خدا کا پیشگی علم اور انسانی اختیار کا مسئلہ


 (سن 1987 میں 23 تا 25 جون پاکستان فلسفہ کانگرس کا ستائیسواں سالانہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس وقت کانگرس کے صدر ڈاکٹر سی اے قادر مرحوم تھے۔ یہ ان کی زندگی کا آخری سیشن تھا۔ کانفرنس کا افتتاح اس وقت بلوچستان کے گورنر جنرل موسیٰ خان نے کیا تھا۔ اس کے دوسرے دن میں نے یہ مضمون پڑھا تھا جو گزشتہ دنوں پرانے کاغذات کھنگالتے ہوئے سامنے آ گیا، حالانکہ مجھے یقین تھا کہ یہ گم ہو چکا ہے۔ تقریبا چونتیس پرانی کسی قدر ناہموار سی یہ تحریر اپنے قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ اس میں بیان کردہ بعض خیالات کو میں کسی قدر بہتر صورت میں اپنے 2018 کے اقبال میوریل لیکچر میں تحریر کر چکا ہوں۔)

***                ***

پاکستان فلسفہ کانگرس کے ستائیسویں سالانہ اجلاس میں منطق اور مابعد الطبیعیات کے سیکشن کے لیے صدارتی مقالہ لکھنے کی دعوت ملی تو میں نے اسے اعزاز جانتے ہوئے قبول کر لیا۔ جب مقالہ لکھنے بیٹھا تو ایک الجھن کا شکار ہو گیا۔ الجھن یہ تھی کہ اس ملک میں جس کا نام پاکستان ہے فلسفہ نام کی کوئی شے پائی نہیں جاتی۔ میں اس جملے سے کوئی سنسنی پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے احساس ہے کہ میری بات کو جھٹلانے کے لیے کچھ شواہد موجود ہیں۔ ملکی یونیورسٹیوں میں فلسفے کے شعبے قائم ہیں۔ ان میں فلسفے کے اساتذہ بھی موجود ہیں۔ پاکستان فلسفہ کانگرس اپنا ستائیسویں سالانہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ دس بارہ سال پہلے میں نے خود فلسفہ میں ایم اے کیا تھا اور چند سال سے فلسفہ پڑھانے کا الزام بھی اپنے سر لیے ہوئے ہوں۔

ان سب شواہد کے علی الرغم مجھے اپنی بات پر اصرار ہے کہ پاکستان میں فلسفہ مفقود و ناپید ہے۔ یونیورسٹیوں میں فلسفہ پڑھانے کا دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں فلسفیانہ مسائل پر بحث و تمحیص، ان مسائل کا کوئی حل پیش کرنے کی بجائے فلسفے اور فلاسفہ کے متعلق معلومات طالب علموں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کسی کا نظریہ یہ ہے کہ فلسفیانہ مسائل کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، تو ہم یہ بات طلبہ کو بتا دیتے ہیں۔ اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ فلسفے کے واقعی کچھ مسائل ہیں تو یہ بات بھی طلبہ کو بتا دی جاتی ہے۔ گویا اساتذہ کا مصرف صرف یہ ہے کہ وہ طالب علموں کے لیے بولتی ہوئی کتابوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فلسفیوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنا اور فلسفیانہ مسائل پر غور و فکر کرنا دو جداگانہ عمل ہیں، جس طرح شاعروں کے مجموعہ ہائے کلام کا مطالعہ کرنا اور شعر کہنا دو الگ الگ عمل ہیں۔ فلسفیوں کا مطالعہ فلسفے کی روایت اور تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے مگر یہ فلسفہ طرازی کا قدم اول ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دوسرا قدم اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

میں ایک مخمصے میں مبتلا تھا کہ کس مسئلے پر قلم اٹھایا جائے۔ اگر مقالے میں صرف یہی بیان کرنا ہو کہ وٹگنسٹائن نے کیا فرمایا ہے اور پوپر یا کسی اور نے اس پر کیا اعتراض کیا ہے تو یہ باتیں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال موضوع کی تلاش کرتے ہوئے پوپر کی یہ بات سامنے آ گئی جو کہ مجھے بہت پسند آئی۔ پوپر کے خیال میں فلسفیانہ مسائل فلسفہ کی کتابوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ ان کا سرچشمہ ان کتابوں سے باہر کہیں اور ہوتا ہے۔ مثلاً ریاضیات، کونیات، سیاست، مذہب، معاشرتی زندگی، یہ سب فلسفیانہ مسائل کا منبع و مصدر ہیں۔ ہمارے ملک میں فلسفے کے جڑ نہ پکڑنے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم جن مسائل کو فلسفیانہ قرار دیتے ہیں اور ان مسائل کے جو حل طلبہ کو بتاتے ہیں، ان کا ہماری زمین، تہذیب، تاریخ، ثقافت اور فکری روایات سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں فلسفہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں آسمان کی طرف ہیں۔

پوپر کی بات سے حوصلہ پکڑتے ہوئے میں نے گرد و پیش نظر دوڑائی تو مجھے ایک مسئلہ اہم دکھائی دیا۔ یہ مسئلہ جدت سے وحشت زدہ ہونے کا ہے۔ ہمارے معاشرے کا غالب رویہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بات اس وقت تک پسند نہیں آتی جب تک وہ پرانی نہ ہو چکی ہو۔ ہمارا محاورہ ہے: نیا نو دن پرانا سو دن۔ ہم جدت سے نفور اور قدامت کے پرستار ہیں۔ ہر نئی بات، نئے علمی نظریے سے وحشت کرتے اور اس کے متعلق اندیشہ ہائے دور و دراز کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر نئی ایجاد سے ہمارا دین، ایمان اور نظام اقدار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم جدت سے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں اور ہر نئی بات بدعت کیوں قرار پاتی ہے؟ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو ترقی کا دلدادہ ہے، اس صورت حال پر بہت رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک جدت کی مخالفت کا سبب ملا کی ہٹ دھرمی، تنگ نظری اور رجعت پسندی ہے۔ بات بہت حد تک صحیح ہونے کے باوجود مسئلہ کی پیچیدگی کو گرفت میں لانے سے قاصر ہے۔ بات محض ملا کی ضد کی نہیں ہے بلکہ اس کی اورہم سب کی ذہنی مجبوری کی ہے۔ ہماری ذہنی مجبوری یہ ہے کہ ہم صدیوں سے ایک ایسی کائنات میں زندگی بسر کرنے کے عادی ہیں جو اٹل ہے۔ اس میں نہ تغیر و تبدل ہے، نہ جدت اور تازہ آفرینی۔ یہ سب منطقی طور پر محال ہے۔ ہم سکون کو حرکت پر فوقیت دیتے ہیں۔ اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ لوگ اقبال کو محض حرکت و تغیر کا قائل ہونے کی بنا پر غیر اسلامی قرار دے رہے ہیں۔

مسلم فکر کا المیہ یہ ہے کہ اس کا آغاز اور نشو و نما آزادانہ طریق پر ہونے کی بجائے یونانی فلسفے کے زیر اثر ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی تشریح و تفسیر بھی یونانی فلسفے کی روشنی میں ہونے لگی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جس اسلام سے ہم روایتی طور پر آشنا ہیں اس میں فرمودہء خدا کی مقدار فرمودہء ارسطو سے شاید کم ہی ہو۔ سید سلیمان ندوی کی سیرۃ النبی پر ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب نے ایک بلیغ تبصرہ کیا تھا کہ اس کتاب کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی معاذ اللہ ارسطو کا شاگرد تھا۔

یونانی فلسفے میں سکون کو حرکت پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ یونانی تصور کائنات سکونی اور انجمادی تھا۔ ارسطو کی کائنات میں کوئی واقعہ یا حادثہ فی الواقع نیا نہیں ہے۔ یہ کائنات جبر کے اٹل قوانین میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس میں نہ حرکت ہے، نہ نوپید حوادث۔ اس کی کوئی تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ کے پھیلاو سے ماورا ہے۔ یہ کائنات مکمل طور پر بند ہے جس میں روشنی اور تازہ ہوا کے لیے نہ کھڑکی ہے نہ کوئی روشندان۔ اس کائنات میں انسانی آزادی اور تخلیق کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اہل یورپ بالخصوص اہل کلیسا، جب تک ارسطو کے تصور کائنات کے اسیر رہے، وہ بھی ہر فلسفیانہ خیال اور سائنسی نظریے کی مخالفت پر کمربستہ رہے۔

اسی فلسفے کے زیر اثر ہم نے خدا کی ذات اور صفات کے متعلق بعض ایسے تصورات قائم کر لیے ہیں جن کی وجہ سے کائنات میں حرکت، جدت اور تازہ کاری کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ میں اس مقالے میں خدا کے علم پیشیں کے بعض مضمرات کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔ مضمون کے اختتام تک مجھے امید ہے کہ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ہم حرکت و تغیر سے اتنے خائف کیوں ہیں۔

خدا کے علم کا تصور یہ ہے کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ خدا کو نہ صرف ماضی اور حال کا مکمل علم ہے بلکہ مستقبل میں بھی جو کچھ رونما ہو گا وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ درحقیقت خدا کے نزدیک وقت مختلف لمحات و آنات سے عبارت نہیں بلکہ وقت کا تمام پھیلاؤ ایک آن میں محصور ہے۔ خدا کے علم میں زمانی ترتیب نہیں پائی جاتی کیونکہ اس کا مطلب ہو گا خدا ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلتا رہتا ہے حالانکہ خدا میں کوئی حالت منتظرہ نہیں پائی جاتی۔ خدا کے علم میں ماضی اور مستقبل یکساں طور پر حقیقی اور واقعی ہیں۔ اب مستقبل میں پیش آنے والے تمام واقعات و حوادث چونکہ وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی خدا کے علم میں ہیں، لہٰذا ان تمام واقعات کا اپنے مقدر اوقات پر وقوع پذیر ہونا لازم ہے۔

امام غزالی کے نزدیک ” خدا جمیع معلومات کا علم رکھتا ہے۔ اس کی ذات کی مانند اس کا علم بھی قدیم اور ازلی ہے۔ اس کا علم متجدد نہیں اور نہ خدا کی ذات میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال پایا جاتا ہے۔” یعنی خدا کا علم ازلی طور پر ما کان و ما یکون کو محیط ہے۔ اسے واقعہ کا علم اس وقت نہیں ہوتا جب وہ وقوع پذیر ہوتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے خدا کی ذات میں جہل لازم آئے گا۔ یعنی ایک وقت پر خدا کا علم ناقص تھا۔ پھر واقعہ کے بعد اسے اس کا علم حاصل ہوا، گویا یہ خدا کی ذات میں جہل سے علم کی طرف انتقال کو مستلزم ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ خدا ہر تغیر اور انتقال سے پاک اور منزہ ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تمام انسانی اعمال اپنی انجام دہی سے قبل ہی خدا کے علم میں موجود ہیں اور خدا کا علم ناقابل خطا ہے تو پھر کوئی انسانی عمل فی الحقیقت آزاد نہیں ہے۔ اس دلیل کے تین قضایا یہ ہیں:

1۔ تمام انسانی اعمال پیشگی طور پر خدا کے علم میں ہیں۔

2۔ خدا کا علم ناقابل خطا ہے۔

3۔ لہذا کوئی انسانی عمل خدا کے علم کے برعکس نہیں ہو سکتا، یعنی آزاد نہیں۔

اب یہ بات ازل سے خدا کے علم میں تھی کہ زید فلاں وقت فلاں کام سرانجام دے گا۔ اگر زید اس وقت اس کام کو سرانجام نہیں دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ زید کے اس کام کے متعلق خدا کا علم غلط تھا۔ خدا کا علم اسی صورت صحیح ثابت ہو گا کہ جب زید وقت موعود پر اس عمل کو انجام دے۔ یوں خدا کے علم کی صحت اس بات کو لازم بناتی ہے کہ زید کے لیے اس وقت اس عمل کو انجام دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اور اگر زید کے پاس کوئی اور چارہء کار نہیں ہے تو زید کا اس عمل کو انجام دینا اس کے اپنے ارادے کے تابع نہیں ہے۔

اس اشکال کا ایک مقبول عام جواب یہ ہے کہ خدا کا پیشگی علم زید کے عمل کو متعین نہیں کرتا بلکہ خدا یہ جانتا ہے کہ زید اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اس عمل کو سرانجام دے گا۔ زید کی شخصیت اور اس کے خصائص چونکہ مکمل طور پر خدا کے علم میں ہیں، لہٰذا اپنے اس علم کی بنا پر خدا پیشگی طور پر یہ جانتا ہے کہ ان مخصوص حالات میں زید کی شخصیت سے کیا صادر ہو گا۔

یہ جواب بظاہر تشفی بخش محسوس ہوتا ہے اور خدا کی ذات پر یہ الزام بھی نہیں آتا کہ اس کا پیشیں علم انسانی اعمال کو متعین کرنے کا باعث ہے۔ مگر اس جواب سے جبر کا الزام رفع نہیں ہوتا۔ صرف یہ ہوتا ہے کہ جبر کا سبب خدا کی ذات نہیں، بلکہ خود انسان کی اپنی شخصیت ہے۔ کسی بھی انسان سے وہی کچھ صادر ہوتا ہے جو اس کی شخصیت میں موجود ہوتا ہے۔

اب اگر کوئی ستم ظریف پلٹ کر یہ سوال پوچھ لے کہ شخصیت اور اس کے خصائص کا خالق کون ہے تو ہم گھوم پھر وہیں لوٹ آئیں گے جہاں سے چلے تھے۔ اس اشکال کو رفع کرنے کے لیے مولانا حنیف ندوی صاحب نے ایک دلچسپ استدلال پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک "خدا کے علم کی نوعیت بیانیہ ہے مقدرہ نہیں۔ یعنی انسان اپنی زندگی میں اختیار کو جس جس انداز میں برتے گا یا آزادی ارادہ کی نعمت سے جس جس طریق سے بہرہ مند ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو پہلے سے جانتا ہے۔ نہ یہ کہ اس کا پیشیں علم انسانی تگ و دو کو جبر و اضطرار کے خانوں میں منحصر کرنے والا ہے۔”

مولانا محترم کا یہ استدلال دو پہلووں سے خام ہے۔ انھوں نے علم میں بیانیہ اور مقدرہ کی جو تقسیم کی ہے اس کا خدا کے علم پر اطلاق شاید مشکل ہو۔ بیانیہ علم وقوعات کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کسی بات کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا علم بیانیہ کا انداز رکھتا ہو تو وہ وقوعہ علت و معلول کے کسی اٹل قانون کے تحت ہی رونما ہو گا، مثلا چاند گرھن کی پیش گوئی۔ یہ بات صحیح ہے کہ چاند گرھن کا علم، گرھن لگنے سے برسوں پہلے حاصل ہو سکتا ہے اور یہ علم اسے مقدر کرنے کا باعث بھی نہیں۔ مگر چاند گرھن کا یہ علم اسی لیے ممکن ہے کہ وہ جن قوانین کے تحت رونما ہوتا ہے وہ اٹل ہیں۔ اب انسانی اعمال بھی اگر علت و معلول کے کسی اٹل قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں تو پھر وہ بھی دیگر موجودات کی مانند متعین ہی ہوں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اہل مذہب بالخصوص اشاعرہ کے نزدیک احداث فعل میں واحد موثر قدرت خدا کی ہے۔ جو واقعہ بھی رونما ہوتا ہے اس کا باعث اس کی قدرت ہے۔ اگر احداث فعل کی قدرت اور محدثات کا پیشگی علم ایک ہی ذات میں مجتمع ہو، تو پھر بیانیہ اور مقدرہ میں علم کی تقسیم لفظی موشگافی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

خدا کے علم پیشیں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اس سے خدا کی قدرت، ارادے اور تخلیق کی نفی ہو جاتی ہے۔ اگر ماضی کی طرح مستقبل بھی خدا کے علم میں متعین ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا بھی اسے بدلنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ ماضی کی طرح مستقبل کا تبدیل ہونا محالات میں سے ہو گا۔ خدا نہ تو کوئی نئی چیز تخلیق کر سکتا ہے، نہ کسی نئی چیز کا ارادہ کر سکتا ہے۔ تخلیق خدا کے حرکی تصور کا تقاضا کرتی ہے جب کہ ازلی طور پیشیں علم خدا کے سکونی تصور کو سزاوار ہے۔ مشہور معتزلی نظام نے اسی لیے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ خدا نے تمام مخلوقات کو بیک آن پیدا کیا تھا، مگر بعض کو بعض میں چھپا دیا تھا۔ اب مخلوقات کا ظہور بس ایک خاص ترتیب سے ہو رہا ہے۔ یہ کمون و ظہور کا نظریہ کہلاتا ہے۔

امام غزالی کے الفاظ میں "خدا کا ارادہ اس کی ذات کے ساتھ قائم اور ازلی ہے۔ اس نے اپنے ارادہء ازلی کے تحت یہ مقدر کر دیا تھا کہ اشیا اپنے مقررہ اوقات پر وجود میں آئیں گی۔ چنانچہ وہ بغیر تقدیم و تاخیر، اپنے ارادہء ازلی کے موافق ان اشیا کو ان کے مقدر اوقات پر وجود میں لے آتا ہے۔”

اس بات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا کی تخلیق بس اتنی ہے کہ وہ پہلے سے متعین اشیا کو پردہء ظہور پر نمایاں کر دیتا ہے۔ اب خدا سے بھی وہی صادر ہو گا جو ازل سے مقدر ہو چکا ہے۔ اس اشکال سے بچنے کے لیے غزالی نے اس بات پر بہت بحث کی ہے کہ آیا خدا اپنے علم کے برعکس کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے ان کا جواب اثبات میں ہے۔ اب انسانی زندگی کا تمام تر دائرہ عمل ازل سے متعین ہو چکا ہے تو ایمان اور کفر یکساں سظح پر آ جاتے ہیں۔ ابوجہل کا انکار کرنا اور ابوبکر کا ایمان لانا دونوں یکساں نوعیت کے واقعات ہیں۔ اس صورت حال میں اشاعرہ کا یہ موقف درست دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تکلیف ما لا یطاق دیتا ہے۔ کیونکہ یہ بات ازل سے اس کے علم میں تھی کہ ابوجہل ایمان نہیں لائے گا۔ لہٰذا اسے ایمان لانے کی دعوت دینا تکلیف ما لا یطاق ہے۔

اشاعرہ نے لیکن جبر کے الزام سے بچنے کے لیے اکتساب کا نظریہ پیش کیا تھا۔ مگر اس کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ ہم ایک ایسے ڈرامے کے کردار ہیں جس کا سکرپٹ ہمارا اپنا لکھا ہوا نہیں ہے۔ ہماری ذمہ داری اس لیے ہے کہ ہم اس ڈرامے میں اپنے لیے تفویض کردہ کردار کو ادا کرتے ہیں۔ اب محض اداکاری سے انسانی اختیار کا اثبات کرنا بڑا مشکل کام ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ خدا کے علم پیشیں کے تصور کی بنیاد ایک اور تصور پر ہے اور وہ ہے خدا کا غیر زمانی ہونا۔ خدا کے غیر زمانی ہونے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ دائم الوجود ہے۔ یعنی نہ اس سے پہلے کوئی اور موجود تھا، نہ اس کے بعد کوئی اور موجود ہو گا۔ غیر زمانی ہونے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہ وقت کے شعور و ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے ہاں نہ وقت کی تقسیم ہے نہ حوادث کی ترتیب۔ اب خدا اگر دوسرے مفہوم میں غیر زمانی ہے تو اس کے بعض لازمی نتائج ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ غیر زمانی خدا کا فرد اور شخص ہونا محال ہے جبکہ الہامی مذاہب میں خدا کا تصور شخص و فرد کا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ غیر زمانی خدا کو، جب حوادث واقع ہو رہے ہوں گے، اس وقت ان کا علم نہیں ہو گا۔ حوادث کا علم ماقبل اور مابعد کے شعور و ادراک پر مبنی ہے۔ اس کی مثال یوں بیان کی جا سکتی ہے۔ فرض کیجیے ایک ہدایت کار دو گھنٹہ دورانیہ کی فلم بناتا ہے۔ ہدایت کار ایک آن میں یہ جانتا ہے کہ اس میں واقعات کی ترتیب کیا ہے۔ اب جس وقت فلم پردہ سکرین پر دکھائی جا رہی ہو گی وہ ہدایت کار یہ نہیں بتا سکے گا کہ اب سکرین پر کونسا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ یہ کہنا کہ "اب سکرین پر یہ منظر دکھائی دے رہا ہے” اس امر کو ضروری بناتا ہے کہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ ابھی اس منظر سے پہلے کونسا منظر گزرا تھا اور اس منظر کے بعد کونسا منظر سکرین پر نمودار ہو گا کیونکہ یہ زمانی ادراک کو مستلزم ہے۔

دوسری مثال یہ ہے کہ خدا غیر زمانی طور پر ازل سے ابد تک وقت کے تمام پھیلاو کا علم رکھتا ہے۔ مگر اس کے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ آج جون کی چوبیس تاریخ ہے۔ یہ علم کہ آج جون کی چوبیس تاریخ ہے، وقت کے شعور و ادراک میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ ابن سینا نے اسی اشکال سے بچنے کے لیے خدا کے علم جزئیات کا انکار کیا تھا۔ جزئیات چونکہ زمانی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہیں، لہٰذا غیر زمانی خدا کے لیے ان کا علم رکھنا ممکن نہیں۔ متغیر حوادث کا علم ذات میں تغیر کو لازم ہے جبکہ غیر زمانی ذات میں تغیر کا ہونا محال ہے۔

خدا کے علم کا یہ تصور انسانی اختیار کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ خود خدا کے ارادے کی بھی نفی کر دیتا ہے۔ غیر زمانی پیشیں علم یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا کا علم محض انفعالی ہے۔ ایسا تصور فعال لما یرید خدا کے منافی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ علم تقاضا کرتا ہے کہ کائنات بھی مکمل طور پر فکسڈ ہو۔ جب خالق کائنات کوئی نئی چیز تخلیق کرنے پر قادر نہیں تو کائنات میں نئے امکانات کہاں سے آئیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یونانی فلسفے کے زیر اثر خدا کے لیے بعض ایسی صفات کا اثبات کیا گیا جو قطعاً غیر ضروری ہیں۔ ارسطو کا خدا غیر متحرک ہے۔ وہ نہ کائنات کو خلق کرتا ہے، نہ اس کا علم رکھتا ہے۔ وہ تو بس اپنی ذات میں محو ہے۔ ابن سینا نے ارسطو کے خدا کو اسلام کے قریب لانے کی خاطر خدا کے علم کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نزدیک خدا اپنی ذات کے علاوہ کلیات کا علم بھی رکھتا ہے، مگر خدا کے علم کا یہ دائرہ فلک قمر تک آ کر رک جاتا ہے۔ تحت القمر کائنات کے جو موجودات ہیں، ان کا علم پھر بھی خدا کو نہیں ہے۔ یوں انسانی اعمال، جو ابن سینا کی کونیات میں تحت القمر دنیا میں وقوع پذیر ہوتے ہیں، خدا کے دائرہ علم سے خارج ہو جاتے ہیں۔

یہ خدا کا خالصتاً انجمادی تصور ہے۔ حالانکہ قرآن حکیم میں واضح آیت ہے کہ "یزید فی الخلق ما یشاء”۔ جہاں تک خدا کے علم کا تعلق ہے، قرآن مجید صرف اتنی بات کرتا ہے کہ یعلم ما فی السموٰت و ما فی الارض۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ قرآن میں بہت سی آیات ہیں جن میں انسانوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ہم تمھیں آزمائیں گے تاکہ ہم یہ جان لیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کتنے ہیں اور صبر کرنے والے کتنے ہیں۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کا علم ہر شے کو محیط ہے تو میرا خیال ہے کہ انسانی اعمال کے متعلق پیشیں علم کو اس میں شامل کرنا غیر ضروری ہے۔ خدا کے محیط علم کا مطلب میرے نزدیک یہ ہے کہ ہر قابل علم شے اس کے علم میں ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ کوئی وقوعہ ہو اور وہ اس کے علم میں نہ ہو۔ علم میں نقص تبھی ہو گا جب کسی قابل علم شے کا علم نہ ہو۔ رہے وہ واقعات جن کو آزادانہ اختیار کے استعمال کےنتیجے میں ابھی وقوع پذیر ہونا ہے تو وہ وقوع پذیر ہونے سے پہلے قابل علم نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کا علم نہ ہونا جہل کو لازمی نہیں بناتا۔ اگر خدا خالق ہے تو پھر سب ازل سے مقدر نہیں ہے اور نہ مستقبل پہلے سے متعین ہے بلکہ وہ کھلے امکانات کا نام ہے۔ خدا کی قوت تخلیق امکانات کو متحقق کرنے میں پیہم مصروف عمل ہے۔

 اس کے ساتھ انسان بھی اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مسلسل تخلیقی عمل میں مصروف ہے۔ انسان نے اپنی کئی ہزار سالہ تاریخ میں علم، فلسفہ، شعر و ادب، آرٹ اور سائنس کی جو عظیم الشان کائنات تخلیق کی ہے وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان کے تخلیقی امکانات بے پناہ ہیں۔ یہ پہلے سے مقدرکسی بند گلی کا مسافر نہیں ہے۔ انسان اپنے پورے شعور و ادراک کے ساتھ اپنے تخلیقی امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے تخلیق میں مصروف ہے۔ خدا اور انسان دونوں اپنی اپنی سطح پر تخلیق کرتے ہیں اور یہ تخلیقی عمل اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ کائنات کوئی بنی بنائی چیز نہیں بلکہ تکمیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ میں اپنا یہ مضمون اقبال کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

24 جون 1987

Facebook Comments HS

Comments are closed.