نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

سیاست میں یہ فقرہ تواتر کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بدرجہا درجے بہتر ہوتی ہے۔ کیوں کہ عوامی مینڈیٹ لے کر برسراقتدار آنے والے وزیراعظم اور بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کرنے والے آمر کی ساکھ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ منتخب وزیراعظم کے پیچھے پارلیمان اور ووٹ کی طاقت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اختیارات کا سرچشمہ کہلاتا ہے۔ جمہوریت میں مشاورت اور ڈائیلاگ کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے۔ اور نہ ہی جبر اور طاقت کے ساتھ شخصی آزادی کو پامال کیا جاتا ہے۔
بعض اہم نوعیت کے معاملات پر اپوزیشن بھی وزیراعظم کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑا ہونے پر عار محسوس نہیں کرتی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو بھارتی وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کرنے بھارت روانہ ہوئے۔ تو اس وقت کی اپوزیشن بھی ان کی روانگی کے وقت ائرپورٹ پر موجود تھی۔ جناب بھٹو اپنی قائدانہ صلاحیتوں، عوام، پارلیمان اور اپوزیشن کی تائید اور حمایت کی وجہ سے ہی ترانوے ہزار جنگی قیدیوں کو چھڑانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
جہاں تک آمرانہ نظام حکومت کا تعلق ہے۔ ایسا سسٹم صرف اپنے ادارے کی طاقت کے بل بوتے پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ آمر کسی حالت میں بھی پارلیمان کو جواب دہ نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی آئین اور قانون کی کتاب میں اس کے اختیارات وضع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی نصاب میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ محض اسی وجہ سے آمروں کے فیصلوں کو کبھی سند کا درجہ حاصل نہیں ہوا۔ اور وقت آنے پر ایسے فیصلے ریت کی دیوار کی طرح ختم ہوتے رہے۔
یا قانون اپنا راستہ بناتے ہوئے ان کو کالعدم کر دیتا تھا۔ سب سے اہم بات مگر یہ ہے۔ کہ وقت کا آمر اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھتے ہوئے پارلیمان اور کابینہ کے ساتھ مشاورت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے آمروں کے دور میں کیے گئے بعض فیصلوں کی قوم کو بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ سقوط ڈھاکہ، سانحہ لال مسجد، اور نائن الیون کے موقع پر اٹھائے گئے اقدامات اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
سانحہ نائن الیون کے بعد جنرل کولن پاول کی ایک فون کال پر جنرل پرویز مشرف کا بنا سوچے سمجھے سرینڈر کرنا کسی طور بھی ایک درست فیصلہ نہیں تھا۔ مشرف کی جگہ اگر کوئی منتخب حکمران ہوتا۔ تو کبھی فوری طور پر ہاں نہ کہتا۔ اور فیصلہ کرتے وقت امریکہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر ہر پہلو سے غور و فکر کرنے کے بعد ایک قومی لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھا جاتا۔ مگر پرویزمشرف نے اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی۔ اور طاقت کے نشے میں آ کر بغیر کسی حیل و حجت کے تمام نکات کو شرف قبولیت بخش دیا۔
امریکی صدر بش اور اس کے کابینہ کے اراکین بھی پرویز مشرف سے ایسے فیصلے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ جب کولن پاؤل کے ذریعے انہیں اس فیصلے کی اطلاع ملی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کے خیال کے مطابق پاکستانی صدر سات نکات پر بارگیننگ کرنے کے بعد ایک دو پوائنٹس کی کمی بیشی کے ساتھ امریکہ کی حمایت پر راضی ہوں گے۔ مگر مشرف نے ان کی توقع سے زیادہ ان کی جھولی میں ڈال دیا۔
جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے سات نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ کو منظور کرتے وقت اگر اس کے مضمرات کے بارے میں سوچا ہوتا۔ تو پاکستان کو ہزاروں جانوں کا نذرانہ اور مالی نقصان برداشت نہ کرنا پڑتا۔ حالات کی سنگینی اور مستقبل کی پیش بینی کوئی زیرک اور قائدانہ صلاحیتوں کا مالک شخص ہی کر سکتا تھا۔ جو اس نازک موقع پر نہیں کیا گیا۔ اس دور میں بدقسمتی سے ق لیگ کی کٹھ پتلی حکومت برسراقتدار تھی۔ جس کے اختیار اور اہمیت سے پورا زمانہ واقف تھا۔ جو پولیس اور ضلعی افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگز سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھی۔
آج نائن الیون کے ٹھیک 20 سال کے بعد جب کہ امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قائم تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار ہے۔ جو اسٹیبلشمنٹ کی حامی تصور کی جاتی ہے۔ لہذا افغانستان کے حوالے سے جو پالیسی بھی اختیار کی جائے گی۔ وہ متفقہ ہوگی۔ مگر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کہ افغانستان کے حساس معاملے پر پاکستان کی پوزیشن بڑی نازک ہے۔ کیوں کہ ہم پر نہ طالبان اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی افغانستان کی موجودہ حکومت۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی پاکستان تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارے بعض دوست ممالک بھی ہم سے روٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ہم نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔ ہم تو صرف تیل کی دھار دیکھنے میں مصروف ہیں۔ اور اتنی ہی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
پچھلے دنوں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کا یہ بیان سن کر لوگ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ کہ طالبان اب کافی حد تک مہذب ہو چکے ہیں۔ ہمارے بہت ہی سینئر صحافی جناب نصرت جاوید نے انہیں بقراط عصر کا لقب دے رکھا ہے۔ افغان طالبان کے بارے میں خوش فہمی پر مبنی یہ بیان دے کر شاید وہ عوام کو تسلی دینا چاہتے ہوں گے۔ کہ گھبرانا نہیں ہے۔ اسی طرح ایک بیان میں شاہ محمود قریشی طالبان کو سادہ لباس میں ملبوس ذہین لوگ قرار دے چکے ہیں۔ جبکہ بقول معید یوسف وہ بڑے سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔
وزراء، سیاسی اور دفاعی ماہرین کے ساتھ ساتھ صحافی حضرات اور کالم نگار اپنی اپنی سوچ کے مطابق افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں تبصروں میں مصروف ہیں۔ مگر یہ ایک لاحاصل بحث ہے۔ کہ طالبان نے کتنے اضلاع میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ اشرف غنی حکومت کا کیا بنے گا۔ پاکستان، چین، روس اور بھارت کا خطے میں کیا رول ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
اب گیند افغان طالبان کے کورٹ میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہوگا وہی کریں گے۔ مگر مستقبل کا منظر نامہ اس سال کے آخر تک ہی واضح ہوگا۔
مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کہ کوئی بھی عسکریت پسند تنظیم یو این او اور عالمی قوانین کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ لہذا ایسی کسی تنظیم کو کسی چارٹر یا ضابطے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح افغان طالبان جیسا کہ بتایا جا رہا ہے۔ نومبر تک کابل پر قابض ہوسکتے ہیں۔ وہ بھی وہی کریں گے۔ جو ان کی مرضی اور سوچ ہوگی۔ کیوں کہ انہوں نے پورے بیس سال تک امریکی مظالم کا سامنا کیا ہے۔ دنیا ان سے اچھا بچہ بننے کی خواہش تو رکھتی ہے۔ مگر اس طرح کی احمقانہ سوچ رکھنا مناسب نہیں ہے۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے لئے سب اچھا نہیں ہے۔ کیوں کہ امریکی کی افغانستان کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی گئی۔ یہ ہماری نہیں بلکہ پرائی جنگ تھی۔ جس میں پاکستان کے عوام کو جھونک دیا گیا۔ امریکہ نے بھی پاکستان کی قربانیوں کا خیال نہیں کیا۔ اب وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے افغانستان سے نکل رہا ہے۔ اور اپنے پیچھے ایک آتش فشاں چھوڑ کر جا رہا ہے۔ جس کی آگ پتہ نہیں کس کس کو جلا کر بھسم کردے گی۔

