دسمبر اور اک بے نظیر دکھ


ستائیس دسمبر کے دن کے ساتھ کچھ ایسی یادیں جڑی ہوئی ہیں جو دل میں آگے شجر غم کی پرورش کرتی رہتی ہیں اور ہر سال اس درخت پہ بہت ہی گہرے سرخ کے عجب سے پھول آتے ہیں جن کی خوشبو اور رنگ قربانیوں کی بہت سی داستانوں کا دکھ اجاگر کرتے ہیں.
ہمیں کیا خبر تھی، ہمیں کیا پتہ تھا. کہ ستائیس دسمبر کا دن اک عظیم المیے کو جنم دے گا اور پھر ادب، شاعری اور زندگی میں ہمیشہ اداسی و دکھ کے ایک مستقل استعارے کی حیثیت اختیار کرجائے گا.
ستائیس دسمبر کے دن کے ساتھ کچھ ایسی یادیں جڑی ہوئی ہیں جو دل میں آگے شجر غم کی پرورش کرتی رہتی ہیں اور ہر سال اس درخت پہ بہت ہی گہرے سرخ کے عجب سے پھول آتے ہیں جن کی خوشبو اور رنگ قربانیوں کی بہت سی داستانوں کا دکھ اجاگر کرتے ہیں.
کئی سال تو گذر گئے مگر آج بھی گذرے کل کی بات لگتی ہے جو آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ایک سیل رواں کو جنم دیتی ہے.
گذرے دن اور بیت چکا وقت بعض اوقات اک ایسا نشان دل پہ چھوڑ جاتے ہیں کہ ہر سال غم اور دکھ تازہ سا ہوجاتا ہے.
پچھلے زمانوں میں لوگ گذرے وقت اور بچھڑے لوگوں کو واقعہ ، کہانی، نظم اور ذہن میں بسی یادوں کے سہارے زندہ رکھتے تھے.
مصوری، سنگ تراشی اور مجسمہ سازی بھی یاد سازی کا ذریعہ بنتے تھے. مگر کیمرہ کی ایجاد کے بعد تصویرسازی کے نئے رخ وجود میں آئے اور عام آدمی کے لئے ایک وسیع پیمانے پر نسبتاً آسانی سے گذرے واقعات اور بچھڑے ہوئے اپنوں یا پیاروں کی یاد کو محفوظ کرنا اک سہولت سے ممکن ہوا.
ٹیکنالوجی کی ترقی نے ویڈیو کی صورت بہت سے مراحل اس طرح طے کیے کہ اب بہت سی یادیں ہمہ وقت آپ کے سامنے رہتی ہیں.
کل سے پاکستانی میڈیا کے کچھ ذرائع اور سوشل میڈیا کے اوپر اک عظیم شخصیت کے حوالے سے بہت سی یادیں تصویروں اور ویڈیوز کی صورت دل میں بسے اک درد کی لہروں کو اور طاقت عطا کررہی ہیں.
میرے سامنے دسمبر دو ہزار سترہ میں مری لکھی اک نظم بھی آگئی جو دسمبر، جدائی، غم اور دکھ کی سرحدوں کو جوڑ کر اک عجب سی کسک کا اعادہ کرتی رہتی ہے.
دسمبر دکھ کا استعارہ
دسمبر ہے سرد سا
سینے میں درد سا
دسمبر اب تو دکھ
کی عبارت جیسا
دسمبر دل میں خلش
کی علامت جیسا
دسمبر سرد اور سفاک
مہینا بن گیا جیسے
دسمبر ہے سرد سا
سینے میں درد سا
دسمبر آنکھ میں
آنسو لائے ہر دفعہ
دسمبر دل کو دکھ
سے بھر جاتا ہے
دسمبر اب تو ہاں
دکھ کا استعارہ ہے
دسمبر ہے سرد سا
سینے میں درد سا
دسمبر مری قائد کے
بچھڑنے کی یاد
دسمبر کے دکھ ہیں
ہمہ وقت دل کے ساتھ
دسمبر ہے سرد سا
سینے میں درد سا.
کئی سال تو گذر گئے مگر آج بھی گذرے کل کی بات لگتی ہے جو آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ایک سیل رواں کو جنم دیتی ہے.
ہمیں کیا خبر تھی، ہمیں کیا پتہ تھا. کہ ستائیس دسمبر کا دن اک عظیم المیے کو جنم دے گا اور پھر ادب، شاعری اور زندگی میں ہمیشہ اداسی و دکھ کے ایک مستقل استعارے کی حیثیت اختیار کرجائے گا.
اک غم ہے اور وہ بھی بےنظیر
دکھ کیسے کم ہو تھی بےنظیر
مراد تھی خواب تھی بےنظیر
قصہ دردکا تھی حاصل بےنظیر
اک امید کی تھی فصل بےنظیر
شہید ہوکر بھی تذکرے میں ہے
نام اس کا ہر مذاکرے میں ہے
کہ بات کی تھی دھنی بے نظیر
دشمنوں کے دل پہ تیر بے نظیر
آپ اگر مجھے جذباتیت کا طعنہ دیں تو میں اسے تمغہ سمجھوں گا مگر اگر آپ مرے اور بہت سے سوگوار دلوں سے پوچھیں تو آپ کو جواب میں روتی چلاتی آوازوں اور غم و دکھ سے لبریز نعروں کا سلگتا احتجاج نظر آئے گا جسے آپ کچھ بھی نام دیں مگر اس کی شدت سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں ہے.
بہت سے دانشور کہلانے والے اپنی آواز کی شدت اور ٹیلی ویژن اسکرین کی بہت ہی طاقتور توپوں سے طنز و تشنیع کی بھرپور گولہ باری سے ہر یاد، غم اور اس کے سوگواروں کو نشانہ بناسکتے ہیں مگر کیا شہیدوں کے وارث عوام کو وہ اس غم کی یاد خاموشی یا چلا کر منانے سے روک پائیں گے؟.
یہ عظیم غم تو اک تین سو ساٹھ ڈگری پر وار کرنے والے بھالے کی طرح دل میں گڑ چکا ہے کہ اب اس کو مٹانا جیسے ناممکن ہے.
بحث تو ان معاملات پر ہوتی ہے کہ جہاں دو رائے رکھنے کی اک موہوم سی بھی گنجائش بچی ہو اور جہاں عوام اور قدرت کی عدالت کے ناقابل تنسیخ فیصلے لکھے جاچکے ہوں وہاں اب کیا گنجائش ہوگی.
اک سلسلہ درد جاری ہوا
ستائیس دسمبر کی شام
اک سرد، سفاک سے لمحے
میں دنیا کہ ہوئی تمام
سورج تو روز ہی ہوتا
تھا اک ڈھنگ سے غروب
اس سیاہ دن تو جیسے
ہو گئے اک ہی دم میں
دو آفتاب پھر غروب
شام کی شفق میں اتر آئی
کہاں سے اکدم اتنی سرخی
کہ نیلا آسمان نہ دکھائی دیا
آج کی شام اک مسلسل غم اور دکھ کے نام موسوم ہوچکی ہے کہ اس سیاہ شام قربانی کی اک نئی تاریخ رقم ہوئی. شہادتوں کے سلسلے کا اعادہ ہوا اور گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں اک اور اضافہ ہوا. اک اور بلند آہنگ، توانا، سوال کرنے والی، جواب دینے والی اور سچ کہنے والی آواز پہ بزدلانہ وار کیا گیا.
مگر کیا قاتل یہ جانتے تھے کہ ان کا وار اک جسم پہ نہیں مگر کڑوڑوں عوام کے دل پہ کیا گیا اور وہ رہتی دنیا تک اس وار کی بازگشت سے اپنی سماعتوں کو لرزہ براندام ہونے سے روک نہ پائیں گے.
Facebook Comments HS