پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب

پاکستان پیپلز پارٹی کا پنجاب سے وہ رشتہ ہے جو ماں بیٹی کا رشتہ ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح پیپلز پارٹی پنجاب میں کہیں دکھائی نہیں دیتی اس کی ایک وجہ اگر اسٹیبلشمنٹ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں دوسری وجہ ہم خود بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر تو مخالفین کے ساتھ ڈٹ کر جواب دیتے ہیں اور ان کو کامیابی سے بھگا دیتے ہیں لیکن دوسری طرف ہمارا گراؤنڈ لیول پر دھیان بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر ہمیں اپنے ہی دوست یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے حلقے میں کیا کام کیا۔ جس کا آسان سا جواب تو یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ بھائی کام ہم نے کرنا ہے بالکل سچ ہے لیکن ایک عام جیالے کے پاس وسائل بالکل نہیں وہ وسائل جو عہدے دار پارٹی سے لے رہے ہیں۔
ایک پنجاب لیول کے عہدے دار سے کال فون پر بات ہوئی جنہوں نے مجھے عہدہ دینے کی پیشکش کی اور ان کا ساتھ یہ کہنا تھا کہ صرف عہدہ ملے گا باقی آپ خود مینیج کریں گے پٹرول کہیں آنا جانا تمام خرچ آپ کریں گے اسکا کہنا تھا پارٹی ہمیں کچھ نہیں دیتی ہم اپنے شوق کے لئے پارٹی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں یہ سن کر بھی خوشی ہوئی کہ کوئی تو ہے جو شوق کے ساتھ پارٹی کے لئے لگا ہوا ہے میں نے ان صاحب سے کہا بھیا میں ٹھہرا مڈل کلاس میرے پاس بالکل نیو بائیک ہے گاڑی ہے نہیں اور اگر آپ گاڑی لے آؤ میرے ساتھ چلو تو میں پٹرول ڈلوا لیا کروں گا مل کر کمپین کرتے ہیں یہ بات کہنی تھی تو ان صاحب نے خدا حافظ کہہ کر دوبارہ رابطہ کرنے کا کہا اور آج تک رابطہ نہ کیا یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تعداد سفید پوش لوگوں کی ہے جو اپنی ہمت سے یہاں کام کر رہے ہیں گلی محلوں چوکوں کی سیاست کو تو دفن کیا جا رہا ہے اگر کوئی گلی چوک میں بحث ہو جائے تو اس طرح کے جیالے اس میں بھی حصہ لیتے رہتے ہیں۔
جب تک ایسے تمام جیالوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ان کو استعمال میں ٹھیک طرح سے نہیں لایا جاتا تب تک ان کی محنت بھی فضول جا رہی ہے بلاول بھٹو زرداری و چاہیے کہ وہ خود سوشل میڈیا پر ایکٹو جیالوں کی ایک لسٹ بنوائیں ان کو ایک مقام پر اکٹھا کر کہ ان سے ملاقات کریں ان کو سینئر لوگوں کی مدد سے مکمل ٹرینڈ کیا جائے اور ان کو میڈیا میں جا کر پروگرامز کرنے کی تلقین کی جائے تاکہ مخالفین کو جواب یہ نوجوان نسل دے جس سے آنے والی نسل پر اچھا اثر جائے گا کیونکہ ہمارے کچھ بزرگ لوگ ہاتھ ہلکا رکھتے ہیں جس سے مخالفین فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے چیئرمین صاحب کو الیکشن کی تیاری کے لئے ایسے نوجوانوں کو یہاں سے اکٹھا کر کے ان سے بہت سے کام نکلوانے چاہیے پارٹی ایسے لوگوں پر خرچ کر کہ ان کو تیار کرے جو کسی لالچ و مفاد کے بنا پارٹی کے لئے کام کریں
تیسری نسل ہونے کی وجہ سے پارٹی سے رشتہ بنا کر بیٹھی ہے۔ اس میں اب قصور وار وہ لوگ بھی ہیں جو سالوں سال سے بڑے بڑے عہدے پروٹوکول اور مفاد لے کر بیٹھے ہیں لیکن نہ تو وہ سوشل میڈیا پر دکھائی دیتے نہ میڈیا میں نہ ہی گراؤنڈ لیول پر۔ ان لوگوں کو مفاد پرست کہیں تو لفظ مفاد پرست کی بھی توہین ہو گی۔ ایسے عہدے داروں کی چند خوبیاں ہیں۔
انہوں نے سیاست میں ڈرائنگ روم اور بڑی گاڑی کو ترجیح دی۔
انہوں نے اپنے اس پاس چند لوگوں کو گروپ رکھا ہوتا ہے جو ہر جگہ ان کے نعرے لگاتے ہیں۔
انکے ڈرائیور ان کے تنخواہ دار ان کی خوب ٹی سی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
جو بندہ ان کو 2013 کے الیکشن میں گالیاں دیتا دکھائی دیتا تھا آج وہ ان کے گن گاتا ہے اس لیے کہ ان کے پاس باتیں سنانے کا ہنر ہے۔
یہ جہاں بھی ملیں گے بہت محبت سے ملیں گے تاکہ نیا ملنے والا بندہ ان کی تعریف کیے بنا نہ رہے۔
یہ جہاں ملیں گے اپنے کولیگ کے کپڑے اتارتے دکھائی دیں گے اور ظاہر کریں گے ساری محنت انکی ہے۔
ایسے لوگ اعلی قیادت کو دکھانے کے لئے لوکل اخباروں کے ٹکڑے اور کچھ تصاویر اپنے فائلوں میں لگاتے رہیں گے اور ملاقات ہونے پر ان کو دکھا کر فنڈ اکٹھا کریں گے یا فائدے حاصل کریں گے۔
یاد رہے ان کی نیوز اس اخبار میں لگتی ہے جس کو کوئی چائے کی دکان والا فری میں بھی نہیں لیتا یہ اخبارات بس انہی کے ڈرائنگ روم کی زینت ہوتی ہیں اور یہ اپنی ہی خبریں پڑھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔
عہدے دار الیکشن میں گیر سیاسی لوگوں کو ٹکٹ دلوا کر پارٹی کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔
جن کو ان کا ہمسایہ نہیں جانتا وہ بھی اپنی انا میں اپنے سے اچھے کینڈیڈیٹ سے اس وجہ سے ملاقات نہیں کرتے اگر وہ واپس آیا تو ہماری چھٹی ہو جائے گی۔
با انہی باتوں کی وجہ سے یہاں کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں ہیں۔ ہر کوئی اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالتا ہے جبکہ پنجاب کے قیادت اپنی نجی محفلوں میں یہ ملبہ اپنے لیڈر پر ڈالتے ہیں کہ جن کی پارٹی ہے اگر ان کو ہی خیال نہیں توھم کیا کریں۔
اور اس میں قصور وار ہمارے ان جیالوں کا بھی ہے جو سرکاری ٹیچر یا پرائیویٹ ٹیچر ہیں اور جو اپنی کلاس میں موجود طالب علموں کو حقیقت پر مبنی باتیں نہیں بتاتے سرکاری کو ڈر ہوتا ہے کہ وہ تو ووٹ بھی چھپ کر ڈالتا ہے جبکہ اس دفعہ سرکاری ملازموں نے سر عام پی ٹی آئی کی سپورٹ کی کیا کسی طرف سے ان پر فتوی جاری ہوئے؟ اس لیے جیالوں کی جو تعداد اس طرح کی نوکری کرتی ہے اس کو چاہیے اپنے آس پاس طالب علموں کو حقیقت سے آشنا کرتے رہیں آخر میں سب سے زیادہ قصور ہماری اعلی قیادت کا ہے جی بالکل بلاول بھٹو زرداری چیئرمین صاحب بڑی معذرت کے ساتھ آپ کا قصور ہے سر زرداری کا قصور ہے فریال تالپور صاحبہ کا قصور ہے جو پارٹی کو چلا رہے ہیں ہر اس کا قصور ہے جب پنجاب کے عہدے دار اپنے ذاتی کام پارٹی سے نکلواتے ہیں اس کے باوجود آپ ان سے ان کی کارگردگی کیوں نہیں پوچھتے کیوں ان ناکام لوگوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہتے ہیں ان کا کبھی یہ کہنا کہ کوئی پی پی کا ٹکٹ نہیں لینے کو تیار کوئی عہدہ لینے کو تیار نہیں تو آپ ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اتنے سال عہدہ رکھنے کے باوجود آپ لوگوں نے کیا ورک کیا۔
چیئرمین صاحب یہ اس موقع پر بھی آپ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ اب پنجاب کی کمان سنبھالیں پنجاب کے تمام عہدے دار فارغ کر دیں پنجاب میں خود بیٹھ جائیں ورکر اور جیالے نکلیں گے اگر آپ آنے والے الیکشن کی ذمہ داری بھی انہی پرانے لوگوں کے سر ڈالنا چاہتے ہیں تو پھر اس سے بہتر ہے کہ جو جیالے بچ گئے ہیں ان کو ایک گھاٹ پر اکٹھا کر کے اس گھاٹ کے پانی میں زہر ڈال کر ان تمام جیالوں کو وہ پانی پلا دیں تاکہ ان جیالوں کی ان کرپٹ اور ناکام لوگوں سے جان چھوٹ جائے۔
بلاول بھٹو زرداری صاحب، آپ نے الیکشن کی تیاری کا اشارہ دے دیا ہے کہ کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں لیکن پنجاب کے جیالے کس کی سرپرستی میں تیاری کریں 4 ماہ ہونے کو ہیں ابھی تک پنجاب کا صدر نامزد نہیں ہوا؟

