محرم رشتوں میں جنسی تعلقات


دسمبر 2021 کے انگریزی روزنامہ ڈان میں چھپی ایک خبر کے مطابق کوٹ رادھا کشن پولیس سٹیشن نے ایک شخص کو اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ضلع قصور کے جھلر بھاگیانوالی کے علاقہ کی ایک لڑکی نے تھانہ میں رپورٹ درج کرائی ہے کہ اسے اس کے والد نے حویلی میں لے جا کر زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنی درخواست میں متاثرہ لڑکی نے لکھا ہے کہ اس کا باپ اس سے قبل بھی کافی دفعہ اس سے جنسی زیادتی کر چکا ہے۔ اس نے اپنے رشتہ داروں سے بات کی لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی، الٹا اسے خاموش رہنے کو کہا جس پر ہمت کر کے اس نے خود تھانہ میں رپورٹ درج کرائی ہے۔

پچھلے سال راولپنڈی میں ایک نوجوان لڑکی نے تھانہ میں درخواست دی تھی کہ اسے اس کے تین بھائی جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس پر اس کے باریش بھائیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ انگریزی روزنامہ ٹریبیون ایکسپریس کی گیارہ ستمبر 2012 ء کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں ایک بیس سالہ لڑکی پر اس کے باپ نے جسمانی تشدد کرنے کے علاوہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔ لڑکی گھر سے اپنے آبائی شہر کسی کے ساتھ چلی گئی تھی جہاں سے اس کا باپ اسے واپس لے کر آیا تھا۔

اگلے دن جب لڑکی گھر میں اکیلی تھی، اس کی والدہ کسی کے گھر کام کرنے اور چھوٹی بہنیں سکول گئی ہوئی تھیں تو والد نے اس پر تشدد کرنے کے بعد اسے زنجیر سے باندھ دیا پھر اس سے جنسی زیادتی بھی کی۔ لڑکی کے شور مچانے پر پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا جس نے فلیٹ پر چھاپا مار کر لڑکی کو زنجیروں سے آزاد کیا۔ باپ اس واقعہ کے بعد فرار ہو گیا۔

آج کل ٹویٹر پر دو ویڈیو گردش کر رہی ہیں۔ ایک میں جنوبی پنجاب کے ایک باپ بیٹی کو جنسی فعل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ اس فعل میں دونوں کی باہمی رضا مندی شامل ہے۔ دوسری ویڈیو میں بھی دیہاتی باپ بیٹی باہمی رضامندی سے جنسی فعل میں مصروف ہیں۔

ٹویٹر پر ہی کسی نے مردان کے تھانے شیخ ملتون میں درج کرائی گئی ایک ایف آئی آر کی کاپی پوسٹ کی ہے۔ یہ ایف آئی آر ایک خاتون نے اپنے بھائی کے خلاف درج کرائی ہے کہ اس کے بھائی نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان کی 21 اگست 2021 ء کی اشاعت میں ایک خبر چھپی تھی جس کے مطابق مدین پولیس نے ایک پچیس سالہ نوجوان کو اپنی بہن سے جنسی زیادتی کے کیس میں گرفتار کیا ہے۔

ضلع مالاکنڈ کے ایک گاؤں کی ایک خاتون نے اپنے بھائی کے خلاف تھانہ میں رپورٹ درج کرائی ہے کہ اس کا بھائی اسے اپنے ساتھ کالام لے کر گیا جہاں ایک ہوٹل کے کمرے میں اس سے جنسی زیادتی کی۔ دوسرے دن وہ اسے بحرین لے گیا اور ایک بار پھر ہوٹل میں اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب لڑکی نے یہ بات اپنی بہن اور بہنوئی کو بتائی تو انہوں نے اسے تھانہ میں رپورٹ کرنے کو کہا۔ پولیس نے خاتون سے جنسی زیادتی کی میڈیکل رپورٹ مثبت آنے پر لڑکی کے بھائی کو گرفتار کیا ہے۔

یہ چند ایسے واقعات ہیں جو ابھی تک رپورٹ ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں یہ واقعات ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک این جی او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2007 ء سے لے کر 2011 ء تک محرمات سے جنسی زیادتی کے 194 کیس رپورٹ ہوئے لیکن اس کے بعد ان میں سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ ایسے کیسوں کی سست رفتار عدالتی کارروائی ہے۔ متاثرہ فرد پر خاندانی دباؤ کی وجہ سے زیادہ تر لوگ بچ نکلتے ہیں جبکہ ایسے واقعات میں فوری سماعت کر کے مجرموں کو فوری سزا دی جانی چاہیے۔ جو کچھ بند دروازوں کے پیچھے کسی دباؤ یا پھر باہمی رضا مندی سے ہو رہا ہے وہ بہت ہی تلخ اور بھیانک حقیقت ہے۔ ہماری اخلاقی قدریں کتنی روبہ زوال ہیں اس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے۔

انسیسٹ یعنی محرمات سے جنسی تعلقات دو ایسے افراد کے درمیان جنسی تعلقات ہیں جو رشتہ داری کے کچھ رسمی یا غیر رسمی بندھن میں بندھے ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں۔ ان رشتوں میں بنیادی طور پر باپ بیٹی، ماں بیٹا، بہن بھائی اور کچھ دوسرے رشتے شامل ہیں۔ اسلام ہمیں ازدواجی تعلقات کے لیے ایک راہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ نساء کی آیت نمبر (23۔ 4) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور جن ماؤں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی مائیں۔

ان رشتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس کے لئے سخت سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ دنیا کے سارے مذاہب اور تمام ممالک میں محرمات سے جنسی تعلقات رکھنا ممنوع اور جرم ہے اور اس جرم کے ارتکاب پر سزا رکھی گئی ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس قبہیہ فعل کا ارتکاب کرنا صریحاً مذہب اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اس فعل کے معاشرتی پہلو بھی بہت ہی دل دہلا دینے والے ہیں۔ خاندان کے اندر محرمات میں عصمت دری جنسی جرائم میں سرفہرست ہے جو کبھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اگر کوئی بھائی یا باپ گھر میں بیٹی یا بہن سے جنسی زیادتی کرتا ہے تو متاثرہ خاتون اپنے تحفظ پر اعتماد کھو بیٹھتی ہے جس کی وجہ سے وہ بدترین تکلیف دہ عوارض کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات میں جب متاثرین اپنے گھر والوں کو اس واقعے کی اطلاع دیتے ہیں تو اسے منہ بند رکھنے کا کہا جاتا ہے ورنہ خاندان کا نام اور عزت برباد ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔

عام طور پر ایسے جرم کا ارتکاب خاندان کے کسی ایسے فرد کی طرف سے ہوتا ہے جو اس قدر غالب پوزیشن میں ہوتا ہے کہ خاندان کے باقی افراد ان کا سماجی بائیکاٹ یا اس سے تعلق ترک نہیں کر سکتے اور وہ اس ساری صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عصمت دری ایک بہت بڑا جرم ہے لیکن جب وہ گھر کے اندر کیا جائے تو یہ اس سے بھی بڑا اور گھناؤنا جرم بن جاتا ہے۔ متاثرین کو ساری زندگی عدم اعتماد کا احساس رہتا ہے اور بعض اوقات وہ جنسی سرگرمیوں کے لیے اتنا کھلے ہو جاتے ہیں کہ وہ اس فعل کو غلط یا غیر اخلاقی چیز نہیں سمجھتے۔ جو لوگ کم عمری میں گھریلو طور پر عصمت دری کا شکار ہوتے ہیں وہ اس چھوٹی عمر میں ہی جنسی طور پر متحرک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سیکھتے ہیں کہ وہ احسان کے بدلے جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں یہ سب ان کے رویے اور زندگی کے تصور میں ایک خوفناک تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔

میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ مذہب سے دوری اور محرمات میں رشتوں کے تقدس کے احساس کا نہ ہونا، مناسب تربیت کی کمی اور جہالت ہے۔ آج کل اس کی ایک بڑی وجہ انٹر نیٹ پر غیر اخلاقی مواد کی آسان دستیابی بھی ہے۔ ہر ایک کے لئے انٹرنیٹ پر ہر قسم کے مواد کے دروازے کھلے ہیں۔ پاکستان ویسے بھی فحش مواد دیکھنے والے ممالک میں سر فہرست ہے جہاں پر انٹرنیٹ کو غلط مقاصد کے لئے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ فحش ویب سائٹس چلانے والوں کے لیے پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔

ان دنوں پاکستان میں دیکھی جانے والی ویب سائٹس پر محرمات کے ساتھ جنسی تعلقات کی بے شمار ویڈیوز دستیاب ہیں۔ اردو زبان میں ایسی بہت سی ویب سائٹس موجود ہیں جن میں اردو زبان میں قریبی رشتوں جن میں ماں بہن، بھابھی، خالہ، پھپھو اور سالیوں سے جنسی تعلقات کی بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ کچے ذہن کے مالک، مذہب سے نابلد اور رشتوں کے تقدس سے بے بہرہ بچے اور بچیاں ایسی کہانیاں پڑھ کر محرمات میں جنسی تعلقات کو برا نہیں سمجھتے۔

فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام اور انٹر نیٹ پر مختلف بلاگ ایسی بیہودہ خرافات سے بھرے پڑے ہیں جن پر ہر پیر و جواں کی آسان گرفت ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر پر محرم رشتوں سے جنسی تعلق کے قصوں اور تصاویر کی بھر مار ہے جو ہماری جوان نسل کو ناصرف گمراہ کر رہی ہے بلکہ ان میں رشتوں کی تقدس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انسیسٹ ایک ایسا خوفناک معاشرتی رویہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کی روک تھام کے لئے راست اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments