کیا پاکستان میں عورت کی حالت مغرب سے بہتر ہے؟

وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر چار ماہ بعد اپنی بات کی وضاحت کی۔ کہانی کا آغاز اس سال اپریل میں ہوا۔ پاکستانی عوام سے براہ راست ٹیلی فون کالز کے دوران وزیر اعظم نے جنسی جرائم کی وجوہات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئیے فرمایا کہ پاکستان میں ”ریپ“ کے واقعات میں اضافے کی وجہ فحاشی اور عریانی میں اضافہ ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے خلاف پاکستان کی سول سوسائٹی میں بہت بڑا رد عمل ہوا۔ ہر زی شعور شخص نے اپنے علم تجربے اور نظریات کے مطابق اس پر رد عمل دیا۔

لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا خیال تھا کہ وزیر اعظم کے اس بیان کا مطلب جنسی جرائم کا شکار ہونے والی عورتوں کے لباس یا طرز زندگی کو جنسی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ وزیر اعظم، ان کے وزرا یا کسی ترجمان کی طرف سے اس بیان کی اس طرح تردید، تصحیح یا وضاحت نہیں کی گئی، جس طرح اس کی ضرورت تھی۔ اس واقعے کے کوئی دو ماہ بعد وزیر اعظم نے ایک مغربی صحافی جوناتھن سوان کو انٹرویو دیا۔ ایچ بی او کے اس سینیئر صحافی نے وزیر اعظم کے اپریل کے بیان کے تناظر میں یہ سوال کیا کہ کیا خواتین کا لباس مردوں کو ریپ کی ترغیب دیتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم نے اس واضح سوال کا جواب واضح اور دو ٹوک انداز میں اثبات میں دیا۔ انہوں نے کہا اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اس کا اثر مردوں پر تو ہو گا، اگر وہ روبوٹ نہ ہوئیے تو۔ یہ جواب بیشتر ناظرین اور خصوصاً پڑھے لکھے لوگوں اور خواتین کے لیے ”شا کنگ“ تھا۔ ان میں خود تحریک انصاف کے خواتین بھی شامل تھیں، جو مغرب میں آباد ہیں، اور اس قسم کے بیان کے مطلب اور اہمیت سے کما حقہ آگاہ ہیں۔

مغرب میں بھی گاہے اس طرح کا بیان منظر عام پر آتا ہے، لیکن یہاں ایسا بیان دینے والے شخص کو غیر حساس، ان پڑھ، غیر مہذب اور جنس پرست جیسے القا بات سے نوازا جاتا ہے۔ اور اس طرح کے بیان کے خلاف سول سوسائٹی میں اتنا شدید رد عمل ہوتا ہے کہ بیان دینے والے کو اکثر اپنا بیان واپس لینا پڑتا ہے، اور معافی مانگنی پڑتی ہے۔ بہر کیف جوناتھن سوان کے ساتھ اس متنازع انٹرویو کے تقریباً دو ماہ بعد ایک امریکی خاتون کے ساتھ تازہ ترین انٹرویو میں عمران خان نے اپنے بیان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایسا انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے پی۔ بی ایس سے بات کرتے ہوئیے کیا۔ اس موقع پر اپنے اپریل اور جون والے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ ریپ سے متاثرہ خاتون پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، بلکہ صرف اس جرم کا ارتکاب کرنے والا ہی ریپ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے سابقہ بیان کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کبھی ایسی بے وقوف بات نہیں کروں گا کہ ریپ کا نشانہ بننے والی اس کی ذمہ دار ہے۔ بلکہ ریپ کرنے ولا ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہ واضح کرتا چلوں کہ چاہے خاتون نے جیسا بھی لباس پہنا ہو، یا وہ جتنی بھی ترغیب دینے والا ہو، وہی شخص اس کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو یہ فعل کرتا ہے، کبھی بھی متاثرہ خاتون اس کی ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔ امریکی چینل پی بی ایس کے ساتھ اس انٹرویو میں وزیر اعظم کی یہ وضاحت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بات بہت سارے لوگوں کے لیے باعث ”ریلیف“ ہے۔

اس سے نا صرف تاریخی ریکارڈ درست ہوتا ہے، بلکہ وزیر اعظم کے سابقہ بیان سے سماج کے عام لوگوں کو جو غلط پیغام گیا تھا، یا اس سے ملک کی نوجوان نسل کی سوچوں پر جو منفی اثر پڑھ سکتا تھا، اس کا کچھ ازالہ ہو سکتا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہے وزیر اعظم کے ان خیر خواہوں کو مایوسی بھی ہوئی ہے، جو ریپ اور جنسی تشدد کا ذمہ دار فحاشی، عریانی یا عورتوں کے لباس، چال چلن اور طرز زندگی کو قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ نا صرف خود اس رجعت پسندانہ خیال پر یقین رکھتے ہیں، بلکہ دوسروں پر بھی اس خیال کو مسلط کرنے کے لیے اس کا مسلسل پرچار کرتے رہتے ہیں۔

یہ لوگ اس طرح کے رجعتی اور حقائق سے متصادم خیالات کی آڑ میں عورتوں کے لباس اور طرز زندگی پر طرح طرح کی پابندیاں لگانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ دراصل اس طرح کے خیالات کی آڑ میں یہ لوگ عورتوں کی سماجی و معاشی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں یہ قابل تعریف بات ہے کہ وزیر اعظم نے اس اہم معاملے کی وضاحت کر دی۔ لیکن اسی انٹرویو کے دوران وزیر اعظم نے ایک ایسی نئی متنازعہ بات چھیڑ دی، جو نتائج کے اعتبار سے اتنی ہی خطرناک اور گمراہ کن ہے، جتنی پہلی والی بات تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں پوری دنیا میں گھوم چکا ہوں۔ اور میرے خیال میں مغرب کی نسبت پاکستان میں اور دیگر مسلمان ممالک میں خواتین کے ساتھ بہت عزت و وقار کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب سے موازنہ کیا جائے، تو ہمارے ہاں ریپ کیسز بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں ثقافتی مسائل ہیں، ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ لیکن ان پر ثقافتی ارتقا اور تعلیم کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ خواتین سے دیگر معاشروں کے مقابلے میں بہتر سلوک کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے یہ نیا بیانیہ اس وقت سامنے لایا، جب پاکستان میں آئے روز خواتین کو لے کر سنگین اور وحشیانہ جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ جس وقت یہ بیان دیا گیا اس سے کچھ دن پہلے راول پنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے قتل، جنسی تشدد کے ناقابل بیان واقعات ہوئے تھے، جو عام طور پر صرف انتہائی ڈرؤانی فلموں میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں کا ماحول یہ ہے کہ ان جرائم پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ لکھاریوں نے اشاروں کنائیوں میں وہی بیانیہ دہرایا ہے، جو ایسے جرائم کا الزام ملزم کے بجائے جرم کا شکار عورتوں کو دیتا ہے۔

اور ان جرائم کی غیر مشروط مذمت کے بجائے بعض اخبارات کے اداریوں اور کالموں میں حسب سابق عورتوں کے رہن سہن، طرز زندگی، اور اخلاقیات کی بحث چھیڑی گئی ہے۔ اور درندگی میں مبتلا مردوں کو سخت سزا کے مطالبے کے بجائے خواتین کے لباس، طرز زندگی، عفت اور عصمت کی حفاظت پر طویل لیکچرز دیے گئے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی حکمران کی طرف سے جو عوام میں مقبول بھی ہو اس طرح کے بیانات اس صورتحال میں بگاڑ کا موجب بن سکتے ہیں۔

جہاں تک وزیر اعظم کے اس بیان کا تعلق ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی صورتحال بہتر ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ غیر جانب دار اور معتبر عالمی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو عورتوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان رپورٹوں کو دشمن سازش قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے، مگر ان کہانیوں کا کیا کریں جو پاکستان کی ہر وہ عورت آپ کو سنانے کے لیے تیار ہے، جسے با امر مجبوری گھر سے باہر قدم رکھنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں تلاش معاش یا دیگر ناگزیر ضروریات کے لیے جن خواتین کو گھر سے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گاڑیوں، دفتروں، فیکٹر یوں اور عوامی مقامات پر جن نظروں، رویوں، اور حرکات و سکنات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا ذمہ دار ظاہر ہے کسی دشمن ملک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ ہمارے سماج کی ایک بد صورت حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words