کیا سیکس کے لیے عورت کی رائے جاننا ضروری ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم مٹی پاؤ ٹائپ معاشرہ کے قیدی ہیں جہاں پر کھل کر بات کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے، گھٹن کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بچوں کے پاس سوچنے کے زیادہ آپشن نہیں اور انہیں مخصوص دائرے میں رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے، یک دائروی سی زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کی آنے والی زندگی میں ایک عجیب طرح کا ٹیڑھا پن آ جاتا ہے، جس کا خمیازہ انہیں ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے۔ انہیں گناہ و ثواب کے ایک فکس سسٹم میں پھنسا دیا جاتا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے آسان نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی اس چنگل سے رہائی کے بعد اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کرے تو معاشرتی پارسا اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں، ہمارے جیسے بند معاشروں میں بند جگہوں پر بہت کچھ ہوتا ہے لیکن منافقت کا یہ عالم ہے کہ پبلک میں ڈسکس کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ایسا کرنے سے شرافت اور منافقت کا نقاب سرکنے لگتا ہے اور عیاریاں سامنے آنے لگتی ہیں لیکن یہاں پردے کی اوٹ میں سب چلتا ہے۔

سیکس جو کہ ہر انسان کی فطری جبلت ہے اور یہ ایک ایسی منہ زور جبلت ہے جس سے فرار ممکن نہیں مگر اس اہم موضوع پر بات کرنا بے شرمی و بے غیرتی تصور کیا جاتا ہے اور ہمارے والدین اس سے جڑے نفسیاتی مسائل سے بالکل آگاہ نہیں ہوتے اور بچوں کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو اس وجہ سے ان دیکھا کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر خود سمجھ جائیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے بچوں کی نظر میں شادی کا بندھن سیکس گیم سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ عورت محض ایک سیکس مشین یا میری سیکس سلیو ہے جس کے ساتھ میں نے ہر روز مباشرت کرنی ہے تاکہ میری نسل آگے چل سکے۔

میں ایسے بہت سوں کو جانتا ہوں جو شادی کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد آنے والی زندگی کی ایک پائیدار اور دیرپا منصوبہ بندی کرنے کی بجائے سیکس کرنے کے طریقے انٹرنیٹ پر سرچ کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ بنیادی وجہ جنسی فرسٹریشن ہوتی ہے جس کا شکار خواتین شادی کی پہلی رات ہوتی ہیں کیونکہ مردوں کو معاشرتی تربیت یہی دی جاتی ہے کہ کمرے میں جاتے ہی سیکس گیم شروع کر دینی ہے تاکہ رعب و دبدبہ قائم ہو سکے۔ وہ بچی جو اپنے والدین، رشتہ دار، دوست، بھائی، بہن حتٰی کہ اپنے محلے کی ان گلیوں تک کو پیچھے چھوڑ آتی ہے جہاں پر بچپن میں اس نے مٹی کے گھروندے بنائے ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنی ذات کو دوسری ذات میں ضم کر کے زندگی میں آنے والی بہاروں کو مل کر انجوائے کر سکیں مگر کیا ایسا ہوتا ہے؟

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری بچیاں سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ میرے اس مضمون کے لکھنے کے پیچھے ایک دلخراش واقعہ ہے گزشتہ دنوں میرے ایک دوست نے اپنی بیٹی کی شادی کی جو بمشکل چار ماہ سے زیادہ برقرار نہ رہ سکی اور بیٹی طلاق کے بعد گھر واپس آ گئی۔ میرے اس دوست پر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا ہو اس نے روتے ہوئے کہا کہ یار میری بیٹی کو ظالم نے تین طلاق دے کر ایک ہی جھٹکے میں فارغ کر دیا، بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ جب سے میری شادی ہوئی ہے میرا شوہر میری رائے جانے بغیر مجھ سے جبری مباشرت کرتا رہا، کھانا کھانے کے فوری بعد بغیر کوئی بات چیت کیے اپنی جنسی پیاس بجھاتا اور چلتا بنتا۔

بچی کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے وجود سے گھن آنے لگی تھی اور میں قدرت سے بار بار ایک ہی سوال کرتی تھی کہ میرے وجود کا مقصد صرف جنسی تسکین ہے؟ میں سوال کرتی تھی کہ تو نے میرے وجود میں دھڑکنے والا دل کس حیثیت سے رکھا ہے؟ اس طرح کا سیکس تو جانور بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں تو پھر انسان اور جانور میں فرق کیا ہے؟ بچی نے روتے ہوئے بتایا کہ جب کبھی بھی اپنی طبیعت کی وجہ سے سیکس سے انکار کرتی تو وہ اکثر ایک جملہ بولا کرتا تھا ”میں تمھیں اپنے گھر بہن بنا کر نہیں لایا بلکہ بیوی بنا کر لایا ہوں“ آخر ایک دن اس ظالم نے مجھے طلاق دے کر فارغ کر دیا۔

اس خاتون کا بار بار یہی کہنا تھا کہ کیا میرے وجود پر میرا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا میں صرف ایک سیکس مشین ہوں جس سے جب چاہا اپنی جنسی ہوس مٹا ڈالی؟ یہ تو صرف ایک واقعہ ہے مگر معاشرتی جبر کی وجہ سے ہزاروں ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے اور وقت کی گرد میں دفن ہو جاتے ہیں۔ بنیادی وجہ تربیت کا فقدان ہے، سیکس اور اس سے جڑے ہوئے مسائل پر گفتگو کرنے سے بچنا ہے۔ ہمارے معاشرے کے مردوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مباشرت کے لیے دونوں کی باہمی رضامندی بہت ضروری ہوتی ہے زبردستی تو ریپ کہلاتی ہے نہ معلوم کتنے مرد ایسا ہی کرتے ہیں کہ وہ اس عمل کو صرف تفریح یا ون وے گیم سمجھتے ہیں، عورت کو جنسی اذیت دی اور منہ دوسری طرف کر کے سو گئے۔

جب تک سیکس اور اس سے جڑے ہوئے مسائل کو نارملائز کر کے گفتگو کا آغاز نہیں ہوتا اور ہم اس مسئلے کو انسان کا بہت اہم فطری جذبہ تسلیم نہیں کر لیتے تو یہ مسائل اسی طرح برقرار رہیں گے اور نوجوان اس کا حل پورنوگرافی میں تلاش کریں گے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ سیکس ان کے سر پر سوار ہوتا ہے اور وہ شادی جیسے بندھن میں بھی بس یہی کچھ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ انہی تجربات میں سے گزر چکے ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں تربیت کرنے کی بجائے ان کی حرکتوں کو جان بوجھ کر ان دیکھا کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو گھر سے یہ تربیت دینی چاہیے کہ مانع حمل پراسس کیا ہوتا ہے؟ عورت کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں میں وقفہ کیسے رکھنا ہے؟ عورت کو انسان سمجھتے ہوئے اس سے بہتر رویہ کیسے رکھنا ہے؟ انہیں یہ تربیت دی جانی چاہیے کہ سیکس باہمی رضامندی کا نام ہے ورنہ تو ریپ کہلاتا ہے، مانع حمل کے لیے کنڈوم کے علاوہ coitus interrupts پراسس کا بھی پتہ ہونا چاہیے تاکہ وسائل کے مطابق بچے پیدا ہوں، بچہ پیدا کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے کیونکہ آپ کے کندھوں پر اس کو ایک بہتر زندگی دینے کی بھاری ذمہ داری آن پڑتی ہے لیکن یاد رکھیے ان مسائل کا حل ڈسکشن سے ہی ممکن ہو سکتا ہے نا کے ان مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے سے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments