خوراک کو ضائع ہونے سے کیسے بچائیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ سے سوال کیا جائے کہ دنیا بھر میں آلودگی پھیلانے کے چند بڑے ذرائع کے نام گنوائیں تو یقینا آپ گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی اور مختلف اشیاء بنانے کے کارخانوں اور رکازی ایندھن کے بجلی گھروں میں بجلی بنانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کا نام لیں گے۔ لیکن ان کے علاوہ بھی آلودگی پھیلانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ دنیا میں موجود ہے جس پر بہت کم یا بالکل ہی بات نہیں کی جاتی اور وہ ذریعہ خوراک کا ضائع ہے۔

دنیا بھر میں جتنی بھی خوراک پیدا ہوتی ہے اس کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھائے بناء سیدھا کوڑے دان میں چلا جاتا ہے۔ یہ ضائع شدہ خوراک یا تو کوڑا ٹھکانے لگانے کی جگہوں پر زمین میں دباء دی جاتی ہے یا یہ یوں ہی پڑی رہ کر گل سڑ جاتی ہے اور اس عمل سے بڑی تعداد میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں گیسیں ”گرین ہاؤس گیس“ کہلاتی ہیں یعنی یہ گیسیں براہ راست ہمارے کرہ ہوائی کے درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں۔

لیکن یہ آلودگی یا وسائل کا ضائع صرف اسی تک محدود نہیں ہے جب آپ اس میں مختلف سبزیوں، پھلوں اور اناج کو اگانے پر خرچ ہونے والے زمینی وسائل جیسے کہ پانی، کھاد، اور ان فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ان پر زہریلے کیڑے مار دو اؤں کے چھڑکاؤ سے ہونے والے حیاتیاتی نقصان کو شامل کریں تو بات بہت دور تک نکل جاتی ہے۔ بھلا کتنی دور؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دنیا بھر میں ضائع ہونے والی خوراک صرف کسی ایک ملک میں ضائع ہو رہی ہوتی تو اس سے اتنی ہی مضر صحت گیسیں خارج ہوتی ہیں کہ جتنی ہر سال پورے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں تمام اشیاء سے نکلنے والی آلودگی سے خارج ہوتی ہے۔ اور چونکہ امریکا دنیا بھر میں آلودگی خارج کرنے والے چند بڑے ممالک میں شامل ہے تو آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنی زیادہ آلودگی ہوتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر افراد جان بوجھ کر خوراک ضائع نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم لوگوں کے بود و باش کے انداز ایسے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ تو اس غیر ارادی نقصان سے کیسے بچا جائے؟ خوش قسمتی سے یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں، اپنے کھانے پینے اور خوراک خریدنے کے انداز میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے آپ اس ضائع کو روک سکتے ہیں۔ اور وہ تبدیلیاں یہ ہیں۔

• تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے اندھا دھند خریداری خوراک کے ضائع کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے لیے بازار جانے سے پہلے اپنے باورچی خانے کی الماریوں اور فریج کو کھول کر تسلی کر لیں کہ کون کون کی اشیاء ختم ہیں اور پھر ان کی فہرست بنا لیں تاکہ آپ ضرورت سے زیادہ خریداری نہ کریں۔

• اپنے فریج میں اشیاء کو ترتیب سے رکھیں اور بچے ہوئے کھانوں کو ایسے برتنوں میں رکھیں کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ بچا ہوا کھانا ہے تاکہ آپ ویسا ہی دوسرا کھانا لانے سے پہلے بچے ہوئے کھانے کو کھانا نہ بھولیں۔

• بچے ہوئے کھانوں کو ملا کر پکانے یا ان میں تھوڑا سا کچھ نیا ڈال کر پکانے کے حوالے سے کتابیں یا انٹرنیٹ پر موجود تراکیب ضرور پڑھیں۔ اس مقصد کے لیے گوگل پر ”لیفٹ اوور کوکنگ ریسیپی (left over cooking recipie)“ لکھ کر تلاش کریں۔ ایک ویب سائیٹ ”لوو فوڈ ہیٹ ویسٹ (love food hate waste)“ پر اس حوالے سے کھانا پکانے کی ترکیبیں بطور خاص اسی مقصد کے لیے رکھی گئی ہیں۔

• پھلوں اور سبزیوں کو پہلے دھو کر خشک کرنے کے بعد پلاسٹک کے ڈبوں میں ڈال کر فریج میں رکھنے سے وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہتے ہیں۔

• تحقیق بتاتی ہے کہ ریستورانوں میں گھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھانا ضائع ہوتا ہے۔ اس لیے کسی ریستوران میں کھانا منگواتے وقت اتنا کھانا منگوائیں کہ جو آپ سارا کھا سکیں۔ کچھ ریستوران بھی آپ کو ضرورت سے زیادہ کھانا منگوانے کی اجازت نہیں دیتے۔ چنانچہ ایسی جگہوں پر کھانے سے آپ اس بارے میں زیادہ آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

• اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ کے فریزر کا درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی کم ہو۔ زیادہ ٹھنڈک سے فریزر میں رکھی گئی اشیاء جلدی خراب نہیں ہوتیں۔

• اگر آپ کے پاس کوئی ایسا کھانا بڑی تعداد میں ہے کہ جسے فوری طور پر استعمال نہ کیا جائے تو وہ خراب ہو جائے گا تو اپنے پڑوسیوں کے گھر بھجواء دیں۔ اس سے آپ کے پڑوسیوں سے تعلقات بھی اچھے ہو جائیں گے۔ مغربی ممالک میں ایسی ایپس اور ویب سائیٹ ہیں جہاں آپ کھانا غریب لوگوں کو عطیہ کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو خود آپ کے گھر آ کر آپ سے کھانا لے جائیں گے۔

• زیادہ تعداد میں پھل یا سبزیاں خریدنے سے مت گھبرائیں۔ بظاہر تو اس سے یہ لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ضائع ہو گا مگر تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس طریقے سے آپ اشیائے خورد و نوش کو زیادہ بہتر طریقے سے ذخیرہ کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔

ویسے یہ آخری تجویز پڑھ کر ہمیں معین اختر مرحوم کا ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ سنہ 1992 ء میں بھی ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ ایک کیسٹ ”رنگ رنگیلا معین اختر“ میں معین اختر سے ایک خاتون پوچھتی ہیں کہ ”آپ نے سیلاب زدگان میں کیا عطیہ کیا“ ۔ تو وہ بتاتے ہیں ”کچے بھٹے“ خاتون کے وجہ پوچھنے پر وہ بتاتے ہیں ”اس سے ’قومی سوچ‘ بیدار ہوتی ہے۔“ خاتون کے حیرانی سے وجہ پوچھنے پر وہ تفصیل بتاتے ہیں ”اگر تم گردن تک پانی میں ڈوبی ہو اور میں تمھارے ہاتھ میں کچا بھٹہ تھما دوں تو تمھارے اندر یہ سوچ پیدا ہوگی کہ میں اس کو کیسے بھون کر ، کہاں بیٹھ کر کھاؤں گی۔ بس یہی قومی سوچ ہے۔“

چلتے چلتے ایک انتہائی ضروری اور افسوس ناک بات آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ وکی پیڈیا کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست ”مغربی آسٹریلیاء“ میں گھریلو چڑیوں پر سخت پابندی عائد ہے اور کسی چڑیا کو دیکھتے ہی جان سے مار دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ چڑیاں بیج وغیرہ کھا لیتی ہیں۔ حالانکہ ان چڑیوں یا دیگر پرندوں سے اناج بچانے کے ایسے طریقہ کار بھی ہیں کہ جن سے ان کی جان بچ سکتی ہے۔ لیکن برق گرتی ہے تو بے چاری چڑیوں پر ۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف دنیا بھر کی ایک تہائی خوراک کھائے بناء ضائع ہو جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ مغربی آسٹریلیاء میں بھی اگنے والی تمام اقسام کی خوراک جس کی ایک بڑی تعداد کو یہ معصوم و بھولی چڑیاں چونچ بھی نہیں لگاتیں، لیکن وہ کھائے بناء ضائع کر دی جاتی ہے لیکن دوسری طرف چند ٹن اناج بچانے کے لیے ان معصوم سی ماحول دوست اور خوبصورت چڑیوں کو مار دیا جا تا ہے۔ چڑیاں بھی یہ طرز عمل دیکھ کر سوچتی ہوں گی کہ گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو۔

یہ تو بالکل ماؤزے تنگ کے چین میں چڑیاں مارنے جیسا طرز عمل ہے کہ جس پر پچھتا کر انہیں پاکستان سے چڑیاں منگوانا پڑی تھیں۔ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایسے تو خود انسانوں کو بھی مارنے کی بات ہو سکتی ہے کہ یہ زمین کے وسائل بے دریغ طریقے سے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ چڑیاں اور دیگر پرندے اگر کچھ غذا کھا لیتے ہیں تو دوسری طرف کتنے ہی کیڑے مکوڑے کھا کر انسان کو ان کے شر سے بچا لیتے ہیں۔ ہر چیز قدرت نے ایک اصول، ایک قاعدے کے تحت بنائی ہے جس میں اگر وہ کچھ نقصان کرتی ہے تو دوسری طرف فائدہ بھی دیتی ہے۔ یہی کیڑے مکوڑے ایک معقول مقدار میں ہوں تو یہ زمین کی ذرخیزی بڑھاتے ہیں۔ ، بقول شاعر

نہیں ہے کوئی چیز نکمی قدرت کے کار خانے میں۔

اور اگر یہی منطق ہے تو پھر تو تمام پرندے جیسے کہ کوے، مینا، کوئل، بلبل اور دیگر پرندے مار دینے چاہیں کہ یہ سبھی کبھی نہ کبھی فصلوں سے اناج کھانے کا گناہ کر لیتے ہیں۔ اناج کھانے کی اتنی بڑی سزاء تو خدا نے انسان کو نہیں دی تھی، صرف جنت سے نکال دیا تھا لیکن انسان ان بے زبان پرندوں کو جان سے مارنے کی سزاء دے رہے ہیں۔ انسان کی یہی خود غرضی اور بے ایمانی ہے جس کی وجہ سے ”ڈوڈو بطخ“ اور ”تسمانین ڈیول“ سے لے کر کتنے ہی پرندے اور ماحول دوست جنگلی حیات آج معدوم ہو چکی ہیں۔ اور ہم انسانوں کو اپنے ایسے دوہرے اور منافقانہ طرز عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments