سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور
میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔
چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن بہت کم ایسے ہیں جو سلمان اختر کی طرح نفسیاتی شاعری کرتے ہیں۔ سلمان اختر چونکہ ماہر نفسیات بھی ہیں اور مہاجر بھی اس لیے وہ مہاجروں کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے مسائل اور تضادات کو بڑے احسن طریقے سے اپنی شاعری میں رقم کرتے ہیں۔
میں اپنے موقف کی وضاحت میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں تا کہ آپ کے دل میں ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے کا اشتیاق پیدا ہو۔
اگر آپ کبھی شمالی امریکہ میں رہنے والے مہاجر خاندانوں کے جوڑوں سے ملیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ان میں سے ایک امریکہ میں رہنا چاہتا ہے دوسرا واپس پاکستان جانا چاہتا ہے ایک کینیڈا میں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتا ہے دوسرا مصر ہے کہ کینیڈا میں بچوں کا اخلاق خراب ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان میں مذہبی ماحول میسر آئے گا۔ دونوں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہتے ہیں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں بعض کئی دفعہ پاکستان جا کر اور مایوس ہو کر واپس شمالی امریکہ آ جاتے ہیں لیکن پھر بھی خوش نہیں رہتے۔ ان میں سے ایک جب مر بھی جاتا ہے تو خاندان والے فیصلہ نہیں کر پاتے کہ اسے کینیڈا میں دفن کیا جائے یا اس کی لاش کو پی آئی اے کی اگلی پرواز سے پاکستان لے جا کر لاہور کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ان حالات اور تضادات کو سلمان اختر ایک غزل میں اس طرح پیش کرتے ہیں
لہر کا سر سے گزرنا بھی نہ دیکھا جائے
اور پانی کا اترنا بھی نہ دیکھا جائے
اس کو برداشت نہ تھی ایک خوشی بھی میری
جس سے اب میرا بکھرنا بھی نہ دیکھا جائے
جا بسوں اپنے وطن میں اسے منظور نہیں
میرا پردیس میں مرنا بھی نہ دیکھا جائے
دل پھٹا جاتا ہے جس کا مری بدحالی پر
اس سے ہی میرا سدھرنا بھی نہ دیکھا جائے
حوصلہ میرا بڑھانا نہیں آتا اس کو
میرا حالات سے ڈرنا بھی نہ دیکھا جائے
اس غزل میں سلمان اختر نے نفسیاتی مسائل کا شکار جوڑوں کی بڑے فنکارانہ انداز سے ترجمانی کی ہے۔
سلمان اختر ایسے مہاجروں کو جانتے ہیں جو پاکستان میں معاشی اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھے پھر وہ شمالی امریکہ آ کر معاشی طور پر خوش حال ہو گئے لیکن وہ زیادہ دیر خوش نہ رہ سکے کیونکہ انہیں نفسیاتی مسائل کی جو عادت پڑ گئی تھی وہ ان کی ذات کا حصہ بن چکی تھی جس سے وہ پیچھا نہ چھڑا سکے۔ سلمان اختر عقل اور دل کے تضاد کو یوں بیان کرتے ہیں۔
عقل نازاں ہے کہ آسودہ و خوشحال ہیں ہم
دل کو یہ ضد کہ چلو رنج و الم کو ڈھونڈو
آسودگی پہ اپنی پشیمان سے ہیں ہم
ہیں اتنے خوش کہ تھوڑے پریشان سے ہیں ہم
سلمان اختر اس نفسیاتی حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ بعض خاندان اتنا یاسیت اور احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں کہ یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے
اداس رہنے کی عادت نہیں گئی اب تک
یہ خاندانی روایت گئی نہیں اب تک
احمد فراز نے بھی سلمان اختر سے متفق ہو کر کہا تھا
رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں
سلمان اختر جانتے ہیں کہ انسان بیک وقت دو دنیاؤں میں زندگی گزارتا ہے۔ خارجی دنیا اور داخلی دنیا۔ باہر کی دنیا اور اندر کی دنیا۔ نفسیات کی دنیا اور سماج کی دنیا۔ بعض دفعہ انسان اپنی زندگی کے مسائل کے بارے میں خاموشی سے غور و خوض کرنا چاہتا ہے لیکن دوست رشتہ دار مصر ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسائل بتاؤ اور اگر وہ شخص نہیں بتاتا تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ تم ہم سے شکایت نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ انسان کو اپنے سب مسائل اپنے عزیزوں اپنے پیاروں اپنے دوستوں اپنے محبوبوں کو بتا دینا چاہئیں۔ سلمان اختر ایک ماہر نفسیات کے طور پر ایسے انسان کی نفسیات کی شاعرانہ وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
اپنے جذبات خموشی سے مجھے سہنے دو
پھل یہ کچے ہیں انہیں پیڑ پہ ہی رہنے دو
ایک دن میرے سمندر سے ملا دے گا مجھے
مجھ کو احساس کے دریا میں ابھی بہنے دو
سلمان اختر اس پرندے کی نفسیات سے واقف ہیں جسے پنجرے میں رہنے کی عادت ہو جاتی ہے اور اسے آزادی ملنے کے بعد بھی وہ یاد آتا رہتا ہے۔ وہ پنجرہ اسے واپس بلاتا رہتا ہے۔ کئی مہاجر اس قفس کو یاد کرتے رہتے ہیں جس سے وہ تنگ آ کر فرار ہوئے تھے۔ پہلے وہ رفیوجی بنتے ہیں اور ASYLUM مانگتے ہیں اور REFUGEE STATUS مل جائے تو واپس قفس میں جانے کا سوچتے ہیں
سچ پوچھیے تو ایسا برا بھی نہیں لگا
مدت کے بعد گر کبھی سوئے قفس گئے
سلمان اختر ہمیں بتاتے ہیں کہ جب مہاجر برسوں بعد اپنے آبائی گھر جاتے ہیں اور اپنے خاندان سے ملتے ہیں تو اس عرصے میں بہت سی بچیاں جوان ہو گئی ہوتی ہیں جو اب شرماتی ہیں قریب آنے سے ہچکچاتی ہیں اور دور دور سے سلام کرتی ہیں۔ یہ خیال میری نگاہ میں اردو شاعری میں نیا ہے
بہت سے جسموں کو چھو نہ پایا
جو بعد مدت کے گھر گیا میں
سلمان اختر انفرادی اور خاندانی نفسیات کے ساتھ ساتھ سماجی نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ چاہے وہ پہلی دنیا کے ہوں یا تیسری دنیا کے لوگ جب وہ گاؤں کے لوگ بڑے شہروں میں ہجرت کر کے آ جاتے ہیں تو ان کی نفسیات کیسے بدلتی ہے۔ فرماتے ہیں
اس بڑے شہر میں کچھ اور مہینے رہ لو
جس شرافت پہ تمہیں ناز ہے مر جائے گی
اک نئے روپ نئے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں
لوگ جب گھر سے نکلتے ہیں بدل جاتے ہیں
سلمان اختر ایسے نفسیاتی مریضوں کا علاج کرتے ہیں جو انہیں مختلف قسم کے خواب سناتے ہیں اور ان سے خوابوں کی تعبیریں پوچھتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر شاعر اور دانشور ہمراز بن جاتے ہیں اور لکھتے ہیں
یہ خودکشی کا خبط ہے یا تشنگی کا پھیر
اک جھیل مجھ کو خواب میں اکثر دکھائی دے
سلمان اختر مہاجروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کچھ وقت تنہائی میں اپنے ساتھ گزاریں اور ناسٹلجیا سے نبرد آزما ہوں تا کہ وہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر حال میں زندگی گزارنا سیکھ سکیں
اپنے بارے میں ذرا دھیان سے سوچا جائے
آج کا دن یونہی چپ چاپ گزارا جائے
دل کو کچھ ایسے مسلتی ہیں وطن کی یادیں
تولیہ نم کوئی جس طرح نچوڑا جائے
ایک غیر شاعرانہ لفظ۔ تولیے، کو غزل کے شعر میں اس خوبصورتی سے استعمال کرنا سلمان اختر کا ہی کمال ہے۔
سلمان اختر چونکہ ایک آزاد خیال انسان ہیں اس لیے وہ ایسے دوستوں کو جانتے ہیں جو روایتی مذہب کو پرانی روایت کی طرح پیچھے چھوڑ آئے ہیں لیکن پھر بھی ان کے رشتہ دار ان کو ہر روز تبلیغ کرنے اور راہ راست پہ لانے کے لیے آ جاتے ہیں۔ وہ ایسے تبلیغی جماعت کے دوستوں اور رشتہ داروں سے کہتے ہیں
اپنا مذہب بدل چکا ہے وہ
جس کو سمجھانے آئے ہیں اب لوگ
ایسے سادہ لوح دوستوں کے بارے میں ہی غالب نے فرمایا تھا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
یہ شعر پڑھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ مرزا غالب بھی کسی ماہر نفسیات سے کم دانا نہ تھے۔
سلمان اختر کی شاعری میں ایک مخصوص انداز کا طنز و مزاح بھی پایا جاتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مزاح زندگی کو حسیں بنا دیتا ہے اور بہت سے نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونا سکھاتا ہے۔ فرماتے ہیں
اب سنا ہے نماز پڑھتی ہے
ایک لڑکی جو پوجتی تھی ہمیں
امید ہے اب آپ کے دل میں سلمان اختر کی شاعری پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ہو گا۔
سلمان اختر امریکہ کے ادبی حلقوں سے زیادہ نفسیاتی حلقوں میں جانے پہچانے اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ ایک درویش منش انسان ہیں جو غالب کی طرح ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کیے بغیر مقبولیت اور شہرت سے بے نیاز اپنا سچ اور انسانی ذات اور نفسیات کے راز اپنے اشعار میں رقم کرتے رہتے ہیں۔
دو بھائیوں اور دو شاعروں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ
جاوید اختر کو عوام جانتے ہیں اور سلمان اختر کو خواص۔
۔



محترم جناب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آپ ہمارے استاد بھی ہیں ، ہر بار ہمیں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے ، اور ایسا ملتا ہے جو کہیں اور دستیاب نہیں ہے، بہت شکریہ جناب
ہمارے معاشرے میں کسی کو استاد بنانے کے لئے استاد کو مٹھائی کا ڈبہ، سوٹ اور کچھ پیسے دینے کا رواج رہا، سمجھ نہیں آ تا کہ آپ جیسے عالی قدر استاد سے کس طرح مادیت کے بغیر شاگردی کا اعتراف حاصل کروں۔
Dear Dr. Khalid Sohail Sahib, you are also our teacher, every time we get a lot to learn, and get something that is not available anywhere else, thank you very much sir
In our society, it is customary to give a teacher a box of sweets, a suit and some money to make someone a teacher.
I don’t understand how I can get the recognition of discipleship without materialism from a great teacher like you.