تھانےدار نے بلاسفیمی کی وارداتوں پہ کیسے قابو پایا۔ (ذاتی مشاہدات)


علاقہ پرسکون تھا اور سوائے تعزیے کے جلوس کے روٹ کے علاوہ کوئی قابل ذکر جھگڑا ریکارڈ پہ نہ تھا۔ مفتی صاحب آ وارد ہوئے تو مسلک حق کو سخت خطرے میں پایا اور دیگر مسالک کے کفریات و عبارات اکابر سے ہر کہ و مہ کو آگاہ کیا۔
قریبی گاؤں میں دو بھائی تھے۔ ایک بریلوی اور دوسرا بعد میں مماتی دیوبندی (ملتانی گروپ) بنا۔ بھائی اور والد ہر کھانے کے بعد اسے ازسرنو مسلمان ہونے کی ترغیب دیتے اور عقائد پہ طنز کرتے۔ مسئلہ حیات النبی پہ اس نے اپنا عقیدہ بیان کیا۔ یک چشم امام نے مفتی کے گوش گزار کیا تو پتہ چلا کہ ناموس رسالت خطرے میں ہے۔ دو ماہ غور و خوض ہوتا رہا کہ اسے گستاخی کیسے ثابت کی جائے۔ تین مفتیوں کی ٹیم بلوائی گئی جنہوں نے ثابت کرنا تھا۔ انہوں نے الفاظ کی بجائے انداز کو قابل گرفت سمجھا کہ اس نےایسا اونچی آواز میں کہا تھا۔ استدلال حضرت عمر اور سورۃ عبس والے واقعہ سے کیا۔
جمعہ کو کچھ مولوی اور شہر کے کچھ کن ٹٹے krdar تھانے پہنچے اور ایف آئی آر کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ شخص نے کہا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے متعلق اہانت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ با شرع مسلمان ہے۔ متبع سنت ہے ۔ اگر اس کے منہ سے ایسا کچھ نکلا بھی ہے تو وہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے۔
مفتی صاحب نے فرمایا کہ چونکہ گستاخ کی توبہ قابل قبول نہیں۔ اور صرف رسول ہی معاف کر سکتا۔ سو پرچہ کاٹا جائے۔ نہ کٹا تو روڈ بلاک کر دیا گیا۔ شام کو ایف آئی آر درج ہوئی تو روڈ کھلا۔ پھر یہ معمول بن گیا ۔ سیشن کورٹ تاریخ پہ سو افراد کا جتھہ جاتا ۔ جج نے سزائے موت دو ہی پیشیوں میں سنا دی ۔ فتح کا جشن منایا گیا۔ ملزم کے ہم مسلک افراد کی لسٹ شہر میں تقسیم ہوئی اور بائیکاٹ کا مطالبہ ہوا۔ انہی دنوں سلمان تاثیر کو شہید کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے ملزم کو توہین ثابت نہ ہونے پہ بری کر دیا بلکہ مفتی کی تو وکیل نے خاصی کلاس لے ڈالی۔
جلسے جلوس ہوئے۔ مائیک گرانے والے مفتی بھی آئے اور اک بڑے آستانے کے پیر بھی۔ علم ہوا کہ فلاں ہوٹل والے اس کے ہم مسلک ہیں اور سپورٹر بھی۔ بھرے مجمع میں پیر صاحب نے نہایت حیرت سے استفسار کیا۔ "وہ ہوٹل کیا ابھی تک قائم ہے !”۔ دیر تک اہل ایمان کی غیرت پہ ماتم کیا۔ اسے ولدالحرام کہا جاتا ۔ اس دوران اس کے بھائی اور والد سٹیج پہ ہوتے۔ مقررین کو پرچی بھیجی گئی کہ یہ والا گستاخ صحیح النسب ہے۔ ولدالحرام نہیں۔ بالآخر نماز جمعہ سے واپسی پہ بندہ بیچ سڑک مع ہمراہی قتل کر دیا گیا ۔ قاتل نامعلوم ۔ فائلوں میں ملبہ اک پولیس مقابلے میں مرنے والے پہ ڈال دیا گیا اور فائل بند۔
اہل ایمان کو رستہ مل چکا تھا۔ اگلے ماہ اک کباب تکے کی بڑی دکان کے مالک دیوبندی عقیدہ کے تھے۔ دو خوانچہ فروش لڑکوں نے اس پہ الزام لگا دیا۔ مفتی صاحب کے ہاں بلوایا گیا۔ اس نے معذرت کی تو مفتی نے بکمال شفقت اس کی توبہ قبول کی اور احتیاط کی تلقین کی۔ (سابقہ واقعہ کے ملزم کی توبہ ان کی بارگاہ میں مقبول نہ تھی ) ۔
دو ہفتے سکون سے گزرے تو کپڑے کی دکان پہ کام کرنے والے اک شیعہ لڑکے پہ الزام لگا دیا گیا توہین صحابہ کا۔ گواہ پڑوسی دکان کے آگے ریڑھی لگانے والا لڑکا تھا۔ کیس چلا چھ ماہ اور الزام ثابت نہ ہو سکنے پہ بری ہو گیا۔ بہرحال ان دنوں مفتی خاصا مشہور ہوا اردگرد کی دو تحصیلوں میں۔اور دھونس بن گئی۔ اہل حدیث گروپ رہ گیا تھا۔ ان کے اک شخص کو شکار کرنا چاہا ۔ میرا دوست تھا ۔ مجھے اس کے خلاف گواہی کا بولا گیا مگر میں نے انکار کیا کہ اس نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں ۔ مفتی نے کچھ لونڈوں کو میرے خلاف اکسایا۔ کچھ روڈز بلاک کرنے پہ میرے نظریات کی بنا پہ مجھے پہلے ہی معتوب قرار دے چکے تھے ۔ انہوں نے مجھ پہ الزام لگایا کہ اس نے چھ ماہ قبل ہمارے فرقے کے اک مولوی کو کالا کہا ۔ جو کہ توہین مذہب ہے۔ مفتی کے قریبی پندرہ طلباء رات آئے اور خوب مرمت کی گئی ہماری۔
تھانیدار اور سی آئی ڈی والے شہر کے بدلتے ماحول سے بےخبر نہ تھے۔ انہوں نے مفتی و دیگر مولویوں کو بلوایا اور دو جملوں میں تھانیدار اور خفیہ والوں نے سخت وارننگ دی کہ ” اگر آئندہ توہین کے نام پہ ایسا تماشا لگایا گیا تو تمہاری خیر نہیں۔ ” اب کے بندہ مرے یا بچے۔ مولوی نہیں بچے گا ۔”
غلام مصطفٰی کھر نے علاقے میں چوری کا ذمہ دار تھانےدار کو بنا دیا تھا ۔ چنانچہ مویشی چوری ہونا بند ہو گئے تھے۔
تھانےدار کی دھمکی کے بعد شہر میں کبھی کسی نے گستاخی نہیں کی ۔
Facebook Comments HS

One thought on “تھانےدار نے بلاسفیمی کی وارداتوں پہ کیسے قابو پایا۔ (ذاتی مشاہدات)

  • 30/03/2022 at 3:20 شام
    Permalink

    خوبصورت روداد

Comments are closed.