بزدار سائیں کچھ نہ کریسی، بس اللہ کریسی
ایاز خان سینئر صحافی اور میرے گرو ہیں۔ لاہور میں ڈیڑھ برس کے علاوہ 23 سالہ صحافت ان کی زیر سرپرستی ہی کی ہے اور کر رہا ہوں، ان کی باتوں کو فالو کرنے اور ان کے انداز کو اپنانے کی ناکام سی کوشش بھی کرتا ہوں، ایاز خان ایک بڑے ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور تجزیہ نگار شریک ہوتے ہیں۔ ان کے تبصروں میں کمال کی کاٹ ہوتی ہے۔ براہ راست تنقید کے بجائے مثبت انداز میں ایسی تنقید کرتے ہیں کہ اگلے کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں۔
چند روز قبل ٹی وی پروگرام میں اینکر نے ایاز خان سے ڈینگی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کو خوشخبری دے رہا ہوں کہ پنجاب سے ڈینگی ختم ہونے والا ہے۔ اینکر اور دیگر مہمان حیران ہو گئے کہ ایسا کیا ہونے والا ہے کہ ڈینگی ختم ہو رہا ہے جس پر ایاز خان نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی سردار عثمان بزدار عمرہ کرنے گئے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں گڑگڑا کر ڈینگی کے خاتمے کے لئے دعائیں مانگیں گے پھر مچھر نیست و نابود ہو جائے گا۔ پنجاب ڈینگی فری ہو جائے گا اس لئے عوام بالکل پریشان نہ ہوں اور عثمان بزدار پر اعتماد قائم رکھیں، جس پر اینکر نے نعرہ لگادیا، عثمان بزدار زندہ باد۔
ایاز صاحب عثمان بزدار کی کارکردگی کے ہمیشہ سے ناقد رہے ہیں۔ ایاز صاحب کیا ان کی اپنی پارٹی اور عوام کی اکثریت کو عثمان بزدار سے یہی شکایت ہے کہ وہ کام نہیں کرتے، کام کے حوالے سے عثمان بزدار پر تنقید یا گلہ کرنا بالکل بے جا اور نامناسب ہے۔ میں نے بچپن اور جوانی جنوبی پنجاب میں گزاری ہے۔
میں جنوبی پنجاب کے سرداروں اور مخدوم کی عادتوں کو بہت اچھی طرح سے سمجھتا ہوں، جنوبی پنجاب کے مخدوم ہوں یا سردار وہ اللہ لوگ ہیں۔ وہ ہر کام اللہ پر چھوڑ دیتے ہوں کیونکہ یہ اللہ کا کرم ہی ہے کہ وہ مخدوم یا سردار بن گئے ورنہ ان میں اپنی صلاحیت تو کوئی ہے نہیں، عثمان بزدار پر تنقید کرنے والے ماضی کے ان سرداروں اور مخدوموں کو کیوں بھول جاتے ہیں جو پنجاب کے وزیراعلی رہے اور گورنر بھی، 90 ءکی دہائی میں پنجاب کے گورنر موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی تھے۔
ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ جب وہ ملتان اپنے گھر جاتے تو دولت گیٹ ان کی رہائش گاہ پر صبح سویرے عوام کا رش لگ جاتا، گھنٹوں بعد مخدوم صاحب کے درشن ہوتے، عوام گورنر صاحب کو اپنے مسائل یا کوئی کام بتاتے تو مخدوم سجاد حسین قریشی فوراً دونوں ہاتھ فضاء میں بلند کرتے اور سائل کو بھی کہتے، دعا کرو، دعا مانگنے کے بعد مخدوم صاحب فرماتے اللہ کریسی، سائل مخدوم صاحب کے قدموں کو ہاتھ لگا کر رخصت ہو جاتے اور اپنی برادری میں بڑے فخر سے کہتے مخدوم صاحب نے ہمارے کام کے حوالے سے اللہ سے دعا کی ہے اور مخدوم صاحب نے کہا ہے کہ اللہ کریسی، جس پر پوری برادری مطمئن ہو کر سو جاتی کہ اب اللہ ہی کریسی کیونکہ مخدوم صاحب نے تو کچھ کرنا نہیں۔
اسی طرح بے نظیر کی حکومت میں تونسہ شریف کے ایک خواجہ صاحب رکن قومی اسمبلی تھے۔ وہ ایم این اے ایک ٹریفک حادثہ میں اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ میرے انکل نذر حسین سندھو (میرے والد کے دیرینہ دوست تھے جو ہمیں سگے چچا سے بھی زیادہ ہمیں پیار کرتے تھے ) ان دنوں اسلام آباد میں تعینات تھے۔ میں نے نئی نئی صحافت شروع کی تھی۔ انکل کو خواجہ صاحب سے کوئی کام تھا۔ دو تین بار ان سے ملنے کے لئے انکل کو جانا پڑا تو ساتھ مجھے بھی لے جاتے تھے کہ تمھارا ایم این اے سے تعارف کراتا ہوں، جب ہم وہاں جاتے تو وہاں تونسہ شریف کے عوام کا رش لگا ہوتا۔ وہ لوگ بھی خواجہ صاحب کو اپنے مسائل یا کام بتاتے تو خواجہ صاحب سب کی درخواستیں وصول کرتے اور ان کو یہ کہہ کر تسلی دیتے اللہ کریسی۔
بہاولپور سے بھی ایک ایم این اے تھے مخدوم تسنیم نواز گردیزی، ان کے ڈیرے پر بھی ایک دو بار جانے کا اتفاق ہوا وہ بھی اللہ کریسی کو چورن بیچتے نظر آئے، جنوبی پنجاب کے مکین اللہ کریسی پر ہی مطمئن ہو جاتے ہیں یا پھر یوں کہہ لیں کہ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ سردار صاحب یا مخدوم صاحب نے کام کرنا نہیں، اللہ نے کرم کر دیا تو کام ہو جائے گا۔
عثمان بزدار جب سے وزیراعلی بنے ہیں ان سے پانچ، چھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ بزدار سائیں اپنے علاقے کے لوگوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ جمعہ کا دن (اب کا علم نہیں ) انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا۔ اس روز وزیراعلی صاحب اپنے حلقے کے لوگوں کو فرداً فرداً ملتے اور ان کے مسائل سنتے اور اپنے پی ایس او کیپٹن علی کو درخواست تھما دیتے اور سائل کو تسلی دیتے ”تھی ویسی“ ۔
ایک بار عثمان بزدار مصروفیت کی وجہ سے اپنے علاقے کے لوگوں سے نہ مل سکے تو انہوں نے وزیرتعلیم مراد راس اور وزیر کھیل تیمور بھٹی کو فوراً سی ایم ہاؤس بلایا اور کہا کہ میرے حلقے کے لوگوں کے مسائل سن لیں، دونوں وزراء بڑے سے ہال میں بیٹھے سائلین کے پاس فرداً فرداً خود چل کر گئے ان کے مسائل سنے اور درخواستیں وصول کیں اس روز سائلین بہت مایوس واپس لوٹے کیونکہ وزراء نے یہ نہیں کہا کہ اللہ کریسی۔
جنوبی پنجاب کے سرداروں اور مخدوموں کے ہر کام اللہ کی طرف سے خود بخود ہو جاتے ہیں۔ سردار صاحب یا مخدوم صاحب کو کہیں جانا بھی نہیں پڑتا اور نہ ہی کسی کو کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس لئے وہ یہی سمجھتے ہیں اور سائلین کو کہتے ہیں اللہ کریسی۔ عثمان بزدار کا وزیراعلی پنجاب بننا بھی اللہ کا خاص کرم ہے۔ عثمان بزدار نے تو صرف دعا ہی کی تھی۔ اللہ نے بنا دیا۔
ایاز صاحب سے مجھے ایک گلہ ہے کہ ساڑھے تین سال سے پنجاب کا صوبہ چل رہا ہے۔ یہ بھی تو اللہ کا کرم ہی ہے۔ اللہ صوبہ چلا رہا ہے جب اللہ سب کچھ کر رہا ہے تو عثمان بزدار کو کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وبائیں جو بھی آتی وہ اللہ کے کرم سے ہی جاتی ہیں۔ ڈینگی بھی اللہ کے کرم اور اس کی رحمت سے دفع ہو جائے گا۔ عثمان بزدار کا کام دعا کرنا ہے جو وہ مکہ، مدینہ جا کر کر آئے ہیں۔ بزدار سائیں تساں کم چائی رکھو، ڈینگی ختم تھی ویسی اللہ کریسی۔


