گیری ایلن: دو دہائیوں پر محیط تحقیقات اور ایک عورت کی گواہی جو سیکس ورکرز کے قاتل کو گرفت میں لائی



گیری ایلن 1998

Humberside Police
گیری ایلن

اپریل 2000 میں 24 سالہ میلانی (فرضی نام) ’ڈیوٹی‘ پر تھیں اور لگ بھگ یہ ایک عام سی رات تھی۔

اس وقت ’پلیمتھ سٹون ہاؤس سٹریٹ‘ سیکس ورکرز کی وجہ سے مشہور تھی۔ ایک شخص ’مطلب کی بات‘ کرنے کے لیے میلانی کی جانب بڑھا۔ میلانی سیکس ورکر تھیں۔

معاملہ طے پانے کے بعد دونوں گلی کے ایک خاموش گوشے کی جانب چل پڑے، راستے میں پولیس کی گاڑی بھی آئی مگر دنوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے تاکہ دیکھنے والوں کو وہ ایک عام سا پریمی جوڑا نظر آئیں۔

جب میلانی نے کام کے بدلے فوراً رقم کا مطالبہ کیا تو اس شخص کا رنگ بدل گیا اور اس نے میلانی کی گردن دبوچ لی۔ انھوں نے بتایا کہ پیسوں کے مطالبے پر ’اُس نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ وہ غصے میں تھا۔ ظاہر ہے وہ مجھے مارنا چاہتا تھا اور میں یہ جاننے سے قاصر تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔‘

میلانی نے مدد کے لیے پکارا تو قریب موجود پولیس والے مدد کو پہنچ گئے جنھیں دیکھ کر وہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اب میلانی کی عمر 45 برس ہے اور اُن کا خیال ہے کہ اگر اس روز اس کی چیخ و پکار پر پولیس نہ آ جاتی تو آج وہ یہ واقعہ سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتیں۔

بعدازاں وہ شخص اس دوسری سیکس ورکر پر اسی نوعیت کا حملہ کرنے کے الزام میں پکڑا گیا اور دو سیکس ورکرز پر حملوں کے الزام میں اسے پانچ سال قید کی سزا ہوئی۔

مگر جب چند برسوں بعد میلانی مقامی عدالت میں اس شخص کے خلاف گواہی دے رہی تھیں تو انھیں حملہ آور کے تاریک ماضی کے بارے میں جان کر دھچکا لگا۔ پولیس میں ان کے ایک رابطہ کار نے انھیں بتایا کہ حملہ آور پر اس سے قبل بھی قتل کا الزام تھا مگر وہ سزا سے بچ نکلا تھا۔

اُس شخص کا نام گیری ایلن تھا۔

میلانی ان کا پہلا اور آخری نشانہ نہیں تھیں۔


اس واقعے سے تقریباً تین سال پہلے 26 اکتوبر 1997 کو جنیفر ہاروے اپنی سہیلیوں کے ساتھ دریا کے کنارے ٹہل رہی تھیں جب انھوں نے وہاں ایک لاش دیکھی۔ یہ تین بچوں کی ماں 29 سالہ سمینتھا کلاس کی لاش تھی۔

جنیفر کا کہنا تھا لاش پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔ قتل کی اس واردات سے ایک ایسی تفتیش کا آغاز ہوا جو کم و بیش دو عشروں تک جاری رہی۔

سمینتھا کلاس

Humberside Police
سمینتھا کلاس کی لاش 1997 میں سکول کی تین طالبات کو ملی تھی

اس واردات کی تحقیقات سابق پولیس افسر کین بیٹس نے کی تھی جن کا کہنا ہے کہ سمیتھا کے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیا جائے واردات پر بکھری ہوئی تھیں اور ’انھیں بُری طرح سے مضروب کیا گیا تھا۔‘

قاتل کی نشاندہی کے لیے میڈیا پر اپیلیں جاری کی گئیں اور پانچ ہزار پاؤنڈ کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔ سمیتھا کے اندھے قتل کے واقعے کے لگ بھگ نو ماہ بعد گیری ایلن کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

گرفتاری کے بعد گیری کا معمول کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تو یہ انکشاف ہوا سمینتھا کے جسم میں موجود مادہ منویہ گیری ایلن کا تھا۔

