اداس تم بھی ہو یارو، اداس ہم بھی ہیں


فراز جب بھی ہندوستان جاتے اور کسی محفل یا مشاعرے میں شرکت فرماتے تو اپنی یہ مشہور نظم ضرور سناتے اور ساتھ میں یہ بھی کہتے کہ جب آپ کسی مقصد کو لے کر چلتے ہیں تو اپنی کسی غزل یا نظم کو بار بار دہرانا یا پڑھنا معیوب نہیں ہوتا- اس نظم کے کچھ اشعار ہم بھی یہاں  یاد کرتے ہیں- ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں فراز کی یہ نظم-

گزر گئے کئ موسم کئ رتیں بدلی
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں
فقط تم ہی کو نہیں رنج چاک دامانی
جو سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں

تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک نہیں
میرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں
تمہارے آئینہ خانے بھی زنگ آلودہ
میرے صراحی و ساغر بھی زرد زرد سے ہیں

نہ تم کو اپنے خدو خال ہی نظر آئیں
نہ میں یہ دیکھ سکوں جام میں بھرا کیا ہے
بصارتوں پہ وہ جالے پڑے کہ دونوں کو
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا کیا ہے

تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں
تمیں بھی زعم کہ مہا بھارتا لڑیں تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں

تمہارے دیس میں آ یا ہوں اب کے دوستو
نہ ساز و نغمہ کی محفل نہ شاعری کے لئے
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو چلو
میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے

فراز کی اس نظم کے جواب میں ہندوستان کے شاعر علی سردار جعفری نے بھی ایک نظم لکھی- انہوں نے فراز اور ہمیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ

تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیے
مرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھ
وہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہے
مہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ

خدا کرے کہ سلامت رہیں یہ ہاتھ اپنے
عطا ہوئے ہیں جو زلفیں سنوارنے کے لیے
زمیں سے نقش مٹانے کو ظلم و نفرت کا
فلک سے چاند ستارے اتارنے کے لیے

زمین پاک ہمارے جگر کا ٹکڑا ہے
ہمیں عزیز ہے دہلی و لکھنؤ کی طرح
تمہارے لہجے میں میری نوا کا لہجہ ہے
تمہارا دل ہے حسیں میری آرزو کی طرح

دونوں نظمیں کافی طویل ہیں لہذا کچھ اشعار لکھ دیئے گئے ہیں- ہندوستان کا فوجی سرحد پر ہلاک ہو یا پاکستانی فوجی شہید،  کیا دونوں کے چھوٹے بچے نہیں تھے؟ کیا دونوں کی بوڑھی ماں نہیں ہو گی؟ ہندوستان والے کتنے فخر سے بتاتے ہیں کہ اتنے پاکستانی فوجی شہید اور ہم لوگ کتنا خوش ہو کر بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے اتنے فوجی ہلاک کر دیئے- ان ہلاکتوں کے پیچھے چھپی بھوک، افلاس،  نفرت اور اجڑی ہوئ زندگیوں کو کوئی نہیں دیکھتا-

ہندوستان کا آلو، ٹماٹر اور دیگر چیزیں ہم روز استعمال کرتے ہیں- وہ ہمارا باسمتی چاول روز کھاتے ہیں- اگر ہندوستان کی بنی ہوئی سستی گاڑیاں پاکستان آجائیں تو یہ ہونڈا اور ٹویوٹا بند ہو جائیں جو صارفین کو چالیس  چالیس لاکھ کے گھی کے ڈبے دے رہے ہیں جن کے ائر بیگ بھی نہیں کام کرتے-

اسی طرح کئ چیزیں ہیں جو دو طرفہ تجارت کے طور پر کی جا سکتیں ہیں لیکن دونوں ملک اپنی اپنی نفرت اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے سامنے بندوق لے کر کھڑے ہوئے ہیں- کشمیر کا حل بھی اسی صورت ممکن ہے جب تعلقات معمول پر آئیں گے-

حب الوطنی اچھی چیز ہے اگر آپ اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزوں کو ترجیح دیں،  آپ اچھے کام کریں تاکہ اپنے ملک کا نام روشن ہو لیکن یاد رہے نفرت حب الوطنی پر غالب نہ آنے پائے-

اسی نفرت کی آگ میں ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا ہے لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ورنہ کراچی کے مقامی لوگوں ، جنوبی پنجاب،  اندرون سندھ کے مظلوم ہاریوں،  آزاد کشمیر،  گلگت بلتستان اور بلوچستان کے لوگوں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل جاتے-

بقول فراز کے ہی،

ہمارے شہروں کی مجبور بے نوا مخلوق
دبی ہوئی ہے دکھوں کے ہزار ڈھیروں میں
اب ان کی تیرہ نصیبی چراغ چاہتی ہے!!

Facebook Comments HS