میاں بیوی کو جینے دو.



گزشتہ چند دنوں سے دو تین خواتین ازدواجی زندگی اور بالخصوص میاں بیوی کے جنسی تعلق کو لے کر اپنے اپنے انداز میں کالم نگاری کر رہی ہیں۔ ان کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے۔ گویا شوہر ایک سفاک اور وحشی درندہ ہوتا ہے۔ جو اپنی بیوی کو جبری طور پر ہم بستری کے لئے آمادہ کرتا رہتا ہے۔ اگر بیوی اس کی بات نہیں مانتی تو وہ اسے مار پیٹ کا نشانہ بناتا ہے۔

ایک محترمہ لکھتی ہیں کہ پاکستان میں مرد اپنی منکوحہ کے ساتھ جب زبردستی جماع یا جنسی تعلق قائم کرتا ہے۔ تو وہ ریپ کے زمرے میں آتا ہے۔ بقول ان کہ اس طرح کا عمل جرم کے مساوی سمجھا جانا چاہیے۔

ایک خاتون کی سوچ کچھ اس قسم کی ہے۔ کہ بیوی کی مرضی کے خلاف، لالچ یا دھمکی دے کر یا بلیک میل کر کے جنسی تعلق بنانا ازدواجی آبروریزی یعنی زنا بالجبر ہے۔ گویا نکاح نامہ جنسی تشدد اور ازدواجی آبروریزی کا لائسنس ہے۔ جو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنے کالم میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا ہے۔ جس کی ہوس دو بیویوں کی موجودگی کے باوجود بھی پوری نہیں ہو رہی تھی۔ محض اسی وجہ سے موصوف کو اس کی دونوں بیگمات تیسری شادی کے لئے قائل کرنے میں مصروف تھیں۔ تاکہ اس کے اندر کی آگ کسی طرح بجھ سکے۔ اور ان دونوں کی جان بھی اس آفت سے چھوٹے۔

ایک اور خاتون کا فرمانا ہے۔ اگر عورت نکاح قبول کرتی ہے۔ تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا۔ کہ وہ جب جہاں اور جیسے سیکس کو قبول کر رہی ہے۔ بقول ان کے بیوی سے مباشرت کے وقت اجازت لینا بہت ضروری ہے۔

اس نان ایشو پر بعض ایسی بے مقصد باتیں تحریر کی جا رہی ہیں۔ جن کو پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ازدواجی زندگی کو نادانستگی میں متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شوہر تو اپنی شریک حیات کا سائبان اور سر کا تاج ہوتا ہے۔ وہ بہتر انداز میں اپنے اور بیوی کے معاملات کو ہینڈل کرنا جانتا ہے۔ کسی دوسرے کو ان کے معاملے میں خدائی فوجدار بننے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوچنے کی بات مگر یہ ہے۔ کہ شوہر کو ریپسٹ اور بیوی کو سیکس ورکر کا نام دے کر ہم انجانے میں ازدواجی رشتے کی تذلیل تو نہیں کر رہے ہوتے۔ معاشرے میں موجود اکا دکا واقعات کو بڑھاوا دے کر ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک ریپسٹ کا تعلق ہے۔ وہ تو جانور سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ جو جنسی تسکین پوری کرنے کے لئے ہر حد پار کر جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر کا انسان مر چکا ہوتا ہے۔ وہ معصوم بچی، نابالغ لڑکے، نوجوان عورت، بھکارن اور بکری تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتا ہے۔ اگر اس بدبخت کو کوئی زندہ شکار نہ ملے۔ تو وہ مردے کو بھی قبر سے نکال کر اپنی حیوانیت کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔

دین اسلام میں میاں بیوی کے لئے بڑی تفصیل کے ساتھ ایک روڈ میپ دے دیا گیا ہے۔ یعنی ایک شادی شدہ جوڑے نے ازدواجی زندگی کو کیسے لے کر آگے چلنا ہے۔ قرآن پاک میں نکاح، طلاق، عدت، دیگر حقوق و فرائض کے علاوہ مباشرت کے اصول بھی وضع کر دیے گئے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی محض اسی وجہ سے عطا کیا گیا ہے۔ تاکہ وہ کسی حیوان سے ممتاز دکھائی دے سکے۔ جوڑے تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی بچے پیدا کرتے ہیں۔ مگر وہ شعور سے عاری ہوتے ہیں۔

جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے انہوں نے اپنی زندگی بڑے منظم انداز میں گزارنی پڑتی ہے۔ تاکہ انسان اور جانور میں واضح فرق دکھائی دے سکے۔

میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہوتے ہیں۔ انہیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کا پہیہ کیسے رواں دواں رکھنا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کے درمیان جنسی تعلق سہاگ رات سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ دونوں جوان بھی ہوتے ہیں۔ اور ایک کمرے میں اکیلے بھی۔ وہ روبوٹ ہوتے تو ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے رات گزار دیتے۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا عمل ہے۔ جس میں تمام گرہیں خود بخود کھلتی چلی جاتی ہیں۔ ایک شادی شدہ جوڑا باہمی مشاورت اور خاص کر صنف نازک کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات طے کر لیتا ہے۔ کہ انہوں نے کب اور کتنے دن کے بعد حق مباشرت ادا کرنا ہے۔

ہمارے مشرقی اور خاص کر اسلامی معاشرے میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کو ایک مقدس مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ صرف جنسی تعلق تک محدود نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے ایک نئے خاندان کے وقوع پذیر ہونے کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

مجھے ان محترم خواتین کے اس موقف سے قطعی طور پر اختلاف نہیں ہے۔ کہ بعض وحشی قسم کے لوگ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کے وقت ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ وہ اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے صنف نازک کے نازک پن کا بھی خیال نہیں کرتے۔ انہیں بس اپنی ہوس پوری کرنی ہوتی ہے۔

دراصل اس قسم کی واقعات زیادہ تر بے جوڑ شادی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ بعض والدین اپنی نرم و نازک کم عمر بیٹی کو کسی ہٹے کٹے توانا مرد کو بیاہ دیتے ہیں۔ جو ایک خاص وجہ سے بیوی کے لئے وبال جان بن جاتا ہے۔ اس قسم کے مرد ہم بستری کے دوران نازک اندام بیوی کو تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔ محض اسی وجہ سے بعض اوقات نئی نویلی دلہن کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ یا عورت کا رحم یعنی یوٹرس برباد کر دی جاتی ہے۔

لہذا کسی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لئے والدین کو دیکھ بھال کر اپنی بیٹیوں کا رشتہ طے کرنا چاہیے۔ اپنے مفاد اور لالچ میں آ کر نازوں سے پلی ہوئی بیٹی کو گڑھے میں دھکا دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ مردوں کو بھی شادی کرتے وقت اپنے ہم پلہ دلہن کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اصل میں اس طرح کے واقعات آٹے میں نمک کے برابر پائے جاتے ہیں۔ اس لئے مصنفین کو ازدواجی ملاپ کے منفی پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔

اس بات سے بھی بالکل انکار نہیں ہے۔ کہ بیشتر خواتین موجودہ دور میں گوناگوں تکالیف اور مصائب میں مبتلا ہیں۔ دراصل ہمارے معاشرے میں بہو کو سسرال میں وہ مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔ جس کی وہ حقدار ہوتی ہے۔ سسرال والے بہو کو بیٹی کا درجہ دینے سے کتراتے ہیں۔ اسی وجہ سے عورت کو بے پناہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت سسرال میں جہیز جیسے مسائل کی وجہ سے ہر وقت طعنوں کی زد میں رہتی ہے۔ دراصل عورت کی سب سے بڑی دشمن عورت ہی ہوتی ہے۔ جو ساس، نند اور بھاوج کی صورت میں بیوی کے راستے میں کانٹے بچھاتی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے بہو یا بیوی کو تشدد اور ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑھ جاتا ہے۔ مرد بیچارہ تو مفت میں بدنام ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ تمام رشتوں کے درمیان پس کر رہ جاتا ہے۔

آج کل ملک کے کئی شہروں میں عصمت دری کے پے در پے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے۔ کہ ہماری ریاستی مشینری ظلم اور بربریت پر مبنی ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ درحقیقت ہمارے حکمران بیرون ملک اپنا امیج بہتر بنانے کے لئے سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزا لاگو کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زانی کو کسی چوک میں باندھ کر سنگسار کر دینا چاہیے۔ تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں۔ جب تک اس قسم کے درندوں کو کڑی سے کڑی سزا نہیں دی جاتی۔ ظلم اور زیادتی پر مبنی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔

Facebook Comments HS