مسیحی ماحولیات اور مسلم معاشیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: یوول نوح حراری – ترجمہ: زبیر لودھی 

اگرچہ سائنس ہمیں تکنیکی سوالات جیسے خسرہ کے علاج کے طریقہ کار کے واضح جوابات مہیا کرتی ہے، لیکن پالیسی کے سوالات کے بارے میں سائنس دانوں میں کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ تقریباً تمام سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے، لیکن اس خطرے کے بہترین معاشی رد عمل کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ روایتی مذاہب اس مسئلے کو حل کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔

یہ بات سچ ہے کہ اسرائیل اور ایران جیسے ممالک میں ’ربی اور آیت اللہ‘ کا حکومت کی معاشی پالیسیوں میں براہ راست عمل دخل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ اور برازیل جیسے ممالک میں مذہبی رہنما ٹیکسوں سے لے کر ماحولیاتی قوانین سازی تک کے معاملات پر عوام کی رائے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سب کے باوجود قریب سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ ان میں زیادہ تر معاملات میں روایتی مذاہب جدید ترین سائنس کے ساتھ کم ہی چھڑ چھاڑ کرتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آیت اللہ خمینی کو ایرانی معیشت کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوگی تو وہ اس کا جواب قرآن میں تلاش نہیں کرسکیں گے کیوں کہ ساتویں صدی کے عرب جدید صنعتی معیشتوں اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے مسائل اور مواقع کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ لہذا ان جدید سوالات کے جواب کے لیے اسے یا ان کے معاونین کو لازمی طور پر کارل مارکس، ملٹن فریڈ مین، فریڈرک ہائیک اور جدید معاشیات کا رخ کرنا پڑے گا۔

سود کی شرح میں اضافہ، ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اجارہ داریوں کی نجکاری یا پھر بین الاقوامی محصولات کے معاہدے پر دستخط کرنے کا ذہن تیار کرنے کے بعد خمینی اپنے دینی علم اور اتھارٹی کو استعمال کر کے سائنسی حقائق کو قرآنی آیت میں لپیٹ سکتا ہے اور عوام کے سامنے اسے اللہ کی مرضی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ لیکن یوں لپیٹنا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ جب آپ شیعہ ایران، سنی سعودی عرب، یہودی اسرائیل اور عیسائی امریکہ کی معاشی پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہیں تو آپ کو زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔

انیسویں اور بیسیوں صدی میں مسلمان، یہودی، ہندو اور عیسائی مفکرین نے جدید مادیت، بے روح سرمایہ داری اور بیوروکریٹک ریاست کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ سب نے دعویٰ کیا کہ وہ جدیدیت کی تمام برائیاں دور کردیں گے اور بالکل مختلف نوعیت کے معاشی اور معاشرتی نظام کو وجود میں لائیں گے جو اپنے مسلک کی لازوال روحانی اقدار پر مبنی ہوگا۔ ان کے اس دعوے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کافی مواقع دیے گئے اور انہوں نے جدید معاشیات کی عمارت میں صرف ایک قابل ذکر تبدیلی کی کہ کیے گئے کام کو دوبارہ کیا اور سب سے اوپر ایک بہت بڑا کریسنٹ (پہلی رات کا چاند) ، کراس، اسٹار آف ڈیوڈ یا اور اوم رکھ دیا۔

بارش کے ہونے سے لے کر معیشت تک جب بات کی جاتی ہے تو یہ مذہبی سکالر آیات کی دوبارہ سے تشریح کرتے ہیں، جس کی وجہ مذہب بالکل غیر متعلق ہوجاتا ہے ۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ خمینی نے کون سی معاشی پالیسی کو اپنایا ہے وہ ہر پالیسی کو قرآن سے ثابت کر سکتا ہے۔ لہذا قرآن کو صحیح معرفت کے مقام سے نیچے لا کر محض اتھارٹی کے وسیلہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ جب آپ کو کسی معاشی الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ مارکس اور ہائیک کو قریب سے پڑھتے ہیں۔

جس سے آپ کو معاشی نظام کو سمجھنے، کسی نئے زاویے سے چیزوں کو دیکھنے اور ممکنہ حل کو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے مسئلہ کا حل تلاش کر لینے کے بعد پھر آپ قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کسی ایسی سورت کی تلاش کرتے ہیں، جس کی اپنی قیاس کی بنیاد پر تشریح کر کے متعلقہ معاشی مسئلہ کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ نے مارکس اور ہائیک کی تھیوری سے اپنے مسئلہ کو حل کیا۔ اگر آپ قرآن پاک کے اچھے سکالر ہیں تو آپ ہمیشہ کوئی نہ کوئی موزوں جواز پیش کرسکیں گے۔

عیسائیت کا بھی یہی حال ہے۔ ایک عیسائی اسی طرح آسانی سے سرمایہ دار ہو سکتا ہے جیسا کہ ایک سوشلسٹ ہوتا ہے۔ حالانکہ یسوع نے سرد جنگ کے دوران کمیونزم کو سیدھا سیدھا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن اچھے خاصے امریکی سرمایہ دار اس حقیقت کا نوٹس لیے بغیر خطبات پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں عیسائی معیشت، ہندو معیشت یا مسلم معیشت جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔

ایسا نہیں کہ بائبل، قرآن یا وید میں معاشی نظریات نہیں ہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ نظریات آج کے دور کے مطابق نہیں ہیں۔ ویدوں کے مطالعہ کی وجہ سے مہاتما گاندھی خود کفیل زرعی برادریوں کے مجموعے کی حیثیت سے آزاد ہندوستان کا تصور کرتے تھے۔ جہاں ہر ایک اپنا کھڈی پر کپڑا تیار کر رہا تھا، جس میں سے وہ تھوڑا بہت برآمد کرتا اور اس سے بھی بہت کم درآمد کرتا۔ اس کی سب سے مشہور تصویر میں اسے اپنے ہاتھوں سے روئی کاتتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یوں اس نے معمولی سے چرخے کو ہندوستانی قوم پرست تحریک کی علامت بنا دیا۔ لیکن یہ نقطہ نظر جدید معاشیات کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا اور اسی وجہ سے اربوں روپوں پر چھپی گاندھی جی کی روشن تصویر کے لیے کچھ باقی نہیں بچا ہے۔

جدید معاشی نظریات روایتی کشمکش کی نسبت اس قدر مطابقت نہیں رکھتے ہیں کہ معاشی اصطلاحات کی ترجمانی کرسکیں۔ مثال کے طور پر کچھ کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مابین پریشانیوں کو طبقاتی تنازعات نے بڑی حد تک بڑھا دیا ہے۔ مختلف تاریخی حادثات کی وجہ سے شمالی آئرلینڈ میں اعلیٰ طبقے زیادہ تر پروٹسٹنٹ اور نچلے طبقے زیادہ تر کیتھولک تھے۔ لہذا پہلی نظر میں جو کچھ مسیح کے بارے میں مذہبی تنازعہ رہا ہے وہ اسباب کی دستیابی اور محرومی ہوگا۔ اس کے برعکس، بہت کم لوگ یہ دعوی کریں گے کہ 1970 کی دہائی میں جنوبی امریکہ میں کمیونسٹ گوریلاؤں اور سرمایہ دارانہ جاگیروں کے مابین تنازعات واقعی عیسائی مذہبیات کے بارے میں زیادہ گہرے اختلاف کے سبب تھا۔

جب اکیسویں صدی کے بڑے سوالات کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو مذہب کیا فرق پیدا کرے گا؟ مثال کے طور یہ سوال لے لیں کہ کیا مصنوعی ذہانت کو لوگوں کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت ملنی چاہیے یا پھر اس بات کا انتخاب کرنا کہ آپ کیا تعلیم حاصل کریں، کہاں کام کرنا ہے اور کس سے شادی کرنی ہے؟ ایک مسلمان کی اس سوال کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ایک یہودی اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ کسی بھی مسلمان یا یہودی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔

عین ممکن ہے کہ انسانیت کو دو اہم گروپوں میں تقسیم کیا جائے پہلا وہ گروپ ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو خاطر خواہ اختیار دینے کا حامی ہوگا جبکہ دوسرا کلی مخالفت کرے گا۔ مسلمان اور یہودی ان دونوں کیمپوں میں ہوں گے اور قرآن اور تلمود کی تخیلاتی تشریحات کے ذریعے وہ جس بھی پوزیشن کی حمایت کرتے ہیں، وہ اس کی توثیق کریں گے۔

عین ممکن ہے کہ مذہبی گروہ خاص معاملات پر اپنے خیالات پر جم جائیں اور مبینہ طور پر انہیں مقدس اور ابدی سچائیاں قرار دیں۔ 1970 کی دہائی میں لاطینی امریکہ میں مذہبی ماہرین آزادی کے نظریہ کے ساتھ ابھرے جس کی وجہ سے عیسیٰ تھوڑا سا چی گویرا کی طرح نظر آئے۔ بالکل اسی طرح مسیح کو آسانی سے گلوبل وارمنگ پر مباحثے کے لیے درمیان میں لایا جاسکتا ہے اور موجودہ سیاسی صورتحال کو اس طرح رنگ دیا جاسکتا ہے جیسا کہ یہ ابدی مذہبی اصول ہو۔

ایسا پہلے ہی ہونے لگا ہے۔ ماحول دشمن عناصر آگ اور گندھک کے استعمال کے خلاف ذکر کچھ امریکی ایوینجیکل پادریوں کے خطبوں میں شامل ہو گیا ہے، جبکہ پوپ فرانس مسیح کے نام پر عالمی حرارت میں اضافے کے خلاف الزام کی سربراہی کر رہے ہیں تو شاید 2070 تک ایوینجیکل یا کیتھولک دونوں کے لیے ماحولیاتی سوال اہمیت اختیار کر جائے گا۔ کوئی بھی اس بات پر اعتراض نہیں کرے گا کہ کسی ایونیجیکل نے کاربن کے اخراج پر اعتراض کیوں کیا؟ بلکہ اس کے برعکس کیتھولک اس بات پر یقین کریں گے کہ یسوع نے تبلیغ کی ہے کہ ہمیں ماحول کی حفاظت کرنی چاہیے۔

آپ ان کے زیر استعمال کاروں میں بھی واضح فرق دیکھیں گے۔ ایوینجیکل بڑی بڑی گیسولائن گاڑیاں چلائیں گے اور کیتھولک تیز رفتار الیکٹرک کاروں میں گھومیں گے، جس کے بمپروں پر لکھا ہوگا ”سیارہ کو جلا دو“ اور ”جہنم میں چلے جاو“ اور اپنے اپنے دفاع میں مختلف بائبل کے حوالوں کو نقل کر سکتے ہیں۔ ان کے درمیان فرق کا اصل ماخذ بائبل نہیں ہوگی بلکہ جدید سیاسی نظریات اور سیاسی تحریکیں ہوں گی۔ اس نقطہ نظر سے مذہب کو ہمارے وقت کی پالیسی کے بارے میں مروجہ بحث و مباحثہ میں حصہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ کارل مارکس نے استدلال کیا کہ یہ تو محض ایک سرقہ ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےکیا مذہب اب انسانیت کے کام آ سکے گا؟ شناخت کے مسائل: ریت میں لکیریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments