میں اور وہ لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب جوش کا طوفان تھما، غم و غصے کی لہریں اعتدال پر آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں غلطی کر بیٹھا ہوں۔ مگر اب پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ میں کئی گھنٹوں سے اپنے بیڈ روم میں بیٹھا تھا۔ ایش ٹرے بجھے ہوئے سگریٹوں سے اور کمرہ دھوئیں سے بھر چکا تھا۔ باس کو کھری کھری سناتے ہوئے مجھے انگریزی کا وہ مشہور مقولہ بالکل یاد نہیں آیا تھا جس کا مطلب ہے کہ باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے۔

شاید غلطی میری ہی تھی۔ کمپنی کے اکاؤنٹس کے معاملات دیکھنا یقیناً میرے فرائض میں شامل تھا لیکن باس کو کمپنی دینا اضافی تھا وہ بھی ایسے کہ باس کے پینے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اب ایسے میں کئی ایسے راز بھی مجھ تک پہنچ گئے تھے جو باس کے مطابق پوشیدہ رہنے چاہئیں تھے۔ اس کے باوجود باس کی طرف سے کسی انتہائی اقدام کی توقع نہیں تھی لیکن کچھ دنوں سے میں باس کی سیکریٹری کی نظروں میں کھٹکنے لگا تھا۔ طوفان اس وقت آیا جب باس کی بیوی کی آفس میں دھواں دار آمد ہوئی۔ آفس میں جو شعلے بھڑکے اس کی آنچ باہر تک محسوس ہو رہی تھی۔ باس کی بیوی تو آنکھوں اور زبان سے آگ برساتی چلی گئی مگر اس کے فوراً بعد سیکریٹری نے باس سے ون ٹو ون ملاقات میں نہ جانے کیسے اس آگ میں اتنا پیٹرول ڈالا کہ باس آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے۔

مجھے فوراً آفس میں بلایا گیا اور سارا الزام میرے سر ڈال دیا گیا۔ پرشباب سیکریٹری باس کے سینے سے لگ کر ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ باس کی بری بھلی باتوں پر میرا خون کھول اٹھا، میں نے اسی وقت استعفیٰ لکھ کر باس کی ٹیبل پر رکھا اور باہر نکل آیا۔

مجھے یہ نوکری بڑی مشکل سے ملی تھی۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ پھر سے نوکری کی تلاش میں نکلنا ہو گا۔ اگلے دن میں حساب کتاب کے لیے دفتر گیا تو پتا چلا کہ باس نے میرا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے مجھے ٹرمینیٹ کر دیا تھا اور میری تنخواہ بھی ضبط کر لی تھی۔ پرائیویٹ نوکری تھی مجھے باس سے یہی توقع تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں بچت کا عادی نہیں تھا۔ لہٰذا اب میرے لیے گزر اوقات کرنا بہت مشکل ہو چکا تھا۔

میرے پاس کار تو تھی لیکن اب پیٹرول کے لیے پیسے نکالنا بھی بہت مشکل تھا۔ جیسے تیسے روزانہ باہر نکلتا اور شہر بھر میں نوکری ڈھونڈتا مگر ہر جگہ سے انکار ہی سننے کو ملتا۔

میرا گھر ایک عام سے علاقے میں تھا جہاں مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس لوگ ہی رہتے تھے۔ ایک دن پھر میں نئے عزم کے ساتھ تیار ہوا۔ گاڑی سٹارٹ کی پیٹرول کی سوئی دیکھی پھر اخبار میں نشان زد کیے ہوئے کمپنی کے پتے کو دیکھا۔ دور جانا تھا اور پٹرول کم تھا۔ میں نے والٹ کھول کر پیسے دیکھے۔ سوچا کہ پیٹرول ضروری ہے شام کے کھانے کا بعد میں سوچوں گا کہ کیا کرنا ہے۔ گاڑی باہر نکالی ہی تھی کہ سڑک کے کنارے ایک لڑکی دکھائی دی۔ وہ رکشے والے سے کوئی بات کر رہی تھی۔ شاید بات نہیں بنی اس نے ہاتھ ہلایا اور رکشے والا چلا گیا۔ اتنی دیر میں میری کار اس کے قریب پہنچ چکی تھی۔ میں نے کئی بار اس لڑکی کو آتے جاتے دیکھا تھا۔ وہ میرے گھر کے آس پاس ہی کہیں رہتی تھی۔

کار کی رفتار انتہائی کم تھی۔ لڑکی نے میری طرف دیکھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اسے لفٹ کی ضرورت ہے۔ بلا ارادہ ہی پاؤں بریک پر آ گیا۔ لڑکی دو قدم آگے بڑھی پھر رک گئی گویا فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔

”شاید آپ کو کہیں جانا ہے۔ میں واپڈا ٹاؤن جا رہا ہوں۔ اگر لفٹ چاہیے تو آ جائیے۔“
لڑکی نے دو تین سیکنڈ کا توقف کیا پھر بولی ”مجھے ماڈل ٹاؤن جانا ہے، آپ کے راستے میں ہی آئے گا۔“

”تو پھر کیا سوچ رہی ہیں۔ بیٹھ جائیے۔“ میں نے بیٹھے بیٹھے فرنٹ ڈور کھولا اور وہ بیٹھ گئی۔ میں نے کار آگے بڑھا دی۔

”آپ مجھے جانتی ہیں ناں، میں یہیں رہتا ہوں۔“ میں نے کہا۔

”جی جی! میں آپ ہی کے محلے میں رہتی ہوں لیکن آپ محلے داروں سے ملتے جلتے نہیں ہیں اس لیے شاید آپ کو میرے بارے میں علم نہیں ہے“

بات تو اس کی ٹھیک تھی در اصل میں اکیلا تھا نہ ماں باپ نہ بیوی بچے۔ میں دفتر سے آنے کے بعد عموماً گھر میں ہی رہتا تھا۔ باہر نکلتا تو دوستوں کی طرف چلا جاتا۔ محلے داروں سے جان پہچان کا تو قائل ہی تھا یوں بھی مجھے یہاں منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ در اصل کار میری ضرورت تھی، موٹر سائیکل میرے نزدیک فضول سواری ہے۔ پرانے گھر میں گیراج نہیں تھا اور میری پرانی کار باہر گلی میں ہی کھڑی ہوتی تھی۔ چناں چہ جیسے ہی تنخواہ میں اضافہ ہوا تو میں نے یہ گھر کرائے پر لیا تھا کیوں کہ اس میں گیراج کی سہولت تھی۔

اس سے زیادہ بات نہیں ہو سکی کیوں کہ میں اپنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ اسے ڈراپ کرنے کے بعد میں واپڈا ٹاؤن کی اس کمپنی کے دفتر میں پہنچا جہاں مجھے انٹرویو دینا تھا۔ حسب سابق یہ انٹرویو بھی ناکام رہا تاہم ایک فائدہ ہو گیا کہ مجھے واپسی پر ایک دوست مل گیا اور میں نے اس سے کچھ رقم ادھار لے لی تاکہ پندرہ بیس دن نکالے جا سکیں۔ واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ اب ادھار کی نوبت آ گئی ہے جب تک نوکری نہیں ملتی کوئی غیر ضروری خرچ نہیں ہونا چاہیے۔ نوکری ڈھونڈنے کے لیے بھی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنی چاہیے۔

رات کو اخبار اچھی طرح کھنگال کر میں نے دو جگہ نشان لگائے جہاں نوکری ملنے کا مکان تھا۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ جو بھی نوکری ملی قبول کر لوں گا خواہ معمولی ہو بعد میں بہتر بھی تلاش کی جا سکتی ہے یہ اور بات ہے کہ ابھی تک معمولی بھی نہ ملی تھی۔

اگلی صبح میں تیار ہو کر باہر نکلا۔ آج گاڑی نہیں نکالی تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہوئے نشان زدہ جگہوں پر جا کر انٹرویو دیے ایک جگہ سے تو صاف جواب مل گیا دوسری جگہ سے یہ نوید سنائی گئی کہ دو دن بعد مطلع کیا جائے گا۔ خیر اس امید پر کافی خوشی ہوئی۔ کچھ وقت ایک پارک میں سوچ بچار کرتے ہوئے گزارا۔ اب شام ہونے والی تھی چناں چہ واپسی کی راہ لی۔ ایک بس میں سوار ہوا اور گھر سے نزدیک ترین سٹاپ پر اترا۔ یہاں سے دو تین کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ پیدل ہی روانہ ہوا۔ ایک سٹاپ پر وہی لڑکی رکشے وغیرہ کا انتظار کرتی دکھائی دی۔ ہمیشہ کی طرح اس نے سادہ سا لباس پہنا ہوا تھا۔ چہرہ میک اپ سے عاری تھا لیکن اس کے باوجود بڑی دل کش لگ رہی تھی۔ اس کی عمر بیس برس کے قریب رہی ہو گی۔ میں قریب پہنچا تو اس نے کسی قدر حیرت سے مجھے دیکھا۔

”شاید آپ رکشہ وغیرہ دیکھ رہی ہیں“ میں نے یونہی رکتے ہوئے کہا۔
”رکشے والے تو بہت پیسے مانگتے ہیں میں تو ویگن کا انتظار کر رہی ہوں لیکن آپ گاڑی کے بغیر کیوں؟“

”بس میں نے سوچا کہ پیدل چلنا صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ یہاں سے دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہی تو گھر ہے اس لیے پیدل ہی جا رہا ہوں۔“

”اوہ! اگر آپ برا نہ مانیں تو میں بھی آپ کے ساتھ ہی چلتی ہوں۔ ویگن نہ جانے کب ملے گی“
”آئیے! مجھے تو کوئی اعتراض نہیں“ میں نے قدم بڑھائے۔ وہ بھی ساتھ چل پڑی۔
”ویسے آپ کا گھر کون سا ہے؟“ میں نے یونہی سوال کیا۔
”وہی جو گلی کے آخر میں خستہ سا مکان ہے“ اس نے دھیرے سے کہا۔

”اچھا! آپ پڑھتی ہیں یا کہیں نوکری کرتی ہیں؟“
”پڑھنے کا شوق تو بہت ہے مگر پڑھ نہیں سکی۔ تھرڈ ائر کا امتحان بھی نہیں دے سکی تھی۔“
”جب اتنا شوق ہے تو امتحان کیوں نہیں دیا؟“ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھنویں اچکائیں۔

”امتحان سے پہلے ہی میرے بابا پر فالج کا اٹیک ہو گیا تھا۔ ان کا کام بھی چھوٹ گیا اور جمع پونجی ان کے علاج پر لگ گئی۔ یہ امتحان کیا کم تھا“ وہ بولی۔

” اوہ! یہ سن کر افسوس ہوا۔ اب ان کی طبیعت کیسی ہے؟“
”بس زندہ ہیں۔“ اس نے مختصر جواب دیا۔
”گھر میں کمانے والا اور کوئی نہیں؟“

”ماں نے تو کبھی سکول کی شکل تک نہیں دیکھی اور جب سے ابا بیمار ہوئے ہیں گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ان کی تیمارداری میں چوبیس گھنٹے مصروف رہتی ہیں۔ بھائی کوئی ہے نہیں۔ چھوٹی بہن بھی آٹھویں سے آگے پڑھ نہیں سکی۔“

”سوری! میں نے آپ کا نام تو پوچھا ہی نہیں“
”چھوڑئیے صاحب! نام میں کیا رکھا ہے؟“ اس نے دھیرے سے سر جھٹکا۔
”میں سمجھ سکتا ہوں، ایسے میں گزر اوقات کس قدر مشکل ہے“ میں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔

”میں آپ کو کیا بتاؤں۔ کتنا مشکل ہے۔ مجھے جو چھوٹا موٹا کام ملتا ہے، میں کر لیتی ہوں۔ کسی گھر میں صفائی کر دی، کپڑے دھو دیے، برتن مانجھ دیے لیکن اتنے پیسے نہیں ملتے کہ گھر کا خرچ چل سکے۔“

”واقعی بہت مشکل ہے۔ تم کم ازکم گریجویشن کر لو تو کوئی بہتر کام مل سکتا ہے۔“ میں نے کہا۔ لڑکی عجیب سے انداز میں مسکرائی تو مجھے اپنا خیال آ گیا۔ میں بھی کتنے دنوں سے خوار ہو رہا تھا اور کام نہیں ملا تھا۔

”ابھی کیا تم کام سے آ رہی ہو؟“

”کہاں صاحب! میں جس کوٹھی میں کام کرتی تھی۔ مالکن نے مجھے کام سے نکال دیا ہے۔ کچھ دنوں سے میں کام ڈھونڈ رہی ہوں۔“ وہ بولی۔

”اچھا! خیر کوشش جاری رکھو۔ کام مل ہی جائے گا۔“ میں نے تسلی دی۔
”اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں آپ کے گھر بھی کام کر سکتی ہوں“

”نہیں نہیں! میرا تو اتنا کام ہوتا ہی نہیں۔ جو ہوتا ہے وہ میں خود ہی کر لیتا ہوں“ میں نے فوراً نفی میں جواب دیا۔

”اچھا اچھا“ لڑکی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

اب ہم چلتے چلتے اپنے محلے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شام کا ملگجا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ کہیں کہیں سٹریٹ لائٹس روشن ہونے لگی تھیں۔ میرا گھر پہلے آتا تھا۔ دروازے کے قریب پہنچ کر میں ذرا سا رکا۔

”میرا گھر آ گیا۔“ میں نے جیسے اطلاع دی۔ لڑکی بھی رک گئی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔ میں اس کے دل کش چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔

”مجھے آپ سے ایک بات کہنی تھی“ وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔
”ہاں ہاں کہو کیا بات ہے“

”چلیں پھر سہی“ اس نے قدم آگے بڑھا دیے۔ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ رکی اور مڑ کر مجھے دیکھا۔ پھر ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے میری طرف بڑھی۔

”پوچھو ناں تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتی ہو؟“ میں نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک بار دائیں بائیں دیکھا۔ گلی میں اس وقت کوئی نہ تھا۔ اچانک اس نے اپنے سینے سے بڑا سا دوپٹا ہٹایا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔

”کوئی موڈ ہو تو بتائیے صاحب؟“
میری نگاہیں جھکتی چلی گئیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments