کم جونگ اُن کا اقتدار میں ایک عشرہ: کیا جنوبی کوریا کے رہبرِ اعلی اپنے باپ، دادا کے سائے سے نکل پائے ہیں؟
خود کو اعلی شجرہ نصب ’ماؤنٹ پیکٹو‘ سے ظاہر کرنے والے کِم خاندان کے رکن کم جونگ اُن کو اپنے ملک کے اقتدار پر اس وقت مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
کم جونگ اُن نے اپنے اقتدار کا پہلا عشرہ اپنے والد اور دادا کے سایے میں گزرا ہے۔ جب وہ اقتدا میں آئے تو ایسی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکیں گے۔
تاہم کم جونگ اُن نے دس برس تک اقتدار میں رہ کر تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے اور اب وہ اپنے پیش روؤں جیسا درجہ حاصل کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
لیکن اقتدار پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے کم جونگ اُن کو کئی آزمائشوں سے گزرنا ہو گا۔
کم جونگ اُن کا مسلسل عروج
کم جونگ اُن نے جب کم جونگ اِل کی موت پر اقتدار سنبھالا تو وہ سیاسی طور پر ناتجربہ کار تھے اور اسی لیے عالمی سطح پر ایسی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ زیادہ دیر تک اس اعلی عہدے میں نہیں ٹہر سکیں گے۔
کم جونگ اِل کی موت سے ایک ماہ پہلے روس کے تھنک ٹینک، انسٹیوٹ آف ورلڈ اکانومی اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز نے پیش گوئی کی تھی کہ کم جونگ اُن کے اقتدار میں آنے سے کِم خاندان کا اقتدار ختم ہو جائے۔ بیوروکریسی اور فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں میں اختیارات کی رسہ کشی ہو جائے گی اور شمالی کوریا بالآخر جنوبی کوریا کے زیر تسلط آ جائے گا۔
البتہ کچھ لوگوں کو امید تھی کہ سوئٹزرلینڈ سے تعلیم یافتہ نوجوان کِم جونگ اُن اصلاحات متعارف کرائیں گے اور ملک کو عالمی تنہائی سے نجات دلائیں گے۔
سیول کے ایک بینکار چونگ بونگ ہوان نے 2011 میں نیوز ایجنسی یانہیپ کو بتایا تھا کہ بیرون ملک تعلیم کے دوران ان کی عالمی معیشت میں دلچسپی پیدا ہوئی ہو گی۔
ابتد میں کم جونگ اُن اپنے والد کی طرح فوجی مشقوں کو دیکھتے ہوئے نظر آتے تھے۔ انھوں نے ابتدا میں اپنے والد کے مشیروں کو بھی اپنے ساتھ رکھا۔
لیکن وقت گذرنے کے ساتھ نوجوان رہنما نے اپنے رنگ جمانا شروع کیا اور اپنے قریب لوگوں کو بدل دیا۔
کم جونگ اُن نے 2013 میں اپنے چچا جنگ سونگ تھیک کو ہلاک کر دیا جنہیں ملک کی معاشی پالیسیوں کا معمار تصور کیا جاتا تھا۔
کم جونگ اُن نے 2013 میں ملکی معیشت اور ملک کے جوہری نظام پر توجہ دینی شروع کی۔ معیشت اور جوہری پروگرام پر توجہ کی پالیسی کو ”بائیونجن" پالیسی کا نام دیا گیا۔.
شمالی کوریا کی معیشت 2015 اور 2016 میں قدرے بہتر ہوئی۔ لیکن اگلے برس میزائیلوں اور جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ کیے گئے تو شمالی کوریا کو ایک بار پھر عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ معیشت کا پہیہ ایک بار پھر رک گیا۔
ان حالات میں کم جونگ اُن نے سفارت کاری پر توجہ مرکوز کی اور 2018 اور 2019 میں انھوں نے امریکہ، جنوبی کوریا، چین اور روس کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملے تو وہ شمالی کے پہلے ایسے رہنما تھے جس نے کسی امریکی صدر سے ملاقات کی ہو۔
امریکی صدر سے ملاقات کے اچھے نتائج برآمد نہ ہوئے اور شمالی کوریا نے ایک بار پھر میزائیل اور جوہری ہتھیاروں کے ٹسیٹ شروع کر دیئے۔
کورونا کی وبا کے دوران شمالی کوریا سمیت ساری دنیا کی سرحدیں بند ہو گئیں۔
اپنے پیش رووں کے سایے سے باہر آتے ہوئے
کم جونگ اُن اپنے دور اقتدار میں زیادہ عرصہ اپنے اسی نظام میں کام کیا جو اس کے پیش رووں نے تیار کر رکھا تھا۔ ایسا کرنا قابل فہم تھا کیونکہ جب کِم جونگ اُن اقتدار میں آئے تو وہ ناتجربہ کار تھے۔
لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے حکمران جماعت ورکرز پارٹی، فوجی اور انتظامی شعبوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ وہ 2019 میں باضابطہ طور ملک کے حکمران بن گئے۔
کم جونگ اُن شمالی کوریا کے سپریم لیڈر ہونے کے باوجود ان کا درجہ باپ کم جونگ اِل اور دادا کم اِل سونگ سے کم ہے۔
کم جونگ اُن کے باپ اور دادا کی سالگرہ قومی سطح پر منائی جاتی ہے جبکہ ابھی تک کسی کو کِم جونگ اُن کی سالگرہ کے دن کا بھی معلوم نہیں ہے۔
جنوبی کوریا کے پبلک براڈکاسٹر کے بی ایس نے شمالی کوریا کا جو سرکاری کیلنڈر حاصل کیا ہے اس کے مطابق سالگرہ منانے کا موجودہ طریقہ 2022 تک چلتا رہے گا۔ ابھی تک کم جونگ اُن کی سالگرہ قومی کیلنڈر میں درج نہیں ہے۔
رواں برس جنوری میں پارٹی کانگریس نے انہیں پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا۔ یہ عہدہ ان کے والد کے پاس تھا جو وفات کے بعد بھی ’ایٹرنل (ابدی) سیکرٹری جنرل‘ کے عہدے پر فائز ہیں۔ "
کم جونگ اُن اقتدار کے ابتدائی سالوں میں ملک کے انتظامی شعبے سٹیٹ افیرز کمیشن کے چیئرمین کہلاتے تھے لیکن اب انھیں اسی شعبے کا صدر کہا جاتا ہے۔ ".
جنوبی کوریا نیشنل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کے مطابق کم جونگ اُن اب اپنے دادا کم اُل سونگ اور باپ کم جونگ اِل کی طرح اپنی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کے نیشنل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ نے اکتو بر میں پارلیمنٹ کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ اب شمالی کوریا میں ’کِم ان سونگ ازم " اور ’’کِم جونگ اِل ازم" کی طرح اب ’کِم جونگ اُن ازم " کی ترویج ہو رہی ہے۔
جنوبی کوریا کی یونیفکیشن منسٹری کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ کم جونگ اُن نے اپنے دادا اور باپ کے برابر سیاسی رتبہ حاصل کر لیا ہے۔
لیکن کم جونگ اُن کے ابھی تک باپ اور داد رتبے تک پہنچنے میں صرف ایک چیز کی کمی ہے۔ ابھی تک کسی کو ان کی یوم پیدائش کا علم نہیں ہے۔ اب جب انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے ، بظاہر لگتا ہے کہ وہ جلد ہی ان کے سیاسی ورثے کو باپ اور دادا کی سطح پر لانے کے لیے ان کی سالگرہ بھی منائی جانا شروع ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟
کِم جونگ اُن کا وزن کم ہونے پر شمالی کوریا کے عوام ’پریشان‘
’جنگی ہیروئن‘ اور کم جونگ اُن کی دادی
ایک عشرے بعد شمالی کوریا کہاں کھڑا ہو گا؟
کم جونگ اُن نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے لیکن ملک اب بھی نازک دور سے گذر رہا ہے۔
شمالی کوریا پر عالمی پابندیوں اور کورنا کی وبا کی وجہ سے ملکی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے۔
جنوری میں پارٹی کی آٹھویں کانگریس کے اجلاس کے بعد ملک کو درپیش معاشی مسائل کو سرکاری میڈیا پر اجاگر کیا جاتا ہے۔
کم جونگ اُن پہلی بار ناکامی کو تسلیم کیا کہ 2016 میں جاری ہونے والی پانچ سالہ منصوبے کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔ اب سرکاری میڈیا پر اگلے پانچ سالہ منصوبے کے اہداف کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کم جونگ آن نے تمام اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ انیس سو نوے کی طرح ایک بار پھر مشکل ’مارچ‘ کریں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ معاشی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہوں لیکن کووڈ کی وجہ سے تجارت میں رکاوٹیں اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اقتدار کے دس برس کے مکمل ہونے پر کم جونگ آن کے زیادہ مسائل اندرونی ہیں لیکن سکیورٹی اور سفارت کاری بھی اہم ہیں۔
معاشی مشکلات کے باوجود شمالی کوریا میں ہتھیاروں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔
شمالی کوریا کے عالمی سطح پر رابطوں میں بہتری کا امکان کم ہے۔ ایسی صورتحال میں شمالی کوریا کو اپنے اتحادیوں، روس اور چین سے امداد مانگنی پڑ سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کی موجودہ انتظامیہ کو اب بھی امید کہ دونوں ملکوں کے مابین رابطے بحال ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے کم جونگ اُن سے ملاقات میں بظاہر کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
رواں ماہ ورکرز پارٹی کی کانگریس میں کم جونگ اُن کی ترجیجات کا شاید کچھ اندازہ ہو جائے۔
شمالی کوریا پر نظر رکھنے والوں ورکز پارٹی کی کانگریس پر خصوصی نظر ہو گئی کیونکہ ایک عشرے سے اقتدار پر براجمان ایک اور ’گریٹ لیڈر‘ کی مشہوری شروع ہو سکتی ہے۔