اتفاقاً یہ شواہد سامنے آنے کے بعد پولیس نے گیری ایلن کو سمینتھا کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

جب فروری 2000 میں ان پر اس کیس کا مقدمہ شروع ہوا تو پولیس کو یقین تھا کہ ایلن کو سمینتھا کے قتل کے جرم میں سزا ہو جائے گی۔

مگر دوسری جانب گیری ایلن نے عدالت کو یہ کہانی سُنائی وہ اُس رات سمیتھا سے ملے تھے اور انھیں جنسی فعل کے لیے 30 پاؤنڈ دیے تھے (سمینتھا سیکس ورکر تھیں)۔ گیری نے عدالت کو مزید بتایا کہ کنڈوم پھٹنے کی وجہ سے سمینتھا مشتعل ہو گئی تھیں جس پر ان کے درمیان جھگڑا ہوا، مگر وہ اُن کی کار سے زندہ سلامت چل کر گئیں۔

گیری سے عدالت نے استفسار کیا کہ اس واقعے کے چند روز بعد انھوں نے اپنی گاڑی کیوں فروخت کی تھی؟ جیوری کو یہ بھی پتہ چلا کہ ایلن نے اس واردات کے اگلے روز صبح ہی صبح اپنے کپڑے بھی دھوئے تھے۔

مگر شواہد کی موجودگی کے باوجود جیوری نے انھیں بے گناہ قرار دے دیا۔

آفسیر بیٹس کا کہنا ہے کہ انھیں اور اُن کی ٹیم کو اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی تھی۔

کین بیٹس

کین بیٹس نے سنہ 2000 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک سمینتھا کلاس کے قتل کی تحقیقات کیں

چند ماہ بعد بیٹس ریٹائر ہو گئے۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے اس آخری کیس نے اُن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے سمینتھا اور ان کے خاندان کے لیے انصاف کے حصول میں ناکامی پر شدید مایوسی ہوئی۔ مگر اس سے زیادہ مایوسی اس بات پر تھی کہ میں جانتا تھا کہ گیری ایلن پھر جرم کے مرتکب ہوں گے۔‘

’وہ ایک خطرناک متشدد شخص تھا جو کہ رُکنے والے نہیں تھا۔‘

رہائی کے بعد ایلن نے پولیس آفیسر کے خدشات کو درست ثابت کیا۔


عدالت سے نکلتے وقت گیری کو پیسے بھی دیے گئے اور شفیلڈ سٹیشن تک چھوڑا بھی گیا۔ روزنامہ ہل ڈیلی میل کی رپورٹر لیزا ویلٹن کہتی ہیں ’ان سے کہا گیا یہاں سے جتنی دور جا سکتے ہو چلے جاؤ۔‘

رہائی کے اگلے روز لیزا نے ایلن کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس میں ایلن کے تشدد سے بھرے ماضی کی تفصیل تھی۔ انھیں یہ تفصیلات سوشل سروسز سے ملی تھیں۔

اس مضمون کے مطابق ایلن جب آٹھ برس کے تھے تو اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ جارحانہ رویہ برتنے کی وجہ سے انھیں بچوں کے نفسیاتی معالج کے پاس لے جایا گیا تھا۔ چودہ برس کی عمر میں انھوں نے لوہے کی سلاخ سے اپنی والدہ پر حملہ کیا تھا۔ ایک اور مرتبہ انھوں نے ایک طالبہ کو گلے سے پکڑ کر اس کے سر پر وار کیا تھا۔

سنہ 2000 میں گیری ایلن کے بارے میں روزنامہ ہل ڈیلی میل کا مضمون

Hull Daily Mail
روزنامہ ہل ڈیلی میل نے سنہ 2000 میں انکشاف کیا کہ گیری ایلن بچپن ہی سے متشدد تھے

قتل کے الزامات سے بری ہونے کے چھ ہفتے کے اندر ایلن اس علاقے سے چلے گئے جہاں انھوں نے میلانی اور دوسری سیکس ورکر پر حملہ کیا تھا۔ ان دونوں واقعات میں طریقہ واردات ایک تھا یعنی ایلن اپنے شکار کا گلا دبا کر سر پر وار کرتے تھے۔

اس حملے کے فوراً بعد پولیس میں لیزا کے ایک رابطہ کار نے انھیں اس واردات کے بارے میں بتایا۔

وہ کہتی کہ ’میرے خیال میں مجھے دھچکا تو لگا مگر یہ خیال بھی آیا کہ اس حملے کو روکا جا سکتا تھا۔ ہم نے صحیح آدمی کو پکڑا تھا مگر وہ ہاتھ سے نکل گیا۔‘


پلیمتھ حملے سے سیکس ورکرز میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ سیکس ورکرز اور ایسکارٹس کے زیر استعمال ویب سائٹس پر ایلن کے بارے میں وارننگ جاری کی گئیں۔ میلانی کہتی ہیں کہ قتل کے مقدمے سے ایلن کے بری ہونے کی خبر سے ان کے ساتھ کام کرنے والی عورتیں سہم گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیرہ غازی خان کا سفاک ’لاڈی گینگ‘ اپنی کارروائیاں کیونکر جاری رکھے ہوئے ہے

عاطی لاہوریا: وہ گینگسٹر جس کا تعاقب گوجرانوالہ پولیس کو سربیا کے جنگلوں تک لے گیا

سونے کی سمگلنگ میں انڈیا کی اجارہ داری ختم کرنے والے پاکستان کے ’گولڈ کنگ‘ سیٹھ عابد

میلانی پر اس کا بہت بُرا اثر پڑا اور ایک سال کے اندر ہی انھوں نے سیکس انڈسٹری کو خیرآباد کہہ دیا کیونکہ اب وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتی تھیں۔ نشے کی عادت بھی مزید بگڑ گئی اور انھوں نے چوری چکاری کرنا شروع کر دیا تھا۔ انھیں ڈراونے خواب آنے لگے جن میں انھیں ایلن کا چہرا نظر آتا۔ ایک بار تو ایلن کے شبہ میں انھوں نے کسی اور کو دیکھ کر پولیس کو مطلع کر دیا۔

دوسری جانب ایلن سیکس ورکرز پر حملوں کے جرم میں قید کاٹ رہے تھے جس کی مدت کئی خلاف ورزیوں کی وجہ سے بڑھا کر دس برس تک کر دی گئی تھی۔ ان خلاف ورزیوں میں ایک مرتبہ ’الیکٹرانک ٹیگ‘ کو ہٹانے پر سزا میں اضافہ کیا گیا اور دوسری مرتبہ سنہ 2004 میں فرار ہونے کی کوشش شامل تھیں۔

وہ سنہ 2010 میں گرمزبی منتقل ہو گئے اور ہمبرسائڈ پولیس نے ’آپریشن مسٹی‘ کے نام سے ایک سال پر محیط طویل تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ سمینتھا کے قتل کے مقدمے میں مزید شواہد اکھٹے کیے جا سکیں۔

برطانیہ میں ایک ہی جرم میں دو مرتبہ سزا نہ دیئے جانے کا ’ڈبل جیپرڈی‘ کا قانون سنہ 2003 میں ختم کر دیا گیا تھا اور اس کا مطب تھا کہ اگر اس مقدمے میں پولیس کو کوئی ٹھوس ثبوت مل جاتا ہے تو ایلن کی بریت ختم کر کے ان پر از سرِ نو مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

خفیہ پولیس کے ساتھ اہلکاروں نے جرائم پیشہ لوگوں کا روپ دھار کر ایلن سے دوستی کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں انھوں نے مختلف طریقے استعمال کیے جن میں ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے خون آلودہ کپڑوں کو جلانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کا ڈرامہ کرنا شامل تھا۔

یہ ساری کوششیں آخر بار آور ثابت ہوئیں اور چار سو گھنٹے کی طویل ریکارڈنگ میں وہ حاصل ہو گیا جس کا ان خفیہ پولیس والوں کو انتظار تھا، یعنی سمینتھا کے قتل کا اعترافی بیان۔

ایلن نے سنہ 2011 میں ائین نامی ایک خفیہ پولیس اہلکار سے بات چیت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک جسم فروش خاتون کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا اور اس کے بعد اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔ ایلن نے بڑی لاپرواہی سے بتایا کہ ‘وہ اس زمانے میں اس طرح کا تھا۔’

ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن میکس ہل کا کہنا تھا کہ خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے اعترافی بیان کی قانونی حیثیت ٹھوس ثبوت کی نہیں تھی جس کی بنیاد پر عدالت اس مقدمے کے اصل فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اس مقدمے کی از سرِ نو سماعت کا فیصلہ سنا دے۔

انھوں نے کہا کہ ‘اس طرح کے دوسرے مقدمات میں اس کی حیثیت ایک اضافی سائنسی ثبوت کی تھی جو کہ ‘ڈبل جیپرڈی’ قانون کی ایک خصوصیت ہوتی ہے۔’

خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے اعترافی بیان کے باوجود یہ ضروری تھا کہ مزید شواہد اکھٹے کیے جائیں تاکہ ٹھوس ثبوت ہونے کے قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔


بدقسمتی سے از سر نو مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت آٹھ سال بعد سامنے آیا جب علینہ گرلااکوا کی لاش اپریل 2019 میں ان کی گمشدگی کے چار ماہ بعد رادرم کی ایک ندی سے ملی۔

ٹونی لیچ اور لِنڈا لیچ

ہمسایوں ٹونی لیچ اور لِنڈا لیچ کا کہنا ہے کہ جب انھیں پتا چلا کہ قاتل ان کے دروازے پر ہے تو انھیں ’دھچکا‘ لگا

علینہ جو چار بچوں کی ماں تھیں وہ اپنے شوہر کے ساتھ سنہ 2008 میں سلواکیہ سے برطانیہ منتقل ہوئی تھیں۔

ان کی موت کے وقت ان کے بچوں کی عمریں 12 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔

اپنے خاندان سے علیحدگی کے بعد ان کو منشیات کی عادت پڑ گئی اور انھوں نے جسم فروشی شروع کر دی تھی۔ تین سال بعد ایلن سے ان کی ملاقات رادرم کے پارک گیٹ علاقے میں ہوئی۔ ایلن جہاں سنہ 2012 میں قید سے رہائی ملنے کے بعد آباد ہو گئے تھے۔ ان دونوں کے درمیان دوستی ہو گئی اور وہ اکثر بریڈبری کلوز میں ایلن کے گھر جاتیں۔

ایک ماہ بعد گرلاکوا کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ان کے شوہر نے دی۔ دوسری جانب ایلن کو اُن کی بریت کے حکم کی خلاف ورزیوں پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی 26 جنوری 2018 میں گرفتاری کے بعد ساؤتھ یارکشائر پولیس نے ان کے گھر کی تلاشی کے دوران متعدد آلات برآمد کیے جن میں ایک موبائل فون بھی شامل تھا۔

اس موبائل فون میں کئی خواتین کی تصاویر تھیں جنھیں بالکل اسی انداز میں قتل کیا گیا تھا جس طرح گرلاکوا کو ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کو کئی آڈیو ریکارڈنگ بھی ملیں جن میں ایلن اس 38 سالہ خاتون سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان پر چیخ چلا بھی رہے ہیں اور یہ کہتے ہوئے بھی سُنائی دیے کہ ‘میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ میں تمھیں اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔’

ایلن کے ہمسایوں لنڈا اور ٹونی لیچ نے پولیس کو اپنے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی فراہم کی جس میں گرلاکوا کو ایلن کے گھر آتا جاتا دیکھا جا سکتا تھا۔

لیچ کو یہ یاد نہیں تھا کہ انھوں نے کبھی گرلاکوا کو دیکھا ہو لیکن وہ ایلن کو ایک ایسے شخص کے طور پر جانتی تھیں جو بہت کم نظر آتا تھا اور ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔

کچھ دن بعد جب پولیس سی سی ٹی فوٹیج دیکھنے کے لیے لیچ کے گھر پہنچی تو انھوں نے بتایا کہ ان کا اور ان کے ساتھ والے گھر کی ’ڈرین‘ یا نالیاں بند ہو گئی ہیں۔

جب ان نالیوں کو صاف کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں فٹ بال کے سائز کا تھیلا جو گیلے ’وائپس‘ سے بھرا ہوا تھا پھنسا ہوا تھا۔

نئے شواہد سامنے آنے کے بعد، جو گرلاکوا کا قتل ثابت کرنے کے لیے کافی تھے، پولیس نے ایلن کو سمینتھا کے قتل کے مقدمے میں بری کیے جانے کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی۔ عدالت نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا فیصلہ سُنا دیا۔

اس چھ ہفتے جاری رہنے والی سماعت کے دوران غیر متوقع طور پر ہمبرسائڈ کی پولیس میلانی کے پاس پہنچ گئی۔ پولیس کی دستک کا جواب دینے کے بعد ان پر ایک بم گرا۔ یہ بم اس خبر کی صورت میں تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے شخص پر قتل کی دو وارداتوں میں ملوث ہونے پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

میلانی نے کہا کہ انھیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ ’میں گر پڑی میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ میرا لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ ابھی بھی یہ کافی عجیب اور کسی خواب کی طرح لگتا ہے۔ اب تک مجھے یہ حقیقت نہیں لگتا۔‘

اپنے پارٹنر سے مشورے کے بعد میلانی نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مقدمے میں گواہی دینے کے لیے سات گھنٹے کا سفر طے کر کے پلیمتھ سے شینفلیڈ جائیں گی۔

گواہوں کے کٹھرے میں دوسری مرتبہ کھڑے ہونے سے انھیں وہ سب کچھ دوبارہ یاد آ گیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اس مشکل صورتحال سے دوچار تھیں۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ گواہی دینے کے لیے کھڑی ہوئیں تو انھیں اپنے اعصاب سے کام لینا پڑا۔

انھیں ابھی تک وہ تکلیف دہ تجربہ یاد تھا جب 20 سال پہلے انھیں ایک ڈھیٹ شخص یعنی ایلن کا سامنا کرنا پڑا تھا جو اس مرتبہ بھی عدالت سے بری ہو جانے کے بارے میں پُراعتماد نظر آ رہا تھا۔

شینفلیڈ کے کراؤن کورٹ میں دوسرے مقدمے کے دوران بھی ایلن نے وہی بددماغی دکھائی اور استغاثہ کے وکیل کو کہا کہ زیادہ کہانی نہ سنائیں اور سیدھی طرح سے سوالات کریں۔

ایک اور سماعت کے دوران انھوں نے انٹرنیٹ پر کی جانے والی سرچ کی بنیاد پر کیے جانے والے سوالات کو مضحکہ خیز قرار دے دیا اور ایک اور سماعت میں وکیل کو کہا کہ ’وہ تمہارا گواہ ہے جاؤ اس کو تلاش کر کے لاؤ۔‘

ایلن کا کہنا تھا کہ اُن پر قتل کے الزامات اور دوبارہ مقدمے کی سماعت ایک 20 سالہ سازش کا حصہ ہے کہ انھیں کسی طرح سزا دلوائی جائے جس میں پولیس اہلکاروں اور خفیہ ایجنٹوں کے جھوٹ شامل ہیں۔

میلانی نے کہا کہ شکر ہے کہ انھیں ایلن کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ اس نے ان کی گواہی کے دوران عدالت میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے اعصب اس تجربے سے ٹوٹ گئے۔ انھوں نے کہا ‘میرا خیال میں یہ اس کا سامنا کرنے کا خوف تھا۔ میں نے اس کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کیا۔’

تمام تر تلخ یادوں اور خوف کے باوجود میلانی کا کہنا تھا کہ ان کے دوسری مرتبہ گواہی دینے کے فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتی تھیں کہ یہ معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے اور دوسری خواتین کو اس قاتل سے محفوظ رکھنے کے لیے اس قاتل کا جیل میں جانا بہت ضروری تھا۔

ان کو یقین ہے کہ کئی اور خواتین بھی ایلن کا نشانہ بنی ہوں گی لیکن وہ اس لیے سامنے نہیں آئیں کہ جسم فروشی کے پیشہ میں ان کا نام سامنے نہ آ جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ اکثر سوچتی تھیں کہ وہ قتل کے الزام میں کس طرح بری ہو سکتا ہے۔ اگر اسے پہلے ہی قتل کے بعد سزا ہو جاتی تو ان پر حملہ نہ ہوتا اور دوسری عورت بھی قتل نہ ہوتی۔’

‘میں اس لیے یہ کرنا چاہتی تھی کہ اگر کوئی اور عورت ایسی ہے جس پر حملہ کیا گیا ہو وہ بھی سامنے آئے تاکہ وہ کبھی باہر نہ آ سکے۔ انھیں دوسری خواتین کو بچانا چاہیے۔’


دو مرتبہ مقدمہ چلائے جانے اور 20 سال بعد قاتل کو سزا دلانے میں بلآخر کامیابی ہوئی۔ گو کہ پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے بلآخر سکھ کا سانس لیا لیکن اس معاملے کی فائلیں بند نہیں کی گئیں اور تفتیشی اہلکاروں نے کئی اور متاثرہ خواتین کے بارے میں شواہد اکھٹے کرنے کی کاوشیں جاری رکھیں اور ساؤتھ یارکشائر پولیس نے کہا کہ گیری ایلن کے معاملے کی تحقیقات بند نہیں کی گئیں۔

پولیس اہلکار مارک اوگھٹن نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے ایلن کی تمام نقل و حرکت کا ریکارڈ جمع کیا ہے اور جن جگہوں پر وہ گئے ان کے پتے اکھٹے کیے اور نیشنل کرائم ایجنسی کے تعاون سے تمام حل طلب قتل کی وارداتوں اور جنسی حملوں کے بارے میں تفصیلات کا جائزہ لیا ہے۔

مزید پڑھیے

کیا دس سالہ بچہ بے رحم قاتل ہو سکتا ہے؟

برطانوی پولیس افسر کے مبینہ قاتل کو کیسے پکڑا گیا؟

قاتل عورتیں: کیا عورتیں بھی مردوں کی طرح ہی کی قاتل ہوتی ہیں؟

انھوں نے کہا کہ وہ ان تمام پولیس سٹیشنوں کو اپنے متعلقہ علاقوں میں حل طلب قتل کی وارداتوں کا جائزہ لینے کے بارے میں لکھیں گے اور ان سے کہیں گے وہ دیکھیں کہ ہو سکتا ہے کہ گیری ایلن ان وارداتوں میں ملوث ہو۔

ایک پب میں الینا گرلاکوا کی سی سی ٹی وی سے لی گئی تصویر

South Yorkshire Police
ایک شراب خانے میں الینا گرلاکوا کی سی سی ٹی وی سے لی گئی تصویر جس میں وہ آخری مرتبہ زندہ نظر آئیں

ایلن کا اپنی زندگی کے بقیہ دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا اب یقینی ہے لیکن میلانی کا کہنا ہے وہ اب بھی مکمل طور پر اس اذیت سے نہیں نکل سکیں ہیں جو 20 سال پہلے اس قتل کے ہاتھوں انھیں پہنچی تھی۔

‘وہ کہتی ہیں کہ اب وہ مختلف جگہ پر ہیں۔ میری ایک گیارہ سالہ بچی ہے۔ مجھے منشیات کی عادت ترک کیے 13 سال ہو گئے ہیں۔’

منشیات چھوڑنے اور اپنی بے ہنگم زندگی بدلنے کے بعد وہ اب بھی اپنی بے خوابی، بے چینی اور بے اطمینانی کو دور کرنے کے لیے ادویات کا سہارا لیتی ہیں اور باقاعدگی سے تھیراپی کرواتی ہیں۔

‘میں تمام عرصے میں اس اذیت کو برداشت کرتی رہی ہوں لیکن اب یہ زیادہ ہو گئی ہے۔‘

‘میں اب آگے بڑھنا چاہتی ہوں لیکن 20 سال بعد بھی اب ایسا لگتا سب واپس آ گیا ہے۔ اب ایسا ہے کہ مجھے دوبارہ شروع کرنا ہو گا تاکہ وہ میرے دماغ سے نکل سکے۔’

‘یہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا جب تک میں مرتی نہیں۔’

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp