کرکٹر سے پرائم منسٹر تک


وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اپنی کتاب ”میں اور میرا پاکستان“ میں جناحؒ، گاندھی، مادر ٹریسا، نیلسن منڈیلا اور دیگر عظیم شخصیات کو رول ماڈل تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ان کی کامیابیاں دوسروں سے زیادہ ہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ ان میں صلاحیتیں زیادہ تھیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک عظیم نظریہ اور ایک آرزو رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنی جماعت تحریک انصاف اور خود ایک کرکٹر سے لے کر قومی سیاست تک پہنچنے کے تمام اہم واقعات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جن کے مطالعے سے دنیا بھر کے شہرہ آفاق رہنماوٴں سے متعلق ہوش ربا حقائق طٙشت ازبام ہوتے ہیں۔

مثال کے طور آپ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیازات کے خلاف حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے نیلسن منڈیلا کو دیکھ لیجیے ’جس نے اپنی زندگی کی قیمتی ستائیس سال قید و بند کی صعوبتوں میں گزاری‘ مگر اپنے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی پختہ عظم و ارادے کے طفیل وہ اقوام عالم کے ایک درخشاں ستارہ بن گئے اور نہ صرف جنوبی افریقہ کے صدر بنے ’بلکہ اس ملک سے نسلی تفرقے کے فرسودہ نظام کا خاتمہ کر ڈالا اور عالمی امن کا نوبل انعام پا کر دنیا بھر کے عالمی رہنماوٴں میں صفحہ اول پر اپنا مقام بنا لیا۔

اسی طرح خود عمران خان کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو آج سے 24 سال قبل کسی کے وجدان میں بھی نہیں تھا کہ یہ نوجوان کرکٹر سے پرائم منسٹر تک کا سفر طے کر کے عشروں محیط تمام وراثتی حکومتوں کو شکست فاش دینے میں سرخرو ہو جائیں گے۔ کرکٹ سے سبک دوشی کے بعد جب 25 اپریل 1996 ء کو اپنے ساتھ چند رفقاء کو لے کر قافلے کا کمان سنبھالے سیاسی سفر کا آغاز کیا، تب حزب اختلاف کی جانب سے انہیں سیاسی طفل مکتب تصور کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور مشکلات کی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں۔ نیوز سٹوڈیو میں ایک صاحب تو انہیں یہ کہتے ہوئے ایک بلا پیش کر رہے تھے کہ یہ سیاست ہے کرکٹ کا گراؤنڈ نہیں اور یہ آپ کی بس کی بات نہیں۔

خان صاحب تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں اترے آئے تھے جو کہ مافیاز کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ کیونکہ پاکستان میں پچھلے کئی دہائیوں سے دو ہی مخصوص پارٹیوں نے مغلیہ دور سلطنت قائم کر کے باریوں پہ باریاں لے رہے تھے۔ حسد و کینہ کی یرقان جبکہ بغض و عداوت کی سرطان میں مبتلا لوگوں کا گمان تھا کہ عوام پر حکمرانی کا حق صرف دو ہی مخصوص پارٹیوں کو حاصل ہے۔ ایسے نامساعد حالات میں کپتان کو حق اور تبدیلی کی بات کہنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

گویا ہر طرف سے کانٹوں کا جال بچھایا گیا تھا۔ خان صاحب کے قافلے کے لیے منزل دور، سفر کٹھن اور رہزنوں کے ہاتھوں لٹنے کا خدشہ تھا مگر میر کارواں نڈر، نگاہیں بلند، حوصلے بلند، جذبات بلند، ارادے قوی، عمل پیہم اور اللہ پر یقین محکم جیسے اعلیٰ و ارفع صفات ’سیاسی بیڑے کو منزل مقصود تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ یوں علامہ اقبالؒ کے اس شہرہ آفاق شعر کی مانند۔

نگاہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

آخر ہر تاریک رات کے بعد روشن صبح ہوتی ہے۔ 25 جولائی 2018 ء کو خوش قسمتی کا سورج طلوع ہوا۔ ملک بھر میں انتخابات ہوئے ’جس میں پاکستان تحریک انصاف کو 22 سالہ سیاسی نشیب و فراز کے بعد بھاری اکثریت سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی اور عمران خان پاکستان کی سیاست میں لوہا منوا کر پاکستان کے تیسویں وزیراعظم بننے میں سرخ رو ہو جاتے ہیں۔ بہت ساری مشکلات کے باوجود اللہ پر یقین کامل اور مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ایک کھلاڑی سے وزیراعظم کے اعلیٰ منصب تک کا طویل ترین سفر طے کرنے میں کامیاب ہو جانے سے اور عمران خان کی پرخار راستوں پر چلتی زندگی عام افراد کے لیے کامیابی کے کئی در کھول دیتی ہے۔

کپتان کے اقتدار میں آتے ہی قدرتی آفات، عالمی چپقلشیں، بے روزگاری، مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، جنسی زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعات اور دیگر ناموافق حالات نے ملک کو مسائل سے دوچار کیا ہے۔ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر محض نوے دنوں میں ملک سدھارنے آئے۔ آج تین سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے ’مگر حقیقی تبدیلی کا سورج دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی میں قحط الرجال ہے۔ اس لیے ابھی تک درست سمت کی تعین نہیں ہو سکی۔

اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے کیے گئے بلند و بانگ وعدے، کھوکھلے نعرے اور ریاست مدینہ کے دعوے محض فریب ثابت ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان اپنی دور حکومت کے بقیہ سالوں میں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کس طرح عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں اور اس ملک کو اپنی ذاتی عیاشیوں کے لیے دو دو ہاتھوں سے لوٹنے والوں کو کس طرح عبرت کا نشان بناتے ہیں؟

Facebook Comments HS