بڑی دلنشیں ہے کتابوں کی دنیا



جب پہلی بار سینٹرل لائبریری بہاولپور میں قدم رکھا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اتنی کتابیں! کون لکھتا ہے اتنا اور پڑھتا کون ہو گا ان کو۔ کیسے ہوتا ہے یہ سب۔ اس دن سے آج تک یہ میری پسندیدہ جگہوں میں شمار ہوتی ہے۔

میں اپنی زندگی میں آج تک جن لوگوں سے متاثر ہوئی ان میں سب سے پہلا نام یونیورسٹی کی استاد میڈم عقیلہ شاہین کا ہے۔ وہ واحد ایسی شخصیت ہیں جن کے ہاتھ میں میں نے ہمیشہ کتاب دیکھی۔ فرصت کے لمحات میں کوئی اخبار کوئی رسالہ یا کتاب زیر مطالعہ رہتی۔ دراصل کتابیں پڑھنا بھی ایک نشہ ہے جس کی طلب ہر نئی کتاب کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ گورچ فوک نے کہا کہ

” اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کر دیں بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک کو بڑھائیں۔ زندگی کو جاننے کی بھوک“

اب یہ تو ٹھیک سے یاد نہیں اس نشے کی لت کب لگی۔ شاید اشتیاق احمد کے رسالے ”بچوں کا اسلام“ سے۔ آہستہ آہستہ یہ نشہ بڑھا اور اردو ناولز اور فکشن کے مطالعے تک پہنچ گیا۔ بقول ضیا اللہ محسن

حقیقت میں بدلے سرابوں کی دنیا
بڑی دلنشیں ہے کتابوں کی دنیا

پچھلے سال یعنی 2021 میں جو بہترین کتابیں زیر مطالعہ رہی ان میں پہلی کتاب تھی ہمہ نور کی ”چالیس چراغ عشق کے“ ۔ یہ دراصل ایلف شفق کی Forty Rules of love کا ترجمہ ہے۔ اس کی کہانی شمس تبریز اور مولانا روم کی محبت و عقیدت کے گرد گھومتی ہے۔ محبت کے چالیس اصولوں میں اگر پہلا اصول اگر ادب و احترام ہے تو ایک اہم ترین اصول معافی اور پردہ پوشی ہے۔ محبت کا کوئی ماضی اور مستقبل نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ موجود کا نام ہے۔ اگر ماضی کے غم یا مستقبل کے اندیشے آپ کا حال سے غافل رکھتے ہیں تو ضرورت ہے کہ اپنے اندر کی محبت کا باہر نکلنے دیں۔ ذمہ داریوں کے بوجھ میں اپنی ذات کو فراموش نہ کریں۔

عبداللہ حسین کی ”قید“ کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس بہت شدت سے ہوتا ہے کہ تقریباً پچاس ساٹھ سال پہلے لکھی گئی یہ کہانی آج بھی ہمارے معاشرے کی بہترین عکاس ہے۔ یہ ایک معاشرتی اور نفسیاتی ناول ہے۔ یہ پاکستان کے بظاہر آزاد لیکن مختلف ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے لوگوں کی کہانی ہے۔ ہم سب معاشرتی رسم و رواج، نفسانی و نفسیاتی خواہشات کی قید، محبت کی قید اور ضمیر کی قید میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ کہانی پاکستان کی تاریخ کے اس دور کی داستان ہے جب فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اسلام کا استعمال کیا اور نام و نہاد روحانیت کو فروغ دیا۔

اردو ادب کی بانو آپا کے متعلق تو جتنا لکھا جا چکا ہے مزید کچھ لکھنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ پھر چاہے وہ ان کی تصنیف ”دست بستہ“ ہو یا ان کا شاہکار ”راجہ گدھ“ ۔ یہ بات درست ہے کہ کہیں کہیں وہ داستان گو سے زیادہ ناصح بن جاتی ہیں۔ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ سچ ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں سوچ کا نیا زاویہ ابھارتی ہیں۔ مثلاً آج کل زیادہ تر والدین کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہمارے بچے نافرمان کیوں ہیں؟ ”راجہ گدھ“ میں حلال و حرام کا منفرد تصور پیش کر کے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب رزق حرام جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس کے اثرات دنیا کے کسی بھی نشے سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ آج کے مشینی دور میں ہر شخص شارٹ کٹ (short cut) کی تلاش میں ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کے اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

بیسویں صدی کا سب سے اہم واقعہ برصغیر کی تقسیم تھی۔ یہ صرف سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی رشتے بھی تقسیم ہوئے اور محبتیں بھی۔ تقسیم ہند کے تناظر میں بے تحاشا ناول اور افسانے لکھے گئے۔ کرشن چندر کا ”غدار“ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

” وطنیت بھی مذہب سے مشروط ہوتی ہے۔“

یہ جملہ محض ناول کا مرکزی خیال ہی نہیں ہے بلکہ اس وقت بلکہ تقسیم سے بہت پہلے سے لے کر آج تک کہ انسان کا المیہ ہے کہ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ وطن مذہب سے بنتا ہے یا سرحد سے۔ یا شاید ہم مذہب کے ٹھیکیدار بن کر مذہب کو سرحد تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ محبت کو مذہب سمجھنے والے یا مذہب کا درجہ دینے والے مذہب اور سرحد کی قید میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ انسانیت کا لبادہ پہنے والے ملک و ملت کے غدار ٹھہرتے ہیں۔

آپ بیتی دیگر اصناف ادب سے محض اس لیے مختلف ہے کہ لکھنے والا خود سے اور اپنے قاری سے ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ یہی اس صنف کا تقاضا بھی ہے۔ ”ہم بھی وہاں موجود تھے“ جنرل عبدالمجید ملک کی یہ آپ بیتی مواد کے لحاظ سے تو روایتی تصنیف ہے لیکن اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے فوج اور سیاست سے وابستگی کے باوجود کہیں بھی فوج کے غیر جمہوری طرز عمل اور سیاست دانوں کی مفاد پرستی کو مصلحت کا جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ صرف ایک جنرل کی آپ بیتی ہی نہیں بلکہ ملکی تاریخ کے اہم واقعات کی رپورتاژ بھی ہے۔

سال 2021 میں جو سب سے بہترین کتاب زیر مطالعہ رہی وہ حسنین جمال کی ”داڑھی والا“ تھی۔ یہ پرخلوص اور سادہ انداز میں لکھی گئی ایسی کتاب ہے جس کی ہر سطر سے اپنائیت کا احساس جاگتا ہے۔ تصنع اور تکلف سے عاری یہ کتاب قاری اور مصنف کو اس قدر قریب لے آتی ہے کہ قاری کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ سیکھنے کے مشکل عمل سے گزر رہا ہے۔ حسنین جمال نے معاشرے کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور خوشیوں کو اپنا موضوع بنایا جن پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔ مثلاً ہمیں کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلوایا کہ ہماری زندگی میں رنگوں کی کیا اہمیت ہے یا محض مختلف رنگ کے کپڑے بھی ہمیں خوشی دے سکتے ہیں۔

کتابیں بہترین استاد بھی ہیں اور مخلص دوست بھی۔ غمخوار بھی ہیں اور ہمسفر بھی۔ تھامس فون کیمپن نے کہا تھا کہ:

” جب میں عبادت کرتا ہوں تو خدا سے باتیں کرتا ہوں اور جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔

Facebook Comments HS