پاکستان کیسے ٹوٹا؟ ناقابل تردید حقائق


جب بھی 16 دسمبر قریب آتا ہے تو پاکستان میں یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ 1971ء میں پاکستان کیوں ٹوٹ گیا تھا؟ کیا پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

دوسری طرف دسمبر کے آتے ہی بنگلہ دیش میں بھی یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان سے علیحدگی اختیار کی تھی، آج کے بنگلہ دیش میں وہ مقاصد حاصل ہوئے یا نہیں؟

 پاکستان اور بنگلہ دیش میں بظاہر تو جمہوری حکومتیں ہیں لیکن دونوں ممالک میں 1971ء سے متعلق پورا سچ بولنا اور لکھنا بہت مشکل ہے۔ بہت سے حقائق پاکستان میں نئی نسل سے چھپائے جاتے ہیں اور 50 سال بعد بھی سقوط ڈھاکا پر جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی کچھ افسانوں کو تاریخ بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت اور افسانے میں فرق سامنے آ رہا ہے۔

انتہائی ٹھوس تاریخی شہادتوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی تحریک چلانے والی آل انڈیا مسلم لیگ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکا میں قائم ہوئی تھی۔ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا اور 23 مارچ 1940ء کی قرار داد لاہور بھی ایک بنگالی لیڈر اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی۔

قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی قائداعظم کی وفات ہو گئی۔ اردو کو قومی زبان قرار دینے پر قائد اعظم کی زندگی میں ہی مشرقی پاکستان میں بے چینی پیدا ہوئی لیکن مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں نفرتوں کا آغاز 1958ء میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد ہوا۔

جنرل ایوب خان نے 1956ء کا آئین معطل کر دیا اور جب انہوں نے 1962ء میں صدارتی آئین نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا تو ان کے بنگالی وزیر قانون جسٹس ریٹائرڈ محمد ابراہیم نے جنرل ایوب خان کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کی کتاب ’’ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم‘‘ میں جنرل ایوب خان کے ساتھ ان کی سرکاری خط و کتابت شامل ہے، جس میں وزیر قانون نے صدر پاکستان کو وارننگ دی تھی کہ صدارتی آئین پاکستان توڑ دے گا۔ پاکستان کے فوجی صدر نے اپنے بنگالی وزیر قانون کی وارننگ نظر انداز کر دی۔ اس صدارتی آئین کے خلاف مشرقی پاکستان کے گورنر جنرل اعظم خان نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

ایوب خان اپنی ضد پر قائم رہے اور انہوں نے ایک پنجابی جج، جسٹس ریٹائرڈ محمد منیر کو اپنا وزیر قانون بنا لیا۔ نئے وزیر قانون کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ کسی طرح بنگالیوں سے جان چھڑائیں۔ جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب ’’فرام جناح تو ضیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ 1962ء میں وزیر قانون بنانے کے بعد جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بنگالی وزیر رمیض الدین کے پاس مجھے بھیجا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ ہم سے علیحدگی اختیار کرلیں یا کنفڈریشن بنا لیں۔

 رمیض الدین نے جواب میں کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں، آپ اقلیت ہیں، اگر آپ علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہو جائیں لیکن اصل پاکستان تو ہم ہیں۔ جس کی شہادت سے پتا چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان بنگالیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہ صدارتی نظام کے خلاف تھے۔ یہی وہ سال تھا، جب تحریک پاکستان کے رہنما حسین شہید سہروردی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو ڈھاکا میں پاکستان کے خلاف نعرے لگ گئے۔

حسین شہید سہروردی کی نواسی بیرسٹر شاہدہ جمیل کہتی ہیں کہ ان کے نانا علاج کے لیے بیروت گئے، وہاں ان کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی۔ ہم انہیں مغربی پاکستان میں دفن کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل ایوب خان نے اجازت نہ دی لہٰذا ان کی تدفین ڈھاکا میں ہوئی۔

اسی زمانے میں شیخ مجیب الرحمٰن کے موقف میں بہت سختی پیدا ہو گئی اور کچھ مصنفین کے مطابق انہوں نے بھارت کے ساتھ خفیہ رابطے شروع کر دیے۔ اس دوران محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف 1965ء کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن سمیت مغربی پاکستان سے ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اور سردار خیر بخش مری سے لے کر مولانا مودودی تک سب نے فاطمہ جناح کی حمایت کی لیکن ایوب خان نے فاطمہ جناح کو انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ دھونس اور دھاندلی سے انہیں ہرا دیا۔ فاطمہ جناح ڈھاکا سے جیت گئیں لیکن مغربی پاکستان سے ہار گئیں۔

 فاطمہ جناح کی شکست نے بنگالیوں کو پاکستان سے مایوس کر دیا۔ اس مایوسی کا نتیجہ 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کی صورت میں سامنے آیا۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ حکومت کا کردار وفاقی اور پارلیمانی ہونا چاہیے۔ یعنی اصل لڑائی صدارتی نظام کے خلاف تھی۔ پھر 1968ء میں شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں ملوث کر دیا گیا۔

وہ ایوب خان، جو جسٹس منیر کی مدد سے پاکستان توڑنا چاہتا تھا، اس نے مجیب پر پاکستان کے خلاف سازش کا الزام لگا دیا۔ الزام عدالت میں ثابت نہ ہو سکا اور شیخ مجیب کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔ 1969ء میں معروف صحافی الطاف حسن قریشی نے شیخ مجیب الرحمٰن کا انٹرویو کیا۔ یہ انٹرویو قریشی صاحب کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں موجود ہے۔

 قریشی صاحب نے مجیب سے پوچھا کہ موجودہ بحران کا حل کیا ہے؟ مجیب نے جواب میں کہا کہ 1956ء کا آئین بحال کر دیں۔ قریشی صاحب نے کہا کہ چھ نکات تو کچھ اور ہی کہتے ہیں، مجیب نے جواب دیا کہ چھ نکات قرآن اور بائبل نہیں، ان پر نظر ثانی ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے الطاف حسن قریشی کو وہی کہا، جو رمیض الدین نے جسٹس منیر سے کہا تھا، ’’ہماری آبادی 56 فیصد ہے، مغربی پاکستان علیحدگی کا تصور کر سکتا ہے، ہم نہیں کر سکتے۔ وہ حصہ اگر الگ ہونا چاہتا ہے تو ہو جائے۔‘‘

اس واقعے کے ایک سال بعد سات دسمبر 1970ء کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ عام تاثر یہی ہے کہ 1970ء کے انتخابات بڑے فیئر اینڈ فری تھے۔ اس تاثر کی نفی جنرل یحییٰ خان کے اپنے ہی دو قریبی ساتھیوں نے کر دی۔ پاکستان ایئرفورس کے ایک افسر ارشد سمیع خان نے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بطور اے ڈی سی کام کیا۔

 انہوں نے اپنی کتاب ’’Three Presidents and an aide” میں لکھا ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں میجر جنرل غلام عمر نے کچھ سیاستدانوں میں خفیہ طور پر رقوم تقسیم کی تھیں۔ الیکشن کی رات، جب رزلٹ آنے شروع ہوئے تو صدر یحییٰ خان نے کہا کہ جنرل عمر سے بات کراؤ۔ ارشد سمیع نے صدر کی جنرل عمر سے بات کرائی تو صدر صاحب نے غصے میں ان سے پوچھا، ’’وہ جو تم نے خان عبدالقیوم خان، صبور خان اور بھاشانی کو پیسے دیے تھے ان کا کیا ہوا؟‘‘

جنرل عمر کوئی جواب نہ دے سکے تو صدر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب مجھے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج بالکل مختلف چاہییں۔ لیکن جنرل عمر صدر کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں ناکام رہے۔

آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ اور صدر یحییٰ خان کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر اے آر صدیقی نے اپنی کتاب ’’جنرل محمد یحییٰ خان‘‘ میں لکھا ہے کہ جنرل عمر نے مشرقی پاکستان میں کرنل ایس ڈی احمد کے ذریعے خان قیوم کی کنونشن مسلم لیگ، جماعت اسلامی، صبور خان، فضل القادر چوہدری، نورالامین، خواجہ خیرالدین، مولوی فرید احمد اور کچھ دیگر میں بھاری رقوم تقسیم کیں۔ اس دھاندلی کے باوجود شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی اور مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی۔

اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے سے گریز کیا گیا۔ یہ پہلو بہت اہم ہے کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی بغاوت سے پہلے فوجی بغاوت ہوئی۔ 25 اور 26 مارچ 1971ء کی درمیانی شب چٹاگانگ میں آٹھ ایسٹ بنگال رجمنٹ کے میجر ضیاء الرحمٰن نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل جنجوعہ کو قتل کر کے ریڈیو سے آزادی کا اعلان کرا دیا۔ یہ میجر ضیاء الرحمٰن وہی تھے، جنہوں نے بعد میں جنرل بن کر بنگلہ دیش نے مارشل لاء لگایا اور پاکستان کے دوست بن گئے۔

جنرل ریٹائرڈ کے ایم عارف نے اپنی کتاب ’’خاکی سائے‘‘ میں لکھا ہے کہ جب ضیاء الرحمٰن بنگلہ دیش کے صدر کی حیثیت سے پاکستان آئے تو ان کے اعزاز میں ظہرانے میں مجھے بھی بلایا گیا لیکن میں نے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق سے کہا کہ میں اس قاتل کے ظہرانے میں شرکت نہیں کر سکتا۔

جنرل ضیاء الرحمٰن کی اہلیہ خالدہ ضیاء جب بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنیں تو انہون نے جنرل پرویز مشرف کو ڈھاکا بلا کر ان سے اپنی تحریک آزادی کے شہداء کے مزار پر حاضری دلوائی اور 1971ء کے واقعات پر معذرت کرا لی لیکن جو ظلم ضیاء الرحمٰن نے کرنل جنجوعہ کے ساتھ کیا، اس کی قیمت عوامی لیگ ادا کرتی رہی۔

 پاکستان میں لوگوں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ شیخ مجیب نے پاکستان کے خلاف بغاوت کی لیکن جنرل ضیاء الرحمٰن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا۔ سقوط ڈھاکا کے 50 سال بعد بھی مغربی پاکستان کے ان شاعروں، ادیبوں اور سیاستدانوں کو غدار کہا جاتا ہے، جنہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی۔ لیکن ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کا ذکر نہیں آتا، جنہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے انکار کیا اور یحییٰ خان نے انہیں ڈس مس کر دیا۔

16 دسمبر 1971ء کے سرنڈر کے بارے میں اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں اپنے کمانڈر جنرل امیر عبداللہ نیازی کو سرنڈر کا نہیں، سیزفائر کے لیے اقدامات کا حکم دیا تھا۔ منیر احمد منیر کی کتاب ’’المیہ مشرقی پاکستان – پانچ کردار‘‘ میں جنرل یحییٰ خان کا انٹرویو شامل ہے۔ یحییٰ خان نے بتایا، ’’میں نے نیازی کو سرنڈر کا نہیں کہا تھا بلکہ اسے کہا تھا کہ یو این او کو بولو کہ سیز فائر کرا دے۔ میں نے کہا تھا کہ دشمن کے آگے ہتھیار پھینکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

یحییٰ خان نے جنرل نیازی کو جھوٹا اور بزدل قرار دیا حالانکہ وہ یحییٰ کا حسن انتخاب تھا۔ یحییٰ خان نے اپنے اس انٹرویو میں کہا، ’’ٹرخ گیا بچارہ میانوالی والا‘‘۔

بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل جیکب نے ’’سرنڈر ایٹ ڈھاکا‘‘ میں لکھا ہے کہ پاکستانی فوج نے مشرقی محاذ پر بڑی جرات اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔ 16 دسمبر کو جنرل نیازی کے پاس ڈھاکا میں 30 ہزار فوج موجود تھی۔ اگر نیازی کچھ دن مزاحمت کرتا تو شاید یو این او سیز فائر کرا دیتا۔ جیکب لکھتا ہے کہ ہم تو صرف کھلنا اور چٹاکانگ پر قبضہ کرنے آئے تھے، 13 دسمبر تک ڈھاکا ہمارے پلان میں شامل نہ تھا۔ لیکن جب نیازی کو یہ کہا گیا کہ اگر تم سرنڈر کر دو تو تمہیں مکتی باہنی کے حوالے نہیں کیا جائے گا تو وہ سرنڈر کے لیے مان گیا۔ بقول جیکب سرنڈر کے وقت نیازی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

ڈاکٹر صدر محمود نے اپنی کتاب ”پاکستان کیوں ٹوٹا؟‘‘ میں جنرل راؤ فرمان علی کا انٹرویو شامل کیا ہے، جنہوں نے بتایا کہ چھ دسمبر کو جیسور پر قبضہ ہوا تو جنرل نیازی گورنر ہاؤس ڈھاکا میں آ کر رونے لگا۔ راؤ فرمان علی نے یہ قصہ اپنی کتاب "How Pakistan got divided” میں بھی بیان کیا ہے۔

 انہوں نے لکھا ہے کہ فوج نے اپنے قید خانے اور عدالتیں بنا رکھی تھیں اور سویلین کو بغیر وجہ اٹھا لیا جاتا تھا۔ کئی دانشوروں کو میری مداخلت پر رہا کیا گیا۔ مشرقی پاکستان فرائض سرانجام دینے والے میجر جنرل ابوبکر عثمان مِٹھا نے اپنی کتاب ’’بمبئی سے جی ایچ کیو تک‘‘ میں لکھا ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے مشرقی پاکستان میں، جن کو غائب کر دیتے تھے، ان میں 90 فیصد مسلمان ہوتے تھے۔ ان حرکتوں سے پاکستان کے حامی ہمارے مخالف بن گئے۔ جنرل مٹھا کے پاس لاپتہ فراد کے لواحقین آتے تھے لیکن کوئی بازیاب نہ ہوتا تھا۔

 میجر جنرل خادم حسین راجہ نے اپنی کتاب ’’A stranger in my own country” میں لکھا ہے کہ مارچ 1971ء میں جنرل نیازی نے ایک میٹنگ میں بنگالی افسروں کی موجودگی میں کہا، ’’میں اس حرامزادی قوم کی نسل بدل دوں گا۔‘‘ اس واقعے کے بعد ایک بنگالی افسر میجر مشتاق نے کمانڈ ہیڈکوارٹرز کے باتھ روم میں اپنے آپ کو گولی مار کر خودکُشی کر لی۔

جنرل نیازی نے بنگالیوں کو ان کی نسل بدلنے کی دھمکی دی اور پاکستان کا جغرافیہ بدل کر واپس آیا۔ اس کی نگرانی میں جو ظلم و ستم ہوا، اس کی گواہی راؤ فرمان سے لے کر جنرل مٹھا تک بہت سے فوجی افسران نے دی۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ فوجی آپریشن میں 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا گیا اور دو لاکھ عورتوں کا ریپ ہوا۔

بنگالیوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا لیکن مکتی باہنی نے بہاریوں کے ساتھ بہت ظلم کیا اور ان بہاریوں کو آج کے پاکستان کے حکمران فراموش کر چکے ہیں۔ جسٹس حمود الرحمنٰ، جسٹس انوار الحق اور جسٹس طفیل علی عبدالرحمٰن پر مشتمل کمیشن نے جنرل نیازی کے طرز کو شرمناک اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار قرار دیا۔

 کمیشن نے لکھا کہ جنرل نیازی کم از کم دو ہفتے تک ڈھاکا کا دفاع کر سکتے تھے، وہ سرنڈر کی بجائے اپنی جان قربان کر دیتے تو آئندہ نسلیں انہیں ایک عظیم ہیرو کے طور پر یاد رکھتیں۔ حمود عبد الرحمٰن کمیشن کے مطابق انہوں نے ہندوستانی جنرل کو گارڈ آف آنر کا حکم دے کر ملک اور فوج کی عزت خاک میں ملا دی۔

 کمیشن نے جنرل یحییٰ، جنرل عبدالحمید، جنرل پیر زادہ، میجر جنرل غلام عمر، جنرل گل حسن اور جنرل مِٹھا کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی۔ کمیشن نے جنرل ارشاد احمد خان کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی، جنہوں نے بغیر مقابلے کے مغربی محاذ پر شکرگڑھ کے پانچ سو گاؤں دشمن کے حوالے کر دیے۔

حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت سے، جو برائیاں جنم لیتی ہیں، وہ فوج کو زنگ لگا دیتی ہیں اور فوج لڑنے کے قابل نہیں رہتی۔ سقوط ڈھاکا کے 50 سال کے بعد پاکستان کے حکمران طبقے کو یہ رپورٹ ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ 1971ء میں پاکستان پر اعلانیہ مارشل لاء نافذ تھا۔ آج پاکستان پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔

 1971ء میں خفیہ ادارے پاکستانیوں کو لاپتہ کر رہے تھے، آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کھو دیا گیا اور آج بہت سے پاکستانیوں کے خیال میں کشمیر کھو دیا گیا ہے۔ 16 دسمبر سے سبق نہ سیکھا گیا تو خدانخواستہ پاکستان مزید نقصان اٹھا سکتا ہے کیونکہ آج تک پاکستان میں کسی جنرل یحییٰ یا کسی جنرل نیازی کا احتساب نہیں ہوا۔ آئین توڑنے والا جنرل مشرف آج بھی مفرور ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments