سینما: عورتوں کے حقوق کے لئے


آج کل جنوبی ایشیا کے ترقی پسند حلقوں کی جانب سے یہ آواز زور و شور سے اٹھائی جا رہی ہے کہ اب سیاست کا میدان عورتوں کے سپرد کر دینا چاہیے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی ہو جس میں مرد کارکن بن کے کام کریں اور ساری سیاسی قیادت عورتوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہماری بینا سرور طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے کام کر رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے انسانیت کے لئے نسائیت کے موضوع پر ایک آن لائن سمپوزیم منعقد کیا جس میں فلمساز راہول رائے کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال مردانگی کی ننگی اور بد صورت شکل کی فتح کے ایک عظیم الشان جشن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے تدارک کے لئے سیاست میں نسائیت کو لانا ہو گا۔

راہول رائے کو یہ کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش میں ستر فی صد، پاکستان میں اسی فی صد اور سری لنکا میں ساٹھ فی صد شادی شدہ لڑکیاں شوہروں کے یا خاندان والوں کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ دنیا کی پچاس فی صد کم سن دلہنیں جنوبی ایشیا سے ہوتی ہیں۔ نوعمر حاملہ عورتیں اور زچگی کے دوران اموات بھی سب سے زیادہ جنوبی ایشیا میں ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لوگ امریکہ اور برطانیہ جا کے بس جانے کے باوجود بیٹیوں کی زبردستی شادی کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہیں۔ لڑکیوں اور عورتوں کا ریپ بھی ہوتا ہے، ان پر تیزاب بھی پھینکا جاتا ہے اور ہندوستان میں تو ذات پات کی وجہ سے بھی ان پر تشدد ہوتا ہے۔

ای شی میگزین کی ایڈیٹر ایکتا کپور کا کہنا ہے کہ صنفی بنیاد پر ہونے والا تشدد صرف عورتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانونی، سماجی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں پدر سری میں ہیں۔ اس طرح کے مسائل کو سامنے لانے میں تھیٹر، سینما اور پورے میڈیا کا کردار شروع سے اہم رہا ہے۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے بہت سے ارکان فلمی صنعت سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد جب کمرشل سینما کا عروج ہوا تو آرٹ فلموں نے اس کا مقابلہ کیا۔ سمیتا پاٹل، شبانہ اعظمی، نصیرالدین شاہ اور اوم پوری کی خط غربت سے نیچے رہنے والوں کے بارے میں بنائی جانے والی فلموں پر ہم جان دیتے تھے۔ اس کے بعد دھانسو کمرشل فلموں کے ساتھ ساتھ فاروق شیخ اور دپتی نیول کی ہلکی پھلکی رومانی فلموں نے متبادل سینما کے تصور کو آگے بڑھایا۔

یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صنفی مساوات اور طبقاتی انصاف کے جس تصور کو ہم آگے بڑھانے کی بات کرتے ہیں، اس میں فلمیں ہماری بہت مدد کر سکتی ہیں اور ہندوستان میں ایسی فلمیں بننا شروع ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم نام جو ذہن میں آتا ہے وہ ”کھوسلا کا گھونسلا“ ہے جس کو ہندوستانی سینما کے سو سالوں کی پچاس بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ دیگر فلموں جیسے ’بھیجا فرائی‘ ، Wednsday، وکی ڈونر، لنچ باکس اور لائف ان اے میٹرو میں اسٹار کاسٹ نہیں تھی لیکن ان کی کہانیاں بہت جاندار تھیں۔ اسی طرح شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان نے بھی مضبوط کہانیوں پر فلمیں بنائیں جیسے ”چک دے، رنگ دے بسنتی، بج رنگی بھائی جان وغیرہ“ ۔

ہمارے چین میں قیام کے زمانے کے دوست اجے برہمتماج جو ہندوستان کے جانے مانے فلمی صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں، کا کہنا ہے ”اکیسویں صدی میں ہندی فلموں میں بہت تیزی سے بدلاؤ آیا ہے۔ اس کی شروعات پچھلی صدی کے درمیان ہو چکی تھی۔ 1994۔ 5 کے آس پاس سورج برجتیہ، ادتیہ چوپڑا، شیکھر کپور اور رام گوپال ورما نے الگ الگ طرح کی فلمیں بنا کر اس تبدیلی کو منوایا تھا۔ خاص کر رام گوپال ورما نے حیدر آباد سے بمبئی آ کے بالکل الگ مزاج کی فلموں کی ہدایت کاری کی۔

ان کی اس پہل کاری سے ہندوستان کے کونے کونے سے نوجوان ہدایتکاروں کو ممبئی آمد کی تحریک ملی۔ ان میں سے زیادہ تر نے ابتدا میں ٹی وی سیریل اور چھوٹی چھوٹی Episodic فلمیں کیں۔ سال 2000 نے ہندی فلموں کو نئی راہ دکھائی۔ لگان اور دل چاہتا ہے جیسی فلموں نے فلم میکنگ کا اسٹائل بدل دیا۔ فلم میکنگ میں جاری ایڈہاک ازم کا خاتمہ ہوا اور ڈسپلن سے کام ہونے لگا۔ اسکرپٹ اور شیڈول کی پابندی کی جانے لگی۔ اس دور میں چھوٹے چھوٹے شہروں سے آنے والے ٹیلنٹ ہر شعبے میں کمال دکھا رہے تھے، کرکٹ میں رانچی جیسے چھوٹے شہر سے آنے والے ایم ایس دھونی نے دھوم مچا دی، انڈین سیاق و سباق میں اسے“ دھونی ایفیکٹ ”کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ ’ایفیکٹ‘ ہندوستانی سینما میں بھی نظر آیا۔ انو راگ کیشپ، امتیاز علی، وشال بھردواج، انو راگ جیسے با صلاحیت نام سامنے آئے۔ یہ سب اپنے اپنے علاقوں کی روایات اور ثقافت کے ساتھ فلموں میں آئے۔ پچاس اور ساٹھ کے عشروں کی طرح پھر معیاری فلمیں بننے لگیں۔ فلمی دنیا کو انڈسٹری کا درجہ ملا۔ کارپوریٹرائزیشن کا آغاز ہوا، بلیک منی کا استعمال ختم ہوا۔ غیر ملکی منڈیاں کھلیں اور ہر قسم کی فلمیں بننے لگیں۔“ اس تفصیلی تبصرے کے لئے میں اجے برہمتماج کی شکرگزار ہوں۔

بات شروع ہوئی تھی عورتوں کے حقوق اور صنفی مساوات سے کہ ہمیں ایسی فلموں کی ضرورت ہے جو صنفی مساوات اور طبقاتی انصاف کی راہ ہموار کریں۔ اس حوالے سے میرے ذہن میں سب سے پہلا نام ’مدر انڈیا‘ کا آتا ہے۔ میں عالمگیریت کی ورکشاپ کے شرکا کو یہ فلم ضرور دکھایا کرتی تھی۔ تا کہ وہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے کردار اور عورت کے مسائل کو سمجھ سکیں۔ 1987 میں بننے والی فلم مرچ مسالہ گاؤں کی ایک سیدھی سادی عورت کی کہانی تھی جو مقامی طاقت سے ٹکر لیتی ہے۔

اس کا کردار سمیتا پاٹل نے ادا کیا تھا۔ جب کہ دپتی نیول اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کے لئے اپنے شوہر سے بغاوت کرتی ہے۔ 2000 میں بننے والی فلم ’استتوا‘ ہندوستانی معاشرے کا ”میل شاونسٹک کلچر“ دکھاتی ہے۔ یہ عورت کی شناخت کی تلاش ہے اور بہن چارے کی کہانی بھی۔ Bandit Queen 1994 میں بنی، یہ پھولن دیوی کی زندگی کی کہانی تھی۔ No one killed Jessica 2011 میں بنی۔ یہ ایک عورت کے قتل کی سچی کہانی تھی جس کی بہن اسے انصاف دلانے کے لئے لڑتی ہے۔

ودیا بالن کی ’کہانی‘ ، سری دیوی کی انگلش ونگلش، رانا کنگناوٹ کی کوئین، رانی مکر جی کی مردانی، تبو کی چاندنی بار، انڈین باکسر کی سچی کہانی میری کوم، آرٹ فلموں کے ابتدائی زمانے کی شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹل کی ارتھ، میناکشی کی دامنی، سمیتا پاٹل کی بھومیکا، مادھوری ڈکشت کی مریتو ڈنڈ اور بے شمار فلمیں عورتوں کے مسائل اور حقوق کے بارے میں بنی ہیں۔ میں صنف اور ترقی کی ورکشاپ کے شرکا کو فلم ’لجا‘ ضرور دکھایا کرتی تھی۔

ریپ کے موضوع پر بہت اچھی فلمیں بنیں۔ سری دیوی کی Mom اور Pink جس نے لوگوں کو بتایا کہ جب ایک عورت ”نہیں“ کہتی ہے تو کسی کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں۔ میرا جسم میری مرضی کا یہی مطلب ہے لیکن سب نے اس کا مطلب غلط نکالا جب کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی کو کسی بھی عورت کو ریپ کرنے کا حق نہیں۔ ٹرانس جینڈرز کے مسائل کے بارے میں بھی ہندوستان میں بہت اچھی فلمیں بنی ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ اول تو ان موضوعات پر فلمیں بنتی نہیں ہیں اور اگر کوئی ہمت کر لے تو اس کی فلم بین ہو جاتی ہے۔ سرمد کھوسٹ اور دیگر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اب سول سوسائٹی ان مسائل پر توجہ دینے لگی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی مقصدی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کو ملیں گے۔

Facebook Comments HS