ڈاکٹر ڈینس آئزک کی کینیڈا میں مشکل زندگی


یہ 1970 کی دہائی کا وہ دور تھا جب آتش جوان تھا ’خیبر میڈیکل کالج پشاور کا طالبعلم تھا اور ادیبوں‘ شاعروں اور موسیقاروں کی محفلوں میں جوش و خروش سے شرکت کرتا تھا۔ ایک محفل میں ایک شاعر و موسیقار سے تعارف ہوا۔ سب نے شعر سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے ایک غزل اور ایک قطعہ سنایا۔ مجھے ان کا قطعہ اور غزل کا ایک شعر آج تک یاد ہے۔ شعر تھا

؎ گھر سے چلے ارادہ منزل لیے ہوئے
منزل ملی تو اپنے ارادے بدل گئے

اور قطعہ تھا
؎ آسماں بس میں جو ہوتا تو گھٹا کر دیتا
تیری خاطر میں شرابوں کو فضا کر دیتا
بس کہ یزداں نہ ہوا ورنہ مرے رند خراب
میں تجھے اپنے مقابل کا خدا کر دیتا

میں نے سوچا یہ شاعر نوجوانی میں ہی کتنے اچھے شعر کہتا ہے۔

نام پوچھا تو پتہ چلا کہ ان کا نام ڈینس آئزک ہے۔ میں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا انہوں نے گلے لگا لیا۔ ہم نے مل کر کئی ادبی محفلوں میں شرکت کی اور میڈیکل کالج کے میگزین۔ سینا۔ کے لیے کام کیا۔ ان کی شاعری میں شروع سے ہی پختگی تھی۔ ان کا شعر ملاحظہ ہو

؎ سبب گناہ کے جو پوچھے خدا نے روز حساب
جواب تلخ سوالات سے بھی بڑھ کر تھے

پھر میں کینیڈا آ گیا اور ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔

کئی برس بعد میں اپنے دوست زاہد لودھی کے گھر میں پی ٹی وی کا ایک ڈرامہ دیکھ رہا تھا۔ آخر میں جب ڈرامہ نگار کا نام آیا تو لکھا تھا

ڈاکٹر ڈینس آئزک
میں نے دوبارہ دوستی کی تجدید کا ہاتھ بڑھایا انہوں نے ایک دفعہ پھر مجھے گلے لگا لیا۔

پھر ان کا خط آیا کہ میں اپنی بیوی اور بچوں سمیت کینیڈا آ رہا ہوں لیکن سوچتا ہوں کہ کہاں ٹھہروں گا۔ میں نے جواب دیا۔ درویش کی کٹیا حاضر ہے۔

ڈینس اور ماریا ٹورانٹو تشریف لائے تو میں نے ان سے ملوانے کے لیے چند دوستوں کو ڈنر پر بلایا۔ ڈنر کے بعد شاعری کی محفل جمی۔ سب دوست اتنے محظوظ ہوئے کہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ماہ ایک شاعری اور موسیقی کی محفل سجائی جائے۔ پہلی محفل پرویز صلاح الدین کے ہاں جمی اور دوسری رفیق سلطان کے ہاں۔ اس طرح کینیڈا میں فیمیلی آف دی ہارٹ کی بنیاد پڑی۔ اس کی بنیاد میں ڈینس اور ماریا کا ہاتھ بھی تھا۔ جب دوستوں کی تعداد بڑھنے لگی تو محفلین ریستورانوں ’لائبریریوں اور کمیونٹی ہالوں میں جمنے لگیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل والوں کی داستانیں اور راتیں طویل ہو گئیں۔

عارف عبدالمتین کا شعر ہے
؎ اپنی کہتے رہو میری سنتے رہو ’داستاں داستاں سے ملاتے رہو
یوں ہی جلتے رہیں درد کے قمقمے ’رات جب تک رہے درمیاں دوستو

جب ڈینس آئزک سے دوستی اور بے تکلفی بڑھی تو انہوں نے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے دکھ اور درد شیر کرنے شروع کیے

پہلا دکھ یہ تھا کہ پاکستان میں وہ ریڈیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر تو بن گئے تھے لیکن اس لیے پروفیسر بن بن سکے کہ کرسچن تھے مسلمان نہ تھے۔ انہوں نے اس دکھ کا کبھی برملا اظہار نہ کیا۔

دوسرا دکھ یہ تھا کہ جب کینیڈا آئے تو کئی اور مہاجر ڈاکٹروں کی طرح ان کی ڈگریوں کو قبول نہ کیا گیا۔ ایک سال کی بے روزگاری کے بعد انہوں نے ملازمت کا فیصلہ کیا۔ ایک شام ڈنر پر مجھے بتانے لگے کہ ایک دوست نے ایک فیکٹری کے مالک سے فون پر بات کروائی جسے سیکورٹی افسر کی ضرورت تھی۔ مالک نے ملازمت دیتے ہوئے پوچھا

آپ کا نام
ڈینس آئزک
ڈاکٹر ڈینس آئزک
جی ہاں
وہی ڈاکٹر ڈینس آئزک جو پی ٹی وی پشاور پر ڈرامے لکھا کرتے تھے
جی ہاں

اس کے بعد ڈینس آئزک پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ اس دفعہ میں نے انہیں گلے لگا لیا۔ کہنے لگے اگر وہ مجھے نہ پہچانتا تو میں وہ ملازمت کر لیتا لیکن اب نہیں کر سکتا۔

میں نے ان کا تعارف خیبر میڈیکل کالج کے ایک ڈاکٹر سے کروایا جو ٹورانٹو کی ایک میڈیکل لیبارٹری میں کام کرتے تھے، انہوں نے ڈینس کا انٹرویو لیا اور انہیں ملازمت دے دی۔ وہ چند سال وہاں کام کرتے رہے اور خوش رہے۔ جب وہ لیبارٹری بند ہو گئی تو وہ ایک دفعہ پھر بے روزگار ہو گئے اور دکھی ہو گئے۔

جب وہ کینیڈا میں ڈاکٹر بننے میں کامیاب نہ ہو سکے تو انہوں نے اپنے رائٹر ہونے پر دوبارہ اپنی توجہ مرکوز کی لیکن اور بھی دکھی ہو گئے۔

امریکہ کے ایک پاکستانی پروڈیوسر نے ان سے سیریل لکھوایا لیکن جب وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تو وہ بہت دل گرفتہ ہوئے۔

پھر پاکستان سے ایک پروڈیوسر آئیں اور بہت سے وعدے کر کے ایک اور سیریل لکھوایا۔ چند ہفتوں کے لیے ڈینس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک پیدا ہوئی۔ انہوں نے اس سیریل کے لیے مجھ سے بھی چند نظمیں لکھوائیں۔ لیکن جب اس سیریل کو پاکستان کی پرائیویٹ چینل پر دکھانے کا وعدہ پورا نہ ہوا تو ان کا دل ٹوٹ گیا۔

انہیں اندازہ ہو گیا کہ مہاجر ڈاکٹر اور رائٹر دونوں سوکھے ہوئے پتوں کی طرح ناکام و ناشاد ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کی آنکھوں کے سنہرے اور سہانے خواب مرجھانے لگے۔ پہلے وہ ڈپریشن کے دریا میں اترے اور پھر ڈیمنشیا کے سمندر کے گہرے پانیوں میں دور تک چلے گئے اتنے دور کہ کوشش کے باوجود نہ لوٹ سکے۔

ڈینس آئزک سے آخری ملاقات اس شام ہوئی جب پرویز صلاح الدین ’رفیق سلطان اور رشید ندیم نے فیمیلی آف دی ہارٹ کی شاعری اور موسیقی کی ایک نجی محفل سجائی۔ اس شام ڈینس آئزک میرے سامنے والے صوفے پر خیالوں اور خوابوں میں گم سم بیٹھے تھے۔ پھر اچانک وہ اپنے ساتھ بیٹھے دوست سے مخاطب ہو کر کہنے لگے

’میرا ایک دوست ہوتا تھا۔ اس کا نام خالد سہیل تھا۔ وہ اب کہاں ہے؟‘

ان کے اس سوال سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا ڈیمنشیا اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ انہوں نے مجھے نہیں پہچانا۔ اس شام میں بہت دکھی گھر لوٹا کیونکہ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ مکان رہ گیا ہے مکین کہیں اور چلا گیا ہے۔

اس شام مجھے اپنا ڈیمنشیا کو وہ مریض یاد آیا جس کی بیوی ہر شام اس سے ملنے ہسپتال آتی تھی اور اس کے لیے اپنے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا لاتی تھی لیکن جب جاتے وقت اس سے گلے ملنا چاہتی تھی تو وہ اسے یہ کہہ کر دور کر دیتا تھا کہ میرے گھر میں میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہے۔

آج بیس جنوری 2022 ہے۔ آج صبح جب مرزا یاسین بیگ کے فیس بک پیج اور سہ پہر روبینہ فیصل کے فون سے پتہ چلا کہ ڈینس آئزک ہمیں جسمانی طور پر بھی چھوڑ کر چلے گئے ہین تو میں بہت اداس ہو گیا۔

میں ڈینس آئزک کی شاعری اور موسیقی سے ہی نہیں ان کی شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔ وہ ایک مہذب انسان تھے جن کے سینے میں ایک محبت کرنے والا دل دھڑکتا تھا۔ بدقسمتی سے وہ حساس دل زمانے کی بے حسی سے بہت دکھی ہو گیا تھا اور میں ان کے بارے میں سوچ کر بھی دکھی ہو جاتا تھا۔

یہ میری خوش قسمتی کہ مجھے زندگی میں ڈاکٹر ڈینس آئزک جیسا ایک مخلص دوست ملا اور میں نے زندگی کی چند شامیں ان کے ہمراہ گزاریں۔ ان حسیں شاموں کی خوش گوار یادیں میرے دل اور ذہن میں ہمیشہ ان کے دیے گئے ادبی تحفوں کی طرح محفوظ رہیں گی۔

۔ ۔ ۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد سہیل (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 540 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
4 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments