تم وحشی ہو، تم قاتل ہو


سیالکوٹ کا لرزہ خیز واقعہ قابل مذمت ہے مگر اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مذہبی درندگی کا یہ پہلا واقعہ ہرگز نہیں۔ جنونیوں نے سری لنکن پرانتھا کمار کے جسم کی تمام ہڈیاں توڑ دیں صرف ایک پیر سلامت بچا تھا پھر اس کی لاش کو آگ لگا دی۔ انتہا یہ ہے کہ اسی ہجوم میں شامل کچھ لوگ اس جلتی ہوئی لاش کے ساتھ سیلفیاں بھی بناتے رہے۔ اسی آگ میں امن پسندی کا دعویٰ بھی جل کر راکھ ہو گیا۔

دنیا میں قریباً پچاس اسلامی ممالک ہیں لیکن ایسی شدت پسندی کہیں نہیں پائی جاتی۔ پاکستان کا معاشرہ ایک ایسا وحشی سماج بن چکا ہے جہاں کسی کو کسی بھی وقت وحشیانہ طریقے سے مارا جا سکتا ہے۔ جہاں لوگ خود ہی الزام لگاتے ہیں، منصف بن کر خود سزا کا تعین کرتے ہیں اور پھر سزا بھی خود ہی دیتے ہیں۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اختلاف رائے اپنی موت کی دستاویز پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ایسے متشدد رویوں کے حامل سفاک قاتل، ہیرو کا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کو ہار پہنائے جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ چومے جاتے ہیں اور جب ملک کا قانون انہیں سزائے موت دیتا ہے تو ان کے مزار بنا دیے جاتے ہیں۔ ان کی روحانیت اور معجزوں کے فرضی قصے گھڑ کر عام کیے جاتے ہیں۔ اسی آڑ میں ذاتی اختلافات، مالی معاملات، رنجش اور سرزنش کا بدلہ بھی چکا دیا جاتا ہے۔

جنونیت کی یہ آگ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اب یہ آگ چھوٹے بڑے شہروں، بازاروں، کارخانوں، گلی کوچوں، محلوں اور گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ بظاہر اس آگ کو بجھانے کی کوششیں جاری ہیں مگر یہ آگ کیسے بجھے کہ جب آگ بجھانے والے اپنی نادانی سے اس میں کچھ اور ایندھن ڈال دیتے ہیں۔

ملک کے وزیراعظم، ارباب اختیار، علماء کرام اور عام آدمی نے سیالکوٹ سانحے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ اس کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سے درندگی کے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں۔ کچھ مذمت کرنے والے مذمت بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اگر مگر لگا کر سفاکیت کو جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر سب ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں تو پھر تسلسل سے ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں۔ درحقیقت واقعے کا الزام وہیں موجود لوگوں پر ڈالنا سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ کسی اور جگہ پر وہاں موجود لوگ بھی بالکل اسی طرح بیہمانہ قتل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ وجہ بالکل صاف ہے۔ جب تک سوچ اور مائنڈ سیٹ تبدیل نہ ہوا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

دیکھنا یہ چاہیے کہ کون ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؟ کن نرسریوں میں ایسے وحشی درندے پروان چڑھتے ہیں؟ کم عمر لڑکوں کی برین واشنگ کہاں ہوتی ہے؟ انتہا پسندی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ ان سوالات کے جوابات چوہتر برسوں سے تلاش نہیں کیے جا سکے۔

غیر انسانی رویے، غیر انسانی فعل، غیر انسانی سلوک اور غیر انسانی سماج کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے عوامل بہت سے ہیں۔ تعلیمی نصاب بھی ناپختہ ذہنوں میں نفرت کے بیج بوتا ہے اور ایسے اساتذہ کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر عام ہیں جہاں طلبہ کو سائنسی، علمی اور ادبی مضامین پڑھانے کے بجائے نعرہ بازی اور تشدد کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔

خود ساختہ مرد مومن ”ضیاع“ کے مشن کی تکمیل میں مصروف عمل ہیں خواہ کل کو ان کوئی اپنا پیارا ہی اس کی بھینٹ کیوں نہ چڑھ جائے۔ علامہ اقبال کے حوالے سے غیر مصدقہ روایات کا پرچار کیا جاتا ہے جس میں وہ ”ترکھانوں کے لڑکے“ کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں کوئی متشدد گروہ سر اٹھاتا ہے تو اس کی بیخ کنی کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی روش بھی عدم برداشت کے رویے کو فروغ دینے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ غلطی کہاں ہوئی ہے؟ غلطی کا احساس ہو تو پھر اس کی اصلاح بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر خود کو ساری دنیا سے خود ہی بہتر سمجھا جائے، اپنے غلط رویوں کا ملبہ بھی دوسروں پر ڈالا جائے، جرم خود کر کے یہ کہا جائے کہ یہ کسی نے سازش کر کے ہم سے کروا دیا تو پھر سدھار ممکن نہیں۔

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پر طنز کرنے اور ’سکیورٹی، سکیورٹی‘ کے نعرے لگانے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی پاکستان ایک محفوظ ملک ہے؟ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہمارا معاشرہ دنیا کا بہترین معاشرہ ہے، ہم دنیا کی بہترین قوم ہیں، ہم سے زیادہ امن پسند کوئی نہیں، دنیا کیسے مان لے کہ ہم امن پسند ہیں۔ دنیا لفظوں کو نہیں عمل کو دیکھتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “تم وحشی ہو، تم قاتل ہو

  • 06/12/2021 at 4:06 شام
    Permalink

    آپ نے اس نفسیات کی خوبصورت منظر کشی کی ہے۔ مائینڈ سیٹ چینج کرنا تو لازمی ہے لیکن فوری طور پر شامل سرغنہ چندافراد کو دوسرے ہی دن اسی جائے وقوعہ پرکم از کم پھانسی لٹکایا جائے۔ اس سے الحمد لللہ ہمارے مسلمان عدالتوں کی سالہا سال کی نجس ٹرائیل سے بھی جاں خلاصی ہوگی اور ان خوبصورت مسلمان عاشقوں کو بھی اپنے ایمان کا پتہ لگ جائیگا۔ ایک طرف اس طرح کا فوری ایکشن ان ناسوروں کی کمر توڑتا رہیگا جس سے لوگوں میں خوف پھیلنا شروع ہوجائیگا اوردوسری طرف معاشرتی نفسیات بہتر کرنے کے لیئے مناسب اقدامات کا سلسلہ چلانے کا بھی موقع ملتا رہیگا۔

Comments are closed.