افغانستان: مذہب اور جنگ کی انڈسٹری
آج اگر پورے افغانستان میں صوبے پر صوبے فتح کرتے ہوئے طالبان جارحانہ انداز میں اپنے آخری ہدف کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں اور کسی بھی لمحے اشرف غنی حکومت کو بہادرشاہ ظفر کی دوسری مثال بنا کر پھر سے بغیر کسی وژن کے اس بدنصیب ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں تو مستقبل کے خوفناک اندیشوں کے ساتھ ساتھ ماضی کے تناظر میں حقائق سے جڑے کچھ اہم سوالات بھی سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر !
آج بے شک افغان طالبان جارحانہ انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ افغان قوم کے بارے ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ بہت جنگجو قوم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلحہ پھینک کر پسپائی اختیار کرتی اور جنگ سے بھاگتی ہوئی افغان فوج کا شجرہ نسب کیا افغان قوم کا نہیں؟
کیا ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ایک وحشت انگیز گروہ کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے کیونکہ فوجی حوالے سے اپنے ملک کی دفاع پوری دنیا میں رائج دستور ہے اور تمام افواج ایسا ہی کرتی ہیں۔
گویا مسئلہ جینیاتی غیرت اور وطن پرستی کی بجائے طاقت کے حصول کے لئے حالات و واقعات کی ترتیب اور مواقع سے فائدہ اٹھانے سے جڑا ہے جس کی بنیاد پر ہمیشہ غالب اور مغلوب کا فیصلہ ہوتا رہا لیکن اسے عقل و خرد کے ساتھ سمجھنے کی بجائے ایک جذباتی انداز سے بہادری اور دلیری کے معنی و مفہوم میں لیا گیا۔ جو سراسر حقائق کے برعکس ہے۔
کیا یہ سچ نہیں کہ جس طرح آج افغان فوج طالبان کے سامنے سرنڈر کرتی اور لڑائی سے گریز کرتے ہوئے بھاگ رہی ہے تو ہوبہو یہی صورتحال طالبان کے حوالے سے بھی ہمیں آج سے بیس سال پہلے اس وقت دیکھنے کو ملی تھی جب نیٹو فورسز نے افغانستان پر دھاوا بول دیا تھا اور پورے افغانستان پر قابض طالبان پلک جھپکتے میں موٹر سائیکلوں اور خچروں پر بھاگ نکلے تھے اور پھر کابل اور ملا عمر کا بھی وہی حال ہوا تھا جو آج کے کابل اور اشرف غنی کا ہونے جا رہا ہے۔
اس حقیقت سے کون آنکھیں چرا سکتا ہے کہ دو عشرے افغانستان میں گزارنے اور 83 ارب ڈالر اڑانے کے باوجود بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھ بس یہ کچھ آیا کہ نہ صرف افغان فوج کو دی گئی ٹریننگ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹی بلکہ چند گھنٹے قبل امریکی حکومت اپنے سفارتکاروں کو نکالنے میں مدد دینے کی درخواست بھی طالبان سے کرنے لگی ہے.
حقائق تو یہ بھی ہیں کہ طاقتور امریکہ لگ بھگ بیس سال افغانستان میں موجود رہا اس دوران کنڑ، غزنی، پکتیا اور ننگرہار سمیت کئی ریاستوں میں طالبان کے توانا اثر و رسوخ کے باوجود بھی کھبی کوئی بڑی گوریلا جنگ دیکھنے میں نہیں آئی البتہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے جزوی واقعات ہوتے رہے لیکن جوں ہی "طاقتور” میدان سے نکلے تو اپنے ہی لوگوں کے خلاف طالبان کا "جذبہ جہاد اور قومی غیرت” فورا جاگ اٹھے.
کیا یہ سچ نہیں کہ بعض ریاستوں میں طالبان حاوی تھے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے میڈیا سے نہ صرف بہت فاصلہ رکھا بلکہ پر اسرار طور پر اس حوالے سے کسی کوشش سے بھی گریز کیا لیکن جوں ہی امریکی انخلا کے بعد اشرف غنی حکومت محاصرے میں آئی اور افغان فوج بھی مزاحمت سے پیچھے ہٹ گئی تو فوری طور پر قندھار میں طالبان کی نگرانی میں شریعت ریڈیو نے کام شروع کر دیا.
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاملات کو جس رومانویت بھری بہادری اور دلیری کے ساتھ جوڑا جاتا رہا وہ دراصل طاقت اور مفاد کے حصول کی وہ کشمکش ہوتی ہے۔ جس سے ایک جذباتی رائے نے جنم لیا مثلا روس افغان جنگ گو کہ افغان قوم نے ایک بہادری کے ساتھ لڑی تھی لیکن اس حقیقت کو ہرگز نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ یہ جنگ جہاں عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی ترجمان ٹھہری وہاں عالمی مفادات نے اس میں مادی وسائل اور پیسہ بھی جھونک دیا جس سے مختلف گروہوں اور افراد کے ذاتی فوائد نکلے اور یہی وجہ تھی کہ روسی انخلا کے بعد بھی افغانستان سنبھلنے کی بجائے ایک طویل اور خونی منظر نامے کی جانب بڑھا جو بدقسمتی سے ابھی تک جاری ہے.
المیہ یہ ہے کہ جمہوری طرز حکمرانی مضبوط عدالتی نظام اور بنیادی حقوق کی تحفظ سے کوسوں دور افغانستان مسلسل مہاجرت اور ترقی سے محرومی کے سبب یکسوئی حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے وہ قبائلی طرز معاشرت تبدیل کرنے اور عصبیت پر قابو پانے سے نہ نکل سکا جس کا فائدہ ان طاقتور گروہوں اور افراد نے اٹھایا جو مذہب اور جنگ کو اپنے مفادات کے لئے ایک صنعت کے طور پر استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اب اگر اس "ہنر” اور اس کے لئے بطور ایندھن استعمال ہونے والی حماقت کو کوئی جنگجو اور بہادری کا نام دینا چاہے تو اس کی مرضی لیکن ایسا ہے نہیں.
میں بار دگر گزارش کروں گا کہ اس بد نصیب قوم سے جنگجو اور بہادر کا "ٹائٹل” واپس لے کر انہیں زمینی حقائق اور تلخ سچائی فراہم کریں کیونکہ مذہب اور جنگ کی انڈسٹری چلانے والوں نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔


