خواجہ سرا اور ہمارےغلط معاشرتی رویے


خواجہ سراؤں کا نہ کوئی ماں ہوتی ہے اور نہ ہی باپ اور نہ ہی کوئی رشتے دار اور نہ ہی سماج میں عزت۔ جب ماں باپ ہی خواجہ سراؤں کے لیے گھر کے دروازے بند کر دیں تو پھر گرو ہی ان کا سہارا ہوتے ہیں گڈو رانی کی باتیں سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور میں کافی دیر تک مبہوت ہو کر بیٹھی رہی اس نے بتایا کہ ہماری زندگی تو جانوروں سے بھی بدتر ہے اگر کوئی شخص گھر میں پالتو جانور بھی پالتا ہے نا تو اسے بھی ناز و نعم سے پالا جا تا ہے مگر خواجہ سراؤں کی زندگی بھی ؑعجیب ہوتی ہے کہ انہیں جننے والی ماں اور باپ بھی ان سے نفرت کرتے ہیں۔ آئیں دیکھیں خوجہ سرا کیا ہوتے ہیں۔ انہیں ہمارے معاشرے میں، کھسرے، مخنث، کھدڑہ، زنخا، خواجہ سرا اور تیسری جنس کے بیہودہ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہم رہتے ہیں۔

سماج روایتی طور پر دو طرح کی انسانی صنف کی نشاندہی کرتا ہے ایک عورت اور دوسرے مرد۔ یہ ان کے اعضائے مخصوصہ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون مرد اور کون عورت ہے۔ خواجہ سرا تیسری صنف ہیں۔ اگرچہ کچھ خواجہ سراؤں کے جسم تو مردانہ ہوتے ہیں لیکن ان کی روش صنف نازک کی طرح ہی ہوتی ہے۔ خواجہ سرا ہماری ہی طرح کے انسان ہیں وہ ہماری طرح ہی سوچتے اور محسوس کرتے ہیں مگر افسوس کہ ہم انہیں اپنے معاشرے سے الگ تھلگ کر کے رکھنا چاہتے، ہیں اور انہیں صرف ناچ گانے اور مانگنے تک محدود کر کے انسانیت کی توہین کر رہے ہیں۔

خواجہ سراؤں کی زندگی دہکتے انگاروں کی مانند ہے کہ ہم ان کی زندگی کے دکھوں کو سمجھ ہی نہیں پائے اور یہ انگارے ہماری بے حسی کی وجہ سے مزید بھڑک رہے ہیں۔ صحت کے مسائل، تعلیم کے مسائل، روزگار کے مسائل، معاشرتی مسائل، دینی مسائل، زندگی کے دوسرے سماجی مسائل گو کہ ان کے لئے مشکلات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس نے ان کی زندگی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا ہے۔ اور وہ ناچنے گانے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں حالانکہ یہ لوگ بھی ہماری طرح ذہین ہوتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ یہ بھی انسان ہیں مگر نہیں، آئے دن ان کے ساتھ جنسی بدکاری کے واقعات، ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، انہیں قتل کر دیا جانا ایک عام سی بات ہے۔ انہیں اپنی شادی بیاہ کی محافل میں بلا کر ان سے فحش مذاق کیا جاتا ہے، انہیں مادر زاد گالیاں دی جاتی ہیں جنسی اختلاط کے انکار کرنے پر ان کی سر کے بال کاٹ کے انہیؔں سر عام ننگا کر کے اپنے اندر کے جانوٓر کو تسکین دی جاتی ہے۔ مگر ان بیچاروں کی سننے والا کوئی نہیں، یہ بے یار و مدد گار لوگ ایک ؑعرصے سے ظلم کا شکر ہوتے آ رہے ہیں مگر ان کی شنوائی نہ ہی تھانوں میں ہوتی اور نہ ہی عدالتیں ان کے لئے کچھ کر پاتی ہیں، اور نہ ہی ہماری ریاست ان کے بارے میں کچھ سوچتی ہے۔
رہا مذہبی لوگوں کا معاملہ تو سماج جہاں انہیں تفنن طبع کے طور پر لیتے ہیں تو مولوی حضرات کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ وہ انہیں فحاشی کا منبع کہتے دکھائی دیتے ہیں وہ خواجہ سراؤں کو مدرسے میں قرآن پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ خواجہ سراؤں میں ایسے بھی ہیں جو دین کی طرف رجحان رکھتے ہیں مگر معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ دین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں یہاں تک کہ خواجہ سراؤں کو اسلام آباد کی مسجد میں نماز پڑھنے پر مسجد سے نکال دیا گیا جب کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور عبادت کے لئے مساجد کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلا رکھنے کا کہتا ہے۔ ہمارے کچھ ملا ایسے ہیں جن کی کم عقلی پر بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے یہ جب چاہیں حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے دیں انہیں کوئی طاقت پوچھنے کا حق نہیں رکھتی۔

خواجہ سراؤں کی زندگی میں زہر گھولنے والے کوئی دوسرے نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔ خواجہ سرا بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراؤں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور مرنے کی صورت میں ان کا جنازہ پڑھانا تو دور کی بات ان کے جنازے میں ہم لوگ شریک ہونا گناہ سمجھتے ہیں اور چند لوگ ہی ہوتے ہیں جو انہیں بے نام قبروں میں دفنا آتے ہیں۔

اگر ہم دیکھیں تو خواجہ سراؤں کے لئے حکومت کے ایجنڈا پر ان کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کام ہونے چاہیں اور کچھ نہیں تو انسانی حقوق کی۔ تنظیمیں ہی ان کے لیے بہت اقدام کریں اگر میڈیا ان کو۔ پرموٹ کرے تو بھی ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر، میڈیا کے پاس حزب مخالف یا پھر ہنگاموں اور آپس کے جھگڑوں جیسے ”اہم“ موضوعات کے سوا کسی ”غیراہم“ اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پر ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والے مذہبی رہنماؤں کے پاس بھی خواجہ سراؤں کے حقوق کی بات کرنے کے لئے کچھ نہیں وہ ان سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں انسان ہی نہیں سمجھتے اب کون بتائے کہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے بھی کچھ حقوق ہیں ان کے حقوق کی بات کرنا بھی تو نیکی ہی ہے۔ پارلیمنٹ میں جہاں عورتوں کے لئے نشستیں مخصوص ہین وہیں ملازمتوں میں بھی اور دوسری سرگرمیوں میں بھی ان کا حصہ ہونا بہت ہی ضروری ہے تا کہ یہ لوگ اپنی زندگی کو ناچ گانے تک محدود نہ رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوتے اس معاشرے کے لئے کچھ اچھا کر سکیں۔ )

 

Facebook Comments HS

One thought on “خواجہ سرا اور ہمارےغلط معاشرتی رویے

  • 11/01/2022 at 9:38 صبح
    Permalink

    بہت ہی خوبصورت انداز میں لکھی گئی معلوماتی تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.