چابی : للی پوٹ پارہ کا ایک اور افسانچہ


مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسئیشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔

***

عمارت میں سب سے اوپری منزل کی چھت کا برامدہ سب سے اچھی جگہ پر ہے۔ اس پر سے آپ دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس پر باتھ روم بھی ہے۔ وہاں جاکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سمندر کے کنارے ہوں۔ ہم کو وہاں کھیلنا سب سے زیادہ پسند ہے۔ تین اپارٹمنٹ ہیں۔ جب گھر پر کوئی نہیں ہوتا تو کبھی کبھی ہم کھڑکیوں سے جھانکتے ہیں۔

آپ سب سے اوپر کے برامدے میں چار راستوں اور سب سے اونچی والی منزل سے ہو کر پہنچ سکتے ہیں۔ لفٹ صرف پانچویں منزل تک جاتی ہے اور چھٹی منزل پر چل کر جانا ہوتا ہے۔ وہاں سے برامدہ کچھ ہی قدم پر ہے۔

دروازے سے لگی ہوئی ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے۔ اگر دروازے میں تالا لگا ہو تو آپ کھڑکی کو پورا کھول سکتے ہیں۔ چابیاں ماں باپ کے پاس ہوتی ہیں۔ لیکن انھیں ہمارا برامدے میں کھیلنا پسند نہیں۔ اس لئے ہم چپکے سے کھڑکی کے راستے برامدے میں جاتے ہیں۔ اگر آپ چھوٹے ہیں تو آپ کھڑکی سے آ جا سکتے ہیں اور ہم سب چھوٹے ہیں : برانکا، جولانڈا اور میں۔

ایک دن ہم برامدے میں ڈاکٹر ڈاکٹر کھیلنا چاہتے ہیں۔ جولانڈا کے پاس روئی اور انجکشن ہے۔ برانکا کے پاس فرسٹ ایڈ باکس کی پٹیاں ہیں۔ ایلن کے پاس چھوٹے بینڈ ایڈ ہیں۔ میرے پاس کانچ کے کچھ ٹکڑے ہیں۔ ”تم کانچ کے ان ٹکڑوں کا کیا کرو گی؟“ جولانڈا پوچھتی ہے۔

” ڈاکٹر لوگ خون کی جانچ کے وقت لیب میں مائکرو اسکوپ سے دیکھتے ہیں۔ یہ اسی لئے ہیں،“ میں کہتی ہوں۔

” لیکن ہمارے پاس لیب تو ہے نہیں۔ اور ہمارے پاس مائکرو اسکوپ بھی نہیں ہے۔ جب ہمارے پاس انجکشن ہی نہیں ہے تو خون کون نکالے گا؟“

جولانڈا کی بات میں دم ہے۔ لیکن آج میرے پاس بس یہی کانچ کے ٹکڑے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کیسے تصور کرنا ہے کہ میرے پاس مائکرو اسکوپ بھی ہے، جن سے ہمارے خون میں تیرنے والی ساری چیزوں کو میں دیکھ سکتی ہوں۔ وہ چیزیں جنھیں ہم سیل کہتے ہیں۔

برامدے کے دروازے میں تالا لگا ہوا ہے۔ اس میں عام طور پر تالا لگا ہوتا ہے۔ لیکن آج چابی تالے میں لگی رہ گئی ہے۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔

”کوئی چابی بھول گیا ہے،“ ایلن کہتا ہے۔
” ہمیں اسے واپس کر دینا چاہیے،“ میں کہتی ہوں۔
” لیکن کس کو دیں گے جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کس کی ہے،“ جولانڈا کہتی ہے۔
” عینہ اسے تم لے لو“ برانکا مجھ سے کہتی ہے۔

میں تالا کھولتی ہوں اور ہم برامدے میں جاتے ہیں۔ پھر میں دروازے میں تالا لگا کر چابی اپنی جینس کی جیب میں رکھ لیتی ہوں۔ ہم کھیلتے ہیں۔ سب میرے کانچ کے ٹکڑوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مجھے غصہ نہیں آتا۔ جب میں ڈاکٹر بنتی ہوں تو زخموں پر پٹی باندھتی ہوں اور جب مریض بنتی ہوں تو لیٹ کر کراہتی ہوں۔ پھر ہم اوب جاتے ہیں۔

میں دروازہ کھول کر پھر سے تالا لگا دیتی ہوں۔ چابی اپنی جینس کی جیب میں رکھ لیتی ہوں۔ پھر میں آنگن میں جاتی ہوں اور سیڑھیوں کے پاس جس سے اسکول کو راستہ جاتا ہے، ایک چھوٹا سا گڈھا کھودتی ہوں، اس میں چابی رکھ دیتی ہوں، اس کو اس چھوٹی تصویر سے ڈھک دیتی ہوں جو مجھے ببل گم ریپر کے اندر ملی تھی۔ پھر اس کے اوپر کانچ کا ایک ٹکڑا رکھ دیتی ہوں۔ یہ چابی کے گڑھے کو یاد رکھنے کی نشانی ہے۔ آخر میں ان سب کو مٹی سے ڈھک دیتی ہوں۔ صرف مجھے معلوم ہے کہ چابی کہاں دفن ہے۔

اگلے دن مسٹر کوواک ہمیں ڈھونڈتے ہوئے آنگن میں آتے ہیں :

” بچو! تم میں کسی کو یہاں برامدے میں ہماری چابی تو نہیں ملی؟“ وہ پوچھتے ہیں۔ اس وقت ہم مٹی پر دنیا کا نقشہ بنا کر ”ملک لوٹنے“ کا کھیل کھیل رہے تھے۔

” نہیں ہمیں تو نہیں ملی،“ ہم ایک ساتھ کہتے ہیں۔
” اچھا، مجھے یاد نہیں کہ کہاں رکھ دی۔ میں نے سوچا کہ۔“ مسٹر کاواک کہتے ہیں۔

میرے گال شرم سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ ان میں ایسی جلن ہوتی ہے کہ جولانڈا مجھ سے آدھا افریقہ لوٹ لیتی ہے۔ پھر میں جلدی سے گھر بھاگ جاتی ہوں۔

لنچ کے بعد جب آنگن میں کوئی نہیں ہوتا تو میں چابی کے گڑھے کی نشانی کو ڈھونڈنے جاتی ہوں۔ کل جہاں میں نے چیزیں گاڑی تھیں اس جگہ کچھ نظر نہیں آتا۔ میں سوچتی ہوں کہ کیا مجھے چابی نکال کر مسٹر کاواک کے میل باکس میں ڈال دینی چاہیے؟ پھر سوچتی ہوں کہ کیا اس کے بارے میں مجھے جولانڈا سے پوچھنا چاہیے؟ آخر کار میں اسے وہیں رہنے دیتی ہوں۔

تب سے بہت سال گزر گئے۔ اب میں جب آنگن میں جاتی ہوں تو وہ مجھے بہت چھوٹا لگتا ہے۔ سیڑھیوں کے اوپر اسکول جانے والے راستے کو پکا کر دیا گیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اب میں اوپر برامدے میں کبھی نہیں جاؤں گی۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ میں اب اتنی بڑی ہوں کی کھڑکی سے نکل نہیں سکتی۔ خیر، میرے پاس چابی نہیں ہے۔ میرے پاس چابی والے گڑھے کی نشانی کی صرف یاد باقی ہے۔ آج بھی میری خواہش ہوتی ہے کہ کاش میں نے چابی مسٹر کاواک کے میل باکس میں رکھ دی ہوتی۔

Facebook Comments HS