ڈی آئی جی کی محبوبہ (آخری قسط)


گیارہوں قسط کا آخری حصہ

ٹیپو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اس آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ بینو چوں کہ اچھی طرح سے چونا لگا چکی ہے لہذا اس نے ان کے دو تین بڑوں کا نام لے کر چھیڑتے ہوئے ان ہی الفاظ اور لہجے میں کہا۔ جذباتی باتیں مت کرو۔ بھوتنی کے بھانجے یہ بتاﺅ تمہارے ان بڑوں نے کیا کاما سوترا اور نیپال کے آئین پر حلف اٹھایا تھا۔

٭٭٭ ٭٭٭

ملتان میں بینو کی ٹیپو سے ملاقات ریلوے روڈ کی ایک پرانی عمارت میں ہوتی ہے۔ اس میں نچلی منزل میں تیس دکانوں کی تین قطاریں ہیں۔ سامنے کی پہلی قطار جو ریلوے روڈ کی جانب ہےاس کی دکانوں کو دو حصوں میں دیوار چن کر جدا کردیا گیا ہے۔ جیسے بازو علیحدہ ہوتے ہیں۔ بینو کی آمد اس پہلی قطار میں کھلنے والی مارکیٹ کی سیڑھیوں سے ہوتی ہے۔ اس کی چھوٹی سی راہداری پر ایک گرل والا گیٹ نصب ہے۔ سیڑھیوں پر بھی ایک دروازہ ہے جس میں چابی کے ساتھ ایک خفیہ بٹن اندر کی طرف ہے۔ سلاخوں سے ہاتھ ڈال کر اس چھوٹے سے بٹن کو دباﺅ تب دروازہ بغیر آواز کیے کھل جاتا ہے۔ اندر داخل ہو نے کے ایک منٹ کے اندر آٹو میٹک طریقے سے بند بھی ہوجاتا ہے۔ اس کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ لاک کو دوبارہ کھولنے کے لیے پانچ منٹ انتظار کرنا ہوتا ہے۔ اس کی سیڑھیاں چڑھ کر بینو اوپر پہلی منزل تک آ جاتی ہے۔

اس دروازے کو کھول کر سیڑھیاں چڑھ کر اندر آئیں تو نمبر والے تالے سے کھلنے والا ایک گیٹ آپ کا راستہ روک لیتا ہے اس چھوٹے سے حصے میں جو گرل کے پار لیکن کمرے کے ساتھ ہے اسے ایک چھوٹا سا اندرونی صحن سمجھ لیں اس سے وہ میٹنگ والے کمرے تک آجاتی ہے۔ کمرے والی راہدری کے باہر جو گرل والا گیٹ ہے اس کے لاک کا نمبر1992 ہے جو بینو کو بتا دیا گیا ہے۔ کمرے کا لاک عام طور پر بڑے ہوٹل والے دروازوں کی طرح مقناطیسی کارڈ سے کھلنے والا ہے۔ ٹیپو کی ہدایت ہے کہ یہاں سے سیل فون لے کر نہیں آنا۔ فون بند ہو تو بھی اس عمارت میں cell phone detector لگا ہوا ہے۔ پتہ لگا جاتا ہے اور الرٹ بٹن دب جاتے ہیں۔

خود ہی بتایا کہ اس عمارت کے پیچھے ان کا دفتر ہے اس میں بہت طاقتور فون ریکارڈرز نصب ہیں

عمارت کی پہلی منزل ٹیپو جی کے کیمپ آفس کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس فلور پر تین کمرے ہیں دو ایک ساتھ اور تیسرا بڑے والا ایک کونے میں ۔ اس کو Executive Suite سمجھ لیں۔ ٹیپو اور بینو ملتان آمد کے بعد یہیں ملتے رہے ہیں۔ اس کمرے میں بہت آرام دہ بستر، عریانگی کے ملاحظے پر شرمسار کرنے والے چار مختلف زاویوں پر نصب بڑے آئینے اور دو بڑی اور ایک چھوٹی سی الماری ہے۔ یہ چونکہ آخر کا کمرہ ہے۔ دو دروازے اس کمرے کے سامنے سے اور بھی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی صحن میں جانے والی سیڑھیوں کی طرف کھلتے ہیں ٹیپو ان میں سے ایک زینہ چڑھ کر اندر کمرے میں آتے ہیں۔ اس پر نمبر والا لاک بیرونی سمت لگاہے۔ باہر جانے کے لیے اور دوسرا اندرونی لاک والا دروازہ ہے۔ ٹیپو کی آمد اس کے کمرے میں پہنچنے کے آدھا گھنٹے سے پونا گھنٹے کے عرصے میں ہوتی ہے۔ اس کی الماری سے وہ کپڑے نکال کر تیار ہوجاتی ہے۔ عام طور پر یہ سلسلہ دو بجے تک چلتا ہے۔

