غذا اور ادویات میں ملاوٹ: موت کے سوداگر
سال 2018 کی بات ہے، ایک باپ اپنی نومولود بچی کے لئے دودھ لینے سٹور میں داخل ہوا۔ مجھے اپنی بیٹی کے لئے سب سے اچھا دودھ چاہیے، وا لد نے دکاندار سے تقاضا کیا۔ دکاندار نے اسے دنیا کی سب سے مشہور کمپنی کے دودھ کا ڈبہ دیا۔ والدہ نے بڑی چاہ سے بچی کو دودھ پلایا، آخر ڈاکٹر نے اسے ماں کے دودھ کا نعم البدل بتایا تھا۔ بچی نے دودھ پیا، طبعیت بگڑی، ہسپتال لے جائی گئی۔ والدین کا خیال تھا معمول کی بیماری ہے۔ باپ پہ وہ لمحہ قیامت گزرا جب وہ جس بچی کو سینے سے لگا کے ہسپتال لایا تھا، واپس اس کی میت لے کے لوٹا۔
تعزیت کے لئے آئے مہمانوں میں ایک بچے کے لئے دودھ کی ضرورت پڑی۔ باپ نے وہ دودھ کا ڈبہ انہیں تھمایا، جیسے بیٹی آخری نشانی ان کے سپرد کی ہو۔ دودھ پینا تھا کہ اس بچے کی بھی طبعیت بگڑ گئی۔ تب بات سمجھ کو آئی کہ بچی کی جان گئی نہیں، جان لی گئی ہے۔ باپ نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔ افسوس قانون کے لمبے ہاتھ، ملٹی نیشنل کمپنی کے خلاف ایف آئی آر کاٹتے ہوئے چھوٹے پڑ گئے۔
باپ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ غریب باپ کا وکیل ایک جبکہ ملٹی نیشنل کمپنی کے وکیل درجنوں۔ اس میں تعجب نہیں کیوں کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں انسانی وسائل کا ایسا ہی بے دریغ استعمال کرتی آئی ہیں۔ مال مفت دل بے رحم۔ انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے میں ہم وطنوں نے اس کمپنی کا ساتھ دیا تھا۔ بہرحال باپ کا موقف جیت گیا گویا کہ ننھی پری نے رب کے حضور اپنی شکایت پیش کی ہو۔ قبر کشائی ہوئی، سمپل لیا گیا، ٹیسٹ ہوا۔ مرنے کی وجہ زہریلا دودھ نکلا، قاتل ملٹی نیشنل کمپنی۔
یہ کہانی ہے نیسلے کمپنی کی جس کے ہاتھ کئی معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف ایسے مقدمات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے میں بھی پہلے نیسلے نے انصاف کی راہ میں تاخیری حربے اپنائے، پھر اپنی پراڈکٹ سے مکر گئے، شہر سے اس بیچ کے تمام ڈبے اٹھوا لیے ، دکاندار اور بچی کے والد کو رقم کی آفر کی۔ جب ہر طرف سے ناکامی ہوئی تو وہی پرانی روش دھمکیوں پہ اتر آنا۔ جب اپنے ہی مجرموں کے دفاع میں آجائیں، تو ظالم ایسا ہی طاقتور ہو جا تا ہے۔
بچوں کی مصنوعات بنانے والے ایک اور برانڈ جانسن اینڈ جانسن کو امریکہ میں 2 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ کیا گیا کیونکہ اس کے بے بی پاؤڈر میں کینسر کا باعث بننے والے ذرات پائے گئے۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی نومولود بچہ ہے تو آپ کا جانسن کمپنی کے شیمپو، بیوٹی پاؤڈر یا لوشن سے ضرور واسطہ پڑا ہوا گا۔ ایسے میں کسی باپ کو کیا معلوم کی وہ جس کمپنی کی مصنوعات دنیا میں سب سے زیادہ مشہور ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کے لئے لیے جار ہا ہے، وہ کمپنی دراصل موت کی سوداگر ہے۔
اللہ کے فضل و کرم سے ہم لوگ کھاتے پیتے ملک سے ہیں، یوں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کھانے پینے کا کاروبار یہاں خوب چمکا ہوا ہے۔ ان کی مصنوعات میں ذائقہ ہے، لذت ہے۔ بس یہی دو خصوصیات جس کھانے کی چیز میں یکسر میسر آ جائیں ہم اسے اپنے اندر اتارنے کو تیار ہیں۔ اس کے بقیہ اثرات بارے اپنے ہم وطنوں سے گفتگو کی تو کیا خوب جواب ملا ”جو رات قبر میں ہے، وہ رات قبر کے باہر نہیں“ ۔
ان کمپنیوں کو بڑھاوا دینے میں ہمارا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ ابھی بیٹھیے اور اپنے گھر میں موجود اشیاء کی فہرست مرتب کیجئے۔ اب ان میں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات الگ کریں اور ملکی مصنوعات الگ کریں۔ تب آپ سمجھ پائیں گے کہ یہ کمپنیاں کیوں آئے روز امیر سے امیر تر ہوتی جا رہی ہیں اور ہماری مقامی صنعتیں کیوں دن بدن دیوالیہ ہوتی جا رہی ہیں۔
”انگریز ملاوٹ نہیں کرتا“ ملٹی نیشنل کمپنیاں یہ کہنے والوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں۔ کبھی انگریز کی ذہنی غلامی سے نکل کر بازار کا چکر تو لگائیں۔ کون سی خالص چیز بچی ہے جس کی نقل نہیں بنائی گئی۔ افسوس کہ ذہنی غلامی میں بسنے والوں کی ”برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر “ ۔ کبھی فرصت ملے تو اپنے بزرگوں میں بیٹھیں تو آپ کو معلوم پڑے کے ان کمپنیوں کی آمد سے قبل ہم ملاوٹ کے مفہوم سے ہی نا آشنا تھے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وطن عزیز میں اب ملاوٹ بہت عام ہے، لیکن خالص کی ابھی بھی بہتات ہے۔ یہ ملاوٹی مصنوعات کے سوداگر چاہیں تو ہم انہیں آج بھی اپنی مہمان نوازی میں کھانے کی ہر خالص چیز سے تواضع کریں۔ لیکن امید ہے کہ ہمیں اس مہمان نوازی کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ ملکی سطح پہ ہمیں عرصہ دراز سے مہمان نوازی کے عوض زہر پلایا گیا ہے۔ اگر ارباب اختیار نے آنکھ نہ کھولی تو یہ زہر جو کہ پہلے ہی ہماری مقامی صنعت کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے، ہماری جان لے لے گا۔


