دو آنسو
سکندر نے اسکرین پر دیکھا۔ ابھی ٹرین آنے میں چار منٹ باقی تھے۔
’ہیلو۔‘ پیچھے سے نسوانی آواز آئی۔
سکندر نے مڑ کر دکھا۔ یہ کوئی سفید کپڑوں میں ملبوس چالیس سال کی عورت ہوگی ہاتھ میں اس کے بڑا سا بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک دو پہیوں والے چھوٹے سے سوٹ کیس کا ہینڈل۔
سکندر نے مسکرا کر جواب دیا ’ہیلو۔‘ لیکن ایک دم چونک گیا جب اس عورت کے چہرے پر دو آنسو بہتے دیکھے۔
’مجھے یارک سینٹر جانا ہے۔ ‘ عورت نے بہت ہلکے سے کہا۔
’آپ مغرب کی سمت جانے والی ٹرین میں سوار ہوجائیں اور ینگ اسٹریٹ کے اسٹیشن پر اتر جائیں، وہاں سے شمال کی طرف جانے والی ٹرین لیں اور اگلا اسٹیشن نارتھ یارک سنٹر کا ہے۔ ‘
عورت نے زبردستی مسکرا کر شکریہ ادا کیا لیکن اتنی دور میں دو اور آنسو اس کی آنکھوں میں ٹمٹما رہے تھے۔
’کیا آپ کسی مشکل میں ہیں مجھے بتائیں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘
’میں اس شہر میں اجنبی ہوں اور میرے بوائے۔ ‘ پھر وہ خاموش ہو گئی۔
’میں آپ کو نارتھ یارک سنٹر تک چھوڑ دوں گا۔ ‘
’آپ کو اپنے کام پہ پہنچنے میں دیر تو نہیں ہو جائے گی؟‘ اب اس نے آنسوؤں پہ ضبط پا لیا تھا۔
’نہیں نہیں، میں دفتر نہیں جا رہا آج میں لائبریری جا رہا ہوں۔ ‘ اور سکندر کی آواز ٹرین کے شور میں دب گئی۔
سکندر اور وہ عورت دونوں ایک ہی بوگی میں سوار ہو گئے، بوگی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پہ ہینڈل بار پکڑ کے کھڑے ہو گئے۔ سکندر نے کنکھیوں سے ایک دو بار عورت کو دیکھا۔ یہ ایک عام سی شکل کی عورت تھی۔
اتنے میں ینگ اسٹریٹ اسٹیشن آنے کا اعلان ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سکندر نے ہلکے سے منہ ہلایا۔ انسانوں کے ہجوم کے ساتھ ساتھ دونوں ایکسیلیٹر لینے کے بجائے سیڑھیوں سے ینگ اسٹریٹ لائن کے پلیٹ فارم پر چلے گئے اور شمال کی طرف جانے والی ٹرین کا انتظار کرنے لگے۔ عورت نے مسکرا کر پہل کی۔ ’آپ میری وجہ سے تو اس طرف نہیں جا رہے؟‘
’مجھے لائبریری پہنچنے میں کوئی جلدی نہیں ہے آپ اس شہر میں اجنبی ہیں تو آپ کی اتنی تو مدد کر سکتا ہوں۔ ‘ تیز ہوا کے جھونکے آئے تو سکندر نے آتی ہوئی ٹرین کی طرف اشارہ کیا۔ اگلے تین منٹ کے سفر میں کوئی بات نہیں ہوئی، عورت ایک سیٹ پر بیٹھ گئی اور اپنے ہلکے چاکلیٹی رنگ کے بیگ سے چھوٹا سا آئینہ نکال کر چہرے کو دیکھنے لگی۔ اس کے بکھرے ہوئے ہلکے سیاہ بال سکندر کے دل میں گدگدی پیدا کر رہے تھے۔ اگلے اسٹیشن پر دونوں اتر گئے۔
’اب آپ کو کہاں جانا ہے؟‘
’یہاں سے پیدل ہی جانا ہے میری ایک سہیلی آس پاس ہی رہتی ہے۔ ‘
’اگر آپ برا نہ منائیں تو میں آپ کو راستہ بتانے میں مدد کر سکتا ہوں۔ میں اس علاقے کے گرد و نواح سے قدرے واقف ہوں۔ ‘
عورت اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ مل نہیں رہا تھا۔ ’سامنے کافی شاپ میں بیٹھ کر ڈھونڈ لی جئے گا۔‘
کافی شاپ پہنچ کر عورت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ’میرا نام دیانا ہے۔ ‘
سکندر نے انتہائی نرمی سے ہاتھ ملایا۔ ’میں سکندر ہوں یعنی انگریزی میں الیگزنڈر، لیکن میں یہی پسند کرتا ہوں کہ لوگ مجھے سکندر کہہ کے پکاریں۔ ‘
’سکندر! کیا میں نے آپ کا نام صحیح ادا کیا ہے؟
’جی بالکل ٹھیک، آپ کیا پئیں گی؟ یہ میری طرف سے ہوگی۔‘
’شکریہ، بلیک کافی۔‘ اب اس نے جو چیز ڈھونڈ رہی تھی اس کی تلاش بند کر دی تھی۔
’کیا میں پوچھ سکتا ہوں ہو کہ آپ لزلی کے اسٹیشن پر رو کیوں رہی تھیں۔ آپ اس بڑے انجان شہر میں آ کر کسی مشکل میں تو نہیں پھنس گئیں؟‘
’کوئی بات نہیں، اب میں ٹھیک ہوں۔ ‘
سکندر چپ رہا لیکن آنکھوں سے وہ اپنے سوال کو دہرا رہا تھا۔
دیا نا کچھ دیر خاموش رہی ور اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں لے کر جیسے کاٹنے لگی۔ ’میرے بوائے فرینڈ نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ میں اس کی وجہ سے کیلگری سے یہاں آئی ہوں۔ ‘ اور پھر اس کی آنکھیں آنسؤوں سے بھیگ گئیں۔ ’آپ اکیلے رہتے ہیں؟‘
سکندر چونک گیا۔ ’نہیں نہیں، میری بیٹی بھی میرے ساتھ رہتی ہے۔ ‘ اسے جھوٹ بولنے کی قطعاً عادت نہیں تھی۔ اس نے رک کر تھوک اندر نگلا اور تھوڑی دیر بلا مقصد دیوار کی طرف گھورتا رہا۔ ’میری بیوی کے بال بالکل آپ کے بالوں کی طرح تھے، وہی رنگ وہی اسٹائیل۔ اب بھی شاید ایسے ہی ہوں۔ ‘
’مجھے سن کر افسوس ہوا کہ اب وہ آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ ‘ دیانا نے بلیک کافی کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔
وہ سکندر کے ماتھے پہ پسینے کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی۔
سکندر کی زبان گنگ ہو رہی تھی۔ ’وہ ایک مثالی کنیڈین بیوی تھی۔‘ سکندر نے فوراً بات بدل دی۔ ’آپ بتائیں کیا فیصلہ کیا ہے؟ ‘
’میں کیلگری واپس جانا چاہتی ہوں اپنے دوستوں کے پاس اور ماں باپ کے قریب لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں واپس جا سکوں۔ ‘
’کوئی فکر کی بات نہیں۔ اب میں آپ کو سنٹرل بس اسٹیشن سے بس میں بٹھا دوں گا وہ دو دن میں آپ کو کیلگری پہنچا دے گی اور اس کا ٹکٹ بھی زیادہ نہیں ہے۔ ‘
’لیکن سکندر آپ مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہیں؟ ‘ دیانا کی مسکراہٹ کتنی معنی خیز تھی!
’میں، میں، میں یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔ ‘
دیانا خود کو آئینے میں دیکھ کر ناک پلک ٹھیک کر رہی تھی۔
پھر سکندر نے ایک لمبا سانس لے کر خود کو سنبھالا۔ ’آپ کو کیا لگتا ہے میں کیوں یہ کر رہا ہوں! ‘
اس دفعہ دیا نا نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور اپنے بال پھر سے بکھیر دیے۔ سکندر کا دل دھک دھک کرنے لگ گیا۔ ’یاں تو آپ بہت شریف انسان ہیں یا بہت اچھا جھانسا دینے والے۔ بہر حال میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اپنے بوائے فرینڈ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی، اسے ذرا بھی خیال نہیں میرا، خود غرض انسان۔ اس نے میٹھی میٹھی باتیں کر کے مجھے رام کیا ہوا ہے۔ سکندر، کیا خیال ہے آپ کا اس بارے میں؟‘
’میں آپ کے بوائے فرینڈ کو جانتا ہی نہیں لیکن، لیکن گھر سے اس طرح کسی کو نکالنا زیادتی ہے۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟‘
سکندر، سوری! آپ میرے لئے اجنبی ہیں، میں تفصیل نہیں بتا سکتی۔
سکندر نے وقت دیکھتے ہوئے کہا۔ ’اب بتائیں کیا کرنا ہے! میں آپ کو بس پہ سوار کروا دیتا ہوں، میں یہاں مزید بیٹھنا نہیں چاہتا۔ ‘
کوئی ایک گھنٹے کے بعد دیانا کیلگری جانے والی بس میں بیٹھی ہوئی تھی اور بس اسٹاپ پر کھڑے سکندر کو دیکھ رہی تھی۔ سکندر انتظار کر رہا تھا کہ وہ مسکرانا بند کرے تو وہاں سے چلا جائے۔
دیانا کے فون کی گھنٹی بجی، اس نے نمبر دیکھا اور بات کرنا شروع کر دی۔ گفتگو کرتے ہوئے وہ بیگ اور کیری آن سوٹ کیس اٹھا کر بس سے باہر آ چکی تھی۔ سکندر منہ پھاڑے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ’سوری بول دیا ہے اس نے اور میں واپس اس کے پاس جا رہی ہوں۔ ‘
سکندر خاموش رہا۔
’سکندر، ٹرین اسٹیشن تک میرے ساتھ نہیں چلو گے! ‘ پھر وہ مسکرا کر بولی۔ ’آؤ اس ٹکٹ کو منسوخ کرا کے پہلے ہم تھوڑی دیر شہر میں گھوم پھر لیں۔ ‘
دیانا نے بت کی مانند کھڑے ہوئے سکندر کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔ جب وہ نہیں ہلا تو اس نے مڑ کر دیکھا۔
سکندر کے گالوں پہ دو آنسو بہہ رہے تھے۔


