کیا ہم نے وبا کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ لیا ہے؟
کرونا ایسی وباء دنیا میں پہلی دفعہ نہیں پھیلی۔ایسی ہی ایک وباء سو سال قبل بھی دنیا بھر میں پھیلی تھی۔ جس نے کووڈ 19 سے کہیں بڑی تباہی پھیلائی تھی۔ وباؤں کی تاریخ میں 1918ء کا انفلوئنزہ شدید ترین تھا۔ اس کو سپینش فُلو کا نام بھی دیا گیا ۔ وباء کا آغاز تو سپین سے ہوا ۔ مگر اس کی پہلی بڑی تباہی امریکہ میں دیکھی گئی جہاں دوسری جنگ عظیم میں مصروف فوجی اس کی زد میں آگئے اور چند مہینوں میں پونے سات لاکھ فوجی لقمہء اجل بن گئے ۔یہ وباء جو ھسپانوی بخار بھی کہلائی ۔ ایچ ون این ون انفلوئنزہ اے ۔ نامی وائرس سے پھیلی تھی ۔
ایک اندازے کے مطابق اس وائرس سے اس وقت کی دنیا کے ایک تہائی آبادی، یعنی 50 کروڑ سے اوپر لوگ ہلاک ہو گئے تھے -اس وائرس کی خطرناک اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے بیس سال چالیس سال کے درمیانی عمر والے لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔حالانکہ عمر کا یہ حصہ قوت مدافعت کے اعتبار سے بہتر سمجھا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ پانچ سال سے کم عمر بچے اور 65 سال سے اوپر کے لوگ بھی اس وباء سے زیادہ متاثر ہوئے تھے ۔ اس وقت حکومتوں اور عوام نے کیا ِکیا تھا؟ یہ بتانے سے قبل میں حالیہ کرونا وائرس کا ذکر کرنا چاہونگا
کرونا وائرس آج کی دنیا میں خطرناک عذاب بن کر داخل ہوا ہے ۔ اس کا آغاز چین کے صوبے وھان سے دسمبر 1919 میں ہوا تھا۔باقی دنیا میں یہ فروری 2020 میں پھیلنا شروع ہوا۔ اِس وقت تک دنیا بھر میں کرونا وائرس سے پانچ کروڑ چالیس لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔ جبکہ کل متاثرین کی تعداد 80 ملین ہے۔جبکہ تقریبا 74.4 ملین لوگ متاثر ہونے کے بعد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس کی علامات، بخار جسم میں درد اور سانس اکھڑنا وغیرہ ۔ ہسپانوی بخار والی ہی ہں۔ مگر یہ وائرس اپنی ہئیت تبدیل کرتا رہتا ہے۔اس کی ابھی تک چار پانچ اشکال سامنے آ چکی ہیں۔
جب کرونا وائرس دنیا میں پھیلنا شروع ہوا تو مختلف مکاتب فکر کا رد عمل کیا تھا؟
یہ وائرس چونکہ چین سے پھوٹا تھا۔ اور چین نقل کر کے اشیاء بنانے اور دنیا بھر میں فروخت کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اس لیے شروع میں اقوامِ مغرب نے اس بات کو چینی بخار کہہ کر مذاق اُڑایا ۔ باقی اقوام بھی پہلے چند ماہ کرونا کے حوالے سے غیر سنجیدہ رہیں۔سیاسی لیڈروں نے کہا کہ یہ وائرس بھی چین کی دیگر اشیاء کی طرح غیرمعیاری ثابت ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔
مذہبی طبقے کا خیال تھا کہ لوگ چونکہ بہت بے حیا ہو گئے ہیں مادرپدر آزادی ہے اور اخلاقی گراوٹ کا دور دورہ ہے ۔ اس لیے آسمان سے عذاب نازل ہوا ہے۔
سازش تھیوری مکتب فکر کے اوریا مقبول جان ایسے دانشور ان نے قوم کے سادہ لوح عوام پر انکشاف کیا کہ یہودی دنیا کی آبادی 7 ارب سے کم کرکے ڈھائی تین ارب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اس موزی وائرس کو دنیا میں لائے ہیں۔ جب آبادی کم ہو جائے گی تو یہہودی دنیا کے وافر ذرا ئع رزق اپنے قبضے میں لے لیں گے۔
اس کے علاوہ معاشیات سے متعلق ماہرین نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وینٹیلیٹر اور سینی ٹائز بنانے والے کمپنیوں نے یہ وائرس پیدا کیا ہے، تاکہ کروڑوں کی تعداد میں اینٹی وائرس ویکسین۔ ماسک ، وینٹیلیٹرز اور سینیٹائزر بیچ کر دولت کمائی جا سکے۔
نیم حکیم طبی ماہرین کا خیال تھا کہ لوگ چونکہ مصنوعی طرزِ زندگی اپنائیں ہوئے ہیں۔ جَنک فوڈ کھاتے ہیں حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ اس لئے لوگوں میں قوت مدافعت کم ہے ۔اس وائرس کا علاج دیسی جڑی بوٹیوں سے کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں ادویات کے تاجروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی۔ ہوائی سفر کی کمپنیوں نے ٹکٹ تین گنا مہنگا کردیا۔ اور پٹرول سستا ہونے کی بجائے اور مہنگا ہوگیا ۔بڑی کمپنیوں نے خسارے کے پیش نظر لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیا۔ تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کے باوجود طلبہ کی فیس بڑھا دی۔اور اپنے طور پر لوگوں نے بہت کم تعاون کیا ۔لوگ اس وقت تک اپنے گھروں میں محدود نہیں ہوئے جب تک حکومت نے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔
ایسی ہی وباء جب 1918ء میں یورپ میں پھیلی تھی تو لوگوں نے کیا ِکیا تھا؟ یہ منظر کھیتھلین اومارہ کی ایک نظم میں بیان کیا گیا ہے جو یوں تو 1859ء میں لکھی گئی تھی۔ عین ممکن ہے اس وقت بھی کوئی وباء پھیلی ہو۔ یا شاعرہ کے تخیل کی پرواز ہو ۔ بہرحال یہ نظم 1918ء کی وباء کے دوران ری پرنٹ ھوئی۔یہ نظم کسی قوم کا طرزِ زندگی تبدیل ہونے کے حوالے سے اور وباء کے ساتھ زندہ رہنے کے سلیقے بارے نائیت خوبصورت تصویر کشی کرتی ہے ۔ یہ نظم سب سے پہلے ہسپانوی زِبان میں لکھی گئی تھی ۔ پھر انگریزی میں ترجمہ ہوئی ۔ راقم الحروف نے اس نظم کا اردو ترجمہ کرنے کی سعی کی ہے جو قارئین کی نذر کرتا ہوں.
اور لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوگئے "
اور وہ کتابیں پڑھتے اور موسیقی سنتے
اور وہ آرام کرتے اور ورزش کرتے
مصوری کرتے اور اندرون خانہ کھیلیں کھیلتے
ان کو جینے کے نئے طریقے آگئے تھے
اب لوگ جلد باز نہیں رہے تھے
وہ ٹھہر کر آپ کی بات توجہ سے سنتے
کچھ مراقبہ کرتے
کچھ عبادات کرتے
تنہائی میں اپنی زندگی پر غور کرتے اور دانائی سیکھتے
اب لوگ مختلف انداز میں سوچنے لگے
اور شفا یاب ہونے لگے
ان لوگوں سے خلاصی پا کر جو تغافل میں
بے معنی، خطرناک اور بے کیف زندگی جیتے تھے،
دھرتی ماں بھی شفایاب ہونے لگی
اور پھر جب عذاب ختم ہوا
اور لوگوں نے اپنے آپ کو زندہ پایا
تو وہ بچھڑ جانے والوں کو یاد کرکے بہت روئے ۔
مگر ایک نئی زندگی نے ان کا استقبال کیا ۔
اب وہ نئے خواب دیکھنے لگے۔
وہ نیا طرز زندگی اپنانے لگے
جو زیادہ صحت مندانہ تھا
دھرتی ماں شفایاب ہونے لگی
جیسے لوگ شفایاب ہوئے تھے
۔ کیتھلین اومارہ
نوٹ: محترم نعیم اشرف نے اس نظم کو آئرش فرنچ ادیب کیتھلین اومارا سے منسوب کیا ہے۔ تاہم حال ہی میں متعدد ذرائع سے یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ یہ نظم کیتھلین اومارا نے نہیں لکھی تھی کیونکہ ان کا انتقال 1888 میں ہو گیا تھا۔ مزید تفصیل کے لئے ذیل کی تحریر دیکھیے۔


