشہور ہے۔

مقامی سیاحوں کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے سیاح بھی مولہ چٹوک کی دیدار ضرور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں میں یہ ”بڑے چٹوک“ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گرمیوں میں اس مقام پر کافی زیادہ گرمی ہوتی ہے لہذا اگست کے بعد سے اس جگہ کی سیر کی جا سکتی ہے۔ مولہ چٹوک سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ”چھوٹا چٹوک“ واقع ہے جسے مقامی زبان میں ”چنکا چٹوک“ کہتے ہیں، اگرچہ کیمپنگ کے لئے وہاں جگہ نہیں، مگر سیاح وہاں جاتے ہیں اور لطف اندوز ہونے کے بعد اسی دن واپس آ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی خضدار میں بے شمار سیاحتی مقامات میں ”چھارو مچھی“ بھی بہت مشہور ہے۔ یہ مقام خضدار شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر کے مسافت پر واقع ہے۔ بڑے بڑے پہاڑوں کے دامن میں جاتا راستہ سفر کو مزید یادگار اور دلفریب بنا دیتا ہے۔

وادی بولان:

دراصل ”وادی“ دو پہاڑوں کے درمیان بہتے ہوئے پانی والی جگہ کو کہتے ہیں۔ کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے راستے میں بولان کی یہ خوبصورت پہاڑیاں آتی ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے پہلا ریلوے نظام یہاں تعمیر کیا گیا تھا۔ بولان کی یہ تاریخ اور سیاحتی حسن بھی سیاحوں کی توجہ کا ہمیشہ سے اہم مرکز رہا ہے۔

قدرتی جزیرہ استولہ:

سی پیک کے حوالے سے مشہور گوادر اور پسنی کے ساحل پر موجود یہ جزیرہ ”بحیرہ عرب“ میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ کہلاتا ہے۔ یہ جزیرہ بلوچستان کی خوبصورتی کا پوشیدہ مثال ہے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

ہنگول نیشنل پارک، ہنگول:

خوبصورت اور مضبوط پہاڑیوں کے درمیان یہ پارک ہنگول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پاکستان کا قومی جانور ”مارخور“ بھی اسی پارک میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ بہت سے نایاب جانوروں کا بھی یہ بسیرا ہے۔ اطراف سے گہرے پانی میں چھپا یہ پارک واقعی دید کے قابل ہے۔

کند ملیر ساحل:

بلوچستان کے علاقے کند ملیر میں واقع یہ ساحل ایک پراسرار جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور سیاحوں کی توجہ کا ایک اہم مرکز ہے۔ پچھلے چند سالوں سے مختلف سیاحتی کمپنیوں اور دوسرے لوگوں کے لئے یہ بہترین ذریعہ معاش ثابت ہوا ہے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words