انسانی زندگی میں مستقل جدوجہد کی ضرورت و اہمیت

ہمارے معاشرے کا سماجی رویہ ہے کہ عوام کسی کام سے متاثر ہو کر جوش میں آ جاتے ہیں، اور ولولے کے ساتھ اس کام کا آغاز کر دیتے ہیں۔ بوجہ وقتی لگن کام کا آغاز بھی ہوجاتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس میں کمی واقعی ہوجاتی ہے اور پہلے جیسی ہمت باقی نہیں رہتی حتی کہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ کام جو بہت عزم سے شروع کیا گیا تھا سرد مہری کا شکار ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس پر لاپرواہی کی دھول پڑنے لگتی ہے، زیادہ تر اس کا انجام بجز پچھتانے کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ ایسے ہی دو مخلص نوجوانوں کی کہانی دوستوں کی پیش نظر ہے جو ماحول کی بدلتی ہوا کے ساتھ اپنا مشغلہ بھی بدلتے ہیں۔
آج کل ذرائع ابلاغ اور خصوصاً سماجی رابطے کے معروف ذرائع (سوشل میڈیا) میں قومی ترجیحات کو پس پشت ڈال کر محض پیسے بٹورنے کی خاطر مختلف ویڈیو کلپس شیئر کیے جانے کا رواج عام ہے۔ نوجوان طبقہ میں فٹنیس کے حوالے سے مقبولیت زیادہ ہوتی ہے اور چونکہ گزشتہ مہینوں میں اس کا ٹرینڈ بھی سرفہرست رہا جس وجہ سے ان دو دوستوں نے بھی جیم میں داخلہ لینے کی ٹھان لی اور اس حوالے سے معلومات جمع کر لی جس پر انہیں معلوم ہوا کہ ایک فرد کی سیکورٹی اور پہلے ماہ کی فیس ملا کر 8000 کی رقم بنتی ہے، جو ان کے لئے مشکل ضرور تھی لیکن اپنے شوق کے آگے انہیں قربانی دینی پڑی اور جیم میں داخلہ لے کر انسٹرکٹر کی ہدایات پر عمل شروع کر دیا۔
کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ایک دوست کسی مجبوری کی وجہ سے جیم نا جا سکا جس پر اس کے دوسرے دوست نے بھی اکیلے جیم جانا غیر مناسب سمجھا اور دونوں نے چھٹی کر لی۔ اگلے روز جب وہ جیم پہنچے تو استاد نے بتایا کہ آپ کی اس 1 دن کی چھٹی نے 4 دن کی محنت ضائع کر دی، کیونکہ ورزش اور کسرت مسلسل کی محنت مانگتی ہے جس میں ناغہ نا ہو۔ یہ سن کر دنوں پریشان ضرور ہوئے لیکن اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے دوبارہ کمر کس لی۔ لیکن جہاں ماحول کی سستی کا اثر تھا وہیں پی ایس ایل کا آغاز بھی ہو گیا، اور چونکہ کرکٹ ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے، ان سب وجوہات کی بنا پر انہوں نے 1 ماہ میں جیم سے 5، 6 چھٹیاں کر ڈالیں۔
اب یہ دوست فٹنس کے خواب کو پس پشت ڈال کر کرکٹ کی تیاری میں مگن ہو گئے، کہ اس شعبہ میں محنت کر کے قومی سطح کی کرکٹ میں شمولیت اختیار کریں گے۔ اسی نئے ٹرینڈ کے شوق کو لئے انہوں نے علاقے کی لوکل ٹیم سے رابطہ کیا اور ان کے مطالبات کے مطابق ٹیم کا حصہ بن گئے۔ لیکن جوں جوں پی ایس ایل میچز اپنے اختتام کی جانب جانے لگے توں توں ان کا شوق بھی گروائنڈ سے ہوتا ہوا گلی اور پھر گیراج میں جا کر دم توڑ گیا۔
حالیہ دنوں میں ہی عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کی صورتحال کی نافذ ہو گئی اور یہ دوست بھی گھر کے ہو کر رہ گئے، سماجی رابطے کے ابلاغ کو استعمال کرتے رہے اور وہیں انہیں ایک اور ٹرینڈ نظر آیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے وہ بے روزگار ہو چکا ہے، اور مختلف تنظیمیں ایسے افراد تک راشن پہنچانے کا کام سر انجام دے رہی ہیں۔ اس نئے ٹرینڈ کے پیش نظر انہوں نے بھی اس عمل کو جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے پاس موجود رقم ڈال کر باقی رقم کے لئے عزیز و اقارب سے رابطہ کیا، سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور نتیجتاً ایک خطیر رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کیش دینے کی بجائے راشن بانٹنے کا فیصلہ ہوا اور اس مقصد کے لئے راشن کی خریداری میں انہیں کافی کچھ نیا سیکھنے کو ملے، مختلف نرخ مختلف معیار دیکھنے کو ملے جس سے وہ خاصے پریشان بھی ہوئے لیکن جیسے تیسے 50، 60 گھروں کا راشن بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر تقسیم کے عمل کو بھی انہوں نے مزید دوستوں کی مدد سے کامیاب بنایا۔ اس پوری کوشش کو مکمل بنانے میں 6 سے 7 دن کا وقت لگا، جس میں ان کی اپنی رقم، محنت اور وقت لگا۔
اس سب عمل کے پیچھے نیک جذبات کارفرما تھے۔ اس رقم کولیکشن کے دوران ان کی ملاقات ایک محلے کے دوست سے بھی ہوئی جس نے ان کو کہا تھا کہ وہ اس کام میں اپنا حصہ پہلے ہی ڈال چکا ہے اور وہ اس بے روزگاری اور دیگر مسائل کے خاتمے کے لئے کوئی خاص موقع نہیں بلکہ پورا سال مستقبل بنیاد پر کام کرتا ہے۔ یہ بات ان کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ خیر بات آئی گئی ہوئی۔
کچھ دن بعد ان دوستوں نے سوچا کہ حقدار تو اب بھی بہت زیادہ ہیں، کیوں نا دوبارہ کیمپین شروع کی جائے، لیکن اس بار نتائج مختلف تھے، وہ گزشتہ کولیکشن کے مقابلے میں 10 فیصد بھی نا جمع کر پائے اور مایوس ہوئے کہ اب کیا کرنا چاہیے کہ اسی گفتگو کے دوران ان کے ذہن میں اسی محلے کے دوست کا خیال آیا کہ وہ پورا سال اس حوالے سے محنت کرتا ہے، اس کے پاس کچھ نا کچھ حل ہو گا۔ چنانچہ وہ اس کی طرف روانہ ہو گئے۔
جب وہ دونوں اس دوست کے گھر پہنچے تو اس نے بیٹھک میں بٹھایا اور مہمان نوازی کی۔ انہوں نے گفتگو کو مزید بڑھا کر اپنا مسئلہ سنایا کہ اس بار کمپین میں یہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوست نے ساری گفتگو سن کر ان کی نیک خواہشات کو سراہا اور ساتھ ہی کہا کہ اس پر مزید رہنمائی کے لئے وہ انہیں اپنے ایک پروفیسر سے ملوائے گا جو شہر کی ایک مایہ ناز یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کے پروفیسر ہیں۔ وہ دونوں اس بات پر رضامند ہو گئے اور اگلے روز ملاقات کا وقت طے پایا۔
اگلے دن جب تینوں پروفیسر صاحب کے پاس پہنچے تو پروفیسر صاحب ان سے گرمجوشی سے ملے اور اپنے سٹڈی روم میں بٹھایا اور ریفریشمنٹ کا بندوبست کیا۔ پروفیسر صاحب نے حال احوال دریافت کر کے آنے کا سبب پوچھا جس پر ان دو دوستوں نے اپنی فلاحی کیمپین کے بارے میں بتایا کہ وہ پہلے درجے میں کیسے کامیاب ہوئی اور پھر کیسے ناکام ہوئی۔ پروفیسر صاحب نے تمام گفتگو کو انتہائی اطمینان سے سن کر ان سے سوال کیا کہ اس کیمپین کے حوالے سے جو علاقے آپ کی دسترس میں ہے وہاں کی کل آبادی کتنی ہوگی؟ جس پر 8 سے 10 ہزار خاندان کا فگر سامنے آیا جس میں 5 سے 6 ہزار ایسی فگر تھی جو ضرورتمند کی کیٹگری میں آتی تھی۔ پروفیسر صاحب نے فگرز کی تائید کرتے ہوئے بھی یہی کہا کہ ہمارے ملک میں خط غربت سے نیچے رہنے والے افراد کی اوسط بھی یہی 60 فیصد ہی بنتی ہے۔ جو عالمی ادارے اور قومی ادارے بھی کہتے ہیں۔
اب کہاں ان دوستوں نے 60 گھروں میں راشن تقسیم کیا تھا اور کہاں 6000 گھرانے ضرورتمند باقی تھے۔ دوستوں نے بات کو سمجھتے ہوئے سوچا اور کہا کہ ہمارے علاقے میں جتنا کام اور لوگوں نے بھی کیا تب بھی زیادہ سے زیادہ 1000 گھرانے مستفید ہوئے ہوں گے 5000 گھرانے اب بھی مشکل حالات میں ہوں گے ۔ پروفیسر صاحب نے ان کی اس بات کو درست کہا اور مزید رہنمائی فرمائی کہ یہ سارے کام ریاست کی ذمہ داری بنتے ہیں اور ریاست اپنے سارے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جو بھی حکمت عملی اپنائے، اپنی عوام کا ہر سطح پر خیال رکھتی ہے۔ اور چونکہ ہر فرد کا مکمل ڈاٹا ریاست کے پاس ہوتا ہے تو وہ باآسانی ضرورتمند افراد تک رسائی کر سکتی ہے۔
نوجوان کی جانب سے سوال آیا کہ اگر ہر مخیر شخص ایسی کوشش کرے تو جملہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟ پروفیسر صاحب نے سوال کو سراہتے ہوئے جواب میں ایک مثال سامنے رکھی کہ ملک کی کچھ نامور این جی او ’s کو میں بچپن سے ایسے ہی کام کرتے دیکھ رہا ہوں اور ان تنظیموں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اور سونے پر سہاگہ کہ لنگر خانوں پر افراد کی تعداد بھی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ یعنی نتیجتاً بے روزگاری اور بھوک کم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ جواب سن کر دونوں دوست چونک گئے اور سوچ میں پڑ گئے کہ اس زاویے سے تو انہوں نے آج تک سوچا نہیں تھا۔ پروفیسر صاحب نے گفتگو کا رخ ملک کے معاشی نظام کی جانب موڑا کہ کسی بھی ملک کا معاشی نظام جیسا ہو اس کے اثرات ہر فرد تک منتقل ہوتے ہیں۔ اور وطن عزیز کا معاشی نظام چونکہ بہت کمزور ہے اور نتیجتاً غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ پروفیسر صاحب نے موجودہ صورتحال سے بات سمجھائی کہ اس بحران کا آغاز چین کے شہر وہان سے ہوا اور ہفتے بعد ہی پوری دنیا کو اس حوالے سے آگاہ کیا اس کے کیا اثرات ہیں کون لوگ شکار ہو سکتے ہیں، اس کی وبائی کیفیت کیا ہے، اس کے کیا معاشی اور سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں اور اس کا حل ان کے نزدیک جو تھا وہ انہوں نے دنیا کے سامنے رکھا۔
اور اپنے ملک میں قابو پانے کے بعد دنیا کے دیگر دوست ممالک بشمول اپنے نظریاتی دشمن امریکہ کو بھی تعاون کی پیشکش کی۔ پروفیسر صاحب نے چین کی اس کامیابی کے پیچھے ان کے مضبوط سیاسی و معاشی نظام کا ذکر کیا۔ اور اس کے بر عکس دیگر نام نہاد ممالک اس کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے ہمارا ملک سماجی معاشی سیاسی بنیاد پر مضبوط ہو تاکہ کل کو ایسی کوئی بھی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کا مقابلہ کر سکیں۔
پھر پروفیسر صاحب نے اس بات کا رخ مستقل مزاجی کیا، کہ ایسا تب ہی ممکن ہے جب درست سمت میں محنت کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر ہو، یہ موسمی بخار اور وقتی شوق یا غیر مستقل مزاجی آپ کو کبھی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ لہذا ہم آج اس چیز پر متفق ہوتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ایک مستقل تحریک اپنانے کی ضرورت ہے جس سے ہم پہلے درجے میں پوری قوم اور پھر پوری دنیا کے لئے ایسا کام کر سکتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں ہم بھی دنیا کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے مرکزی سطح کے درست مضبوط معاشی نظام کے لیے جدوجہد کے حوالے سے بھی مزید گفتگو کی، تاکہ خارجی سطح پر کسی سامراجی ادارے کے سامنے ہاتھ نا پھیلانے پڑے اور داخلی سطح پر کسی این جی او کی ضرورت نا رہے۔ اور یہ سب ممکن ہے قومی جدوجہد سے۔
ملاقات برخاست ہوئی اور واپسی پر دونوں دوستوں نے اپنے محلے دار دوست کا شکر ادا کیا اور پروفیسر صاحب سے ملتے رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اور ساتھ ہی یہ عزم کیا کہ وہ مستقل مزاجی کو لازمی اپنائے گے اور اپنی محنت کو پروفیسر صاحب کی رہنمائی کے مطابق کسی درست سمت کی جانب گامزن کریں گے تاکہ وطن عزیز کو بلند مقام پر پہنچا سکے۔
دوستوں ایسے کئی دوست ہمارے معاشرے میں موجود ہوتے ہیں اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کو درست راہ دکھائے اور ان کی مخلص کاوشوں کو درست منزل کی جانب گامزن کر دیں۔ تاریخ کے تمام مشہور لوگوں کی زندگی کے معمولات میں سب سے واضح چیز ان کی مستقل مزاجی ہے۔ مستقل مزاجی کے بغیر کامیابی کا تصور ایسے ہی ہے جیسے آکسیجن کے بغیر زندہ رہنا۔ نبی پاک ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین وہ ہے جس پر اس کا اختیار کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔“ مستقل مزاجی اپنایے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دیجیے جو آپ کے لیے خوشحالی اور آسودگی کی ضامن ہوگی۔