کونے میں ایک ریک پر بلیٹ پروف جیکٹس بھی رکھی ہیں۔ سو یہ تین چار گھنٹے جو ان کی رفاقت میں گزرتے ہیں بینو سیل فون کا استعمال نہیں کرتی۔ پروگرام بھی ایک دن پہلے طے ہوتا ہے اکثر رات گئے۔ مختصر سا ایس ایم ایس سیل فون پر” نائین اے۔ ایم۔ کافی وتھ زونی“۔ اوپر جاتے وقت بھی بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ جلدی میں احتیاط سے ہات اندر ڈال کر بٹن دروازہ کھولنا ہوتا ہے۔ بینو کے لیے یہ سب سے مرحلہ ہوتا ہے۔ کوئی دیکھے نا اور بٹن بھی مل جائے۔ ورنہ پانچ منٹ بعد ٹرائی کرنا ہوگی۔ ایک دو دفعہ ایسا ہوچکا ہے۔

 ٹیپو کا کہنا ہے کہ یہاں سے آنے جانے میں اور تاک جھانک میں وہ خاص احتیاط کرے کیوں دہشت گرد، نگران ایجنٹ اور دیگر ادارے بھی سرویلنس کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی ہاکر، ٹھیلے والے یا فقیر کے پاس نہ رکنا ہے۔ رکشہ بھی ذرا دور نکڑ پر رکوا کر ادھر ادھر چکر لگا کر گیٹ کے قریب آنا ہے۔ ان دنوں چوںکہ تخریب کاروں کی پکڑ دھکڑ اور دہشت گردی دونوں ہی برابری کی ٹکر پر ہیں لہذا بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔

 ایک دفعہ بینو نے چپ چاپ رکشہ سے اتر کر باہر کھڑے رہ کر تین چار تصویریں بنا لیں اور فون امی کو دے دیا جو اسے وہاں چھوڑ فون سمیت حسین آگاہی مارکیٹ میں چلی گئیں۔ یہ سب اس لیے کہ گھوڑے کی سواری کا شوق ہو تو چابک بھی پاس ہونا چاہیئے۔ فرض کریں کبھی کوئی برائی سر پر مسلط ہو تو ایسی صورت میں اپنے پاس ثبو ت موجود ہونے چاہیں۔ ٹیپو کی سہولت اور مرضی کے مطابق بینو کا ملنا ہوتا ہے۔ ریلوے روڈ کی کا مارکیٹ کا یہ کیمپ آفس دراصل ایک ایسا حدیقہ لطف و سرور ہے جہاں ان کی صحبت بوس و کنار برپا ہوتی ہے۔ انہیں لانژرے اور برازیلین بکنیز کا بہت شوق ہے۔ دنیا کی مشہور ترین زیر جاموں کی مختلف برانڈز Agent Provocateur ناتوری، لاپریلا، شینٹیل، وکٹوریہ سیکریٹ جانے کہاں کہاں کا الم غلم جمع کرکے رکھا ہے۔ بینو نے تصدیق کر لی کہ یہ لنڈا کا مال نہیں۔ ایسا ہوا تو وہ انہیں آگ لگا دے گی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتی کا جب ملاقات کا نقطہ لطف وصال کامل برہنگی ہے تو یہ سب اہتمام کاہے کو۔ وہ کہتے ہیں جتنی قیمتی شراب یا  پرفیوم ہو اس کی بوتل اور پیکنگ بھی ویسی ہی ودھیا ہوتی ہے۔ Its all about class

ٹیپو جی کا اس بارے میں فلسفہ کچھ یوں ہے کہ مرد زیادہ کپڑوں میں اور عورت کم کپڑوں میں اچھا لگتی ہے مرد تھری پیس سوٹس، عربوں کے ثوب اور عورت چھ گز کی ساڑھی کے ساتھ وہی زوبی ڈوبی والاچولی بلاﺅز۔ بینو کو بھی اس بننے سنورنے میں مزا آتا ہے۔ محبوب کے سامنے Exhibitionist بننے کا کیا لطف ہے یہ کوئی کسی دلہن سے پوچھے۔ اس کی اپنی شادی کا اولین دو سالوں کا عرصہ تو ایک بے آب و گیا دشت بے اعتنائی تھا۔ ایک صحرائے ازدواج خار پرور جس میں ٹیپو کی توجہ کے پھول کھلے تو بدن کو ایک تراوٹ ایک ذائقہ بے بیش بہا ملا۔

دونوں کے ہفتے میں ایسے تین پروگرام لازمی بنتے ہیں۔ پچھلی ملاقات میں کہہ رہے تھے ساس سسر آئے ہوئے ہیں۔ بیگم کا مزاج بھی بہت برہم ہے۔ لگتا ہے ان کو شک ہے کہ میں کسی عورت کے چکر میں ہوں۔ میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہاں اولاد کی خاطر میں نے دوسری شادی کرنی ہے۔

وہ دن عجیب دن تھا۔ اتوار کی صبح ہی میسج آگیا تھا کہ اگلے دن صبح نو بجے پیر کے دن دونوں کی ملاقات ہونا طے تھی۔ پچھلی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ بینو نے کمرے پر آن کر تھری ایڈیٹ نامی فلم میں کرینہ کپور والی ذوبی ڈوبی والی ساڑھی پہننی تھی۔ گھر سے اسکول کی بجائے سیدھا ریلوے روڈ والی مارکیٹ پر آ جانا تھا۔ جب اس نے اوکے کر دیا تو ہدایت آئی کہ کافی ودھ زونی ڈن۔ راجر اینڈ آﺅٹ۔ اس کا مطلب ہے اب مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔ پروگرام اپنی تمام تر تفصیل سے طے ہو چکا تھا۔ بینو اہتمام آرائش برائے ملاقات میں مصروف تھی۔

آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عورتوں نے سوئم چہلم پر بھی جانا ہو تو ایک آدھ گھنٹہ آئینے کی شامت ضرور آجاتی ہے۔ یہ تو وصال یار کی بات تھی اور وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔

 اتوار کے دن ہی اس پروگرام کے طے ہوجانے پر وہ مسرور تھی۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو ابو کو دو بجے دوپہر پیغام آیا کہ ٹوانہ صاحب بینو کو لینے لیے ایک گھنٹے میں پہنچ رہے ہیں۔ سیدھا پشاور اور وہاں سے کسی اہم فیملی کے ساتھ سفارت کار وں کی ایک ٹولی کے ہمراہ کابل وہاں سے اعلی الصباح دبئی کی فلائیٹ ہے اور براستہ اوساکا وینکور۔ امی اداس تھیں مگر کیا کرتے۔ ٹیپو کو بتانے کا محل اور ضرورت نہ تھی۔ اس کا مطلب تھا دونوں کی گرفتاری اور حضرت کی واہ واہ۔ سو چپ چاپ ٹوانہ صاحب کے ساتھ سیاہ رنگ کے شیشوں والی جیپ میں بیٹھ کر نکل گئی۔ ٹیپو صاحب کو بھی اعلی الصبح ان کے کمانڈر نے لاہور بلالیا۔ انہوں نے پھر بھی کمرے کے دروازے سے نیچے ایک نوٹ ڈال دیا کہ سرکاری کام آ گیا۔ میری دو ٹکیاں دی نوکری آپ کا لاکھوں کا ساون جائے۔ منسوخی کا ہرجانہ ادا ہوگا۔ نئی اطلاع کا انتظار فرمائیے گا۔

 ہشت گردی پر اس اہم میٹنگ کے دوران جب تازہ ترین خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف سندھ بلوچستان اور پنجاب کی سرحد پر ایک ہائیڈ آﺅٹ پر چھاپے اور گرفتاریوں کا مربوط منصوبہ زیر بحث تھا۔ اطلاعات تھیں کہ پڑوس کے دشمن اور دوست ممالک نے ایجنٹوں کی ایک تازہ کھیپ بھیج دی ہے۔ سلیپر سیلز سرگرم ہو گئے ہیں ایسے میں کمانڈر صاحب کو سیل فون پر میسج آیا اور اٹھ کر باہر چلے گئے۔ خبر آئی کہ ریلوے روڈ پر مارکیٹ کی عمارت میں بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ یہ وہی مارکیٹ کی عمارت تھی جہاں بینو اور ٹیپو ملا کرتے تھے اسے دھماکے سے اڑادیا گیا۔ مارکیٹ کی بلڈنگ ملیا میٹ ہوگئی سامنے کا حصہ تو اس بری طرح مخدوش  ہوا ہے کہ پہچاننے میں نہیں آرہا۔ پچاس کے قریب دکاندار اور خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ دھماکے کا وقت صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے تھا۔ بینو اور ٹوانہ جی تب تک کابل سے اڑان بھر کے دبئی کی فضاﺅں میں تھے۔

ٹیپو گھر آئے تو بہت پریشان تھے۔ پریشانی دیکھ کر ان کی بیگم نے پوچھا تو سب کچھ بتا دیا۔ کہہ رہے تھے کہ مرنے والوں میں ان کی ایک مددگار بھی تھی۔ وہ غیر ملکی ایجنٹوں کے سلیپر سیلز میں بہت اندر تک گھسی ہوئی تھی۔ اس سے ملاقات طے تھی۔ اس نے کچھ اہم دہشت گرد گرفتار کروانے تھے۔ وہ بھی اس عمارت میں ان کے ایک حوالدار کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ دونوں مارے گئے۔ کچھ اہم ریکارڈ بھی بربادہوا۔ بیگم اٹھیں اور ایک تصویر سامنے رکھ دی۔ یہ بینو کی ان کے ساتھ ڈونگا گلی کی تصویر تھی۔ وہی تصویر جس میں بینو ان کی گود میں لیٹی ہوئی تھی۔ ٹیپو کو لگا کہ یہ تصویریں اسی جوڑے نے کھینچی تھیں جس پر انہیں شبہ بھی ہوا تھا کہ انہوں نے مرد کو کسی جگہ دیکھا ہے یہ وہی تھے جواپنی فیملی کے ساتھ ڈونگا گلی آئے تھے۔ وہ ٹیپو کو پہچانتے تھے مگر ٹیپو ان کے بارے میں کچھ خاص پتہ نہ تھا۔

بیگم نے اپنی والدہ، اور دونوں بچوں کا سامان پہلے ہی پیک کررکھا تھا۔ وہ ان کے ساتھ چلی گئیں۔

 ماہی والے دنوں میں ٹوانہ صاحب زیادہ تر بینو کے گھر آ جاتے تھے۔ انہیں ایک دوسرے کی ملاقات کا لطف فراہم کرنے کی غرض سے ظہیر ذرا جلد ہی آفس چلا جاتا۔ اسی وجہ سے ایک دوسرے سے پیار کرنے کا خاصا وقت مل جاتا۔ اس بار عید بھی تھی اور لانگ ویک اینڈ بھی تھا۔ ویسے کاروبار چوں کہ ظہیر ہی سنبھال رہا تھا۔ اسی لیے ٹوانہ جی، بینو اور زونی یہ تینوں وینکور کے قریب گبسن کے جزیرے پر نکل گئے۔ یہ برٹش کولمبیا کا بہت خوب صورت علاقہ ہے۔ ظہیر کی اپنے ٹرک ڈرائیور دوستوں کی کوئی کیمپ آﺅٹنگ تھی۔

 رات کے کسی پہر جب وہ گارڈن ہوٹل کی ٹیرس سے شانت سمندر کو تکتے تھے تو بینو کو ڈونگا گلی یاد آئی۔ اس نے پوچھا ”ارے وہ آپ کے ایک ساتھی ہوتے تھے۔ موئے جھوٹے۔ میرا وہاڑی ٹرانسفر بھی نہیں کرایا۔ باتیں اور بھرم ایسا مارتے تھے جیسے اوباما کو بھی وہائٹ ہاﺅس میں انہیں نے لگوایا ہو۔ مجھے تو اس لوزر کا نام بھی یاد نہیں۔ ٹوانہ جی نے بتایا کہ ”خود کو ٹیپو کہتے تھے مگر یہ شاید ان کا اصلی نام نہ ہو۔ میرا تو بس پیشہ ورانہ تعلق تھا۔ ادھر ادھر سے خبریں ملتی تھیں۔ پکا ویمن آئزر۔ بینو کے دل میں آیا کہ وہ ان کا نام بھی لے دے۔ دل کو صدمہ ہوا کہ وہ عورتوں کے معاملے میں رنگ رسیا نکلے۔ ان کی اس ایک برائی کے انکشاف سے وہ بہت کرچی کرچی ہوئی۔ اسے لگا کہ وہ تو محض  ایک باب الفت تھی جسے شاہراہ ہوس پر کھول کر وہ لطف وصال کی دوسری منزلوں کی طرف گامزن ہوجاتے تھے۔

 بینو چالاک تھی۔ اس انکشاف کا شاک خاموشی سے جھیلنا چاہتی تھی۔ اسی لیے پوچھ بیٹھی” جانو آپ تو ایسے نہیں نا۔ مجھے ویمن آئزر مردوں سے شدید چڑ ہے۔ جو ہوا سو ہوا۔ نو مور“

ٹوانہ صاحب کہنے لگے۔ ظہیر نے اس تامل عورت کے بارے میں ضرور بتایا ہو گا جس کے ساتھ میں بارنابے میں رہتا ہوں۔ اس جینیلیا مڈو گلے سے میرا سمبھندھ ضرور ہے۔ زیادہ کچھ نہیں۔ مجبوری ہے اس لیے اس کے ساتھ رہنا ہوتا کہ کہیں نیب والے کینیڈا انہیں گرفتار کرنے نہ پہنچ جائیں۔ یہ تامل بڑے ہشیار لوگ ہیں۔ ان کی بولی بھی کوئی نہیں سمجھتا سو ان میں چھپ کر رہنے میں بچت ہے۔ مجھے تمہارا اور زونی کا پیار یہاں لے آتا ہے۔ یہ ہائی رسک مشن ہے مگر اولاد اور بیوی کی خاطر یہ ضروری ہے۔

بینو کا ٹوانہ جی کا اسے بیوی اور زونی کو اولاد کہنا اچھا لگا۔ جب تک وہ گارڈن ہوٹل میں رہے اس پانچ چھ دن اور اس پورے مہینے اس نے مانع حمل گولیاں نہیں کھائیں تاکہ ٹوانہ صاحب کو بھی سچ میں  باپ بنا دے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے بچے ان کی جائیداد کے کینیڈا اور پاکستان میں بھی وارث بن سکتے ہیں۔ بینو جانتی ہے کہ جب سب ہی اپنی شرائط کا تھیلا تھامے غیر مشروط اور بے دریغ محبت کے طالب ہیں تو وہ کیوں نہ اپنی شرائط پر جینا شروع کرے۔ اس نے ایک سبق اور بھی سیکھ لیا کہ لوگوں پر اعتبار یا ان سے پیار جتنا بھی ہو ان کے لیے مہمانوں والا کمرہ ہی کھولنا چاہیے۔ ایک اور سبق جو اس فیصلے کے جواز میں اس نے اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ بیج اگر خاموشی سے بویا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا گلستان بھی خاموش رہے گا۔

اس رات کے انکشافات اس پر بہت گراں گزرے۔ وہ سوئی کم۔ روئی بہت۔ ٹوانہ سوگئے تو نیچے بار میں جاکر کافی دیر تنہا بیٹھی پیتی رہی۔ جانے وہ کون سا لمحہ تھا کہ اس نے ٹیپو کو معاف کردیا۔ وہ اس کا پہلا پیار تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے خود کو قائل کیا کہ اس نے انہیں دل سے چاہا ہے اور جو کچھ بھی اس نے کیا وہ اپنی رضا و رغبت سے زندگی کی چند گھڑیاں چرانے کے لیے کیا۔ یہ سود و زیاں کا سودا نہ تھا۔ وہ اس میں نفع نقصان کا سوچ کر اس تصور کر بہتان اور نقصان آلود نہیں کرنا چاہتی تھی۔

یہ وہ لمحات ہیں جنہیں وہ اپنا سرمایہ حیات مانتی ہے۔

بینو کو اس دوران ایک خیال یہ بھی آیا کہ اس نے ٹیپو کو ہمیشہ مضبوط، جری، جفا جو دیکھا۔ اسے بڑا عجیب لگا کہ ایسا مرد اداس ہو۔ ٹوٹا بکھرا تو کیسا لگے گا۔ پہلے سوچا کہ وہ انہیں اس پیر کی صبح نہ پہنچ پانے کا احوال لکھ بھیجے۔ بینو کو ابو نے بتادیا تھا کہ اس عمارت کا کیا حال ہوا۔ اس انکشاف پر اس نے اپنے مسیحا محمود اچاریہ جی عرف ڈی آئی جی محمود ٹوانہ کے پیر مونچھیں سب چوم کر پیار کیا کہ ان کے بروقت فرار منصوبے سے جان بھی بچ گئی اور عزت بھی محفوظ رہ گئی۔

بینو نے اگلی رات ٹوانہ جی سے حوصلہ کرکے پوچھ لیا۔ وہ جو آپ کے دوست تھے ٹیپو صاحب۔ ان کی کیا بیوی بھی تھی اور بچے بھی۔ ظہیر تو کہتا تھا ان کی بیوی کراچی کی تھی گجراتی۔ جب ہی وہ کراچی بھی بہت جاتے تھے۔ ٹوانہ جی کہنے لگے ظہیر کو ان لوگوں کی کیا خبر، کراچی میں ہوسکتا ہے مال کی وصولی کے لیے جاتے ہوں یا ہماری طرح حوالے کا کوئی چکر ہو۔ بینو نے پوچھا وہ آپ کے دوست اب کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ بھی آپ کی طرح سندھ سے پنجاب پوسٹ ہوئے تھے تو جواب ملا ہاں ہمارا پہلا تعارف وہیں کا تھا۔ بتانے لگے کہ نوکری چھوڑ نے کے بعد ٹیپو جی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی چلاتے ہیں۔ سوات۔ کراچی روٹ پر بسوں کا کام ہے۔ خوش ہیں۔ شمالی علاقہ جات کے لیے ٹریول ایجنسی بھی ہے۔ برے کام کا برا انجام۔ پروموشن بھی نہیں ہوا۔ بیگم نے بھی چھوڑ دیا۔ کوئی افیئر سامنے آیا تو دونوں بچے لے کر چلی گئی۔ اس کے ماں باپ ان کے سگے خالہ خالو تھے۔ خالو کا کنسٹرکشن کا بڑا کام تھا۔ ہائی ویز بناتے ہیں۔

اب کوئی رابطہ ہے۔ کہنے لگے نہیں یار۔ یہاں کئی لوگ ہیں۔ ان کے ساتھ کے اور سینئیرز، سو خبریں مل ہی جاتی ہیں۔ سنا ہے وہاں شادی کرلی ہے۔ سسرال والے ان کے قبیلے کے ہیں۔ ان کے افسر بھی تھے لاہور میں ۔ ان کی بیوہ بہن سے شادی کرلی۔ بچہ بھی ہوگیا ہے۔

بینو نے سوچا ہے کہ وہ پاکستان گئی تو زونی کو ابو امی کے پاس چھوڑ کر ایک دفعہ ان سے ملنے ڈونگا گلی جائے گی۔ ہوسکا تو ایک بچہ ان کا اور پیدا کرے گی۔ بینو نے زندگی کا ایک سبق مڑ مڑ کر دیکھنے میں یہ سیکھ لیا کہ محبت کرنا اور محبت پانا دو مختلف عمل ہیں۔ وہ ٹیپو سے پیار کرتی ہے۔ محبت کے بارے میں اس کا اندازہ ہے کہ اسے اپنی شدت، سادگی اور سچائی کا اندازہ محبوب سے بچھڑ کر ہوتا ہے۔

(ختم شد)

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 89 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments