کہنے کو بہت کچھ ہے مگر
اسلاموفوبیا کیا ہے؟
جس دن سے سری لنکن شہری کیا بہیمانہ قتل ہوا تب سے اسی موضوع پر مختلف چینلز پر ٹاک شوز کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک میں نے بہت سے پروگرام دیکھے ہیں جن میں سے ہر ایک کو تو زیر بحث لانا ممکن نہیں مگر چند ایک چنیدہ نکات کا ذکر کروں گا، اور اس اہم نکتے کا جس کی وجہ سے ٹاک شوز کا ذکر کیا، ان میں دو ایک اہم باتیں کچھ یوں ہوئیں کہ ”ہم“ چینل پر اینکر ثمر عباس نے کہا کہ اگر قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو سزائیں دی جائیں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے۔
جس پر مہمان علی نواز نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی تھی نا! تو کیا یہ سلسلہ رک گیا؟ یعنی ان کے مطابق۔ روئیے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، سزاؤں سے نہیں سلسلہ رکنے والا۔ یہ بڑا اہم نکتہ ہے جو علی نواز نے پیش کیا۔ کیونکہ عدالتیں اور قانون کی پاسداری تو یورپ امریکہ میں بھی ہے مگر کیا وہاں جرم نہیں ہوتا؟ یقیناً ہوتا ہے! مگر فرق نوعیت کا۔ اگلا اہم نکتہ اسی سے جڑا ہوا جو مہر بخاری نے اپنے پروگرام میں کلپس کے ساتھ دکھایا جس میں شیخ رشید صاحب بڑے جذباتی انداز میں ایسے ہی جملے فرما رہے ہیں کہ میں رسول کی گستاخی کرنے والوں کو آگ لگا دوں گا، پورا ملک جلا دوں گا وغیرہ وغیرہ۔
تو مہر بخاری کہتی ہیں کہ جو نمونہ قوم کو دکھایا اور جو جذبات ہمارے لیڈران نے قوم کو دکھائے، وہی کچھ کر دکھایا عوام نے، تو اب افسوس اور حیرت کس بات کی؟ کل تک شیخ رشید خود اس طرح کی تقریریں کرتے تھے اور آج منہ بسورے افسوس کا اظہار کر رہے ہیں تو اس منافقت پہ حیرت ہی ہو سکتی ہے (منافقت کا لفظ مہر بخاری نے نہیں استعمال کیا) ۔
اب اس بات کی طرف چلتے ہیں اس بات کی طرف جس کا کسی بھی پروگرام میں کسی بھی اینکر نے ذکر تک نہیں کیا جو اتنی اہم بات تھی کہ اگر اس چیز کا وجود ہی نہ ہوتا اس جگہ پہ تو اس واقعہ کا ہونا ناممکن تھا۔ وہ یہ کہ میں نے جتنے پروگرام دیکھے، مجال ہے کہ کسی اینکر نے بھی یہ سوال اٹھایا ہو کہ فیکٹری کی مشینوں پر مذہبی اسٹیکرز کا کیا کام تھا؟ یعنی اگر وہاں پہ نہ ہوتا اسٹیکر تو نہ کسی کی جان جاتی، نہ کسی کو اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے مذہب کی آڑ لینے کا موقع ملتا۔ لیکن کیا ہے کہ سب کو اپنی جان کے ساتھ ساتھ کیریئر کی بقاء بھی ضروری ہے تو پھر ایسا سوال کوئی کرے کیوں؟
سوال یہ ہے کہ ہر جگہ، ہر شعبہ زندگی میں اپنے عقیدے (مذہب) کو گھسانا ہم نے ہی ضروری سمجھ رکھا ہے؟ کیا دنیا میں اور کوئی مذہب نہیں یا کسی مذہب کو ماننے والوں کا اس روئے زمین پر وجود نہیں؟ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے لوگ بھی ذہنی پستی کا ہی شکار ہیں، خواہ کھیل کا میدان ہو، میڈیا ہاؤسز کے اینکرز ہوں یا بڑے بڑے فلاسفر، پروفیسر یا سیاستدان ہوں، دفاتر میں، فیکٹریوں میں سبھی اس واہمے اور خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ ہم نے ہر جگہ کو جائے نماز بنایا ہوا ہوتا ہے، دفاتر، دکانیں، فیکٹریاں حتیٰ کہ اکثر لوگ سڑکوں پر بھی نمازیں پڑھتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ آپ نے کبھی بھی کسی بھی اور مذہب کے ماننے والے کسی شخص کو دفتری اوقات میں، دکان میں، سر راہ اپنے مذہبی فرائض (نماز) ادا کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔
حال ہی میں ہوئے واقعات کا اگر ذکر کریں تو ایک کرکٹر نے گراؤنڈ میں نماز پڑھی اور بڑے میچور سابق فاسٹ باؤلر وقار یونس صاحب نے پہلے ایسے کمنٹس کیے کہ ہندؤوں کے سامنے گراؤنڈ میں نماز پڑھ کے رضوان نے بہت اچھا کیا۔ پھر جب ہر طرف سے مذمت کی گئی تو وقار صاحب کو معافی بھی مانگنا پڑی۔ ذرا سوچیں کہ آج تک کبھی کسی بھی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے کرکٹر نے گراؤنڈ میں آ کر اپنا کوئی مذہبی فریضہ ادا کیا ہو؟ کبھی کسی کرکٹر نے دو چار وکٹیں لے کر وہیں پچ پر سجدہ ریزی کی ہو؟
میں نے اپنی زندگی میں آج تک کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا سوائے اپنے مایہ ناز کرکٹرز کو۔ تو اس موقع پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سجدے تو ہم کرتے رہ گئے اللہ کو، نمازیں تو ہم پڑھتے رہ گئے گراؤنڈ میں بھی لیکن یہ کیا کہ فائنل میچ کے فاتح بوٹ میں شراب پینے والے قرار پائے، ایسا کیوں؟ کیا ہمارے سجدوں میں اثر نہیں یا اللہ ہماری نمازوں کو قبول نہیں کرتا؟ خیر! کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے (اللہ کی بارگاہ میں ) ۔
بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی اس لیے مختصراً حاصل گفتگو کی طرف آتے ہیں ؛ اسلاموفوبیا وہ نہیں جو تعریف دنیا کے سامنے کی جاتی ہے یعنی ہمارے ہاں یہ سمجھا اور لوگوں کو بارور کرایا جاتا ہے کہ دنیا اسلام یا مسلمان مخالف ہے جبکہ ایسا نہیں بلکہ دنیا تو ہر انسان سے بلا تفریق ایک جیسا سلوک کرتی ہے مگر ہم کچھ انوکھے لاڈلے والا سلوک کے متمنی ہیں کہ ہم جو مرضی کریں لیکن جیسا سلوک ہم دنیا کے ساتھ کریں ویسا سلوک ہمارے ساتھ نہ کیا جائے، اور اگر دنیا ویسا ہی سلوک کرے تو ہمیں وہ اسلاموفوبیا لگتا ہے۔
کیونکہ ہم سارے حقوق مسلمانوں کے لئے ہی مختص سمجھتے ہیں، جیسا کہ دیگر غیر مسلم ممالک میں جا کر تبلیغ مسلمان کا حق ہے مگر کسی بھی اسلامی ملک میں آ کر کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کرے۔ دیگر مذاہب کی لڑکیوں سے شادی یا جبری مسلمان بنانا ہمارا حق ہے مگر کسی کو لڑکی دینا ہمیں اجازت نہیں (جیسا کہ عمران خان نے ایک یہودی لڑکی سے شادی کی تھی، کیا ہمارے ہاں کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ کوئی یہودی یہاں سے کسی مسلم لڑکی سے شادی کر کے لے جائے۔ توبہ توبہ) ۔ دیگر ممالک میں نیشنلٹی لینا، وہاں بزنس کرنا، جائیدادیں بنانا ہمارا حق ہے، مگر کسی غیر مسلم کو نام نہاد اسلامی ممالک میں یہ سب کچھ کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔
تو آخر میں مدعا یہی ہے کہ اسلاموفوبیا وہ نہیں جو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ دنیا یہ چاہتی ہے کہ جس طرح کا سلوک چاہتے ہو کہ آپ کے ساتھ کیا جائے ویسا ہی سلوک دوسروں سے روا رکھو۔ تو یقین مانیں جس دن انصاف پہ مبنی اصول اپنا لو گے آپ کو اسلاموفوبیا جیسا تصور کہیں نظر نہیں آئے گا۔


