صدف کنول کے فیمنزم کے ’متنازعہ‘ بیان پر سوشل میڈیا پر بحث: ’مرد کے جوتے اٹھانا عورت کی ڈیوٹی نہیں، بیوی کو شوہر کی ملازمہ کے طور پر قبول کرنا بند کریں‘

ثنا آصف - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک مثالی شادی کیسی ہوتی ہے؟ ایک بہترین بیوی کیسے بنا جا سکتا ہے؟ یہ موضوع اکثر ہماری روز مرہ کی زندگیوں کے علاوہ زیر بحث تو رہتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں مل پاتی۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی گذشتہ روز سے یہ موضوع زیر بحث ہے کہ ایک شادی میں مرد اور عورت کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کی وجہ پاکستانی اداکارہ اور ماڈل صدف کنول کا وہ بیان ہے جو انھوں نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی چینل کے ایک پروگرام میں دیا تھا۔

اس پروگرام میں ان کے شوہر شہروز سبزواری بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ صدف کنول کا یہ بیان سوشل میڈیا پر جب سامنے آیا تو اس پر بحث نے طول پکڑ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے صدف کنول کا نام بھی سول میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

جہاں کچھ صارفین صدف کی تعریف کرتے نظر آئے تو بہت سے صارفین خصوصاً خواتین نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بیان کی پر تنقید کی۔

صدف کنول نے اپنے بیان میں کیا کہا؟

عید الاضحیٰ کے موقع پر پاکستان کے نجی چینل اے آر وائی پر ایک پروگرام کے دوران جب پروگرام کی میزبان نے عورت مارچ، فیمنزم اور مساوی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے صدف کنول سے پوچھا کہ ’آپ کے خیال میں فیمنزم کیا ہے اور کیا ہمارے معاشرے میں عورت مظلوم ہے؟

اس سوال کا جواب صدف کنول نے کچھ یوں دیا: ’عورت مظلوم بالکل بھی نہیں ہے، عورت بہت مضبوط ہے میں تو اپنے آپ کو بہت مضبوط سمجھتی ہوں، آپ بھی بہت مضبوط ہوں گی بالکل۔۔۔ عورت بالکل بھی بے چاری نہیں ہے، عورت مارچ ایک الگ بحث ہو جائے گی۔‘

انھوں نے اپنے شوہر شہروز سبزواری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا ’ہمارا کلچر کیا ہے، ہمارا میاں ہے، میں نے شادی کی ہے۔۔۔ میں نے اس کے جوتے بھی اٹھانے ہیں، میں اس کے کپڑے بھی استری کروں گی، مجھے پتہ ہوتا ہے کہ شیری کے کپڑے کدھر ہیں، مجھے پتہ ہوتا ہے کہ شیری کی کون سی چیز کہاں پڑی ہے، شیری نے کیا کھانا ہے اور کب کھانا ہے، مجھے یہ پتا ہونا چاہیے کیونکہ میں اس کی بیوی ہوں۔‘

صرف یہ ہی نہیں صدف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ تک کہہ ڈالا کہ ’میں ایک عورت ہوں، شیری کو میرا نہیں پتہ ہونا چاہیے۔‘

لیکن یہ کہتے ہی انھوں نے دوبارہ یہ بھی کہہ دیا کہ ’شیری کو میرا پتہ ہونا چاہیے لیکن مجھے شیری کا زیادہ پتہ پونا چاہیے۔ میں اس پر یقین رکھتی ہوں اور میں یہ دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں۔‘

یہ ساری وضاحت دینے کے بعد صدف نے مزید کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ جو فیمنزم آ گیا ہے یہ دراصل لبرلز ہوتے ہیں، آج کل بہت لبرلز آ گئے ہیں لیکن میرے نزدیک فیمینزم یہ ہے کہ میں اپنے میاں کا خیال رکھوں، اس کو عزت دوں اور جو مجھ سے ہو سکے میں کروں، جو مجھے سکھایا گیا ہے۔‘

’لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر آپ فیمنسٹ ہیں تو آپ اچھی بیوی نہیں بن سکتے‘

صحافی اور تجزیہ کار محمل سرفراز کا ماننا ہے کہ صدف کنول کا یہ بیان انتہائی قابل تشویش ہے۔ محمل کہتی ہیں کہ ’صدف کنول یہ کہنا چاہتی ہیں کہ ایک شادی کے رشتے میں عورت ہی سب کچھ کرے اور مرد اگر کچھ کر لے تو یہ احسان ہو گا۔‘

’یہ کس قسم کی بات ہے کہ میں جوتے بھی اٹھاؤں، اگر آپ نے اپنی فیملی کے لیے کوئی چیز اپنے شوق سے کرنی ہے تو ضرور کریں لیکن یہ کہ عورت یا بیوی کو ہی ایسا کرنا ہے درست نہیں۔‘

محمل کہتی ہیں کہ ’یہ بات ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ عورت کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کے شوہر کو کچھ پتہ نہیں ہونا چاہیے لیکن آپ کو سب پتہ ہونا چاہیے۔ شادی جیسے مساوی پارٹنر شپ نہیں بلکہ عورت کی طرف سے صرف دینے کا نام ہے۔‘

تاہم محمل کا ماننا ہے کہ پدرشاہی معاشرے میں ایسی ہی باتیں سکھائی جاتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ’اگر مرد کو یہ پتہ ہو کہ آپ نے کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، عورت کو کیا پسند ہے تو یہ کوئی بہت بڑی بات ہو گی لیکن عورت کو سب کچھ پتہ ہونا چاہیے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو ویسے ہی مساوی حقوق نہیں ملتے اور شوبز شخصیات کی جانب سے ایسے بیان سے خواتین، مردوں اور معاشرے کو کیا پیغام ملتا ہے۔

یاد رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی فنکار نے کسی انٹرویو میں فیمنزم اور خواتین پر ایسا بیان دیا ہو۔ پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی نے ایک انٹرویو میں بہت سی متنازعہ باتوں کے بیچ یہ بھی کہا تھا کہ وہ ’فیمنسٹ’ نہیں ہیں لیکن وہ مرد اور عورت کی برابری پر یقین رکھتی ہیں۔‘

محمل کا ماننا ہے کہ ’بہت سے لوگوں کو فیمنزم کی صحیح تعریف کے بارے میں علم نہیں اور بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر آپ فیمنسٹ ہیں تو آپ اچھی بیوی نہیں بن سکتے۔‘

ان کے مطابق شوبز شخصیات کی جانب سے ایسے بیان آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فنکار ڈرتے ہیں ک خود کو فیمنسٹ کہنے سے ان کے فینز اور فالوورز کم ہو جائیں گے اور ایسا ہوتا بھی ہے۔

’میشا شفیع بہت بڑی فیمنسٹ ہیں اور وہ خواتین کے حقوق کے لیے بہت کھل کر بات بھی کرتی ہیں۔ ان کو اپنے ہراسانی کے کیس کی وجہ سے تو تنقید کا نشانہ بنایا ہی جاتا ہے لیکن اس وجہ(فیمینسٹ) سے بھی انھیں اکثر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر جہاں بہت سے صارفین صدف کنول کی ’فیمنزم‘ کی اس تعریف سے اختلاف کرتے نظر آئے وہیں بہت سے صارفین نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ شوہر کے جوتے اٹھانا اور اس جیسے دوسرے کام کرنا بیوی کی ذمہ داری نہیں۔

مریم لاری نامی صارف نے لکھا: ’نہیں صدف مرد کے جوتے اٹھانا عورت کی ڈیوٹی نہیں۔ بیویوں کو شوہروں کی ملازمہ کے طور پر قبول کرنا بند کریں۔ بیویوں کا کام بچوں کو پالنا، شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ اپنے شوہروں کو بہترین مشورہ بھی دے سکتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا فیمنزم کا مطلب مردوں سے نفرت کرنا ہے؟

نعمان اعجاز کا عفت عمر کے ساتھ ’پرانا‘ انٹرویو کیوں وائرل ہوا؟

یہ ’فیمنسٹ‘ اصل میں کیسی ہوتی ہیں؟

ایک اور صارف نے لکھا: ’اپنے شوہر کا خیال رکھنے میں کچھ غلط نہیں لیکن یہ کیا ہے کہ شیری کو میرا نہیں پتہ پونا چاہیے؟‘ انھوں نے صدف کنول کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا: ’پیاری، شادی ایک دو طرفہ رشتہ ہے۔‘

فائزہ عابد نے لکھا: ’شاید صدف کنول کے پاس دنیا کے بہترین آدمی ہوں گے لیکن تمام خواتین کے پاس بہترین مرد نہیں ہوتے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’میں صدف کنول کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انھوں نے میرے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ شہرت، پیسے اور رتبہ رکھنے کے باوجود بھی آپ جہالت اور کم علمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔‘

صارف عمر خان نے لکھا: ’یہ صدف کے اپنے خیالات ہیں اگر وہ اپنے شوہر کا اس انداز میں خیال رکھتی ہیں جو سوسائٹی کے ایک حصے کے لیے قابل قبول نہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ جیو اور جینے دو۔‘

جس کے جواب میں احسن نامی صارف نے لکھا: ’وہ دوسروں پر انگلیاں کیوں اٹھا رہی ہیں؟ وہ لبرلز کو نشانہ کیوں بنا رہی ہیں؟ ہر ایک کی اپنی مرضی ہے۔‘

فضا رحمان نے صدف کنول کی ماڈلنگ کی کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’تمام پاکستانی بہت خوشی سے صدف کنول کی تشہیر کر رہے ہیں کیونکہ انھوں نے کہا کہ ہمارا کلچر کیا ہے، میاں ہے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب صدف ایسے کپڑوں میں ماڈلنگ کر رہی تھیں جو ہمارا کلچر نہیں۔

ٹوئٹر پر بہت سے صارفین صدف کنول کے اس بیان کی تقلید کرتے بھی نظر آئے۔

لالہ رخ سہیل نے لکھا کہ ’میں صدف کنول کی اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ فیمنزم یہ نہیں کہ میں اپنے شوہر سے بالا ہوں بلکہ ہم دونوں پیار کے ساتھ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے میرے گھر کا نگہبان بنایا ہے جہاں میرا شوہر کماتا ہے اور میں عقل مندی سے اسے خرچ کرتی ہوں۔ مجھے اس بیان میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’میری والدہ میرے والد کے لیے ابھی بھی کھانا بناتی ہیں لیکن ایسا نہیں کہ میرے والد انھیں ایسا کرنے کے لیے کہتے ہیں بلکہ میری والدہ کو پتہ ہے کہ جب وہ کھانا بناتی ہیں تو میرے والد کتنے خوش ہوتے ہیں۔ انھیں ان کا خوش ہونا اچھا لگتا ہے اور میرے والد ہر نوالے پر میری والدہ کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ پیار فیمنزم نہیں ہے۔‘

سمیرا نامی ایک صارف نے لکھا: ’مجھے نہیں معلوم کہ میں صدف سے نفرت کیوں کرتی تھی لیکن ان کے ’لبرلز‘ کے بارے میں اس بیان کے بعد میں ان کی تعریف کرتی ہوں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’جب میں نے صدف کا نام ٹرینڈ کرتے دیکھا تو میں نے سوچا کہ انھوں نے اب کیا کر دیا۔ لیکن اس بار ان کا نام کسی اچھی وجہ سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ دیر آئے لیکن درست آئے۔‘

یاد رہے کہ صدف کنول شہروز سبزواری کی دوسری اہلیہ ہیں اور انھیں ماضی میں شہروز سبزواری اور ان کی پہلی بیگم سائرہ یوسف کے درمیان علیحدگی کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اکثر لوگ اس وجہ سے صدف کنول کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words