مظلوم کون، عورت یا مرد؟

اس سال بھی عورت مارچ کا موسم گزر گیا، ان دنوں اس موضوع پر لکھنے کا بڑا من تھا مگر وقت اور حالات کے پیش نظر لکھ نہ پایا، اتفاق سے آج پھر (ہم سب) پر ایک خاتون کی گلوں شکووں سے بھرپور تحریر دیکھی تو لکھنے بیٹھ گیا۔ دیر سے لکھنے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مزید کچھ مشاہدات کا بھی موقع مل گیا، جیسا کہ عورت مارچ کے بعد بھی ہماری کچھ لکھاری خواتین نے جی بھر

Read more

اور کیا جرم ختم ہو گیا؟

چور مچائے شور وزیر اعظم عمران خان صاحب کو دیکھتے ہی مرزا غالب کا ایک شعر یاد اتا ہے کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی یوں تو پاک و ہند میں مذہب کارڈ کھیلنا سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے مگر خان صاحب کو کچھ خاص دسترس حاصل ہے۔ خان صاحب جانتے ہیں کہ عوام کی کس رگ کو دبا کر حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر کشمیر کا

Read more

اور کیا جرم ختم ہو گیا؟

میں نے اپنے ایک کالم میں ایک ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا جس میں اینکر ثمر عباس مہمان علی نواز سے سوال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر مجرم کو بروقت سزا دی جائے تو ایسے واقعات نہ رونما ہوں، جس پر علی نواز صاحب فرماتے ہیں کہ سلمان تاثیر کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی، تو بعد ازاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا؟ زینب کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی،

Read more

ہمارے جذباتی رویے

انہی دنوں اسی سائٹ (ہم سب) پر دو ایک کالم (کفار کی ٹیلی سکوپ اور کرسمس وش کرنا) پڑھے اور یہ دیکھ کر کچھ اطمینان ہوا کہ وطن عزیز میں کچھ اہل عقل لوگوں کا وجود ابھی باقی ہے ورنہ تو کند اور متعصب ذہنیت اور سونے پہ سہاگہ خوش فہمیوں کی شکار عوام کی اتنی بہتات ہے کہ سچ بولنے یا سننے والوں کا وجود ناپید لگتا ہے۔ کیونکہ یہاں سچ بولنا یا حقیقت بیان کرنا ایسا ہے کہ

Read more

کہنے کو بہت کچھ ہے مگر

اسلاموفوبیا کیا ہے؟ جس دن سے سری لنکن شہری کیا بہیمانہ قتل ہوا تب سے اسی موضوع پر مختلف چینلز پر ٹاک شوز کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک میں نے بہت سے پروگرام دیکھے ہیں جن میں سے ہر ایک کو تو زیر بحث لانا ممکن نہیں مگر چند ایک چنیدہ نکات کا ذکر کروں گا، اور اس اہم نکتے کا جس کی وجہ سے ٹاک شوز کا ذکر کیا، ان میں دو ایک اہم باتیں کچھ یوں

Read more

کہنے کو بہت کچھ ہے مگر۔ ۔ ۔

اسی کی دہائی میں امیتابھ بچن اور ریکھا کی ایک مووی ”سلسلہ“ کے ایک گانے میں اشعار کچھ یوں تھے ”۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کس سے کہیں، کب تک یونہی خاموش رہیں اور سہیں ہم۔“ یعنی شاعر بالآخر باغیانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ (میرا خیال ہے کہ اس بات کو بھی وہ لوگ زیادہ انجوائے کر سکیں گے جنہوں نے یہ گانا سنا ہوا ہے، اور جنہوں نے نہیں سنا وہ ایک دفعہ سن لیں تو

Read more