افغان کامیڈین خاشہ زوان کا قہقہہ


چارلی چیپلن کے ایک قول کو کسی شاعر نے کچھ یوں الفاظ کا جامہ پہنایا تھا
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو مرے کسی کو دکھائی نہیں دیے

ایک ہنسانے والا آنسو چھپاتا پھرتا ہے، ہے نا حیرت کی بات، جی ہاں کسی دور میں چارلی چیپلن کا مسئلہ مفلسی تھی، لیکن چند روز قبل تک ایک ہنسانے والا اور بھی تھا، دھان پان سا، جس کے بے تحاشا بڑھے بال، پتلا سا چہرہ اور سر پر ٹکی ٹوپی دور سے ہی پتہ دیتی تھی کہ جناب سلسلہ خنداں کے گدی نشین ہیں۔

یہ تھا وہ شخص جو دو موت کے ’فرشتوں‘ کے بیچ بیٹھ کر بھی جگت بازی سے نہیں چوکا، اور یکے بعد دیگرے دو تھپڑ اور کئی گولیاں کھائیں۔ اگرچہ اس نے کوئی قول نہیں کہا لیکن ان کہے الفاظ اس کے علاوہ کیا ہوں گے۔

موت سے بھڑتے ہوئے ہنسنے کا فائدہ
قہقہہ میرا سب کو سنائی دے گیا
یہ اور بات کہ اس قہقہے پر دنیا میں ہر ایک افسردہ ہوا۔

یہ تھا نذر محمد عرف خاشہ زوان، جس نے گھٹن زدہ معاشرے میں لوگوں کو ہنسانے کا جرم کیا تھا اور چند روز قبل مسلح افراد اس پر ’فرد جرم‘ عائد کرنے پہنچے۔

سوال یہ نہیں کہ افغانستان میں کیا ہونے جا رہا ہے، یہ بھی جانے دیجیے کہ طالبان اب تک کہاں تھے، یہ ضد بھی چھوڑیے کہ امریکیوں کے جانے پر صورت حال پلٹہ کیوں کھا رہی ہے۔ یہ استدلال بھی ایک طرف کر دیجیے کہ طالبان کو یک دم اس قدر کوریج کیوں ملنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ نکتہ بھی فی الحال باہر رکھیں کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے یا غلط، اس سوال کو بھی لبوں کے پیچھے رکھیے کہ انہوں نے امریکہ کا کتنا نقصان کیا اور امریکہ نے ان کا کتنا، یہ سوال بھی ایک طرف رکھیے کہ اقتدار کے لیے کیا کچھ کرنا جائز ہوتا ہے۔ یہ بات بھی پھر سہی کہ اس وقت کون سا ملک اور کون سا رہنما سیاسی کبوتر بنا ہے اور کون سا سیاسی گدھ، عالمی سطح پر بننے والی فضا بھی جھٹک دیجیے اور یہ اصرار بھی مت کیجیے کہ اس کو کون کس کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

دیگر سوالات بھی جانے دیجئے اور ان کے غیر تسلی بخش جوابات بھی، اس لیے نہیں کہ یہ غیر اہم ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان سب سے بڑا سوال سامنے آ گیا ہے کہ سرزمین افغانستان پر ہنسنا ہنسانا قابل گردن زدنی ٹھہرا دیا گیا ہے؟

جب خاشہ زوان کے قتل کی خبر سامنے آئی اور الزام طالبان پر لگا تو انہوں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی لیکن پھر ویڈیو سامنے آ گئی جس میں مسلح افراد اس کو گاڑی میں اپنے بیچ بٹھائے کہیں لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں یہ وہی لمحہ تھا جب اس نے ایک مزاحیہ جملہ بولا اور تھپڑوں کے ساتھ ساتھ ’خبیث‘ کے لقب سے بھی نوازا گیا جس کے بعد اس کے قتل کی خبریں سامنے آئیں، پھر ایک تصویر جاری ہوئی جس میں نذر محمد کو درخت کے ساتھ لٹکایا گیا ہے، تب سے معاملہ مسلسل میڈیا میں ہے جبکہ کل ہی خبر سامنے آئی کہ طالبان نے اس قتل کا اعتراف کر لیا ہے اور تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے کہ گروپ میں سے کس نے یہ حرکت کی۔

کچھ بھی ہو، یہ قتل جس نے بھی کیا ہو، تحقیقات ہو نہ ہو، ان کو سزا ملے نہ ملے لیکن نذر محمد کھلے بندوں یہ پیغام ضرور دے گیا ہے کہ اگر آپ کسی طاقت ور کا کچھ اور نہیں بگاڑ سکتے تو کم از کم اس پر ہنسیں ضرور۔

امریکہ نے افغانستان میں ایک لمبی جنگ لڑی جس کی مخالفت کی جا سکتی ہے، طالبان کو جس وقت کا انتظار تھا وہ آ گیا ہے۔ انہوں نے اقتدار حاصل کرنا ہے، کریں، مگر ان لوگوں کو تو معاف رکھیں جو ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔

اس بات کی کوئی توجیہہ ہے ہی نہیں کہ طاقت کمزوروں پر دکھائی جائے اور ایک نہتے، بے ضرر اور منحنی شخص کو صرف اس بات پر تختہ مشق بنا لیا جائے کہ اس نے ہنسنے کی بات کیوں کی۔

نذر محمد ایسے مزاحیہ فنکار معاشرے میں اکا دکا ہی ہوتے ہیں، یہ جینیئس ہوتے ہیں، جن کی قوت مشاہدہ ایکسرے مشین سے کم نہیں ہوتی، وہ اردگرد سے ہی مختلف باتیں چن کر اور اسی معاشرے کے کرداروں کی نقل اتار کر انہی کرداروں کو ہنساتے ہیں۔

نذر محمد کی بدقسمتی کہ وہ افغانستان میں پیدا ہوا ورنہ جانی لیور یا امان اللہ کے قریب قریب مقام تو ضرور پاتا، لوگ اس پر لکھتے مگر آج تو زبانیں گنگ، قلم بانجھ ہیں اور اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نذر محمد پولیس میں بھی بھرتی ہوا تھا، اس کا چھریرا جسم اور مزاحیہ انداز، چشم تصور تو یہی دیکھتی ہے کہ ایک پولیس مین کے طور پر وہ وہی کچھ کرتا ہو گا جو افتخار ٹھاکر ’دنیا نیوز‘ کے پروگرام ’مذاق رات‘ میں انسپکٹر بن کرتا ہے۔

مسخروں کی گستاخیوں کو بڑے بڑے بادشاہ بھی مسکراتے ہوئے نظرانداز کر دیا کر دیتے تھے جو اعلیٰ ظرفی ہوتی تھی کمزوری نہیں۔ ایسے لوگ تو حسن ہوتے ہیں معاشرے کا، اس پریشانیوں کے بیلنے سے گزرتے دور میں لوگوں کو وقتی طور پر ہی سہی دکھوں کے آتش فشاں سے اٹھا کر مسکراہٹوں کی وادی میں اتارنے والے یہ لوگ تھپڑوں اور گولیوں کے حقدار ہرگز نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ تمام مخلوقات میں سے صرف انسان ہے جس کے پلو سے اتنے دکھ بندھے ہیں کہ اس کو ہنسی ایجاد کرنا پڑی اور یہ اس قدر طاقت ور ہے کہ غموں کو اڑا کے رکھ دیتی ہے اب تو میڈیکل سائنس بھی کہتی ہے کہ ’لافٹر تھراپی‘ بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

آہ۔ الوداع خاشہ زوان! تمہاری ہنسی نے وہ کام کیا ہے جو شاید بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے تبصرے بھی نہ کر پاتے۔ سچ سچ بتاؤ موت کے سامنے بھی تم اس قدر پرسکون کیسے تھے اور مزاح کیوں سوجھ رہا تھا، تم نے یقیناً اپنی والدہ سے پشتو کا وہ محاورہ سن رکھا ہو گا ’چہ د کومے بلا نہ، نہ خلاصیگے ہغے لہ غاڑہ غٹے ورزہ‘ یعنی جس بلا سے بچنا ناممکن ہو تو اس کو ہنستے ہوئے گلے لگا لو۔ ’

چلو اب آنکھیں بند کرو، تعزیت کے لیے آنے والوں کو بھی ہنساؤ گے کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words