"جنت کی تلاش” سے حقیقت کی تلاش تک
جب کوئی شخص اپنی ساری عمر نگینے جیسی ناک، بچوں جیسی حیران آنکھیں، شانوں پر پریشان خوب صورت سیاہ بال، مرمریں گردن، عمودی لائنوں والے انگوری ہونٹ اور سرخ و سفید قیمتی لباس میں لپٹی ہوئی حسین اور موت سے نہ ڈرنے والی جوان عورت کی تلاش میں مانسہرہ، دریائے سرن، آزاد کشمیر، ہنہ جھیل، زیارت، بالاکوٹ، کاغان، ناران، جھیل سیف الملوک، گلگت، دیوسائی، اور نلتر کے جھمیلے جھمیلے سبزہ زاروں، اونچے اونچے پہاڑوں، یخ بستہ ہواؤں، اور مسحورکن پانیوں کے ساتھ گزارنے کا عہد کر لیتا ہے تو اس دیوانگی کو ادب کی زبان میں ”جنت کی تلاش“ ہی کہا جاتا ہے۔
”جنت کی تلاش“ دراصل رحیم گل کا ایک دل کش ناول ہے، جس میں وسیم صاحب کی عاطف کی اکلوتی بہن امتل سے محبت کی متوازی کہانی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خوب صورت سیاحتی مقامات کی تصویر کشی، لوگوں کی بودوباش اور فطرت سے لگاؤ کا ادبی اور فلسفیانہ اظہار بھی شامل ہے۔ ناول میں ایک عام آدمی کی زندگی کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ ناول میں زندگی کے چہرے سے نقاب ہٹایا جاتا ہے۔ زندگی کو قریب سے دیکھنا اور دکھانا ناول ہے۔ ”جنت کی تلاش“ میں فطرت کی گل کاریوں کے ساتھ ساتھ زندگی کو قریب سے دیکھنے کی چاشنی بھی موجود ہے۔ ناول کے مرکزی کردار امتل اور وسیم صاحب ہیں۔
وسیم صاحب کے لیے زندگی کی خوب صورتی موت سے ڈرنے اور حسن کی موجودگی کی وجہ سے ہے، مگر امتل اس کے برعکس سوچتی ہے۔ وسیم صاحب کو شعر و شاعری پسند ہے، مگر امتل اسے عورتوں کا استحصال قرار دیتی ہے۔ دونوں کے درمیان خیالات کی اس وسیع خلیج کو ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔ وسیم صاحب کو امتل سے مل کر پہلی مرتبہ احساس ہو گیا کہ جب دریا سمندر میں ملتا ہے تو اس سے اپنی کم مایگی، چھوٹا پن اور اصل اوقات کا پتہ چلتا ہے۔ وسیم صاحب کو زندگی بھر پوری کائنات میں امتل کے جسم کے سوا کوئی چیز مکمل نظر نہیں آئی۔
وسیم صاحب کی عاطف اور امتل سے پہلی ملاقات مانسہرہ کے ڈاک بنگلے میں ہوتی ہے۔ تینوں نے وراثت میں ملی بھاری بھر کم سرمائے کو زندگی کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے بے دھڑک خرچ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ وسیم صاحب نے امتل سے ملتے ہی سوچا کہ شاید زمین میں کشش نہ ہونے کی وجہ سے لوگ چاند پر چلے جاتے ہیں، مگر وسیم صاحب کو دکھ ہے کہ حسین چیزوں کو اپنی حسانت کا علم تک نہیں ہوتا۔ دوسری طرف امتل زندگی سے کچھ حاصل کرنے کے بجائے زندگی کو کچھ دینا چاہتی ہے، اور امنگیں پوری ہو نے کے حق میں بھی نہیں کیونکہ پھر زندگی میں چاشنی ختم ہوتی ہے۔ امتل کے لیے اپنی ذات اہم ہے اور دوسروں کو اہمیت دینے سے خود کو اذیت میں نہیں رکھنا چاہتی۔
وسیم صاحب دریائے سرن کی مسحورکن فضا میں امتل کو خود آگہی، قلبی سچائیوں، روحانیت، اخلاق اور زندگی کے مقصد جیسے فلسفیانہ موضوعات میں الجھا کر اپنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن امتل نے ذہنی اختراعات کو فساد کی جڑ، روحانیت و اخلاق کو مصنوعیت، اور مذہبی سچائیوں کو جبر قرار دے کر وسیم صاحب کو مایوس کر دیتا ہے۔ امتل بتاتی ہے کہ خود آگہی خود کو نہ پہچان سکنے کا ادراک ہے، اور جنت حاصل کرنے کے لیے زندگی میں ہی جہنم میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب کہ سچائی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو نے والی چیز ہے۔
وسیم صاحب کو امتل غیر معمولی ذہین اور نہایت حسین لگتی ہے۔ عاطف اپنی بہن کا بہت خیال رکھتا ہے، اور وسیم صاحب کی دوستی سے خوش اور مطمئن ہے۔ سیاحت جاری رہتی ہے۔ اوگی قصبہ میں پشتون روایات، تھانے دار صاحب کی ضیافت اور آزاد کشمیر میں فوجی سپاہیوں کے اچھے رویے سے محظوظ ہو جاتے ہیں، مگر وہاں گاڑی کی خرابی اور بارش برسنے کی وجہ سے امتل کو بخار ہوتا ہے۔ وسیم صاحب رات بھر امتل کا خیال رکھتا ہے۔ اس دوران میں وہ امتل کی معصومیت سے سرشار ہو کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا ہے۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا بوسہ ہے۔
اگلی صبح جھیل سیف الملوک کا سفر موخر کر کے امتل واپس کراچی جانے پر بضد ہو کر چلی جاتی ہے۔ وسیم صاحب کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے، اور چند دنوں ہی میں امتل کے پاس کراچی کا رخ کرتا ہے۔ امتل وسیم صاحب کو خوش آمدید کہتی ہے۔ چند دن قیام کے بعد تینوں ہنہ جھیل اور ہنہ اڑک آتے ہیں۔ وسیم صاحب شاعرانہ باتیں کرتا ہے، جب کہ امتل کے مطابق فن کار بھوکا ہے : روٹی کا بھی اور عورت کا بھی۔ وہ کہتی ہے کہ ادب تشنگی اور ناآسودگی کا نتیجہ ہے، اور جن لوگوں کو زندگی بھر حسین عورت نصیب نہیں ہوئی یا اپنے اظہار کی جرات نہیں ہوئی، تو انھوں نے ایک خیالی لیلا کی تخلیق کر کے بے کار ادب میں پناہ لی۔ پھر وسیم صاحب سائنسی بحث چھیڑ دیتا ہے۔ امتل کہتی ہے کہ فکری کارکردگی انسان کے لیے غیر فطری ثابت ہوتی ہے، اور غور و فکر کا نتیجہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہی تو ہیں۔ وسیم صاحب ہار جاتے ہیں۔
پرکیف سیاحت، وسیم صاحب کے دل چسپ سوالات، امتل کے فلسفیانہ جوابات اور عاطف کی مسلسل خاموشی جاری رہتی ہے۔ سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں سے ملنا جلنا اور دل چسپ کہانیاں بھی ناول کا حصہ ہیں۔ سردار صاحب کا پہاڑ پر چڑھنے کا واقعہ، مست توکلی کی کہانی، مریم سٹون کی تاریخ، بدری جمالہ کی جھونپڑی میں مائی حوا کی مامتا، اٹالین سیاح کا دردناک اور سبق آموز ماضی، خان زادہ تاج اکبر خان اور کشور کی رنگین مزاجی، خوش حال خان خٹک کی مغل بیزاری، ڈاکٹر اور سلطانہ کا جذباتی رشتہ اور چوکیدار کے گھر ننھے مہمان کی آمد جیسے واقعات اور کہانیوں نے ناول کا حسن دوبالا کر دیا ہے۔ مگر دریائے سرن، جھیل سیف الملوک اور دیوسائی کے مناظر کو اس انداز سے کھینچا گیا ہے گویا قاری وہاں سے ابھی ابھی ہو کے آیا ہے۔ البتہ دیوسائی جانے کے باوجود ابھی تک وسیم صاحب اور امتل ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔
دیوسائی سے واپسی پر دونوں نلتر ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرتے ہیں۔ امتل کو نیند آتی ہے۔ وسیم صاحب گوشت پوست کا بنا انسان فرط محبت سے سرشار ہو کر سوچتا ہے کہ آدم نے بھی تو گندم کا دانہ کھایا تھا اور نئی دنیا بنی تھی، یوں وسیم صاحب نے بھی گندم کا دانہ ”چھکا“ ۔ پھر کیا ہوا۔ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ایک زور دار تھپڑ۔ سسکیاں۔ سمیع کا ذکر۔ اور درد بھری کھتا۔
اس پورے سفر میں دونوں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خیالی جنت میں رہنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی جنت آپ بنا لیں۔ چند ثانیوں کے بعد دونوں تنہائیوں کے بجائے ہجوم میں تھے۔
نوٹ: بھرپور لطف اندوزی کے لیے پورا ناول پڑھیں۔


