حضرت عمر فاروق اعظم کی گڈ گورننس!

اسلامی سال کا پہلا ماہ محرم الحرام کی پہلی تاریخ یوم شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شروع ہوتی ہے۔ محرم الحرام کا مطلب ہی یہی ہے ایثار قربانی ہے، محرم الحرام کے ماہ میں بہت سے معجزات ہوئے ہیں۔ 10 محرم کو زمین و آسمان اور لوح و قلم تخلیق کیے گئے۔ 10 محرم الحرام کو حضرت آدم اور اماں حوا پیدا ہوئے۔ 10 محرم کو حضرت آدم علیہ کی توبہ قبول ہوئی۔ 10 محرم کو فرعون کا لشکر غرق ہوا۔ 10 محرم کے روز حضرت ابراہیم علیہ پر آگ گلزار بن گئی۔

10 محرم کے دن حضرت نوح علیہ کی کشتی کنارے پر لگی۔ 10 محرم کے دن حضرت ابراہیم علیہ کو خلیل اللہ کا خطاب عطاء ہوا۔ 10 محرم کے دن حضرت سلیمان علیہ کو تخت عطا ہوا۔ 10 محرم کے دن حضرت عیسی علیہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ 10 محرم کے دن حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے۔ 10 محرم کے دن حضرت ایوب علیہ کو صحت عطا ہوئی۔ 10 محرم کے دن حضرت یعقوب علیہ حضرت یوسف علیہ سے چالیس برس کے بعد ملے۔ 10 محرم کے دن نبی کریم صہ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔

10 محرم کو حضور صہ کا نکاح حضرت بی بی خدیجہؓ سے ہوا جبکہ حضور نبی کریم صہ نے 10 محرم الحرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ واقعہ کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ اور 72 جانثار ساتھیوں کی شہادت محرم الحرام کو ہوئی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کے لئے روشن خدمات، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے آپ کا نام عمر کنیت ابوحفص لقب فاروق والد کا نام خطاب بن نفیل تھا۔

اور والدہ کا نام حنتمہ جو ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھی۔ آپ 581 ع میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں آپ قریش کے معزز افراد میں تہ ہے اور سفارت کی ذمہ داری آپ کے سپرد تہی۔ حضرت عمر کے لئے رسول اکرم صہ نے دعا مانگی تھی۔ اے اللہ تو ابوجہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ عمر فاروق مراد رسول صہ ٹھہرے۔ دور خلافت فاروق اعظم سے لے کر اب تک کوئی عمر جیسا حکمران نہی آیا۔ جس نے عدل انصاف برابری، رواداری، گڈ گورننس کی مثال قائم کی ہو۔

آپ نے ایک مرتبہ فرمایا دریائے کے اس پر اگر کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا قیامت کے دن عمر سے حساب لیا جائے گا۔ رسول اکرم صہ نے فرمایا کے اگر میرے بعد نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو عمر نبی ہوتا۔ رسول اکرم صہ نے فرمایا کہ جس راستے سے عمر آتا ہے شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ آپ نے وہ فتوحات کی کہ دنیا دنگ رہ گئی، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، مکران، خوزستان، آزربائیجان، فارس، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس 22,51,030 مربع میل پر پھیل گیا۔

عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا۔ اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گی۔ ( ہمارے حکمران ایٹم بم ہوتے ہوئے بھی دنیا کو فتح کرنا تو دور کی بات کشمیر سے بھارتی فوج کی جارحیت ختم نہی کروا سکتے نہ آزاد کرانے کی جسارت رکھتے ہیں۔ فلسطین کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں۔ ) آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے۔

خدمات ایسی کی کہ 9 سو جامع مساجد اور 4 ہزار مساجد تعمیر ہوئیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال اور عدالتیں قائم کیں۔ عدالتوں کے قاضی مقرر کیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن تاریخ کا اجراء کیا جو آج تک جاری ہے۔ مردم شماری کرائی، نہریں کھدوائیں، شہر آباد کروائے، دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصول مقرر کیے ۔ تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔ جیل خانہ قائم کیا، راتوں کو گشت کر کے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا۔

پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ جابجا فوجی چھاؤنیاں قائم کیں، تنخواہیں مقرر کیں، پرچہ نویس مقرر کیے ۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے لئے مکانات تعمیر کروائے۔ گم شدہ بچوں کی پرورش کے لئے روزینے مقرر کیے ۔ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ عوام کے لئے بہت سے فلاحی و اصلاحی احکامات اور اصطلاحات جاری کیں۔ (ہمارا پاکستان میں یہ حال ہے کہ جو ادارے انگریز نے قبضہ کے دوران بنائے وہی ہم سنبھال نہی پا رہے ہیں۔

ادارے تو موجود ہیں مگر وہ اب تک ایسے کھوکھلے رہ گئے کہ کسی کام ہی نہیں رہے سوا ایک دو کے، کاش کہ عمر رضہ کے بنائے گئے اداروں میں آج وہی طریقہ کار ہوتا تو بہت کچھ بہتر ہوجاتا۔ ) ایک مرتبہ زلزلہ آیا تو آپ نے لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے فرمایا کہ عمر تیرے اوپر انصاف نہی کرتا جو ہل رہی ہو جس کے بعد زمین خاموش ہو گئی۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضہ سے پانی کی قلت کی شکایت کی گئی۔ آپ نے دریا کے نام پر خط لکھ کر دیا کہ اس کے پیٹ میں رکھا جائے۔

جس میں لکھا تھا کہ اگر تو اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو بہتا رہ اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے تو آپ کی مرضی۔ اس کے بعد دریا میں پانی کی قلت نہی ہوئی ہے۔ ابن مسعود رضہ آپ کے بارے فرماتی ہے عمر رضہ کا اسلام قبول کرنا فتح تہا، ان کی ہجرت نصرت تہی اور ان کی امارت رحمت تہی، آپ رضہ اپنے امیرالمومنین کا لقب انتخاب کیا۔ آپ رضہ سب سے پہلے ہجری تاریخ لکھی۔ سب سے پہلے قرآن مجید کو کتابی شکل میں جمع کیا۔ اور سب سے پہلے کوفہ، بصرہ جزیرہ شام مصر اور موصل جیسے شہر بسائے اور وہاں عربوں کو آباد کیا۔

قرآن پاک کے متعدد احکامات آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے۔ مثلاً اذان کا طریقہ، عورتوں کے لئے پردہ کا حکم اور شراب کی حرمت۔ ایک مرتبہ عمر فاروق نے رسول کریم صہ کو شکایت کی کہ ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ ہماری عورتیں بے پردہ باہر نکلیں گھومیں۔ آپ صہ نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے نہیں روکتا جو اللہ کا حکم ہوگا دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد وحی نازل ہوئی، اور پردہ کا حکم آ گیا۔ زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ فیضان نبوت سے سیرابی میں بسر کیا۔

مگر محتاط مزاج کی بنا پر احادیث کی روایت بہت کم فرماتے۔ فقہ اور اجتہاد میں بلند مقام رکھتے تھے۔ کاش کہ آج پاکستان نہ ہی صحیح دنیا کے کسی کونے میں فارق اعظم جیسا حکمران آ جائے تو یقیناً یہ دنیا امن، محبت پیار رواداری اور خیر کے لئے کافی ہوگی۔ ہمارے حکمران جہاں عیش عشرت پروٹوکول بینک بیلنس مال دولت اکٹھے کرنے کے چکر میں مگن رہتے ہیں۔ مگر فارق اعظم وقت کا خلیفہ ہوتے ہوئے بھی رات کے وقت گلیوں میں گھومتے تھے کہیں بچوں کی رونے کی آواز اجاتی تو وجہ پوچھتے تھے۔

اپنی کندھوں پر راشن اٹھا کر غریبوں مسکین یتیموں میں تقسیم کرتے تھے۔ امن امان کہ یہ صورت حال تھی کہ خوبصورت عورت کو زیور پہنا کر اونٹ پر بٹھا کر منزل کی روانہ کیا کسی نے منہ اٹھا کر نہ دیکھا نہ راستہ روکا۔ جب حضرت عمر اس کے سامنے آئے تو اس خاتون نے کہا یا تو آپ عمر ہو یا آج عمر کا انتقال ہو گیا ہے۔ کیونکہ کسی میں ہمت نہی تھی کہ وہ میرا راستہ روکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فجر نماز پڑھا رہے تہے کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤ فیروز نے 26 ذوالحجہ 23 ہ بروز بدھ آپ رضہ کی پشت پر چھری کے چھ وار کیے آپ سخت زخمی ہوئے۔ پہلی محرم الحرام اتوار کے دن آپ شہید ہوئے اللہ پاک کے مہمان ٹھہرے۔ آپ روضہ رسول اطہر صہ کے ساتھ آرامی ہوئے، تدفین ہوئی۔ آپ کی زمانہ خلافت 10 سال 5 ماہ 21 دن تھی۔ اسلام نے عروج پایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words