مریم مجید ڈار کے افسانے: سوچ زار


shabgazeeda@gmail.com

 مریم مجید ڈار کے افسانے انٹر نیٹ کی وساطت سے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ افسانوں کے مواد اور زبان نے مجھے متوجہ کیا اورایک دو افسانے میں نے اپنے ای میگزین ” پینسلپس میگزین” میں بھی شائع کئے(۔بغیر اجازت کے ۔جس کے لیے معذرت) پھر خبر ملی کہ مریم صاحبہ کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے تو میں نے  ” سوچ زار” حاصل کیا۔ ہمارے معاشرے میں گھٹن کے اسباب کیا ہیں، کیوں ہیں اور اس گھٹن کا انسانوں پر اور خاص طور پر خواتین پر کیا اثر ہوتا ہے ۔۔۔۔ بادی النظر میں  یہی ان افسانوں کا موضوع ہے۔  28 افسانے ہیں اس مجموعے میں اور ایک سے بڑھ کر ایک۔ سادے بیانیے اور قدرے روایتی انداز میں لکھے افسانوں میں قاری کو اپنے ارد گرد کی دنیا نظر آتی ہے، دکھ، تکلیف اور گھٹن سے بھری جہاں انسان، انسان نہیں رہے کچھ اور ہی بن چکے ہیں۔ ۔ بہت سی خواتین افسانہ نگار آج بھی ساس بہو کلچر کے حوالے سے افسانے لکھے جا رہی ہیں لیکن شکر ہے کہ مریم صاحبہ نے جو لکھا ڈھنگ کا لکھا۔ کتاب کے پیش لفظ میں وہ خود ہی رقم طراز ہیں کہ ” کہانیوں کے انجام ایک جیسے ہو سکتے ہیں لیکن زندگی کا انجام ہر ایک کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ ” یہ ایک سچی اور تلخ حقیقت ہے۔ کتاب کے افسانے جس طرح سے میرے جیسے کم فہم کے فہم میں آئے ان پر میں نے اپنے آپ کو قلم اٹھانے پر مجبور پایا حالانکہ میں کوئی نقاد نہیں، بس ادب کا ایک قاری ہوں۔

1۔ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا:: کتاب کا آغاز ہی اس اساطیری داستان سے ہوتا ہے لیکن مریم مجید نے جس طرح سے اسے افسانوی رنگ میں مصور کیا ہے، اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ بڑی جرات کا کام ہے اور اس افسانے کے آخری تین پیراگراف، اس افسانے کو سمجھنے کی کلید ہیں۔

2۔ چاند کا آنسو :؛ آج تک تو ہم چاند میں کسی بڑھیا کی کھوج میں رہے لیکن افسانہ نگار نے چاند میں آنسو تلاش کئے ہیں اور اسے پدر سری معاشرے کے حوالے سے عورت کے دکھوں اور اداسیوں سے عمدگی سے تعبیر کیا ہے۔

3۔ بھکی۔۔کچھ تلخ سچ:: پیٹ کی بھوک اور جسم کی بھوک کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی عمدہ کہانی ہے۔ ہمارے سماج میں عورت کو جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، یہ کہانی اس کی مکمل تشریح ہے۔ میرے خیال میں عنوان میں ” کچھ تلخ سچ” اضافی الفاظ ہیں۔

4۔ کال کیچیاں :؛ گاوں کے پس منظر میں ایک روایتی کہانی ہے جہاں اکثر مرد بے راہ رو اور عورتیں جذباتی ہوتی ہیں۔

5۔ ادھوری عورت کی کتھا :: عورت دنیا کی ہر نعمت حاصل کر لے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم ہو تو ادھوری گردانی جاتی ہے۔ یہ کہانی قاری کے لیے سوچنے کا خاصا مواد فراہم کرتی ہے۔

6۔ کنکجھورا:: شاید کچھ پرانے زمانے کی کہانی ہے جب گاوں میں باقاعدہ طوائف کاری نہ ہوتی ہو گی حالانکہ بڑی چھوٹی زمینداریوں میں تو یہ عام سی بات تھی۔ ہو سکتا ہے کہانی کے انور کو ایسا موقع ہی میسر نہ آیا ہو۔ جو لوگ عورت کو انسان نہیں سمجھتے وہ طوائف کو عورت کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

7۔ تلسی کے پتے :: میری دانست میں یہ ایک کمزور کہانی ہے۔ نوابوں کی بچی کچھی نسل کے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار جب پہلی بار رام دیال کی موجودگی پر خشمگیں ہوتی ہے تو ساری کہانی وہیں کھل جاتی ہے۔

8۔ پرایا ہاتھ:: پیچیدہ انسانی نفسیات کی کہانی ہے تاہم یہ ہاتھ پرایا کیوں ہوا، کہانی اس کی بابت خاموش ہے۔

9۔ سرخ مسیحا :؛ شکاگو کے مزدوروں کے حوالے سے تاریخ کے صفحات پلٹے گئے ہیں لیکن اس میں افسانوی رنگ کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے اور یہ یوم مئی کے آغاز کی خبر بن جاتی ہے۔

10۔ چھپر کھٹ کا ناگ :: مناسب وقت پر بچوں کو جنس کی تعلیم نہ دینے کے حوالے سے لکھی گئی کہانیوں میں ایک اضافہ۔ ناگ سے ڈسوانا ، محبوس عورت کی نجات کا سبب بنایا گیا اور درست طور پر بنایا گیا۔

11۔ چھوٹا گوشت :: معاشرے میں کسی وبا کی طرح پھیلتی ریپ مینٹیلیٹی پر ایک عمدہ کہانی ہے۔

12۔ مکڑی صفت:: مغربی سماج کے پس منظر میں ایک عام سی کہانی ہے۔ اس قسم کی کہانیوں پر بے شمار فلمیں بن چکی ہین۔ اس مجموعے میں اس کی شمولیت سمجھ میں نہیں آئی۔

13۔ آوارہ عورت:: یہ ایک الگ اور عمدہ تخیل کی کہانی ہے۔ کہانی کا بغور مطالعہ کریں تو بین السطور میں عورت کی اس آزادی کی بات کی گئی ہے جو اس کا بطور انسان حق ہے۔ میرے خیال میں تو کتاب کا نام بھی یہی ہونا چاہئے تھا۔

14۔ دو بوند انقلاب:: سرخ انقلاب کے دوراں خواتین نے مردوں کے ساتھ ہی جدو جہد کی تھی تاہم اولاد کی تکلیف تو ہر عورت کو ہر تکلیف سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ یہ کہانی بھی اس مجموعے کی باقی کہانیوں سے الگ کھڑی نظر آتی ہے۔

15۔ :: محبت کی مرغابی :؛ اس مجموعے کی دوسری خوبصورت کہانی ہے۔ ہمیشہ سے مرد کے دھوکے میں آ جانے والی عورت کی کہانی۔ موضوع اگرچہ پرانا ہے لیکن اس کہانی کا ٹریٹمنٹ با لکل نیا ہے۔ عنوان  صرف ” مرغابی ” ہی کافی تھا۔

16۔ حرامی:: یہ بھی ایک روایتی موضوع کی کہانی ہے لیکن مریم مجید کے اسلوب نے اسے حیات نو بخش دی ہے۔

17:: بٹن :: اپنے موضوع کے اعتبار سے اور فنی پختگی کے حوالے سے یہ ایک بھرپور طنزیہ اور عمدہ کہانی ہے۔

18۔ ::پیٹ :: انتہائی غربت کی سڑانڈ میں زندگی کے دھکے کھاتے جانور نما انسانوں کی ایک اچھی کہانی ہے۔

19۔ گم شدہ خدا :: اگرچہ خدا ہمیشہ ہی سے گم ہے لیکن اساطیر کی بنیاد پر بنی اس کہانی کی مقصدیت سمجھنے سے قاصر ہے قاری۔

20۔ اپنا اپنا جہنم:: ٹرانسجینڈر کے ساتھ زمانہ جو کھیل کھیلتا ہے اور اسکا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے ، اس پر ایک خوبصورت کہانی ہے۔

21۔ :: لفافے کی موت:: غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گذارنے پر مجبور کیڑے مکوڑے جیسے انسانوں کی رلا دینے والی کہانی ہے۔ سیٹھ کے منہ سے نکلی چچوڑی ہوئی ہڈی چوسنے سے لے کر پھانسی کے تختے تک، رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی ہے۔ سوچتا ہوں محترمہ مریم مجید اسے لکھتے ہوئے کس کرب سے گزری ہوں گی۔ مجموعے کی سب سے اچھی کہانی لگی مجھے۔

22۔ حرافہ :: یہ کہانی بھی افسانہ نگار کے ارد گرد بستے غریب سماج کے افراد کی کہانی ہے۔ اداس اور ملول کر دینے والی کہانی۔ اس مجموعے کی دوسری بڑی کہانی۔

23۔ تا 28۔ محبت کی پہلی کہانی اگرچہ روایتی کہانی ہے لیکن افسانہ نگار کے منفرد اسلوب نے اسے تازگی عطا کی ہے۔ محبت کی دوسری کہانی غیر ملکی لوکیل کی کہانی ہے جہاں لوگ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ یہاں تو غریب محنت کش کے لیے سدا ایک ہی موسم ہوتا ہے۔ محبت کی تیسری کہانی بہت عمدہ ہے۔ محبت کی چوتھی کہانی ” حبہ خاتوں ” کے حوالے سے تاریخ کا محض ایک باب بنکر سامنے آتی ہے۔ محبت کی پانچویں کہانی زبردستی کی شادی کی کہانی ہے اور یہ زبردستی آج بھی کسی نہ کسی صورت میں رائج ہے۔ محبت کی چھٹی کہانی، یونیورسٹی کے ماحول کے حوالے سے ہے۔ طالبعلموں کی اکثریت اس عمر میں ایسے ہی نان پریکٹیکل فیصلے کر بیٹھتی ہے اور بعض تو ساری زندگی کے لیے محرومیوں کے حصار سے نکل نہیں پاتے۔

مریم مجید ڈار صاحبہ کے اس افسانوی مجموعے میں کچھ کہانیاں رومانی طرز کی ہیں اور کچھ تلخ حقیقتوں کی عکاس ہیں۔ لیکن رومانی کہانیاں بھی سماجی مسائل سے گزر کر مقصدیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات کو درپیش زمینی مسائل کے نیچے دبے کردار، افسانہ نگار کو تخلیق نہیں کرنا پڑے بلکہ اس کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ ۔ تمام کہانیوں میں انہوں نے اپنا ایک منفرد اسلوب اپنایا ہے جو حقیقت پسندی پر مبنی ہے جس کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ اس مجموعے میں غیر ملکی سماجوں کے حوالے سے بھی دو تین کہانیاں ہین جو مجھے ذرا الگ تھلگ سی لگی ہیں۔

کتاب کا سرورق بہت خوبصورت ہے لیکن جیسے پنجابی زبان میں کہتے ہیں کہ اسے "بج” لگ گئی ہے۔ اس پر ناشر کا نام سرورق کو مجروح کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS