بچے مزدور نہیں ملک کا اثاثہ ہیں


ہر ملک کو ترقی کے لئے اس کے خزانے میں فنڈ کی زیادہ مقدار کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت و حال اور آفت کا آسانی سے مقابلہ کر سکے۔ لیکن دوسری طرف اسی ملک کے بچوں کو بہتر سہولیات مہیا کی جات ہیں جو اس ملک کا مستقبل اثاثہ تصور کیے جاتے ہیں اور آنے والے وقت میں اس کی معیشت اور ترقی کے استحکام کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی ملک کا مستقبل محفوظ اور اچھی تربیت حاصل کر رہے ہوں تو یقیناً وہ ملک زیادہ محفوظ ہو گا اور وہ ترقی، ایجادات میں سر فہرست ہو گا جس کا دنیا میں ڈنکا بجے گا۔

لیکن پاکستان کا اثاثہ اس کے بچے ہیں تو پھر پاکستان کا مستقبل انتہائی خوفناک ہو گا جس کا سوچ کر بھی ہم کانپ جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر روز کئی بچے کسی نہ کسی تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک کا اثاثہ اس قدر اندھیر نگری میں ہے کہ ہر دوسری دکان، فیکٹری، بھٹہ اور ورکشاپ میں اوزاروں کو تھامے کوئی نہ کوئی کام سر انجام دے رہا ہو گا۔ جن ہاتھوں میں قلم کتاب اور بستہ ہونا چاہیے تھا وہ کسی کے گھر میں برتن دھو رہے ہوتے ہیں جن بچوں کو تقریری مقابلوں میں شرکت کرنی چاہیے وہ کسی نہ کسی بھٹے میں مزدوری کر کے اس ملک کے امیروں کی رہائش گاہ کے لئے اینٹیں بنانے میں مصروف ہوتے ہیں۔

ان فیکٹریوں، بھٹوں اور دکانوں پر ہر روز کسی نہ کسی بچے کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس سے بستہ لے کر ذمہ داریوں کا بوجھ تھما دیا جاتا ہے۔ بیشتر کو تو اس کی معصومانہ غلطیوں کی بنا پر ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ کبھی مالکن کے لئے روٹی لیٹ بنانے یا اس روٹی کو جلا دینے پر تشدد ہوتا ہے تو کبھی گھر کی جلدی اور اچھے سے صفائی نہ کرنے پر حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے۔

میرے معاشرے میں روز زینب جیسے بچے کسی نہ کسی درندے کی بھوک کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہر دوسری خبر کسی مصباح پر تشدد کی ہوتی ہے۔ جو اپنے باپ کا سہارا بننے کے لئے اس ظالم معاشرے کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلتی ہے لیکن اس کو کیا خبر کے اس کی ہمت کا صلہ اس کو اپنی زندگی سے ادا کرنی پڑے گا۔

میرے ملک میں بچوں کے کندھوں پر کتابوں کا بستہ دینے کی بجائے اس کی 8 سالہ عمر میں گھر کی ان ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے جن کو اس کے والدین نے ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ بچے اپنے کھیلنے کی عمر میں اپنے ماں باپ کا سہارا بننے کے لئے دوسرے امیر لوگوں کے بچوں کو کھلانے میں اپنا بچپن گزار رہے ہوتے ہیں۔

میرے ملک کے بچے فیکٹریوں، دکانوں اور ورکشاپ پر کام کرنے کے علاوہ اس ملک کے قانون بنانے اور اس ملک کے امیر لوگوں کے گھروں میں تشدد برداشت کرتے ہیں۔ جس کی واضح مثال 10 سالہ طیبہ کی ہے جس کو ایک معزز جج کے گھر میں ان کی بیگم نے تشدد کیا۔ حالیہ دنوں میں پھول نگر کی 8 سالہ مصباح کو اس کی کسی بچگانہ غلطی کی بنا پر ابدی نیند سلا دیا گیا۔ مصباح، طیبہ، زینب اور رضیہ جیسے ہزاروں بچے کہیں نہ کہیں اپنے والدین کا سہارا بننے کے لئے اس ظالم معاشرے کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ان سب بچوں کو غریب ہونے کی وجہ سے انصاف بھی روز قیامت اللہ کی بارگاہ میں ہی ملے گا کیونکہ یہاں امیر لوگ کے لئے ایک ہی قانون ہے کہ وہ مچلکے جمع کروائے اور اپنی بے گناہی کا ثبوت لے۔

ہمارے معاشرے اور حکومت کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کے اثاثے یعنی بچوں کو ملک کا مستقبل سمجھ کر ان کی قدر کریں تاکہ یہ ملک اپنا مستقبل محفوظ کر سکے۔ ہمارے بچوں کو فیکٹریوں اور گھروں میں کام کروانے کی بجائے سکول میں قلم اور کتاب دے کر بھیجیں تاکہ وہ اپنے تمام حقوق کا حصول یقینی بنا کر ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔

Facebook Comments HS