مچلتی تھرتھراتی حساس مگر ڈھیٹ مخلوق


رات کا سفر بھی عجیب ہوتا ہے آپ ایسی غنودگی کی کیفیت میں ہوتے ہیں، سمجھ نہیں آتا جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ دن پہلے کالام کی طرف سفر جاری تھا، رات کے تین بج رہے تھے، اسلام آباد کے قریب کسی جگہ پر گاڑی فیول کے لئے رکی تھی۔ میں گہری نیند میں تھی کہ اچانک بہت سارے مردوں کے شوروغل کی آواز سے آنکھ کھلی۔ میں گھبرا گئی، ایک لمحے کے لئے یوں لگا جیسے میں کسی ایسی گاڑی میں ہوں ہجرت کے دنوں میں مہاجرین پر حملہ آور حملہ کرتے تھے۔

جیسے ہی ہوش بحال ہوئے، میں نے دیکھا دس بارہ لڑکوں کا گروپ ہے، وہ شیشے کے کش لگا رہے ہیں، ان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر کا انسان ہے، وہ بھی ان کی ہلڑ بازی میں ان سے زیادہ شدت سے شامل تھا۔ میں نے ان کی نظروں کے تعاقب میں نظریں گھمائیں تو مجھے لگا شاید وہ کسی لڑکی کو تنگ کر رہے ہیں۔ غور کرنے پر کیا دیکھتی ہوں ایک ٹرانس جینڈر ہے، شکل و صورت، اچھی، بالوں کی انتہائی خوبصورت کٹنگ، سمارٹ، صاف ستھرا، نیلی جینز اور جیکٹ میں ملبوس ہے۔

اس نے ان کو جواب میں ہاتھ ہلایا اور اپنی بس سے اتر کر اس گروپ کے پاس گیا، انہوں نے ہلڑ بازی میں کمی نہیں کی، خیر اس ٹرانس جینڈر نے میری توقع سے بڑھ کر با اعتماد انداز میں ان کا سامنا کیا، ان کے شیشے سے کش لگایا اور واپس گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔ جب تک وہ ان کے پاس کھڑا رہا، انہوں نے ایسے ایسے فقرے کسے، لیکن اس نے بہت مثبت انداز میں ان کی ساری بکواس سنی۔ لڑکے تو لڑکے، ادھیڑ عمر سفید بالوں والا شخص انتہائی گندی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور اسے چھونے کے لئے بے تاب تھا، مجھے کراہت محسوس ہونے لگی۔ میں نے دوبارہ آنکھیں بند کی تو انہوں نے بلیو ٹوتھ سپیکر پر پنجابی میں نہ جانے کیا چلا دیا جس میں کوئی انتہائی بدتمیزی کے ساتھ ٹرانس جینڈرز کے بارے اول فول بک رہا تھا۔

کالام میں ایک ہی بازار ہے، جو زیادہ بڑا نہیں۔ اگر آپ وہاں دو سے تین دن گزاریں تو عین ممکن ہے آپ کو جو لوگ مالم جبہ یا کسی اور پوائنٹ پر نظر آئے تھے، ان سے دوبارہ ٹاکرا ہو جائے۔ میں نے اس دوران کئی بار اس ٹرانس جینڈر کو دیکھا، ہر بار کوئی لپک کر اسے چھونے کے لئے بے تاب نظر آیا، کوئی اس کی تذلیل کرتا نظر آیا، ٹھٹھہ کر رہے ہیں، گندے غلیظ مذاق کر رہے ہیں، میں سوچ سوچ کر حیران ہو رہی تھی یہ کیسا ہجوم ہے جو عورت کی تشبیہ کو معاف نہیں کرر ہا اسے اگر اصلی عورت یوں ہی راستے میں مل جائے یہ تو اسے چیر پھاڑ کر کھا جائے۔

ان تین دنوں میں جب جب موقع ملا میں نے اس ٹرانس جینڈر کو آبزرو کیا۔ وہ بھی ہر لڑکے کے ساتھ مچل مچل جا تا تھا، ان تین دنوں میں اس نے بھی کالام کے چھوٹے سے بازار کو اپنی سیاہ زلفوں، تیکھی آنکھوں اور لٹک جھٹک کرتی اداؤں سے سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اب تک مجھے اس کا نام معلوم ہو چکا تھا، ”سنی“ ! آخری دن مجھے اس سے بات چیت کا موقع مل ہی گیا۔ اور میں نے اسے کہہ ہی دیا، سنی! اس رات تم نے کتنا بڑا خطرہ مول لیا جو اس گروپ کے پاس ہی چل دیے، پھر ایسے تذلیل بھرے مذاق، کیسے کرتے ہو ان سب کا سامنا؟

کہنے لگا آپی! ہمیں کوئی کھسرا کہے، تو ہم پہلی تو بات ہے برا نہیں مناتے کیونکہ یہی حقیقت ہے، دوسرا آپ نے دیکھا میں ہر کسی کو پٹخ کر جواب دیتا ہوں، اب کیا کریں ڈر کر بھاگے گے تو آپ کو نہیں لگتا یہ نوچ کر کھا جائیں گے؟ اس لئے ان کا سامنا تو کرنا پڑتا ہی ہے۔ آپی آپ کو اندازہ بھی نہیں ہو سکتا ، ہم کتنی ڈھیٹ مخلوق ہیں، جب پیدا ہوتے ہیں تو سب سے پہلے تو گھر والے ہی دھتکار دیتے ہیں، میرے باپ نے میری ماں کو میری وجہ سے طلاق دے دی تھی۔

اس دنیا میں اگر کوئی مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ صرف میری ماں ہے۔ میں ناچ کر ، محنت سے پیسے کماتا ہوں، نو لاکھ خرچ کر کے بہن کی شادی کی تھی، ولیمے پر اس نے پیغام بھیجا تھا، تم مت آنا ورنہ سسرال میں عزت نہیں رہے گی۔ سوچیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی مجھے! یہ ناچ گانا مجبوری ہے، فنکشن نہیں کروں گا تو کھاؤں گا کہاں سے؟ اور کوئی کام بھی تو نہیں آتا۔ گھر جاؤ تو ہر کوئی پیسے مانگتا ہے، تب تک بہن بھائی یہ بھی غنیمت ہے بات کر لیتے ہیں جب تک انہیں پیسے دیتے رہو۔

وہ کہتے ہیں تم کون سا محنت کر رکے پیسے کماتے ہو؟ لیکن اپنی عزت نفس کو روند کر کمائے ہوئے پیسوں کو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ محنت سے نہیں کمائے گئے؟ یہ ہوس سے بھرے ہوئے مردوں کی چٹکیاں، غلیظ باتیں، اور نہ جانے کیا کیا برداشت کرنا تو روز کا معمول ہے۔ لیکن یہ جو دل اور دماغ ہے ناں انہیں تو نہیں پتہ ناں کہ میری جنس کیا ہے؟ انہیں تو بے عزتی بھی محسوس ہوتی ہے اور یہ بے چین بھی ہوتے ہیں۔ میں ایک عام انسان کی طرح حساس ہوں، میرا جب سب مذاق اڑاتے ہیں یا نام رکھتے ہیں تو مجھے بھی برا لگتا ہے لیکن میں کسی کے ساتھ لڑنے کی سکت تو نہیں رکھتا البتہ دل سے بددعا ضرور نکلتی ہے۔

میں حیران ہوں آپ ایک لڑکی ہو کر مجھ سے کیسے بات کر رہی ہیں؟ میرا دل چاہ رہا ہے میرے دل میں جو درد ہے وہ میں آپ کے سامنے کھول کر رکھ دوں آپ کو پتہ ہے میں صبح فجر کی نماز کبھی ترک نہیں کرتا، رات کو تلاوت سن کر سوتا ہوں۔ مجھے پتہ ہے میں گنہگار ہوں لیکن وہ رب یہی کہتا ہے ناں کہ جو بھی کر لو لیکن آ کر مجھ سے معافی مانگ لو میں معاف کردوں گا، آپی کیا رب میری ماں جیسا ہے؟ تین دن سے جس مچلتے تھرتھراتے وجود کو میں دور سے دیکھ رہی تھی، قریب بیٹھ کر وہ مجھے ایک دکھی سہیلی سا محسوس ہو رہا تھا، اس کی تیکھی نظریں درد سے بوجھل ہو رہی تھیں، میں نے جھجکتے ہوئے اس کے ہاتھ کو سہلایا اور اسے کہا سنی، میرے پاس تمہاری باتوں کا جواب نہیں ہے، مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ تم ایک اچھے اور مضبوط اور بہادر انسان ہو، بس اپنے آپ کو کبھی ٹوٹنے نہ دینا!

Facebook Comments HS