بہاول پور پہ پشتونوں اور بلوچوں کی یلغار


سٹریس، ڈپریشن، انگزائٹی، ادویات اور ہسپتال سے دور رہنے کے لیے میں نے کئی سالوں سے روزانہ واک کو اپنی زندگی کے معمولات کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ طویل واک کے دوران میں راستے میں آنے والے کسی نہ کسی ڈھابہ پہ سستانے کے لیے بیٹھتا اور ایک کپ چائے پیتا ہوں۔ واک کے دوران پیاس لگتی ہے تو کسی قریبی جنرل سٹور سے منرل واٹر کی چھوٹی بوتل خرید لیتا ہوں۔ گزشتہ دنوں منرل واٹر کی پانی کی چھوٹی بوتل خریدی تو اس میں سبز رنگ کی کائی کے بہت سارے ذرات تیر رہے تھے۔

دکاندار سے پوچھا، یہ کیا ہے؟ اس نے شرمندہ ہونے کی بجائے جواب دیا ”میں تو ڈسٹری بیوٹر سے منگواتا ہوں، آپ کو تبدیل کر دیتا ہوں“ ۔ واک کے لیے گھر سے نکلتا ہوں تو پارک تک پہنچنے سے پہلے مجھے تکلیف سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ستر کی دہائی میں حکومت نے انگلینڈ کی ٹاؤن پلاننگ کی طرز پہ بہاول پور میں ایک ٹاؤن بنایا تھا۔ اس میں سڑکوں اور ان کے اردگرد کی جگہ کے لیے کہیں سو فٹ اور کہیں ساٹھ فٹ کی چوڑائی مختص

کی تھی۔ میرے گھر کے قریب ایک سرکاری جگہ چھوٹا پارک بنانے کے لیے مخصوص تھی۔ سرکاری اداروں میں کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے ایک محکمہ میں اعلٰی عہدہ پہ فائز ایک بڑے افسر کی اس پہ نظر پڑی تو پہلے وہاں چار دیواری بنا کے ایک اسکول کا بورڈ لگایا گیا اور پھر کوٹھیاں اور بنگلے بنا دیے گئے۔ پارک کی جگہ کے ساتھ جو سرکاری سڑک لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کئی دہائیوں سے چلی آ رہی تھی وہ جنگلہ والا گیٹ لگا کے بند کر دی۔

یہ دیکھتے ہوئے دیگر لوگوں نے بھی اپنی اپنی گلیوں کے آگے جنگلہ والے گیٹ لگا دیے۔ عوام پریشان ہوئے اور احتجاج کیا تو علاقہ کا کونسلر بہاول پور میونسپل کارپوریشن کا عملہ لایا جو گیٹ اکھاڑ کے لے گیا۔ سرکاری اداروں میں کرپشن کو کنٹرول کرنے والا افسر ہوٹر والی سرکاری گاڑی میں میونسپلٹی کے آفس گیا اور عملہ کو کہا تم لوگ چھوٹی چھوٹی مالی بدعنوانیوں میں ملوث تو رہتے ہو، کیا خیال ہے تم سب کو کرپشن کے الزام میں گرفتار نہ کر لیا جائے؟

عملہ نے اسی وقت وہ گیٹ اٹھایا اور واپس اسی سڑک پہ جا کے لگا آئے۔ وہ افسر ریٹائر ہو گیا۔ سڑک پہ بنے ان بنگلوں اور کوٹھیوں میں ایک میں فیصلے سنانے والے ادارے کا بڑا عہدہ دار آ کے بیٹھ گیا کہ اس کے خلاف بولنے پہ توہین کے جرم میں جیل جانا پڑتا ہے۔ سامنے والے بنگلے میں بھی ایک حساس اور طاقتور ادارے کا افسر رہتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کراچی رجسٹری میں حکم دیا تھا کہ سرکاری سڑکوں پہ جنگلہ والے گیٹ لگا کے عوام کی آمد و رفت کو روکنا جرم اور غیر قانونی ہے لیکن کس میں ہمت ہے کہ بہاول پور شہر میں جگہ جگہ گلیوں میں لگے ان آہنی دروازوں کو ہٹا سکے۔

میونسپلٹی والوں اور دیگر چھوٹے سرکاری اہلکاروں نے اپنی نوکریوں سے ہاتھ تو نہیں دھونے۔ واک کے لیے پارک تک پہنچنے کے لیے قبرستان کے ساتھ واقع ایک تنگ راستہ سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ٹریفک کا انتہائی رش ہوتا ہے۔ آٹھ دس سال کے بچے موٹر سائیکل یہاں تک کہ گاڑیاں انتہائی تیز رفتاری سے چلا رہے ہوتے ہیں۔ وہاں سے کسی نہ کسی طرح گزر جاتا ہوں تو پارک سے پہلے سڑکوں کے ارد گرد حکومت نے جو سافٹ اور ساٹھ فٹ چوڑائی کی جگہ مختص کی ہوئی ہے تاکہ وہاں کبھی ون وے روڈ یا گرین بیلٹ بنانا پڑ جائے یا پیدل چلنے والے بھی آرام سے گزر جائیں لیکن کیا کیا جائے کہ ”اہل ایمان“ اور ”لبرلز“ دونوں نے ان جگہوں پہ اپنے گھروں کے آگے چاردیواری دے کر اس جگہ کو اپنے گھروں کا باقاعدہ حصہ بنا کے گیٹ لگائے ہوئے ہیں اور انتہائی رش والی ٹریفک میں پیدل گزرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

آپ کہو گے اکبر شیخ اکبر تم متعلقہ اداروں سے بات کیوں نہیں کرتے؟ ارے بھئی! لگتا ہے آپ جسمانی طور پہ پاکستان اور ذہنی طور پہ سیکنڈے نیویا ممالک میں رہتے ہو۔ روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ وہاں سے ججز، بیوروکریٹس اور انتہائی طاقتور اداروں کی سرکاری گاڑیاں گزر رہی ہوتی ہیں۔ خیر۔ چھوڑیں، آپ بھی کہیں گے میں نے اپنی ”لایعنی“ باتوں سے آپ کو کس چکر میں ڈال دیا۔ آپ بھی میری طرح صبح شام بڑھکیں اور پروپیگنڈا سنا کرو کہ فلاں فلاں ملک اور فلاں سپر پاور ہم سے ڈرتے ہیں۔ فلاں سپر پاور کے ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔

پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے، ہمیں اس سے حقیقت میں سچ مچ کا پیار ہے لیکن اس ملک میں رہتے ہوئے ذہنی اذیتوں اور بے سکونی سے بچنا ہے تو تھوڑا ”ڈھیٹ“ ہو کر رہو ورنہ پھر مرغ بسمل کی طرح تڑپتے رہو۔ بات کہاں سے چلی اور کہاں پہنچ گئی۔ واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ 14 دسمبر 2021 کی بات ہے واک کے دوران مجھے بھوک لگی۔ خواہش ہوئی آج تڑکا والی دال کھاؤں۔ واک تھوڑا سا طویل ہو جاتی ہے ایک جگہ ایک چھوٹا سا ڈھابہ ہے اردگرد طلباء کے درجنوں پرائیویٹ ہوسٹلز اور کار و موٹر سائیکل ورکشاپیں ہیں۔

ڈھابہ والا تین قسم کی دالیں بناتا ہے۔ ماش، مونگ اور چنوں کی دال۔ آرڈر پہ ایک چھوٹی سی کڑاہی میں تھوڑا گھی ڈال کے اس میں ہری مرچ کے ٹکڑے اور ہرا دھنیا ڈالتا ہے۔ پھر دال ڈال کے اوپر کالی مرچ اور گرم مصالحہ کا چھڑکاؤ کر کے فرائی کر دیتا ہے۔ وہاں چلا گیا۔ فرائی دال اتنی لذیذ تھی کہ ساتھ پانچ تندوری چپاتیاں کھا گیا۔ ڈھابہ والے کو کہا، بھائی! گزشتہ سردیوں میں آپ کے پاس دال فرائی کھانے آتا تھا تو آپ ساتھ ہری مرچ اور پودینہ کے رائتہ اور سلاد کے ساتھ اچار بھی دیتے تھے، اس بار اچار نہیں دیا تو اس کا جواب تھا، ”سر! پنجاب فوڈ اتھارٹی والوں نے ہمیں دال کے ساتھ اچار دینے سے منع کر دیا ہے۔ ہم مجبور ہیں ورنہ آپ کو اچار ضرور سرو کرتے۔“

کھانا کھا کے ڈھابہ کے قریب واقع ٹی اسٹال پہ چلا گیا۔ ٹی اسٹال کے باہر درجنوں کرسیاں اور لکڑی کے بنچ پڑے ہوتے ہیں۔ قریب ہی شہر کی مرکزی سڑک پہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بسوں کا سٹاپ ہے۔ حال ہی میں وائس چانسلر نے میڈیا کو بتایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی میں میل فیمیل طلباء کی تعداد باون ہزار ہو چکی ہے۔ (راقم سوچ رہا تھا کہ جب یہ باون ہزار طلباء ڈگریاں لے کے باہر آئیں گے تو کیا ان سب کو نوکریاں بھی مل جائیں گی؟

دوسرا مسئلہ یہ رپورٹ ہو رہا ہے کہ یونیورسٹی پہنچ جانے والی لڑکیاں خود کو اعلٰی تعلیم یافتہ سمجھنے کے زعم میں اپنے مڈل، میٹرک پاس کزن کے ساتھ شادی سے انکاری ہیں چہ جائیکہ وہ اچھا کاروبار کرتا ہے اور ان کے سارے ناز نخرے اٹھا سکتا ہے۔ لڑکی اب اپنے ہم پلہ تعلیم یافتہ ”جانو“ کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے اور جانو ماسٹرز کی ڈگری لیے جاب کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے۔ نہ جاب ملے گی نہ شادی ہو گی۔ خیر۔ دانا کہتے ہیں اپنی شادی کی فکر کرو، دوسروں کی شادی کا سوچ سوچ کے اپنا سر گنجا نہ کرو۔ )

سرد شام زمین پہ اترنا شروع ہو گئی تھی۔ ٹی اسٹال کے قریب واقع پوائنٹ پہ یونیورسٹی کی بسیں آ کے رکیں اور سینکڑوں پشتون اور بلوچ طلباء ان سے اترے۔ کچھ تو اس جگہ پہ واقع پرائیویٹ ہوسٹلوں میں اپنے کمروں میں چلے گئے اور کچھ ٹی اسٹال پہ آ کے بیٹھ گئے۔ کوئی پشتو بول رہا تھا، کوئی بلوچی، کوئی براہوی اور کوئی سندھی زبان۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مجھے بتا یا تھا کہ پنجاب حکومت کے سکالر شپ پہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں باہر سے آنے والے پشتون اور بلوچ طلباء کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

ان طلباء کے یہاں آنے سے اب ان کے خاندان بھی یہاں شفٹ ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے بچے مقامی انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ پہلے ان لوگوں نے کرایہ پہ مکانات لیے، اب ان میں سے کئی خاندانوں نے اب ذاتی مکان خرید لیے ہیں۔ تقریباً اکیس سال پہلے میں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہا ول پور میں ماس کمیونیکیشن فائنل ائر کا امتحان دیا تو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے مجھے ایک بڑے اخبار کے نام ایک آفیشل لیٹر دیا اور کہا اب فلاں شہر میں جا کے اس اخبار کے دفتر میں دو ماہ کی انٹرن شپ کر کے آؤ۔

مجھے سفری بیگ خریدنا تھا۔ شہر کے مرکزی علاقہ فرید گیٹ کے پاس فٹ پاتھ پہ سفری بیگ بیچنے والے ایک پٹھان بھائی سے ڈیڑھ سو روپے کا بیگ خریدا جو میرے پاس بیس سال تک رہا۔ ٹھیک اسی جگہ اسی فٹ پاتھ کے کنارے پہ پلازہ بنا جہاں دکاندار باہر سے آنے والے پشتون بھائی ہیں۔ قریب ایک پلازہ بنا وہاں وزیرستان کے پشتون بھائیوں نے دکانیں لے لیں۔ بہاول پور کے تقریباً ہر قابل ذکر بازار اور مارکیٹوں میں آپ کو باہر سے آنے والے پشتون دکاندار ملیں گے۔ اب باہر سے آنے والے بلوچ طلباء کے رشتہ داروں نے بھی بہاول پور میں اپنے کاروبار شروع کر دیے ہیں۔ جلد ہی بہاول پور، کراچی اور اسلام آباد کے بعد تیسرا اہم Diversified Multi-Culture City بننے جا رہا ہے۔ بہاول پور میں اس وقت دو طرح کے پشتون اور بلوچ آباد ہیں۔ ایک وہ بلوچ جو ریاست آباد ہونے سے بھی بہت پہلے اپنے مویشی چراتے چراتے صحرائے چولستان پہنچ چکے تھے اور بعض ستلج دریا کے قریب آباد ہو گئے۔ کچھ بلوچ قبائل عباسی نوابین کے ساتھ سندھ اور سندھ کے ساتھ لگنے والے بلوچستان کے علاقوں سے نئی بننے والی ریاست بہاولپور میں آ کے آباد ہو گئے۔ یہ بلوچ سرائیکی زبان بولتے ہیں اور مقامی سرائیکی پنجابی کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں۔

دوسرے وہ بلوچ جو بلوچی، براہوی اور سندھی زبانیں بولتے ہیں اور ان کے لباس خصوصاً شلوار کی ڈیزائننگ بہاول پور کے مقامی پرانے بلوچوں سے مختلف ہے۔ یہ نئے والے بلوچ ان طلباء کے ساتھ یہاں آ کر آباد ہو رہے ہیں۔ ایک وہ پٹھان ہیں جو کم و بیش پانچ صدیاں قبل افغانستان او ر پشتون علاقوں سے ملتان آ کر آباد ہوئے اور انھوں نے ملتانی سرائیکی زبان اور ملتانی کلچر کو اپنا لیا۔ تقریباً دو صدیاں قبل یہ لوگ عباسی نوابوں کی دعوت پہ ملتان سے بہاول پور آ کے آباد ہو نا شروع ہوئے۔ دوسرے وہ پشتون ہیں جو گزشتہ چند سالوں سے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے والے پشتون طلباء کی وجہ سے یہاں آ رہے ہیں اور اب انھوں نے اس شہر میں اپنے مستقل کاروبار شروع کر دیے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ نئے آنے والے بلوچ جو بلوچی، براہوی اور سندھی زبانیں بولتے ہیں اور نئے آنے والے پشتون جو پشتو زبان بولتے ہیں یہ لوگ چند سالوں بعد بہاول پور سے واپس چلے جائیں گے؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ ”نہیں، یہ لوگ واپس نہیں جائیں گے بلکہ ان کے مزید خاندان یہاں آئیں گے۔“

راقم کو ان کے بہاول پور میں آباد ہونے پہ قطعاً کوئی اعتراض نہیں۔ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں۔ ان کا بھی حق ہے کہ وہ پاکستان کے جس خطہ اور علاقہ میں آباد ہونا چاہیں، کاروبار کرنا چاہیں ان کو اس کی اجازت اور اختیار ہے۔ نئے آنے والے بلوچ اور پشتون ہمارے بھائی ہیں اور یہ بہت پیارے لوگ ہیں۔ میرا خدشہ صرف یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہو جائے گا کہ مستقبل میں بہاول پور میں بھی جسے اب تک پاکستان کے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ پرامن شہر کا درجہ حاصل ہے قومیت اور علاقائیت کی سیاست شروع ہو جائے گی جو شہر کے امن کو دیمک کی طرح کھا جائے گی؟

پشتون علاقوں میں پشتون قومیت کے نام پہ سیاست کرنے والی ایک سیاسی جماعت نے بہاول پور پریس کلب کے باہر بھی اپنا مظاہرہ کر ڈالا۔ بہاول پور میں پڑھنے کے لیے آنے والے بلوچ اور پشتون طلباء اور ان کے آباد ہونے والوں خاندانوں اور تاجروں سے میری صرف یہ اپیل ہے کہ آپ نے قومیت، علاقائیت اور زبان کے نام پہ سیاست کرنے والی جماعتوں کا کبھی بھی حصہ نہیں بننا۔ آپ پشتو، بلوچی، براہوی اور سندھی بولتے ہیں لیکن بہاول پور میں رہتے ہوئے آپ نے صرف اور صرف ایسی مین سٹریم سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہونا ہے جو پورے ملک میں اپنی جڑیں رکھتی ہیں جیسے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف۔ اگر یہاں بھی بنارس، کٹی پہاڑی، لانڈھی، ملیر اور لیاری جیسی سیاست شروع ہو گئی تو اس شہر کی خوبصورتی اور صدیوں سے چلا آنے والا امن گہنا جائے گا اور پھر پرانی آبادی اور نئے آباد ہونے والے دونوں ہی برباد ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS